عظیم لیڈر جناب عمران خان ❤️
Adnan khan official
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Adnan khan official, Political Party, Karachi.
تمام تر رکاوٹوں، بند راستوں اور سخت ناکہ بندی کے باوجود قافلہ رُکنے والا نہیں۔
صدر تحریک انصاف جنوبی پنجاب عون عباس بپی مختلف اضلاع سے آئے کارکنوں اور عہدیداران کے ہمراہ اس وقت 26 نمبر چونگی پر موجود ہیں۔ کنٹینرز اور رکاوٹیں راستے بند کر سکتی ہیں، جذبے نہیں۔
یہ چوری نہیں، حلقہ مظفرآباد کے عوام کے حق پر ڈاکہ ہے!”
* “واٹر پمپ چوری نہیں ہوئے، عوام سے پانی چھینا گیا ہے!”
* “نیو مظفرآباد کے عوام جواب مانگتے ہیں!”
* “پانی کے منصوبے میں رکاوٹ ڈالنے والے بے نقاب کیے جائیں!”
* “عوامی حق پر حملہ کسی صورت قبول نہیں!”
* “پمپ واپس کرو، عوام کو پانی دو!”
* “یہ سازش ہے، اس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں!”
* “حلقہ مظفرآباد کو پانی سے محروم رکھنے والوں کا احتساب کرو!”
* “عوام کا حق چھیننے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لاؤ!”
* “پانی ہماری ضرورت ہے، کسی کی جاگیر نہیں!
01/05/2026
*ایک ہزار دن قید —سوال، انصاف یا فسطائیت؟*
Imran Khan کو قید ہوئے ایک ہزار دن مکمل ہو چکے ہیں۔
اگر حساب لگایا جائے تو یہ تقریباً 2 سال اور 9 ماہ بنتے ہیں۔
سوال یہ ہے: آخر جرم کیا ہے؟
*توشہ خانہ کیس*
یہ وہی توشہ خانہ ہے جہاں ماضی میں تقریباً ہر حکمران نے تحائف حاصل کیے۔ قانون کے مطابق تحفے ایک مخصوص رقم ادا کر کے رکھے جا سکتے ہیں۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ یہاں صرف گھڑیاں ہی نہیں بلکہ قیمتی اشیاء، حتیٰ کہ گاڑیاں تک لی گئیں — حالانکہ قانون گاڑی کو بطور ذاتی تحفہ رکھنے کی اجازت نہیں دیتا۔
تو پھر سوال یہ ہے:
اگر یہ سب ماضی میں معمول رہا، تو آج صرف ایک شخص کے لیے یہ کیس کیوں؟
*القادر ٹرسٹ کیس (190 ملین پاؤنڈ)*
یہ رقم سرکاری اکاؤنٹس میں موجود تھی، بعد میں حکومت نے خود اسے تحویل میں لے لیا۔
اسی کے ساتھ ایک تعلیمی ادارہ قائم کیا گیا — عوام کے بچوں کے لیے۔
وہ شخص جس نے پہلے ہی کینسر ہسپتال اور یونیورسٹی قائم کی ہو،
کیا وہ اپنی ذات کے لیے محلات بناتا ہے؟
یا پھر عوام کے لیے کام کرتا ہے؟
یہاں نیت پر سوال اٹھایا جا رہا ہے — مگر ثبوت کہاں ہیں؟
*عدت کیس*
یہ ایسا کیس ہے جسے سن کر بھی حیرت ہوتی ہے۔
ایک بالغ، پچاس سال سے زائد عمر کی خاتون کے معاملے کو عدالتوں تک لے جانا —
کیا یہ واقعی انصاف کا تقاضا ہے؟
یا پھر صرف کردار کشی کی ایک کوشش؟
اصل معاملہ کیا ہے؟
جب کرپشن کے ثبوت نہ ملیں،
جب بیرونِ ملک جائیدادیں نہ ہوں،
جب کمیشن اور لوٹ مار کا کوئی ریکارڈ نہ ہو،
تو پھر نشانہ کہاں بنتا ہے؟
شخصیت اور کردار۔
*یہ پہلی بار نہیں ہو رہا۔*
1996 میں بھی جب عوامی حمایت بڑھی، تو ذاتی نوعیت کے الزامات سامنے لائے گئے۔
یعنی مسئلہ ہمیشہ ایک ہی رہا:
ایک ایسا شخص جسے مالی کرپشن میں نہیں الجھایا جا سکا۔
*عوام کا ردِعمل*
آج صورتحال بدل چکی ہے۔
عوام باشعور ہو چکی ہے۔
الزامات اب اثر نہیں رکھتے، بلکہ الٹا ردعمل دیتے ہیں۔
جو نعرے کبھی لگائے گئے، آج وہی عوام واپس لوٹا رہی ہے۔
*آخری سوال*
کیا اب وقت نہیں آ گیا کہ یہ سلسلہ ختم ہو؟
کیا الزامات کی سیاست کو دفن کر کے ملک کے اصل مسائل پر توجہ نہیں دینی چاہیے؟
*یاد رکھیں*:
عزت دینے والا بھی اوپر ہے، اور لینے والا بھی وہی ہے۔
جب نیت بدلتی ہے، تو حالات بھی بدل جاتے ہیں۰
تحریر کردہ عدنان خان
ایڈوائزر ڈسٹرکٹ ملیر
تاریخ: 1 مئی 2026 (یومِ مزدور)
📍 ضلع ملیرکراچی سندھ
پاکستان تحریک انصاف کے 30ویں یومِ تاسیس کے موقع پر ضلع ملیر میں ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی۔
اس موقع پر پی ٹی آئی ضلعی صدر راشد نواز عباسی، جنرل سیکرٹری خالد محمود ایڈووکیٹ، رابطہ سیکرٹری سندھ انور مہدی، فنانس سیکرٹری شاہد علی خان، راشد جانگہیر، حمید سواتی، عمر فاروق،وقار حسین، حسن شاہ سمیت دیگر عہدیدران و کارکنان موجود۔
اس موقع پر یومِ تاسیس کا کیک بھی کاٹا گیا جس کی میزبانی یوسی صدر عدنان خان نے کی اور عمران خان اور تحریک انصاف کے ساتھ تجدیدِ عہدِ وفا کی گئی۔
25/04/2026
25 اپریل1996 … وہ دن جب ایک خواب نے جنم لیا۔
وہ خواب جو صرف اقتدار کا نہیں تھا بلکہ ایک آزاد خوددار اور انصاف پر قائم پاکستان کا خواب تھا۔
آج اُس جدوجہد کو 30 سال مکمل ہو گئے ہیں۔ 30 سال!
