08/05/2026
𝐒𝐄𝐏𝐀 𝐢𝐧𝐬𝐩𝐞𝐜𝐭𝐢𝐨𝐧 𝐝𝐫𝐢𝐯𝐞 𝐫𝐞𝐯𝐞𝐚𝐥𝐬 𝐞𝐧𝐯𝐢𝐫𝐨𝐧𝐦𝐞𝐧𝐭𝐚𝐥 𝐥𝐚𝐩𝐬𝐞𝐬 𝐢𝐧 𝐌𝐢𝐫𝐩𝐮𝐫𝐤𝐡𝐚𝐬
Mirpurkhas: Sindh Environmental Protection Agency (SEPA) District Office Mirpurkhas conducted environmental compliance inspections of various industrial units and municipal waste dumping sites on the directives of Director General SEPA Waqar Hussain Phulpoto, where significant violations of environmental laws are observed.
The SEPA team inspected Super Khan Bricks Kiln Company, Nazar Khan Bricks Kiln Company, Khayaban-e-Akbar Housing Scheme, two poultry protein sheds owned by Chaudhary Dilawar on Digri Road and municipal waste dumping sites located on Jhudo Road and Digri Bypass Road.
Lack of adequate environmental control measures and non-compliance with provisions of the Sindh Environmental Protection Act, 2014, particularly regarding emissions control, waste handling, operational practices, and environmental safeguards observed by the team during inspection.
The management of the concerned industrial units are directed to immediately take corrective steps to reduce environmental impacts caused by their operations. Moreover, team warned that failure to comply could result in legal action under the Sindh Environmental Protection Act, 2014.
At the municipal waste dumping sites, the team noted improper dumping practices and poor waste management conditions. Concerned municipal authorities are instructed to take immediate remedial measures, prevent open dumping and burning of waste and develop environmentally sound waste disposal mechanisms in accordance with environmental regulations.
The inspection drive is conducted under the guidance of Regional Incharge Mirpurkhas Ali Muhammad Rind. The inspection team included District Incharge Mirpurkhas Abdul Aziz Maher, Chemist Aneel Kumar and Field Supervisor Intizar Hussain.
08/05/2026
سیپا کا لاڑکانہ میں اینٹوں کے بھٹے کا معائنہ
لاڑکانہ، 5 مئی: سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (سیپا) کے ریجنل آفس لاڑکانہ نے ماحولیاتی تحفظ ٹریبونل کراچی کی ہدایت پر اپنے دائرہ اختیار میں قائم اینٹوں کے بھٹے کا معائنہ اور انکوائری کی تاکہ ممکنہ ماحولیاتی خلاف ورزیوں کی نگرانی کی جا سکے۔
سیپا ٹیم نے بھٹے کی آپریشنل صورتحال کا جائزہ لیا، جس میں خاص طور پر ایندھن کے استعمال، دھوئیں اور اخراج کی سطح، اور سندھ ماحولیاتی تحفظ ایکٹ 2014 سمیت متعلقہ ماحولیاتی قوانین پر عملدرآمد کا معائنہ کیا گیا۔
معائنہ ٹیم نے ڈپٹی ڈائریکٹر ممتاز علی شاہ کی نگرانی میں کارروائی انجام دی، جبکہ ٹیم کے دیگر ارکان میں کیمسٹ محمد فہیم ابڑو، اسسٹنٹ ڈائریکٹر توفیق احمد، اور فیلڈ سپروائزر الطاف حسین شامل تھے۔
06/05/2026
𝐒𝐄𝐏𝐀 𝐓𝐡𝐚𝐭𝐭𝐚 𝐚𝐬𝐬𝐞𝐬𝐬𝐞𝐬 𝐞𝐧𝐯𝐢𝐫𝐨𝐧𝐦𝐞𝐧𝐭𝐚𝐥 𝐦𝐞𝐚𝐬𝐮𝐫𝐞𝐬 𝐚𝐭 𝐬𝐭𝐨𝐧𝐞 𝐜𝐫𝐮𝐬𝐡𝐢𝐧𝐠 𝐩𝐥𝐚𝐧𝐭
SEPA Thatta conducted an inspection at Raja Stone Crushing Plant to review the proposed mitigation measures submitted for approval to the competent authority.Assistant Director Abdul Salam under guidance of District Incharge Thatta Jameel Talpur examined the site and assessed the environmental and safety compliance arrangements implemented by the plant management.
