محمد طیب قیصر

محمد طیب قیصر

Share

ازدواجی معاملات میں کنسلٹیشن || سولر انسٹالیشن || ادویات کی فراہمی ||سوشل ایکٹیوسٹ ||
رابطہ نمبر :- 03122622420

28/01/2025

⚠بیوی کی بہن⚠

یہ تو ہم سب جانتے ہیں
کہ بیوی کی بہن کے لئے ہمارے معاشرے میں لفظ "سالی" مستعمل ہے۔۔۔۔
لفظ اگرچہ کچھ مناسب نہیں لگتا
لیکن اسی نام سے بات شروع کرتے ہیں۔۔۔
عموماًبیوی کی بڑی بہنیں شادی شدہ ہوتی ہیں اور اگر غیر شادی شدہ بھی ہوں تو وقت کے ساتھ طبیعت میں سنجیدگی اور بردباری آچکی ہوتی ہے۔۔۔۔
جبکہ بیوی کی چھوٹی بہنیں عمر کے اس مرحلے میں ہوتی ہیں جب زندگی کا ہر رُخ خوبصورت اور ہر موڑ دلکش معلوم ہوتا ہے۔۔۔
ایسے میں بہن کا شادی ہونا اور ایک نئے فرد یعنی بہنوئی کا گھر سے تعلق ہونا بھی ایک منفرد رنگ لئے ہوتا ہے۔۔۔
معاشرے کے عام چلن کی وجہ سے عموماًیہ چھوٹی سالیا ں اپنے بہنوئی سے ہنسی مذاق کی باتیں بھی کرتی ہیں اور اپنے بہنوئی کا خیال بھی بہت رکھتی ہیں۔۔۔
جب کبھی بہن کا اپنے میکے جا نا ہو
تو اکثر یہی سالیاں بہن اور بہنوئی کو بوریت سے بچانے کے لئے ان کو مکمل وقت دیتی ہیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب مرد کے رُخ سے کچھ بات ہوجائے۔۔۔
ہمارے معاشرے میں ایک محاورہ مشہور ہے۔۔۔
سالی۔۔۔
آدھے گھر والی۔۔۔
اکثر مرد جب اپنے عزیز دوستوں میں بیٹھتے ہیں تو چھوٹی سالیوں کے نام پر ایک عجیب مسکراہٹ ان کے چہرے پر آجاتی ہے۔۔۔
دوست احباب بھی ذومعنی جملوں سے اس مسکراہٹ کو مزید گہرا کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔۔۔
یہ حقیقت عجیب صحیح لیکن بہر حال معاشرے میں موجود ہے۔۔۔
اپنے بہنوئی کے اس رُخ سے ان کی سالیاں بھی اکثربے خبر ہوتی ہیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب اسلام کے رُخ سے اس پہلو کو دیکھتے ہیں۔۔۔
اسلام کی رُو سے بہنوئی سالی کا آپس میں شرعی پردہ ہے۔۔۔
بہنوئی،سالی کا نامحرم ہے اور گھر کے اندر گاہے بگاہے اس کی موجودگی کی وجہ سے اس پردے میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔۔۔
یہ ایسی حقیقت ہے جس سے لڑکی کے ماں باپ بھی آنکھیں بند کئے رکھتے ہیں۔۔۔
اکثر بہنوئی بھی اس پردے کو اپنی ہتک سمجھتے ہیں۔۔۔
اور سالیا ں "ہمارے بہنوئی تو ہمارے بھائی جیسے ہیں" کی سوچ کے ساتھ اس سے صرفِ نظر کرتی ہیں۔۔۔

اور یہ میلان کی خطرناک حد بہنوئی کے علاوہ کسی کے علم میں بھی نہ ہو گی۔۔۔
اور وہ بہنوئی کبھی اپنی بیوی کو بھی اس میلان کانہیں بتائے
یہ ایسا خاموش زہر ہے جس سے یا تو وہ مرد واقف ہے یا الله تعالیٰ کی ذات اس کے دل کا حال جانتی ہے۔۔۔
نہ مردوں میں اتنی ایمانی قوت ہے کہ وہ اپنی اس حرکت کو تسلیم کرسکیں۔۔۔
خدارا!اس امتحان میں نہ پڑیں۔۔۔
بیوی کے ماں باپ سے گزارش ہے کہ اپنی دیگر بیٹیوں کو داماد سے شرعی پردہ کروائیں۔۔۔
بیوی کی بہنوں سے گزارش ہے کہ خود ہی پیچھے پیچھے رہا کریں تاکہ بہنوئی کو یہ باور ہو کہ میری سالیاں جھجھک اور شرم والی ہیں۔۔۔
اور مرد حضرات سے گزارش ہے کہ اس نسبی تعلق کے ساتھ مالِ مفت دل ِبے رحم والا معاملہ نہ کریں اور دل کے اندر گھٹیا اور فضول خواہشات پالنے سے گریز کریں۔۔۔
الله تعالیٰ ہمیں اس باریک مسئلے کی حقیقت کا ادراک کرنے والا بنا دے آمین۔