مگر سلام ہے میرے قائد *مرشد عمران خان* کو جس نے جو بات 1996 میں کہی تھی آج 2026 میں بھی اُس ایک ایک لفظ پر پہاڑ کی طرح ڈٹا کھڑا ہے۔
وہی آواز…
وہی بغاوت…
وہی للکار اشرافیہ کے خلاف…
وہی جنگ ظلم کرپشن اور غلامی کے نظام کے خلاف…
یہ صرف ایک سیاسی جماعت نہیں تھی، یہ ایک انقلاب تھا!
*پاکستان تحریک انصاف* صرف پارٹی نہیں مظلوم کی امید نوجوان کا خواب اور پاکستان کی غیرت کی آخری دیوار بن گئی۔
کپتان نے 30 سال اپنی قوم کے لیے لڑتے گزار دیے۔
اور اُس سے پہلے 27 سال دنیا میں پاکستان کا پرچم بلند کیا۔
کرکٹ کے میدانوں میں قوم کو عزت دی پھر سیاست کے میدان میں قوم کو شعور دیا۔
*وہ ایک شخص جو اندھیروں سے لڑتا رہا*
*چراغ بن کے زمانے میں جلتا رہا۔*
میرے پاکستانیو!
آج وہی عظیم انسان جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہے… کیوں؟
کیونکہ اُس نے ظالم کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا۔
کیونکہ اُس نے کہا تھا:
“میں حقیقی آزادی کے بغیر نہیں رکوں گا!”
؎
*“جھکا نہ جو کبھی باطل کے آستانوں پر*
*وہی تو وقت کے دھارے بدل کے آیا ہے۔*
آج اگر تم خاموش رہے…
اگر تم نے اپنے کپتان کو تنہا چھوڑ دیا…
تو یاد رکھو!
قومیں اپنے محسن کھو دیں تو صدیوں غلام رہتی ہیں۔
میرے پاکستانیو!
یہ وقت سونے کا نہیں، جاگنے کا وقت ہے۔
یہ وقت خوف کا نہیں، ایمان کا وقت ہے۔
یہ وقت خاموشی کا نہیں، انقلاب کا وقت ہے۔
اپنے دلوں میں آگ جگاؤ!
اپنی روح میں ایمان پیدا کرو!
اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے کھڑے ہو جاؤ!
اگر خدا نہ کرے آج ہم نے اپنے کپتان کا ساتھ نہ دیا، تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔
وہ پوچھیں گی:
جب حق کا علمبردار قید تھا، تب تم کہاں تھے؟
*لہو پکار رہا ہے، اُٹھو جوانو اُٹھو*
*وطن کے وقتِ قیامت میں کارواں بن جاؤ!*
آؤ!
یومِ تاسیس کے اس تاریخی دن عہد کریں کہ ہم اپنے قائد *مرشد عمران خان* کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
ہم ظلم کے سامنے نہیں جھکیں گے۔
ہم پاکستان کو حقیقی آزادی دلوا کر رہیں گے۔
کپتان صرف ایک انسان نہیں…
وہ ایک نظریہ ہے۔
وہ امید ہے۔
وہ غیرت ہے۔
وہ پاکستان کی آخری امید ہے۔
پاکستان زندہ باد!
کپتان زندہ باد!
انقلاب زندہ باد!
نوجوان اس ملک کا سب سے بڑا اثاثہ ہوتے ہیں اور اس اثاثہ کو تباہ کرکے رکھ دیا ان ظالموں نے ۔۔
پاکستان کے سیاح دنوں میں سے ایک یہ سیاح دن بھی ہمیں یاد ہے
جیت ہمیشہ حق کی ہوتی ہے 🔥
08/04/2026
ایران آپ کو آپ کی جیت بہت بہت مبارک ہو ✊🏻
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
41250
