13/04/2026
🎓 Admissions Open 2026
📚 Playgroup to Grade X
✅ Qualified Teachers
✅ Safe Environment
🎁 Limited Seats Available
📝 Register Now: https://forms.gle/KCDAB8diornXk8Vy6
Contact: 0333-0003940
Enter to learn and go to serve
13/04/2026
🎓 Admissions Open 2026
📚 Playgroup to Grade X
✅ Qualified Teachers
✅ Safe Environment
🎁 Limited Seats Available
📝 Register Now: https://forms.gle/KCDAB8diornXk8Vy6
Contact: 0333-0003940
13/04/2026
🎓 Admissions Open 2026
📚 Playgroup to Grade X
✅ Qualified Teachers
✅ Safe Environment
🎁 Limited Seats Available
📝 Register Now: https://forms.gle/KCDAB8diornXk8Vy6
Office Contact : 03330003940
03/04/2026
کیا ہم اپنے بچوں کو صرف بڑا کر رہے ہیں… یا واقعی ان کی تربیت بھی کر رہے ہیں؟
آج کے دور میں بچوں کی اسلامی تربیت صرف نیکی کی چند باتیں سکھانے کا نام نہیں،
بلکہ ایمان، اخلاق، عادات، نماز، ادب، ذمہ داری اور کردار کی بنیاد مضبوط کرنے کا نام ہے۔
ہر والدین چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ:
✨ دین سے جڑا ہو
✨ بااخلاق ہو
✨ والدین کا فرمانبردار ہو
✨ سچ بولنے والا ہو
✨ اسکرین اور ماحول کے منفی اثرات سے محفوظ رہے
لیکن سوال یہ ہے کہ
بچوں کی اسلامی تربیت کا درست اور مکمل طریقہ کار کیا ہے؟
اسی اہم موضوع پر ہم نے ایجوتربیہ ڈاٹ کام پر آپ کیلئے ایک جامع بلاگ آرٹیکل لکھا ہے،
جس کا لنک مندرجۃ ذیل ہے۔ https://blog.edutarbiyah.com/bachon-ki-islami-tarbiyat/
اس آرٹیکل میں والدین کیلئے step by step رہنمائی موجود ہے۔
📌 اسے ضرور پڑھیں
📌 اپنے دوست والدین تک بھی پہنچائیں
📌 اور کمنٹ میں بتائیں: بچوں کی تربیت میں آج کیلئے سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟
#والدین
بچوں کی اسلامی تربیت کا مکمل طریقہ کار | والدین اور اساتذہ کیلئے مکمل گائیڈ بچوں کی اسلامی تربیت کیسے کریں؟ اس جامع گائیڈ میں تربیت کا مفہوم، قرآن و سنت کی بنیادیں، اخلاقی کردار سازی، والدین و اساتذہ کی ذمہ داریاں اور step-by-step اسلامی تربیتی فر....
تربیت کیا ہے۔ کیا نہیں ہے؟
کیا آپ جانتے ہیں کہ بچے کو صرف اسکول میں ایڈمشن کرانا، پڑھانا اور بہت ساری معلومات اس کے ذہن میں جمع کرنا تربیت نہیں ہے؟
صرف ڈانٹنا یا بہت زیادہ نصیحتیں کرنا بھی تربیت کا درست طریقہ کار نہیں ہے۔ اسی طرح بچے پر سخت پابندیاں لگانا بھی تربیت کا درست طریقہ نہیں۔
تو پھر سوال یہ پیدا ہواتا ہے کہ اصل تربیت کیا ہے؟
لفظ تربیت عربی کے لفظ رب سے نکلا ہے۔
جس کا مطلب ہے آہستہ آہستہ کسی چیز کو اس کی تمام ضروریات بہم پہنچا کر،اسے تمام امکانی صلاحیتوں تک پہنچانے میں مدد کرنا۔
یعنی تربیت کا مطلب ہے:
انسان کی شخصیت کو متوازن طریقے سے پروان چڑھانا۔ تربیت صرف معلومات دینا نہیں ہے