26/01/2025

اپنے پاؤں کے تلوؤں پر تیل لگا لیا کریں

1۔ ایک خاتون نے لکھا کہ میرے نانا 87 سال کے فوت ہوئے، نہ کمر جھکی، نہ جوڑوں میں درد، نہ سر درد، نہ دانت ختم ، ایک بار باتوں باتوں میں بتانے لگے کہ مجھے ایک سیانے نے مشورہ دیا تھا اس وقت جب میں کلکتہ میں ریلوے لائن پر پتھر ڈالنے کی نوکری کر رہا تھا کہ سوتے وقت اپنے پاؤں کے تلوؤں پر تیل لگا لیا کریں بس یہی عمل میری شفاء اور فٹنس کا ذریعہ ہے۔

2۔ ایک سٹوڈنٹ نے بتایا کہ میری والدہ اسی طرح تیل لگانے کی تاکید کرتی ہیں پھر خود بتایا کہ بچپن میں میری یعنی والدہ کی نظر کمزور ہو گئی تھی جب یہ عمل مسلسل کیا تو میری نظر آہستہ آہستہ بالکل مکمل اور صحت مند ہو گئی۔

3۔ ایک صاحب جو کہ تاجر ہیں نے لکھا میں چترال میں سیرو تفریح کرنے گیا ہوا تھا وہاں ایک ہوٹل میں سویا مجھے نیند نہیں آ رہی تھی میں نے باہر گھومنا شروع کر دیا باہر بیٹھا رات کا وقت بوڑھا چوکیدار مجھے کہنے لگاکیا بات ہے ؟ میں نے کہا نیند نہیں آ رہی ! مسکرا کر کہنے لگا آپ کےپاس کوئی تیل ہے میں نے کہا نہیں وہ گیا اور تیل لایا اور کہا اپنے پاؤں کے تلوؤں پر چند منٹ مالش کریں بس پھر کیا تھا میں خراٹے لینے لگا اب میں نے معمول بنا لیا ہے۔

4۔ میں نے رات کو سونے سے پہلے پاؤں کے تلوؤں پر تیل کی مالش کا یہ ٹوٹکہ آزمایا اس سے نیند بہت اچھی آتی ہے اور تھکاوٹ ختم ہو جاتی ہے۔

5۔ مجھے معدے کا مسئلہ تھا پاؤں کو تلوؤں پر تیل کی مالش سے 2 دن میں ہی میرا معدے کا مسئلہ ٹھیک ہو گیا۔

6۔ واقعی! اس عمل میں جادو جیسا اثر ہے میں نے رات کو سونے سے پہلے پاؤں کے تلوؤں پر تیل کی مالش کی اس عمل کی وجہ سے مجھے بہت پر سکون نیند آئی۔

7۔میں یہ ٹوٹکہ تقریباً پچھلے 15 سال سے کر رہی ہوں مجھے اس سے بہت پر سکون نیند آتی ہے میں اپنے چھوٹے بچوں کے پاؤں کے تلوؤں پر بھی تیل سے مالش کرتی ہوں اس سے وہ بہت خوش ہوتے ہیں اور صحت مند رہتے ہیں ۔

8۔میرے پاؤں میں درد رہتا تھا میں نے روزانہ زیتون کے تیل سے رات کو سونے سے پہلے 2 منٹ پاؤں کے تلوؤں کی مالش کرنا شروع کر دی اس عمل سے میرے پاؤں کا درد ختم ہو گیا ۔

9۔ میرے پاؤں میں ہمیشہ سوزش رہتی تھی جب چلتی تھی تو تھکن سے چور ہو جاتی تھے میں نے رات کو سونے سے پہلے پاؤں کے تلوؤں پر تیل کی مالش کا یہ عمل شروع کیا صرف 2 دنوں میں میرے پاؤں کی سوزش دور ہو گئی ۔

10۔ رات کو سونے سے پہلے پاؤں کے تلوؤں پر تیل کی مالش کا ٹوٹکہ دیکھ کر اسے کرنا شروع کر دیا اس سے مجھے بہت سکون کی نیند آتی ہے۔

11۔ زبردست کمال کی چیز ہے۔ پر سکون نیند کیلئے نیند کی گولیوں سے بہتر کام کرتا ہے یہ ٹوٹکہ میں اب روزانہ رات کو پاؤں کے تلوؤں پر تیل کی مالش کر کے سوتی ہوں۔

12۔ میرے دادا حضور کے تلوؤں میں بہت گرما ہٹ و جلن اور سر میں درد رہتا تھا جب سے انہوں نے لوکی کا تیل تلوؤں میں لگانا شروع کیا تکلیف سرے سے دور ہو گئی ۔

13۔میں تھائیرائیڈ کی مریضہ تھی میرے ٹانگوں میں ہر وقت درد رہتا تھا پچھلے سال مجھے کسی نے رات کو سونے سے پہلے پاؤں کے تلوؤں پر تیل کی مالش کا یہ ٹوٹکہ بتایا میں مستقل کر رہی ہوں اب میں عموماً پر سکون رہتی ہوں ۔

14۔ میرے پاؤں سن ہو رہے تھے میں چار دن سے رات کو سونے سے پہلے پاؤں کے تلوؤں پر تیل سے مالش کر رہا ہوں بہت زیادہ فرق ہے ۔