The review focused on determining whether the proposed mitigation measures meet the required regulatory standards.The inspection is part of the evaluation process prior to presentation before the competent authority for final consideration and approval.
06/05/2026
𝐒𝐄𝐏𝐀 𝐥𝐚𝐮𝐝𝐬 𝐡𝐲𝐠𝐢𝐞𝐧𝐞 𝐚𝐧𝐝 𝐰𝐚𝐬𝐭𝐞 𝐦𝐚𝐧𝐚𝐠𝐞𝐦𝐞𝐧𝐭 𝐚𝐭 𝐒𝐡𝐚𝐢𝐤𝐡 𝐙𝐚𝐢𝐝 𝐇𝐨𝐬𝐩𝐢𝐭𝐚𝐥 𝐚𝐧𝐝 𝐒𝐈𝐂𝐇𝐄𝐍 𝐏𝐈𝐂𝐔 𝐢𝐧 𝐋𝐚𝐫𝐤𝐚𝐧𝐚
LARKANA(May 5, 2026): Sindh Environmental Protection Agency (SEPA) Larkana, inspected Shaikh Zaid Children Hospital Larkana and the newly developed Sindh Institute of Child Health and Neonatology (SICHEN) Pediatric Intensive Care Unit as per directives of Director General SEPA Waqar Hussain Phulpoto to review compliance with the Hospital Waste Management Rules 2014.
Following the guidance of Regional Incharge SEPA Larkana Abdul Malik, District Incharge
Larkana Benazir Shaikh, Chemist Samina Shaikh and Infectious Prevention and Control (IPC) unit member Rafia visited the hospitals. During the visit, hospital administrations briefed the team on healthcare services, operational systems and overall hospital performance.
SEPA observed that the hospitals maintained a generally clean environment with effective systems in place, particularly in waste segregation and safe disposal of hazardous medical waste.SEPA team appreciated the hospital management for their efforts in maintaining environmental and hygiene standards.Only minor gaps in compliance are identified.The hospital administrations have further been directed to submit a compliance report addressing the identified minor gaps and outlining corrective measures within the stipulated time.
06/05/2026
سول اسپتال سکھر میں ویسٹ مینجمنٹ کی صورتحال تشویشناک
سکھر (04 مئی 2026): سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی(سیپا) کی ٹیم نے ڈائریکٹر جنرل سیپا وقار حسین پھلپوٹو کی ہدایات پرسول اسپتال سکھر کا دورہ کیا۔ ضلع انچارج سکھر گل امیر سنبل نے ٹیم کے ہمراہ ویسٹ مینجمنٹ سسٹم کا تفصیلی جائزہ لیا۔
معائنے کے دوران ہسپتال ویسٹ مینجمنٹ رولز 2014 پر عملدرآمد میں نمایاں خامیاں سامنے آئیں۔ ٹیم نے انسینریٹر پلانٹ کو غیر فعال پایا جبکہ خطرناک طبی فضلے کی درست درجہ بندی اور محفوظ تلفی کے نظام پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
سیپا نے اسپتال انتظامیہ کو فوری اصلاحی اقدامات کرنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ تمام خامیاں قوانین کے مطابق دور کی جائیں۔
انتظامیہ کو 7 روز کے اندر سیپا آفس سکھر میں عملدرآمد رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت بھی کی گئی ہے، جس میں کیے گئے اقدامات کی مکمل تفصیل شامل ہو۔ بصورت دیگر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