بلکہ انسان کے اندر صحیح سوچ، صحیح کردار اور صحیح کو پروان چڑھانا ہے۔
آسان الفاظ میں تربیت کا مطلب ہے:
انسان کی رجحان سازی اس انداز سے کرنا کہ وہ خود سے درست سوچ سکے، صحیح فیصلہ کر سکے اور صحیح راستہ کا انتخاب کرسکے۔
ڈاکٹرمحمدیونس خالد۔
پیرنٹنگ وتربیہ کوچ کاونسلر ، ٹرینر
بچوں کی تربیت کہاں سے شروع کرنی چاہیے۔۔۔
جن زی اور جنریشن الفادین سے کیوں دور ہورہی ہے ؟ انہیں دین سے کیسے جوڑا جائے؟
آج کے دور میں نئی نسل کو دین سے جوڑنا ایک چیلنج بن چکا ہے۔ یہ چیلنج ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔ ہم پہلے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ جن زی اور جنریشن الفا کیا ہے اور یہ کونسے بچے ہیں؟
جنریشن زی (Gen Z)
جنریشن زی کی پیدائش: 1997 تا 2012 کے درمیان ہوئی۔ جن کی عمریں اب 14 سے 29 سال کے درمیان میں کہیں ہیں۔ یہ نسل ڈیجیٹل دور میں دنیا میں پیدا ہوئی اور پلی بڑھی۔ سوشل میڈیا، یوٹیوب، شارٹ ویڈیوز اور تیز رفتار معلومات ان کی پہچان ہیں۔ یہ سوال کرنے والی، دلیل مانگنے والی اور authenticity پسند نسل ہے۔
جنریشن الفا (Gen Alpha)
اس نسل کی پیدائش: 2013 کے بعد ہوئی۔ ان بچوں کی عمریں اس وقت 13 سال کے اندر کہیں ہیں۔ یہ مکمل طور پر اسمارٹ ڈیوائسز اور ٹچ موبائل کے دور کی نسل ہے۔ ان کی توجہ کا دورانیہ بہت کم اور ویژول لرننگ زیادہ مضبوط ہوتی ہے۔ یہ انٹرایکٹو اور گیمیفائیڈ چیزوں سے جلد جڑتے ہیں۔
اس وقت یہ سوال والدین ، اساتذہ اور عام لوگوں میں بہت زیادہ زیر بحث ہے کہ یہ دونوں نسلیں (جن زی اور جن الفا)دین اور اسلامی اقدار میں کم دلچسپی لیتی ہیں ۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے۔ اور کیا انہیں دین سے جوڑنا مشکل کام ہے۔ پہلے ہم جائزہ لیتے ہیں کہ دین سے ان کی دوری کی وجوہات کیا ہوسکتی ہیں۔
دین سے دوری کی چند اہم وجوہات
• یہ بچے اسمارٹ ڈیوائسز کے دور میں پیدا ہوئے اور آنکھ کھولتے کے ساتھ ہی اسکرین کا ان سے تعارف ہوا اس لئے یہ اسکرین کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ اس لئے یہ بچے ہر وقت مزے کے پیچھے بھاگتے ہیں۔
• دوسری وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ یہ ناز ونعم میں پلنے والی سہل پسند نسل ہے اور مشکل حالات کوان بچوں نے بہت کم دیکھا۔ ان کی پیرنٹنگ اور ایجوکیشن کے دوران بھی سختی اور ڈانٹ ڈپٹ کم ہوئی ہے۔ لہذا ڈانٹ ڈپٹ انہیں بالکل اچھی نہیں لگتی۔ جب دین کو سختی، پابندی اور ڈانٹ اور پابندی کے انداز میں پیش کرکیا جاتا ہے ، تو وہ ان بچوں کو مشکل لگتا ہے اور وہ دینی چیزوں سے کتراتے ہیں۔
• تیسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ یہ سوالات کرنے والی اور سوالات کے تسلی بخش جوابات مانگنے والی نسل ہے۔ جب انہیں والدین کی طرف سےسوالات کے تسلی بخش جواب نہیں ملتے ہیں۔ تو یہ دین سے فاصلہ پیدا کرتے ہیں۔
• ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اس نسل کے سامنے دین کے حوالے سے عملی نمونے (Role Models) کا فقدان ہے۔ ذہن سازی اور تربیت کے چاروں میڈیم یعنی پیرنٹنگ، ایجوکیشن، ذرائع ابلاغ او ر منبرومحراب شاید رول ماڈلنگ کے تقاضے پورے نہیں کرپارہے۔
• انہیں اسکرین ٹیکنالوجی کی وجہ سے فوری نتائج(Instant Gratification) اور انٹرٹینمنٹ کی عادت پڑی ہوئی ہے۔ جب ان کی یہ ڈیمانڈ کم پوری ہوتی ہے تو یہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔
لیکن دوستو۔ اس کا حل کیا ہے؟
اس کا حل سیکھ کر موثر حکمت عملی اپنانا ہے۔ پیرنٹنگ کے پرانے طور طریقے اب چھوڑنے پڑین گے۔ اب ان بچوں کی نفسیات اور مزاج کو سامنے رکھ کر کوئی اسٹریٹیجی بنانی پڑے گی۔ جس کیلئے پہلے سے پیرنٹنگ تربیہ کو اچھی طرح سیکھنا والدین کیلئے لازم ہوگیا ہے۔ اس نسل کو دین سے جوڑنے اور اچھی پیرنٹنگ کیلئے ہم چند ٹیکنیکس آپ کے ساتھ شئیر کررہے ہیں۔ جن پر عمل سے کافی بہتری آنے کی امید ہے۔
چونکہ رمضان المبارک تربیت کا مہینہ ہے ۔ اس بہترین موقع کو نئی نسل کو دین سے جوڑنے کیلئے استعمال کیجئے۔ یہ بات ہمیں معلوم ہونی چاہیے کہ رمضان محض روزہ رکھنے کا نام نہیں، بلکہ تربیت، محبت اور تعلقِ الٰہی کو مضبوط کرنے کا مہینہ ہے۔ والدین اور اساتذہ اس حوالے سے درج ذیل اقدامات کرسکتے ہیں۔
نمبر1۔ لیکچر بالکل نہ دیں بلکہ ان بچوں سے مکالمہ کریں۔
بچوں سے پوچھیں کہ روزہ کیوں رکھا جاتا ہے؟ دعا کیوں ضروری ہے؟ اان بچوں کو سوال کرنے دیں، ناراض نہ ہوں۔ ان کے سوالوں کے جواب پیار اور عقل وشعور کی بنیاد دیں۔ اس سے مکالمہ کی بنیاد پڑے گی جو آج کی نسل کی تربیت کیلئے بہت اہم ہے۔
نمبر2۔ ڈیجیٹل گیجیٹس کو دشمن نہ سمجھیں۔ بلکہ انہیں موثر ا ورمفید استعمال کا طریقہ تلاش کریں۔
والدین ڈیجیٹل گیجٹس پر اپنے کنٹرول کو برقرار رکھتے ہوئے انہیں اسلامی پوڈکاسٹس، شارٹ اسلامی کلپس اور تعلیم وترقی کا میڈیم بنائیں۔ خود بھی اور بچوں کے ساتھ مل کر قرآن ایپس اور اسلامی معلومات کے پروگرامز سے استفادہ کریں۔ بچوں کیلئے رمضان چیلنجز بنائیں ۔ تاکہ بچے دین اور دینی علم میں انگیج ہوسکیں۔
نمبر3۔ عبادت کو بچوں کیلئے مزیدار تجربہ بنائیں۔
بچوں کو مزے کی تلاش ہوتی ہے ۔ خاص کر جن زی اور الفا جنریشن اس کی عادی ہوچکی ہے۔ جب عبادت کو مزیدار تجربہ کے طور پر پیش کیا جائے تو بچے بھی اس میں دلچسی لینا شروع کرتے ہیں۔مثلاگھر میں نمازورں کے علاوہ اجتماعی افطار کا ماحول بنائیں۔ بچوں کو افطار کی تیاری میں شامل کریں۔ تراویح کے بعدان سے مختصر اور دلچسپ دینی گفتگو کریں۔
نمبر4۔ والدین اپنے کردار سے بچوں کو تعلیم دیں۔
بچے باتوں سے زیادہ والدین کے عمل کو دیکھتے ہیں۔ اگر والدین خود دین واخلاق، سچائی، صبر اور نماز کی پابندی دکھائیں گے۔ روزہ اور تمام دینی عبادات پر مداومت کریں گے تو اس کا گہرا اثر بچوں پر پڑے گا۔