15۔بارہ تیرہ سال پہلے مجھے بواسیر تھی ، میرا دوست مجھے ایک حکیم صاحب کے پاس لے گیا جن کی عمر 90 سال تھی انہوں نے مجھے دوا کے ساتھ ساتھ رات کو سونے سے پہلے پاؤں کے تلوؤں پر انگلیوں کے درمیان ، ناخنوں پر اور اسی طرح ہاتھوں کی ہتھیلیوں ، انگلیوں ، کے درمیان اور ناخنوں پر تیل کی مالش کرنے کا مشورہ دیا اور کہا ناف میں چار پانچ قطرے تیل کے ڈال کر سونا ہے میں نے حکیم صاحب کے اس مشورے پر عمل کرنا شروع کر دیا اس سے میرے خونی بواسیر میں کافی حد تک آرام آ گیا اس ٹوٹکے سے میرا قبض کا مسئلہ بھی حل ہو گیا میرے جسم کی تھکاوٹ بھی دور ہو جاتی ہے اور پر سکون نیند آتی ہے اور بقول حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم کے ناک کے اندر سرسوں کا تیل لگا کر سونے سے خراٹے آنے بند ہو جاتے ہیں ۔

16۔ پاؤں کے تلوؤں پر تیل کی مالش کایہ ٹوٹکہ میرا آزمودہ ہے۔

17۔ پاؤں کے تلوؤں پر تیل کی مالش کرنے سے مجھے بہت پرسکون نیند آئی ۔

18۔میرے پاؤں اور گھٹنوں میں درد رہتا تھا ۔ جب سے پاؤں کے تلوؤں پر تیل کی مالش کا ٹوٹکہ پڑھا اب میں یہ روزانہ کرتا ہوں اس سے مجھے پر سکون نیند آتی ہے ۔

19۔مجھے کمر میں بہت درد تھا جب سے میں نے رات کو سونے سے پہلے پاؤں کے تلوؤں پر تیل کی مالش کا یہ ٹوٹکہ استعمال کرنا شروع کیا ہے کمر کا درد کم ہوگیا ہے اور اللہ پاک کا شکر ہے بہت اچھی نیند آتی ہے ۔

وہ مغلیہ راز درج ذیل ہے:۔

وہ راز بالکل آسان نہایت مختصر ، ہر جگہ اور ہر شخص کے لئے کرنا بہت آسان ۔کوئی سا بھی تیل سرسوں یا زیتون وغیرہ پاؤں کے تلوؤں اور پورے پاؤں پر لگائیں خاص طور پر تلوؤں پر تین منٹ تک دائیں پاؤں کے تلوے اور تین منٹ بائیں پاؤں کے تلوے پر رات کو سوتے وقت مالش کرنا کبھی نہ بھولیں ، اور بچوں کی بھی اسی طرح مالش ضرور کریں ساری زندگی کا معمول بنا لیں پھر قدرت کا کمال دیکھیں آپ ساری زندگی سر میں کنگھی کرتے ہیں جوتے صاف کرتے ہیں ، تو سوتے وقت پاؤں کے تلوؤں پر تیل کیوں نہیں لگاتے۔

قدیم چینی طریقہ علاج کے مطابق بھی پاؤں کے نیچے 100 کے قریب Acupressure Points (ایکوپریشر پوائنٹ) ہوتے ہیں۔ جن کو دبانے اور مساج کرنے سے بھی انسانی اعضاء صحت یاب ہوتے ہیں۔ اس کو
Foot Reflexogy

کہا جاتا ہے۔ پوری دنیا میں پاؤں کی مساج تھراپی سے علاج کیا جاتا ہے۔

15/01/2025

#خُلع_یا_طلاق_کے_نقصانات

آجکل کے حالات ماحول بہت تیزی سے بدل رہے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق صرف کراچی کراچی میں مختلف عدالتوں میں اوسطا ماہانہ 3ہزار کیسز صرف طلاق و خلع کے دائر ہورہے ہیں۔
اور وہ اعداد و شمار جو خاندانوں کی سربراہی، یا علاقائی سطح پر طلاق و خلع کے حل ہوتے ہیں اُن کے کیا ہی کہنے ۔
اگر آپ کی نظر میں ازدواجی ذندگی کے مسائل کا آخری حل " علیحدگی" ہی ہے تو ایک بار ان مسائل کا ادراک بھی کر لیں... جو خلع یا طلاق کیبعد پیش آسکتے ہیں

میکے میں کیا کیا مسائل پیش آ سکتے ہیں؟
بسا اوقات خواتین کا روٹھ کر میکے جانے کا مقصد طلاق یا خلع نہیں ہوتا بلکہ وہ چند دن رہنا چاہتی ہیں اور یہ سوچتی ہیں کہ شوہر منا کر لے جائے گا۔کبھی والدین بیٹی کی شکایات کو انا کا مسئلہ بنا کر بیٹی کو روک لیتے ہیں تو کبھی شوہر بیگم کے روٹھ کر جانے کو مسئلہ بنا لیتا ہے اور خود ہی آئے گی اور خود ہی آئے گا سے بات بڑھتے بڑھتے علیحدگی تک جا پہنچتی ہے...