06/05/2026
سندھ میں فضائی آلودگی کی نگرانی مضبوط بنانے پر غور
گول میز اجلاس میں ڈیٹا پر مبنی اور مشترکہ حکمتِ عملی پر زور
کراچی، 5 مئی 2026: سندھ میں بگڑتی ہوئی فضائی صورتحال کے پیش نظر آج کراچی کے مقامی ہوٹل میں ایک اعلیٰ سطحی گول میز اجلاس منعقد ہوا، جس کا اہتمام سندھ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (سیپا) نے کیا۔ اجلاس میں سرکاری افسران، ماہرینِ ماحولیات، انجینئرز، ماہرینِ تعلیم، کنسلٹنٹس اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے شرکت کی اور فضائی آلودگی کی وجوہات، اثرات اور ممکنہ حل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سندھ میں فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں، جن کی بنیاد مستند ڈیٹا اور تمام متعلقہ فریقین کی شمولیت پر ہونی چاہیے۔ اس موقع پر اس بات پر زور دیا گیا کہ غیر سائنسی اندازوں کے بجائے شواہد پر مبنی پالیسی سازی کو فروغ دیا جائے اور ادارہ جاتی تعاون کو یقینی بنایا جائے۔
اجلاس میں نگرانی کے نظام کو جدید بنانے، قوانین پر مؤثر عملدرآمد، پسماندہ طبقات کی شمولیت، پائیدار ٹرانسپورٹ کے فروغ اور عوامی آگاہی بڑھانے جیسے اہم نکات پر اتفاق سامنے آیا۔ شرکاء نے کہا کہ مکالمے کو عملی اقدامات میں بدلنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
صوبائی سیکریٹری ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی و ساحلی ترقی، زبیر احمد چنہ نے کہا کہ فضائی آلودگی کسی ایک شعبے کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کے مختلف ذرائع ہیں جن میں سیمنٹ، ریفائنری اور ٹرانسپورٹ جیسے شعبے شامل ہیں۔ ان کے مطابق صوبے میں تقریباً 30 فیصد آلودگی ٹرانسپورٹ کے شعبے سے پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے اخراج کے ذرائع کی درست نشاندہی اور ڈیٹا کی بنیاد پر حکمتِ عملی ترتیب دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
ڈائریکٹر جنرل سیپا، وقار حسین پھلپوٹو نے صنعتی شعبے میں کمزور عملدرآمد کو ایک بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ صرف قوانین کافی نہیں بلکہ آگاہی اور ذمہ داری کے کلچر کو فروغ دینا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے ادارہ جاتی استعداد بڑھانے، صنعتوں کی نگرانی کے مؤثر نظام، ضلعی سطح پر اخراج میں کمی کے منصوبے اور مرکزی ڈیٹا بیس کے قیام کو ترجیحات میں شامل قرار دیا۔
انہوں نے بتایا کہ گاڑیوں کے اخراج کی نگرانی کے لیے خصوصی مراکز کے قیام اور پائیدار ٹرانسپورٹ کے فروغ پر بھی کام جاری ہے، جبکہ کاروباری رجسٹریشن کے عمل کو ماحولیاتی تقاضوں سے منسلک کیا جا رہا ہے تاکہ ذمہ داری کو یقینی بنایا جا سکے۔