نمبر 5۔ چھوٹے چھوٹے اہداف دیں ۔ لیکن بڑی حوصلہ افزائی کریں۔
کم عمر بچوں کیلئے آدھا روزہ اور مختصر نمازوں سے کام شروع کریں۔ ان پر دین کو بوجھ کے طور پر پیش نہ کریں۔ بلکہ کوشش کریں کہ وہ کم عمل کریں لیکن خوشی اور دل کی چاہت کے ساتھ کریں۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ وہ جڑے رہیں گے ورنہ وہ دین سے دور چلے جائیں گے۔ آپ ان کیلئے روزانہ ایک نیکی کا چارٹ بناسکتے ہیں۔ جب وہ کوئی بھی نیکی کریں تو حوصلہ افزائی لازمی کریں۔
نمبر 6۔ والدین بچوں کی تربیت کیلئے فکرہوں اور اللہ سے دعا مانگیں۔
بچوں کی تربیت کیلئے آپ کی فکرمندی اور اللہ سے دعا اس عمل کی سب موثر سبیل ہے۔ جب والدین اپنی پوری کوشش کرتے ہیں اور اللہ سے دعا بھی مانگتے ہیں تو اللہ ضرور سنتاہے۔ اور مسئلے حل ہوجاتے ہیں۔ خصوصا جب کہ بچوں کو دین کی طرف راغب کرنے کی بات ہو۔ لہذا یہ بچوں میں دینی رجحان اور اچھی تربیت کیا اہم ترین اسٹپ ہے۔
یاد رکھیں، ہماری یہ نسلیں دین سے بھاگ نہیں رہیں، بلکہ معنی (Meaning) تلاش کر رہی ہیں۔ اگر ہم دین کو محبت، حکمت اور سمجھ کے ساتھ پیش کریں گے تو یہی نسل دین کی بہترین نمائندہ بن سکتی ہے۔
اگر اس حوالے سےآپ کی بھی کوئی رائے ہو تو کمنٹ سیکشن میں ہمارے قارئین کے ساتھ ضرور شئیر کریں۔ شکریہ
تحریر: ڈاکٹر محمدیونس خالد۔ تربیہ پیرنٹنگ کوچ/ کونسلر/ ٹرینر/ رائٹر
اگر آپ دورحاضر کے چیلنجز کے تناظر میں پیرنٹنگ تربیت کے پورے پروسس کو جاننا اور سکھنا چاہتے ہیں ۔ تو ہمارے آن لائن کورس
تربیہ پیرنٹنگ پریکٹشنر کورس۔ ٹی پی پی سی۔ کو جوائن کرسکتے ہیں۔ یا ہماری کتاب "ڈیجیٹل دور میں بچوں کی تربیت" پڑھ سکتے ہیں۔ یا ہمارے اردو اور انگریزی بلاگ پڑھ سکتے ہیں۔ ان سب کے لنکس نیچے دئیے گییے ہیں۔
اپنے بچوں کے تربیہ پیرنٹنگ کے مسائل کو حل کرنے کیلئے اور ون آن ون کوچنگ / کونسلنگ سیشن کیلئے بھی ہم سے رابطہ کرسکتے ہیں۔
مزید معلومات کیلئے ہمارا واٹس ایپ نمبر۔
03122370720
#ایجوتربیہ
Effective links:
https://edutarbiyah.com/
https://edutarbiyah.com/english/
https://blog.edutarbiyah.com/
https://edutarbiyah.com/shop/
https://edutarbiyah.com/courses/new-course/
https://edutarbiyah.com/coaching/
ہائر ایجوکیشن کمیشن نے 2026 سے جامعات میں اے آئی کورس کو لازمی قرار دے دیا ہے۔یہ فیصلہ تمام ڈگری پروگرامز پر لاگو ہوگا اور انڈرگریجویٹ و پوسٹ گریجویٹ طلبہ دونوں کو شامل کرے گا۔ہر کورس 3 کریڈٹ گھنٹے پر مشتمل ہوگا تاکہ طلبہ کو ٹیکنالوجی کے بنیادی اور ذمہ دارانہ استعمال کی عملی تربیت دی جا سکے۔جامعات کو اختیاری طور پر اضافی اے آئی مضامین شامل کرنے کی بھی اجازت دی گئی ہے۔
23/02/2026
رمضان المبارک — ٹرانسفرمیشن کا مہینہ!