لہذا کبھی بھی اپنا گھر چھوڑ کر جانے کی غلطی نہ کریں، میاں بیوی کی لڑائیاں ہونا معمول ہے، اور ان لڑائیوں کو چار دیواری میں قید کرنا میاں بیوی کی ذمہ داری ہے۔
چاہے کتنی ہی نوعیت کیوں نا خراب ہوجائے، آپ نے کسی تیسرے فرد کو انوالو نہیں کرنا
کبھی کبھار وقتی غصہ، یا جذباتی پن لڑائی کے چند منٹ بعد ہی پشیمانی میں تبدیل ہوجاتا ہے لہذا خوب سوچ سمجھ کر کسی کو کال کریں،
یاد رکھیں جو عورت شادی کیبعد بھی میکہ کی تصوراتی زندگی جیتی ہے پھر مشکل ہے اسکا سُسرال آباد ہو

ٹھنڈے دل سے سوچیں کہ کیا میکے والے آپ کے اس فیصلے کی تائید کریں گے... ؟
میکے میں والدین کے علاوہ بھائی اور بھابھیاں آپ کے وہاں مستقل قیام سے خوش ہوں گی... ؟

میکے میں بچوں کے درمیان ہونے والی لڑائیوں سے آپ کی وقعت کم تو نہ ہو گی...؟
جس طرح اب چند گھنٹوں یا چند دنوں کے لیے میکے جانے پر آپ کا استقبال اور آؤ بھگت کی جاتی ہے مستقل رہنے کی صورت میں بھی ایسا ہی ہو گا... ؟
سب سے بڑا مسئلہ اخراجات کا ہو گا کیا میکے والے ہمیشہ آپ کا ساتھ دے پائیں گے... ؟
اگر آپ خود کماتی ہیں تو کیا یہ آمدن کافی ہو گی... ؟
بچوں کا کیا مستقبل ہو گا... ؟
کیا آپ بچوں کے بغیر رہ پائیں گی... ؟
بن باپ کے آپ بچوں کو وہ مقام دے پائینگی.. ؟ جو ایک باپ فطری محبت میں دینے کی خواہش رکھتا ہے۔

یقیناً نہیں...!!!

میاں بیوی کے درمیان بہت سنجیدہ قسم کے مسائل بھی ہو جاتے ہیں لیکن علیحدگی کی صورت میں اوپر لکھے گئے مسائل اس سے بھی کہیں شدید ہوتے ہیں جب آہستہ آہستہ میکے میں آپ کی جگہ کم سے کم ہوتی چلی جاتی ہے۔

علیحدگی کے بعد عموماً والدین دوسری شادی پر زور دیتے ہیں لیکن کیا دوسرا شوہرآپ کے بچوں کو قبول کرے گا۔

( رنڈوے یا طلاق یافتہ مرد حضرات کی 99% تعداد بغیر بچوں کی خاتون سے شادی کرنا چاہتی ہے کیونکہ وہ اپنے اور خاتون کے بچوں کو ایک جگہ رکھ کر تناؤ کی کیفیت نہیں بنانا چاہتے۔خاتون کے بچوں کے اخراجات ایک اضافی بوجھ ہوتے ہیں)

اس لیے اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کریں۔

مکمل دیانت داری کے ساتھ شوہر کی خوبیوں اور خامیوں کو دیکھیں اگر خوبیوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے تو ساتھ رہنا ہی بہترین فیصلہ ہے۔
اپنی خامیوں پر بھی قابو پانے کی کوشش کریں۔
اور سب سے اہم یہ کہ ماضی کی تلخ یادوں کو ہمیشہ کے لیے دفن کرتے ہوئے بہت ہمت اور حوصلے کے ساتھ نئی زندگی کا آغاز کیجئے، محبت اور خلوص سے اس رشتے کو مضبوط کیجئے۔

07/01/2025

خدا نے "تمھاری" عورتوں کے سینوں کو تمھارے لئے زمین پر جنت کا سامان بنایا...

🖤

23/12/2024

میڈیکل سائینس کے مطابق مرد اور عورت جب جنسی ملاپ کرتے ہیں تو دونوں کے جسم سے جو خلیات نکلتے ہیں ان میں دو قسم کے جینز ہوتے ہیں ۔ مرد کے پاس XY جبکہ عورت کے پاس XX جینز ہوتے ہیں یعنی دونوں کے ملاپ سے حو بھی بچہ پیدا ہوتا ہے وہ لڑکا ہوگا یا لڑکی اس کا انحصار ان دو قسم کے جینز پہ ہوتا ہے۔
اگر عورت کا ایک X جین اور مرد کا X جین آپس میں ملتے ہیں تو بچہ جو پیدا ہوگا وہ لڑکی ہوگی اور اگر عورت کا ایک X جین مرد کے Y جین سے جاکر ملتا ہے تو بچہ لڑکا پیدا ہوگا۔۔
یہاں آسان الفاظ میں سمجھانے کا مطلب یہ ہے کہ پیدا ہونے والے بچے کی جنس کا دارومدار مرد پہ ہوتا ہے اگر اسکا Y جین طاقتور ہے تو بچہ لڑکا اگر اسکا Y جین کمزور ہے تو اسکا X جین عورت کے X جین سے ملتا ہے نتیجہ میں جو بچہ پیدا ہوگا وہ لڑکی ہوگی۔
لیکن ہمارے معاشرے میں جہالت اس حد تک سرائیت کر چکی ہے کہ پیدا ہونے والے بچے کی جنس پہ عورت کو ہی ذمہ وار سمجھی جاتی ہے اور لڑکی پیدا ہونے پہ صرف اسے ہی موردالزام ٹھرا کر پریشرائز کیا جاتا ہے بلکہ زیادہ تر کیسز میں تو تشدد اور طلاق تک بات پہنچتی ہے۔ معاشرے کی اس جہالت پہ صرف افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔

