Pakistan Social Democratic Party

Pakistan Social  Democratic Party

Share

It's All About New Era Of Democratic Politics Insha Allah Welcome in All Pakistani Public Party

Something about Flag of All Pakistan Public Party:-
Three basic Color in this flag, 1st of all Sky Blue on top which means “We want go high and touch the sky”, Second Color is White we want peace all over the world, Third color is Red which means Revolution with every sort of sacrifice for Our Country and Last Color is “silverish blue which shows in star” it’s mean we will spread all our the world

Photos 21/05/2015
Photos 21/05/2015

The Logical Indian

This is an inspiring, appreciable and exemplary gesture, especially at the time when hatred in the name of religion is being spewed around. However, this is not need of the hour. When millions of people don't have a roof over their head, building of temples, mosques, churches or any other religious structures seem as a cruel joke to people without home.

In a stellar demonstration of communal harmony, Muslims in Bihar have donated their pieces of land to help build the world's largest Hindu temple which will have the capacity to seat a staggering 20,000 people.

More than three dozen Muslim families have their land in the middle of the proposed location of the temple and some Muslims families have land along the main road that connects to the project site.

"Muslims have not only donated land, they have also provided land at a nominal rate for the Hindu temple. Without the help of Muslims, it would have been difficult realise this dream project," Acharya Kishore Kunal, secretary of the Patna-based cash-rich Mahavir Mandir Trust that is undertaking the ambitious project, told IANS.

20/05/2015

*Breaking* Sabeen Mahmud K Qatal ka Safora k Mujrim ne Eteraf krlia ...(Samaa Tv)

20/05/2015

سوال: بوہری اور آغا خانیوں میں کیا فرق ہے؟ انکی تاریخ کیا ہے؟

جواب: بوہری اور آغا خانی دونوں کی اصل ایک ہے۔ امام جعفر صادق(ع) کے کئی بیٹے تھے جن میں سب سے بڑے حضرت اسماعیل تھے۔ امام صادق(ع) کے زمانے میں ہی کچھ لوگوں نے تصوّر کرنا شروع کر دیا تھا کہ امام صادق(ع) کے بعد اسماعیل ہی امام ہوں گے۔ لیکن حضرت اسماعیل کی وفات امام صادق(ع) کی زندگی میں ہی ہو گئی، امام صادق(ع) بعض لوگوں کے اس عقیدے کو جانتے تھے کہ اسماعیل کو ہی وہ امام سمجھتے ہیں، چنانچہ امام(ع) نے اسماعیل کی وفات کے بعد ان کا جنازہ لوگوں کو دکھایا اور لوگوں کی معیت میں ہی ان کی تجہیز و تکفین کی کئی تاکہ کوئی اسماعیل کی وفات سے انکار نہ کر سکے۔

جب امام صادق(ع) کی شہادت ہوئی تو ان کی وصیّت کے مطابق اکثر شیعوں نے امام کاظم(ع) کو امام مان لیا، لیکن ایک جماعت نے کہا کہ اسماعیل بڑے بیٹے تھے، اب وہ نہیں تو ان کی اولاد میں امامت رہنی چاھئے، یہ لوگ اسماعیلی کہلائے۔ کچھ لوگوں امام صادق(ع) کے ایک اور بیٹے عبداللہ افطح کو امام مانا، یہ لوگ فطحی کہلائے۔

جن لوگوں نے امام جعفر صادق(ع) کی شہادت کے بعد امامت کو حضرت اسماعیل کی نسل میں مان لیا تو آگے چل کر ایک وقت آیا جب ان اسماعیل کی اولاد میں سے ایک شخص مہدی کو مصر میں خلافت ملی جہاں اس نے خلافت فاطمی کی بنیاد رکھی۔ یہ خلفاء بہت شان و شوکت سے وہاں حکمرانی کرتے رہے، قاہرہ شہر اور جامعۃ الازھر کی بنیاد انہی اسماعیلی خلفاء نے رکھی۔ اور اس وقت تک یہ باعمل قسم کے شیعہ تھے لیکن اثنا عشری نہ تھے۔

ایک نسل میں ان کے ہاں خلافت پر جھگڑا ہوا، مستعلی اور نزار دو بھائی تھے، مستعلی کو خلافت ملی۔ لیکن لوگوں میں دو گروہ ہوئے، ایک نے مستعلی کو امام مان لیا اور ایک گروہ نے نزار کو مان لیا۔ مستعلی کو ماننے والوں کو مستعلیہ کہا جاتا ہے جو آج کل کے بوھرہ ہیں اور نزار کے ماننے والوں کو نزاریہ کہا جاتا ہے جو آجکل کے آغا خانی ہیں۔ لیکن چونکہ خلافت مستعلی کو ملی تو نزاری فرار ہو کر ایران آئے اور وہاں قزوین نامی شہر کو اپنا ٹھکانہ بنا لیا جہاں کئی برس تک جاہ و حشم کے ساتھ انہوں نے حکمرانی کی۔ حسن بن صباح کے دور میں ان کو عروج حاصل ہوا اور ان کی فدائین کی تحریک بہت کامیاب ہوئی اور پوری سرزمین ایران میں اپنی دہشت بٹھا دی۔ بعد میں ان کا امام "حسن علی ذکرہ السّلام" آیا جس نے ظاہری شریعت ختم کردی اور صرف باطنی شریعت برقرار رکھی، کہا جاتا ہے کہ 19 یا 21 رمضان تھی جب اس امام نے ظاہری شریعت ہٹائی تھی، انہوں نے اپنے امام کے حکم پر اپنے روزے توڑے اور کہنے والے کہتے ہیں کہ انہوں نے شراب سے افطار کیا۔ کیونکہ ان کے امام نے یہی حکم دیا تھا کہ ظاہر شریعت پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں، اپنے باطن کی تربیت کرو یہی کافی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آغا خانیوں کو فرقۂ باطنیہ بھی کہا جاتا ہے۔