رمضان صرف بھوک اور پیاس کا نام نہیں، یہ دل، دماغ اور کردار کی مکمل تبدیلی کا مہینہ ہے۔ یہ وہ بابرکت وقت ہے جس میں رحمتیں نازل ہوتی ہیں، گناہ معاف ہوتے ہیں اور بندہ اپنے رب کے قریب تر ہوتا ہے۔ ان سعادتوں کو حاصل کرتے ہوئے خود کو مثبت طور پر تبدیل کرنے کا نام ہی ٹرانسفرمیشن ہے۔
روزہ ہمیں صبر سکھاتا ہے، کردار سکھاتاہے، تنہائی میں بھی ٹھیک رہنے کا گر بتاتا ہے۔ یہ ہمارے اندر تقویٰ پیدا کرتا ہے اور خواہشات نفس پر قابو پانے کی بہترین عملی تربیت دیتا ہے۔ یاد رکھیے خواہشات نفس کو قابو میں رکھنا ہی کامیابی کی طرف اقدام ہے۔
یہ مہینہ بڑوں کیلئے روحانی ری سیٹ کا موقع فراہم کرتا ہے:
اس میں اپنی نمازوں کو مضبوط کیجئے، قرآن سے تعلق گہرا کریں، زبان کو غیبت اور دل کو کینہ سے پاک کریں، اور زندگی میں نظم و ضبط (ڈسپلن) پیدا کریں۔ خود پر قابو پاکر خود کو ڈسپلن کرنا دنیا وآخرت کی کامیابیوں کو یقینی بناتاہے۔
بچوں کیلئے یہ مہینہ کردار سازی کا سنہری موقع ہے:
انہیں روزے کی حکمت سمجھائیں، چھوٹے چھوٹے اہداف دیں اور ان سے پورا کروائیں۔ ان میں سچائی، ایمان داری، خوف خدا، شکرگزاری اور ہمدردی کی عادت ڈالیں، اور اس رمضان کو موبائل اسکرین سے بچانے اور اسکرین ٹائم کو ریگولیٹ کرنے کا بہترین موقع بنائیں۔
رمضان ہمیں خود احتسابی، معافی، سخاوت اور خدمتِ خلق کا درس دیتا ہے۔ سحری سے افطار تک کا سفر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل طاقت نفس پر قابو پانے میں ہے۔ اگر ہم اس مہینے میں اپنی عادات، سوچ اور رویوں کو بہتر بنا لیں تو یہی تبدیلی پورے سال کا سرمایہ بن سکتی ہے۔آئیے اس رمضان کو واقعی ٹرانسفرمیشن سے بھرپور رمضان بنائیں ۔
اپنی اور اپنے بچوں کی کمزوریوں کو دور کرکے بہتر بنانے پر حکمت کے ساتھ موثر کام کریں۔ خوبیاں اپنائیں، اور اپنے رب کی رضا کو زندگی کا مقصد بنائیں۔ پھر دنیا وآخرت کی سعادتیں سمیٹنے کا موقع پائیں۔ شکریہ
از۔ ڈاکٹرمحمدیونس خالد
پیرنٹنگ و تربیہ کوچ، ٹرینر، تربیت کار، کانٹنٹ کریٹر
#ایجوتربیہ
Effective links:
https://edutarbiyah.com/
https://edutarbiyah.com/english/
https://blog.edutarbiyah.com/
https://edutarbiyah.com/shop/
https://edutarbiyah.com/courses/new-course/
https://edutarbiyah.com/coaching/
Home | EduTarbiyah https://youtu.be/sQ4R6lqd1BM?si=8eW-ve5fYNwtUBaW Empower Your Parenting Tarbiyah, and Life Transformation. Step into a world of resources to transform
When theory meets practice, learning becomes fun and easy 💡
| Monday | 07:30 - 14:00 |
| Tuesday | 07:00 - 13:30 |
| Wednesday | 07:30 - 13:30 |
| Thursday | 07:30 - 14:00 |
| Friday | 07:00 - 14:00 |
| Saturday | 07:30 - 14:00 |