15/12/2024

"میں مرد نہیں ہوں"
”میں تم سے چائے کہ اک کپ پر مل سکتی ہوں“
میسنجر پر اک میسج تھا جسے میں نے دو دن بعد پڑا
”ہم ضرور مل سکتے ہیں لیکن مجھے چائے سے کوئ شغف نہیں ہے“
دو دن گزر جانے کے بعد پھر میسنجر کی گھنٹی بجی ”تجھے دو دنوں بعد ریپلائے اس لئے کر رہی ہوں کیونکہ تم نے بھی ایسے ہی کیا تھا، امید ہے اگلی بار تم انتظار سے بچنے کے لئے مجھے بھی انتظار نہیں کرواو گے“
”مجھے میسنجر بوجھ لگتا ہے اس لئے اسے دیکھنے سے اکثر کتراتا رہتا ہوں، تاخیر کا سبب فقط یہی تھا“
”میں ملتان کے اک پرانے محلے میں رہتی ہوں، ہمارے گھر کی چھت سے ملتان کی درگاہوں کے گنبد نظر آتے ہیں، ابھی میں تجھے میسج کر رہی ہوں تو میں چھت پر کھڑی منڈیر پر بیٹھے اک کبوتر کو دیکھ رہی ہوں جو شائد میرا میسج تم تک پہنچنے سے پہلے ہی اڑ جائے“
”تمہارا میسج ابھی وصول ہوا، میں مال روڑ پر چل رہا ہوں اور مجھے پنجاب پبلک لائبریری کی طرف جانا ہے، وہ کبوتر ضرور اڑ چکا ہو گا“
”میں کہیہ رہی تھی کہ کیا ہم مل سکتے ہیں، چائے کہ اک کپ پر یا کسی ایسی چیز پر جو ہم دونوں میں مشترکہ ہو؟“
”میں یہ بتانے میں عاجز ہوں کہ مجھے کھانے میں کیا پسند ہے لیکن ہم مل سکتے ہیں“
”اگلے منگل کی شام کو۔۔۔۔لاہور میں، میرا انتظار کرنا میں ضرور آوں گی“

یہ اتوار کا دن تھا، اس کے اور میرے درمیان اک شام حائل تھی
لیکن مجھے لگا کہ یہ انتظار میرے لئے کھٹن ہے۔
طبیعت پہلے سے زیادہ بگڑی ہوئی تھی اور میں بستر پر بے سدھ پڑا تھا
اسکا میسج سکرین پر ابھرا۔۔۔۔۔”میں مسجد وزیر خان کی سیڑھیوں پر بیٹھی تمہارا انتظار کر رہی ہوں“
میں چونک گیا، آج کا دن منگل کیسے ہو سکتا ہے؟ لیکن وہ منگل ہی تھا اور شام تھی
بیماری اور دکھ جب جسم سے روح میں پیوست ہو جائے تو نہ دل سنبھلتا ہے اور نہ عقل سلجھتی ہے
مجھے اس کا انتظار تھا لیکن میں منگل کے آنے سے بے خبر تھا
”اگر تم ایک گھنٹہ سے پہلے نہیں پہنچ سکے تو یہ شام گزر جائے گی اور شام کے بعد میں یہاں نہیں ہونگی“
یہ پیغام تھا، تنبیہ تھی یا وعید تھی۔۔۔۔۔یہ جو بھی تھا لیکن مجھے مزید الجھا چکا تھا
”میری طبیعت ناساز ہے، کمرے سے باہر اک قدم رکھنا بھی خاصہ دشوار ہے۔۔۔۔۔لیکن مجھے وقت دو، میں آنے کا وعدہ کرتا ہوں“

میرا وہی سیاہ جوڑا جو مجھے وحشت کے دنوں میں مرعوب لگتا ہے اور میرا تھیلا جس میں، میں اپنا وجود سمیٹ کر کسی بھی راہ پر نکل پڑتا ہوں
اور سندھ کے رنگوں میں رنگی اجرک جس میں میرے اک دراوڑی دوست کی محبت کی مہک تھی، بغیر کنگھی کے الجھے ہوئے بال
میں اگلے کچھ منٹوں میں دہلی دروازہ پر پہنچ چکا تھا
موبائل وائبریٹ ہوا، یہ اسی کا میسج تھا
”سورج ڈھل رہا ہے اور میں اندھیرے میں نہیں رکوں گی“
”میں اگلے چند منٹوں میں انہی سیڑھیوں پر بیٹھا ہوں گا جو اب تمہارے وجود کو محسوس کر رہی ہیں“
”میں نہیں جانتی کہ تم دکھنے میں کیسے ہو، یہاں بہت سے لڑکے ہیں اور سارے ہی مجھے ترچھی نگاہوں سے بار بار دیکھتے ہیں اور پھر آنکھیں موند لیتے ہیں
میں تجھے کیسے پہچانوں گی؟“
”میرے جیسا صرف میں ہی ہوں، تم ان سب میں مجھے پہچان لو گی، سورج کو ڈھلنے میں بیس منٹ باقی ہیں اور مجھے پہنچنے میں شائد اتنے ہی لمحے“
وزیر خان مسجد کے دروازہ سے اک افریقن بوڑھی باہر نکل رہی تھی جس کے کولھے بھاری اور سر منڈھا ہوا تھا
اک گورا جو جرمن محسوس ہوتا تھا اک پینٹنگ پر سر جھکائے کھڑا تھا
سیڑھیوں پر بہت سی لڑکیاں بیٹھی تھیں ان میں ایک وہ تھی جسے میں نہیں جانتا تھا اور نہ ہی اس کے نام سے واقف تھا
لیکن وہ میری منتظر تھی۔
میں سب سے اوپر والی سیڑھی پر چپ بیٹھ گیا، سیڑھی بھی چپ میں مبتلا تھی
علالت کے باعث میرا سر چکرانے لگا، میں نے اپنے تھیلے میں جھانکا تو۔۔۔۔۔میں اپنی میڈیسن بھول آیا تھا۔