اجلاس میں ماہرین نے شہری شجرکاری، جدید مانیٹرنگ نظام، متبادل ایندھن، اور نجی شعبے کی شمولیت جیسے اقدامات کی سفارش کی۔ اس کے علاوہ اندرونی فضائی آلودگی، ٹھوس کچرے کو جلانے، اور زرعی باقیات کے اثرات پر بھی توجہ دلائی گئی۔
سیپا کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں فضائی آلودگی کے متعدد مراکز کی نشاندہی ہو چکی ہے جبکہ حالیہ عرصے میں آلودگی کی سطح میں معمولی کمی بھی دیکھنے میں آئی ہے۔ ادارے نے مزید مانیٹرنگ نظام نصب کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
اجلاس کے اختتام پر سندھ انوائرمنٹل ٹریبونل کے چیئرمین حسن فیروز نے زور دیا کہ اس طرح کے مکالمے کو مؤثر پالیسی اور عملی اقدامات میں بدلنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی آگاہی کے بغیر اس مسئلے پر قابو پانا ممکن نہیں، لہٰذا حکومت، صنعت اور معاشرے کے تمام طبقات کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
02/05/2026
𝐒𝐄𝐏𝐀 𝐤𝐞𝐞𝐩𝐬 𝐆𝐨𝐯𝐞𝐫𝐧𝐦𝐞𝐧𝐭 𝐚𝐧𝐝 𝐩𝐫𝐢𝐯𝐚𝐭𝐞 𝐡𝐨𝐬𝐩𝐢𝐭𝐚𝐥𝐬 𝐨𝐧 𝐜𝐡𝐞𝐜𝐤𝐥𝐢𝐬𝐭 𝐟𝐨𝐫 𝐰𝐚𝐬𝐭𝐞 𝐦𝐚𝐧𝐚𝐠𝐞𝐦𝐞𝐧𝐭 𝐫𝐞𝐯𝐢𝐞𝐰 𝐢𝐧 𝐆𝐡𝐨𝐭𝐤𝐢
Ghotki (29 April 2026): SEPA District Office Ghotki inspected Taluka Hospital, Indus Medical Hospital and City Medical Centre to ensure that they are following the Sindh Hospital Waste Management Rules 2014. District Incharge Asadullah Tunio and team thoroughly inspected the hospital performance, where they found that incinerators (medical waste disposal plants) are not available in the hospitals and medical waste is being burned openly. The laundry mechanisms are also not working as per standards.
Tunio advised the hospital administrations to take immediate corrective measures, ensure that hazardous waste is segregated at point source, with safe storage and final disposal as per Hospital Waste Management Rules 2014, and implement all necessary mitigation steps without delay. Furthermore, the administrations are instructed to submit compliance reports to SEPA District Office Ghotki within 7 days detailing the remedial actions taken in accordance with the Sindh Hospital Waste Management Rules 2014.
29/04/2026
سیپا ٹیم کا لاڑکانہ کے بڑے اسپتالوں کا معائنہ، ویسٹ مینجمنٹ میں بہتری کی ہدایت
لاڑکانہ (29 اپریل 2026) ڈائریکٹر جنرل سیپا وقار حسین پھلپوٹو کی ہدایات پر ریجنل انچارج لاڑکانہ عبدالمالک نے اپنی ٹیم کے ہمراہ سول اسپتال لاڑکانہ اور شیخ زید وومن اسپتال لاڑکانہ کا دورہ کیا۔ ٹیم میں ڈسٹرکٹ انچارج لاڑکانہ بینظیر شیخ بھی شامل تھیں۔
اسپتال انتظامیہ نے ٹیم کو دستیاب طبی سہولیات، آپریشنل طریقہ کار اور کارکردگی کے حوالے سے بریفنگ دی۔ سیپا ٹیم نے اسپتال کے ویسٹ مینجمنٹ سسٹم کا تفصیلی جائزہ لیا، جس میں فضلے کی درجہ بندی، جمع آوری، ذخیرہ، ترسیل اور تلفی کے مراحل شامل تھے، جبکہ انسینیریٹرز کو فعال قرار دیا گیا۔دورے کا مقصد ماحولیاتی قوانین پر عملدرآمد اور ہسپتال ویسٹ مینجمنٹ کے نظام کا جائزہ لینا تھا ۔ تاہم ٹیم نے ہسپتال ویسٹ مینجمنٹ رولز 2014 پر مکمل عملدرآمد میں بعض اہم خامیوں کی نشاندہی کی، خصوصاً خطرناک طبی فضلے کی درست درجہ بندی اور محفوظ تلفی کے حوالے سے۔
