21/04/2026
سپریم کورٹ سے اسٹے آرڈر لے کر ٹرائل کورٹ کا فیصلہ رکوایا گیا ہے انشاءاللہ ایک دن تو انصاف ہو گا عدالتوں سے انصاف کی اپیل ہے ( 9 ) سالوں سے طویل قید وہ بھی فقط جھوٹے الزامات میں ناحق قیدی لا گریجویٹ شفقت علی عمرانی 2018 میں انسداد دہشتگری عدالت میں اپنی گرفتاری پیش کی تھی وہ اج تک عدالتوں سے انصاف کی اپیل کرتا ہے۔
JUSTICE FOR Shafqat Ali Khan Umrani
17/03/2026
قانونی رہنمائی کے لیے درخواست
الحمدللہ، اللہ تعالیٰ حق اور سچ کا ساتھ دینے والا ہے۔ جو عناصر بےگناہ افراد کے خلاف جھوٹے مقدمات اور سازشوں میں ملوث ہیں، درحقیقت وہ خود اپنے اعمال کے ذریعے قانون کی گرفت میں آنے کے قریب ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں دیر ہو سکتی ہے مگر اندھیر نہیں ہوتا۔
محترم وکلاء کرام سے گزارش ہے کہ درج ذیل حقائق کی روشنی میں قانونی رہنمائی فراہم فرمائیں، تاکہ متعلقہ فرد کے خلاف مناسب قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے:
معاملے کی تفصیل:
ایک شخص تقریباً 7 سال بعد عدالت میں پیش ہوتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ اسے مقدمے کے گواہان نے بطور وکیل مقرر کیا ہے۔
تاہم دورانِ جرح متعلقہ گواہان واضح طور پر بیان دیتے ہیں کہ انہوں نے اس شخص کو کبھی اپنا وکیل مقرر نہیں کیا اور نہ ہی ان کا اس سے کوئی تعلق ہے۔
اس تضاد کی بنیاد پر عدالت اس کا وکالت نامہ مسترد (رد قلم) کر دیتی ہے۔
اگلی سماعت پر یہی شخص مؤقف اختیار کرتا ہے کہ اب وہ مدعی (پولیس اہلکار) کا وکیل ہے، جبکہ ریکارڈ کے مطابق مذکورہ مدعی کا انتقال 2024 میں ہو چکا ہے۔
ایسی صورت میں 2026 میں وکالت کا دعویٰ کرنا بظاہر جعلسازی اور ریکارڈ میں غلط بیانی کے زمرے میں آتا ہے۔
مزید برآں، مذکورہ شخص ایک اور موقع پر خود کو "متاثرہ فریق (Victim)" کا وکیل ظاہر کرتا ہے، حالانکہ متاثرہ فریق بھی وفات پا چکا ہے۔
اس طرز عمل سے واضح ہوتا ہے کہ وہ عدالتی کارروائی کو گمراہ کرنے کی مسلسل کوشش کر رہا ہے۔
مذکورہ فرد کی جانب سے بارہا عدالت میں متضاد بیانات (Perjury) دیے گئے ہیں، جو کہ قانوناً قابلِ سزا جرم ہے۔
علاوہ ازیں، وہ شخص میڈیا اور پریس کلب میں جا کر بےگناہ افراد پر جھوٹے الزامات (قتل و دہشتگردی) عائد کرتا رہا ہے، جس کے شواہد اخبارات اور میڈیا ریکارڈ کی صورت میں موجود ہیں۔
Justice for Shafqat Ali Khan Umrani