”سیڑھیوں کا رخ الٹ ہے یہاں پر ڈھلتی زندگی تو نظر آتی ہے لیکن ڈھلتا سورج نہیں۔۔۔۔۔۔۔تم نے آنے میں دیر کر دی“
وہ نیلی عبایا میں تھی، سانولا رنگ اور ناک میں نتھلی، وہ ایسی تھی کہ پہلی ہی نظر میں خوبصورت دکھتی تھی
”مجھے دو گھونٹ پانی چاہیے“
”تم اپنے ہاتھ میں منرل واٹر کی بوتل پکڑے ہوئے ہو،تم یہ پی سکتے ہو“
”مجھے پچھلے کئیں گھنٹوں سے پیاس لگی ہے لیکن میں بھول گیا تھا کہ مجھے پانی مانگنے کی ضرورت نہیں ہے“
”تمہارا مرض کیا ہے؟“
”مجھے کوئ مرض نہیں ہے، ڈاکٹرز اور انکے آلات سب یہی کہتے کہ مجھے کوئ مرض نہیں ہے، میں بھی جانتا ہوں کہ مجھے کوئ مرض نہیں ہے لیکن میں ٹھیک نہیں ہوں یا شاید کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے“

وزیر خان کی سیڑھیوں کے نیچے جہاں اک بھکاری بیٹھا تھا اسکے ساتھ اک دس سال کا لڑکا پھول بیچ رہا تھا
”تم پھولوں کا گجرا پہنتی ہو؟“
”مجھے پھول اچھے نہیں لگتے اور گجرے مجھے پسند نہیں ہیں“
”لیکن مجھے گجرا پہننا پسند ہے، جو سفید موتئے کے پھولوں سے بنا ہوا ہو، موتیے کا پھول میری پہلی محبت ہے“

”تم کیوں ملنا چاہ رہی تھی؟“
”میں صرف دو گھنٹے اور ٹھہروں گی اور اگر اس کے دوران مجھے ملنے کا مقصد بتانا ضروری لگا تو بتا دوں گی“
”شائد بتانا ضروری نہیں ہے، بغیر غرض کے ملنا ذیادہ خوبصورت ہوتا ہے
اور یہ کسی اجنبی لڑکی سے ہو تو اس سے خوبصورت لمحات کیا ہو سکتے ہیں“
”ہم کچھ دیر خاموش بیٹھتے ہیں اور پھر یہاں سے اٹھ جائیں گے“
ہم چپ تھے اور شہر شور میں غرق تھا، سورج ڈوب چکا تھا اور اندرون لاہور کے گلی کوچوں میں اندھیرا ، برقی لائٹس کے زد میں آنے لگا
”اک رائڈر کرواو جو ہمیں شاہی محلہ کی فوڈ سٹریٹ میں چھوڑ آئے، مجھے چائے پینی ہے اور تم بھی وہی پیو گے“

”وہ میری پہلی محبت تھا اور میں نے خود کو اسے سونپ دیا لیکن وہ مرد تھا
صرف اک رات نہیں تھی بلکہ کئیں راتیں تھیں جن میں، میں بہک جاتی تھی اور وہ مجھ میں بھٹک جاتا تھا“
بادشاہی مسجد کے گنبد روشنی میں دمک رہے اور مینار جلوت بکھیر رہے تھے
میری نگاہیں اس کے چہرے پر جمی تھیں اور وہ خلا میں غور رہی تھی
وہ جیسے جیسے بولتی جا رہی تھی اس کی آنکھیں پانیوں میں ڈوبتی جا رہی تھیں
”وہ پہلا مرد تھا، جسے سوچ کر مجھے اپنی جوانی کے بند توڑنے کا خیال آیا اور میں نے توڑ دئیے، میں نے خود کو اسکے سپرد کر دیا
محبت کی تسبیح پر جب جنس کے منکے پرو دئیے جائیں تو صرف دل ہی محبوب کے نام پر نہیں دھڑکتا بلکہ بدن بھی مرتعش ہو جاتا ہے
ہمارے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا“
چائے کا کپ مجھے موت کا کنواں نظر لگتا اور یہ بھی ویسا ہی تھا
میں اب اسے نہیں دیکھ رہا تھا, میری نظر سامنے ناچتے ہوئے اک بندر پر بھی جو اسلئے ناچ رہا تھا کیونکہ مداری بھوکا تھا
لیکن میرے کان اسے ہی سن رہے تھے