آغا خانی ایک طویل عرصے تک ایران میں مقیم رہے، ان کے امام کو "آغا خان" کا لقب بھی ایران کے قاجاری حکمران نے دیا تھا۔ شاہ ایران نے آغا خان کو کرمان کے قریب "محلاّت" نامی جگہ پر ایک وسیع جاگیر بھی عطا کر رکھی تھی جہاں آغاخان مکمّل داخلی خودمختاری کے ساتھ حکومتت کرتا تھا، یہی وجہ ہے کہ ان کے اس امام کو "آغا خان محلاّتی" بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن انگریزوں کی تحریک پر آغا خان اوّل نے ایرانی قاجاری سلطنت کے خلاف بغاوت کر دی لیکن جب اس کو شکست ہوئی تو بھاگ کر ہندوستان میں پہلے سندھ اور پھر بمبئی شفٹ ہوا۔ انگریزوں نے ان کو "سر" کا خطاب دیا اور بہت عزّت و تکریم کی۔ ان کی وفات ہندوستان میں ہی ہوئی اور ان کے بعد امامت ان کے بیٹے کو ملی جو تحریک پاکستان کے ابتدائی رہنماؤں میں سے رہی ہے۔ صدرالدّین آغا خان کی وفات کے بعد ان کے بیٹے کی موجودگی میں ہی انہوں نے اپنے پوتے "پرنس کریم" کو جانشین بنایا جن کی والدہ یورپی تھیں اور مغربی بودو باش رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اب اسماعیلیوں کی امامت کا مرکز "محلاّت، کرمان" سے نکل کر "بمبئی ہندوستان" آیا اور وہاں سے اب مغرب منقتل ہو گیا۔

دوسری طرف بوہریوں کی خلافت ایک طویل عرصے تک مصر میں رہی لیکن صلیبی جنگوں کے زمانے میں صلاح الدّین ایّوبی نے پے در پے حملوں کے بعد اس شیعہ اسماعیلی حکومت کو ختم کر دیا۔ جب مصر میں بوہریوں کی امامت ختم ہوئی تو انہوں نے ہندوستان و یمن کو اپنا مرکز بنالیا البتہ یہ لوگ باعمل مسلمان ہیں اور پابندی سے نماز وغیرہ پڑھتے ہیں۔ ان کی امامت کا سلسلہ خلافت فاطمی کے ختم ہوتے ہی ختم ہو چکا ہے، البتہ ان کے ہاں داعیوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ موجودہ برھان الدّین ان کے داعی ہیں جن کا انتقال پچھلے دنوں ہوا۔

آگے چل کر بوہریوں کے ہاں بھی دو فرقے ہوئے؛ 1) داؤدی بوہرہ اور 2) سلیمانی بوہرہ۔ ان کا اختلاف محض علاقائی ہے۔ داؤدی بوہروں کے داعی ہندوستانی ہوتے ہیں اور گجرات کے شہر سورت میں ان کا مرکز ہے جبکہ سلیمانی بوہروں کے داعی یمن میں ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں ہندوستان کے جنوبی علاقوں میں بھی ہیں۔ البتہ پاکستان میں بھی سلیمانی بوہروں کی ایک قلیل تعداد ہے۔ داؤدی بوہرہ کے لوگ بہت آرام سے پہچانے جاتے ہیں کیونکہ ان کے مرد مخصوص لباس پہنتے ہیں اور ان کی عورتیں ایک مخصوص حجاب کرتی ہیں، جبکہ سلیمانی بوہرہ پہچانے نہیں جاتے کیونکہ ان کا کوئی مخصوص لباس نہیں ہے۔

جہاں تک ان کے اسلام کا تعلّق ہے تو بوہریوں کے مسلمان ہونے میں کوئی شبہ نہیں جب تک کہ یہ کسی امام کو گالی نہ دیں۔ کہتے ہیں کہ ایک زمانے تک یہ امام موسی کاظم(ع) کو گالیاں دیتے تھے جو بقول ان کے امامت کو غصب کر بیٹھے (نعوذباللہ)۔ لیکن یہ روش انہوں نے چھوڑ دی تبھی آیت اللہ ابوالحسن اصفہانی کے دور میں ان کو نجف و کربلا زیارت کی اجازت دی گئی۔ وہاں موجود ضریحوں اور حرم کی تعمیر اور چاندی سونے میں بوہریوں نے کافی مدد کی۔ بوہری اب بھی جوق در جوق کربلا اور نجف زیارت کے لئے جاتے ہیں اور شیعہ مراکز کے دروازے بوہریوں کے لئے کھلے ہیں۔

19/05/2015

ہماری ایجنسیاں
پشاور میں 160 بچے مر جائیں تب ایکشن لیتی ہیں
کراچی میں بس میں لوگ قتل کردئیے جائیں اسکے بعد ہوش آتا ہے
اب سنا ہے Axact کے خلاف بھی ایکشن لے لیا گیا ہے جو تقریباً 20 سال سے ملک و قوم کی بے پناہ "خدمت "کررہی تھی

سائنسدانوں سے درخواست ہے ہماری ایجنسیوں کو ہوش میں لانے کے لئے بھی کوئی دوائی ایجاد کریں

19/05/2015

ACCEPTING THE DIFFERENCES,,,,,IS THE ONLY WAY THIS WORLD CAN MOVE FORWARD TO PEACEFUL RESULTS,,,,,

Want your business to be the top-listed Government Service in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address

Karachi
75330