ریجنل انچارج عبدالمالک نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ قوانین کے مطابق فوری اصلاحی اقدامات یقینی بنائیں، جن میں فضلے کی بروقت درجہ بندی، محفوظ ذخیرہ اور ماحول دوست طریقے سے تلفی شامل ہیں۔ مزید ہدایت کی کہ اسپتال انتظامیہ 7 روز کے اندر سیپا ریجنل آفس لاڑکانہ کو عملدرآمد رپورٹ جمع کرائے، جس میں کیے گئے اقدامات کی مکمل تفصیل فراہم کی جائے۔
27/04/2026
سرکاری اسپتال میں طبی فضلہ جلانے کا انکشاف، سیپا کی سخت ہدایات
27 اپریل:حیدرآباد میں سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (سیپا) کی مانیٹرنگ ٹیم نے ایک سرکاری اسپتال کے دورے کے دوران ہسپتال ویسٹ مینجمنٹ کے قواعد کی خلاف ورزیوں کا انکشاف کیا ہے۔ اسپتال میں طبی فضلے کی مناسب علیحدگی (سیگریگیشن)، منتقلی اور تلفی کے اصولوں پر عمل نہیں کیا جا رہا۔ خاص طور پر یہ بات سامنے آئی کہ اسپتال کا فضلہ احاطے کے پچھلے حصے میں جلایا جا رہا ہے، اور ٹیم کے دورے کے وقت بھی یہ عمل جاری تھا۔
سیپا ٹیم نے خبردار کیا کہ ہسپتال ویسٹ مینجمنٹ قوانین کی خلاف ورزی مریضوں، طبی عملے سمیت ماحول کے لیے بھی شدید خطرات کا باعث بن سکتی ہے۔ اسپتال انتظامیہ کو فوری طور پر قواعد پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں قانونی کاروائی اپنائی جائے کی۔
یہ معائنہ ڈائریکٹر جنرل وقار حسین پھلپوٹو اورریجنل انچارج علی نواز بھنبھرو کی ہدایات پر سیپا کی ٹیم نےکیا ۔ جس میں اسٹنٹ ڈائریکٹرجبار جوکھیو،اسٹنٹ ڈائریکٹر نورین رضا، کیمسٹ پیراح سیال، انوائرنمنٹل انسپکٹر رئیس احمد اور عمران شامل تھے۔
27/04/2026
میرپور بٹھورو، سجاول کے سرکاری اسپتال میں ہسپتال ویسٹ مینجمنٹ کی خلاف ورزیاں
27 اپریل٬سجاول: سیپا کے ضلعی دفتر سجاول کی مانیٹرنگ ٹیم نے میرپور بٹھورو کے ایک سرکاری اسپتال کا دورہ کیا.معائنے کے دوران ٹیم نے مشاہدہ کیا کہ اسپتال میں رنگوں کے مطابق ویسٹ بنز کی کمی ہے جبکہ صفائی کے عملے کو ذاتی حفاظتی سامان پی پی ای فراہم نہیں کیا گیا۔
دورانِ معائنہ اسپتال انتظامیہ نے آگاہ کیا کہ طبی فضلہ مناسب طریقے سے تلف نہیں کیا جا رہا۔ سیپا ٹیم کے مطابق یہ عمل ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ ساتھ عوام کے لیے سنگین بھی خطرہ ہے۔یہ معائنہ ڈائریکٹر جنرل وقار حسین پھلپوٹو اور ریجنل انچارج حیدرآباد علی نواز بھنبھرو کی ہدایات پر انجام دیا گیا۔
سیپا نے اسپتال انتظامیہ کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ فوری طورسندھ اسپتال ویسٹ مینجمنٹ رولز، 2014پر عملدرآمد یقینی بنائے، بصورت دیگر قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