”وقت نے بہت کچھ بدل دیا، ہم ایک ہی تھے لیکن ہمارے حالات ایک سے نہ تھے، ہمارے درمیان بہت سی اقدار اور خدا حائل ہونے لگے
میں اس موڑ پر آن کھڑی ہوئی جہاں مجھے اس سے بچھڑنا پڑا تھا
میں اسے حالات کی حقیقت نہ سمجھا سکی اور وہ اسے میری بے وفائی سمجھنے لگا“

”تمہارے چائے ٹھنڈی ہو جائے گی“ میں نے اسے ٹوکتے ہوئے کہا۔
”جب مرد کو لگے کہ عورت اسے نظر انداز کر رہی ہے اور اک دوسرے مرد کو اس سے ذیادہ ترجیح دے رہی ہے تو وہ کیا کرتا ہے؟“
”عورت جب مرد بدلتی ہے تو پہلے مرد کی نظر میں اس کی وقعت گر جاتی ہے
مرد نہ صرف محبت میں آخری حد کو چھو لیتا ہے بلکہ تب بھی وہ کچھ بھی کر دیتا ہے جب اس کی پسندیدہ عورت اپنے خواب کسی اور مرد کی بانہوں میں بننے لگتی ہے“ میں پہلی بار اتنا بولا تھا
”ہاں وہ بھی مرد ہی تھا، اس کی جب انا مجروح ہوئی اور اسے لگا کہ میں نے کسی دوسرے مرد کو اس ترجیح دی ہے تو اسکے اندر سے حیوان منہ زور ہو کر نکل پڑا“ وہ ٹھہر ٹھہر کر بول رہی تھی اور اسے سنتے ہوئے میرے حواس باختہ ہو رہے تھے۔

”میرا گھر بس چکا تھا اور میں نے اپنی تمام خواہشات اور آرزووں کو اک چار دیواری میں بند کر لیا
لیکن وہ ضد پر قائم تھا، میرا اس سے ملنا ممکن نہیں رہا تھا لیکن وہ بہرا ہو چکا تھا جسے میرا کچھ بھی کہنا سنائ نہیں دیتا، وہ اندھا ہو گیا تھا جسے حالات کی حقیقت نظر نہیں آتی تھی
یہ پہلے کے دن تھے جب محبت ہم پر مہربان تھی
تو ہم نے ایک دوسرے کی روح اور جسم پر محبت کی بہت سی نشانیاں ثبت کیں
اب وقت مہرباں نہیں رہا تھا لیکن
ہمارے پاس ایسے بہکے ہوئے لمحات کی بہت سی نشانیاں تھیں، کچھ سکرین شارٹس، کچھ خط، کچھ ویڈیوز
پچھلی محبت کی نشانی اژدھے سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے
تو وہی ہوا، وہ جو صرف اسکے اور میرے درمیان تھا وہ خاص لمحے جو ہماری روح تک محدود تھے
اسے یہ لگا کہ وہ صرف مرد ہے اور یہ بھول گیا کہ میں اک لاچار عورت ہوں
اسنے اپنے ٹھکرائے جانے کا بدلہ لیا اور وہ سب ، ان سب کو دکھا دیا جن سے میں سات پردے کرتی تھی
اس نے میرے جسم کے راز بازار میں بکھیر دئیے
میں پہلے مقدس تھی اور اب بازار کا ہر مرد جس کی آنکھوں میں بھوکے گدھ بیٹھے ہیں وہ سب مجھ پر تھوکنا چاہتے ہیں
میرے پاس پناہ کے لئے کوئ چھت نہیں ہے اور جن کے پاس کوئ چھت نہ ہو آسمان ان پر تنگ پڑ جاتا ہے
شوہر مجھے طلاق دے چکا ہے اور میرا باپ مجھے قتل کر کے غیرت کا اک پھول اپنی پگڑی میں سجانا چاہتا ہے“
میری سانس جیسے رک گئی تھی شہر سائیں سائیں کر رہا تھا۔
وہ سبکیاں لے لے کر رونے لگی، میں اس کے آنسو نہیں صاف کر سکتا تھا کیونکہ میرے ہاتھ تیزی سے کانپ رہے تھے
اور اسے دلاسہ بھی نہیں دینا چاہتا تھا کیونکہ اس کا دکھ میرے لفظوں سے بڑا تھا
اسکے اور میرے درمیان اک میز تھی جس پر چائے کے دو کپ ٹھنڈے ہو چکے تھے
گجرا جو میں نے اپنے ہاتھ میں باندھا تھا اس کے پھولوں سے مہک اٹھ گئی تھی
میری پانی کی بوتل خالی پڑی تھی
وہ چپ تھی اور آنسو لگاتار بہیہ رہے تھے
”میرا وقت ہو گیا ہے مجھے اب جانا ہو گا“ اس نے چائے سے اک گھونٹ بھرتے ہوئے کہا اور کپ میز پر رکھ دیا۔
مجھے چپ کھا رہی اور کم ہمتی ڈس رہی تھی
میں نے کچھ بولنے کے لئے منہ کھولا ہی تھا تو اس نے مجھے ٹوک دیا
”پلیز مجھے رکنے کے لئے نہ کہنا اور نہ ہمدردی کا اظہار کرنا، یہ میری انا کا تقاضہ ہے“
وہ جانے کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی اور یہ پہلی بار تھی جب اس نے بھری آنکھوں سے میری طرف دیکھا
”میں چلی جاوں؟“
میں نے پلکیں جھپکا کر آنکھوں کے اشارہ سے ”ہاں“ کہا
اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی اور اس نے آگے بڑھنے کے لئے قدم اٹھائے اور رک گئی
وہ میری آنکھوں میں دیکھ رہی تھی
”اگر کسی کمزور وقت میں کوئ لڑکی اپنے جسم کی تمام امانتیں تمہارے سپرد کر دے
اور بہت سے نشان بھی چھوڑ دے
اور اک وقت آنے پر ایک دوسرے مرد کو تم سے ترجیح دے اور اس کی وجہ سے تمہیں دھدکار دے
تو تم اپنی مردانگی کا ثبوت دیتے ہوئے یہی کرو گے کہ جنس سے لتھڑی ان نشانیوں کو سر بازار پھینک دو گے
تاکہ ہر مرد اسے دیکھے اور تھوکے....تاکہ تمہاری مردانگی کو سکون مل سکے“
وہ بے تاثر چہرے سے آنسووں سے بھیگی نگاہیں میری آنکھوں میں ڈالے میز کی دوسری طرف کھڑی ہو کر مجھ سے پوچھ رہی تھی اور میری روح پھڑپھڑانے لگی
”تم مرد ہو، جب کوئ اور تمہیں دھدکار دے گی تو تم بھی اسے ایسے ہی روندو گے جیسے مجھے روندا گیا ہے؟‘‘
اسکا سوال ایسے تھا کہ جیسے کسی نے مجھے ذبح کرنے کے لئے میرے گلے پر خنجر رکھ دیا ہو
میرے لفظ میرا ساتھ چھوڑ چکے تھے
میں نے کپکپاتے وجود سے لڑکھڑاتے ہوئے لفظوں کو سمیٹتے ہوئے کہا
”میں مرد نہیں ہوں!“ تب تک وہ جا چکی تھی۔

🌼😭

14/12/2024

سیکس کی سائنس۔

جب کوئی شخص or***ms کرتا ہے تو دماغ ویسا ہی دکھائی دیتا ہے جیسا کہ ہیروئن استعمال کر رہا شحض۔

آرگزم کے دوران، دماغ ڈوپامائن کے اخراج کا تجربہ کرتا ہے، جو خوشی اور انعام کے لیے ذمہ دار نیورو ٹرانسمیٹر ہے۔ ڈوپامائن کا یہ اضافہ ہیروئن یا دیگر اوپیئڈز استعمال کرنے والے افراد میں نظر آنے والے شدید جوش و خروش کی عکاسی کرتا ہے۔

درحقیقت، دماغی اسکین سے پتہ چلتا ہے کہ or**sm کے دوران فعال ہونے والے حصے منشیات کے استعمال کے دوران مشغول ہونے والے حصوں سے خاصے ملتے جلتے ہیں، جو دونوں تجربات سے وابستہ خوشی کی انتہا کی وضاحت کرتا ہے۔

جنسی تعلقات کے دوران ڈوپامائن کی ریلیز واحد کیمیائی تبدیلی نہیں ہے۔

آکسیٹوسن، جسے اکثر "محبت کا ہارمون" کہا جاتا ہے، بڑی مقدار میں بھی خارج ہوتا ہے، جو بندھن اور لگاؤ کے جذبات کو فروغ دیتا ہے۔
یہ ہارمون شراکت داروں کے درمیان جذباتی قربت کو فروغ دیتا ہے، جس سے بہت سے لوگ جنسی تعلقات کے بعد محسوس کرتے ہیں۔
مجموعہ میں، یہ کیمیکلز ایک طاقتور فیڈ بیک لوپ بناتے ہیں، جو نہ صرف جسمانی لذت بلکہ جذباتی اطمینان بھی فراہم کرتے ہیں۔

جنسی لذت اور منشیات سے پیدا ہونے والی خوشی کے درمیان مماثلت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سیکس اتنا زبردست اور نشہ زدہ کیسے ہو سکتا ہے۔
تاہم، نقصان دہ مادوں کے برعکس، جنسی تعلقات جب متفقہ اور محفوظ ہوں، تو بے شمار فوائد فراہم کر سکتے ہیں، بشمول تناؤ سے نجات، بہتر موڈ، اور مضبوط تعلقات۔

دماغ کی کیمسٹری کا یہ پیچیدہ رقص یہ ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح ہماری حیاتیات مباشرت کے رابطوں کو گہرا فائدہ مند بنانے کے لیے مربوط ہے۔

14/12/2024

مشقّت --- ابھی یا بعد میں..!!

یوں سمجھ لیجیے کہ آپ اس وقت ایک دو راہے پر کھڑے ہیں۔

ایک طرف کو راستہ مشکل اور مشقّت والا ہے اور اوپر کی طرف جاتا ہے، جو آپ سے سخت محنت، قربانی اور ہمت کا مطالبہ کرتا ہے۔ البتہ آگے چل کر یہ راستہ ہموار ہو جائے گا اور مشقّت کم ہو جائے گی۔

دوسرا راستہ ہموار، کشادہ، اور فوری طور پر آرام دہ لگتا ہے۔ لیکن خبر یہ ہے کہ یہ راستہ آگے چل کر مشکل تر ہوتا جائے گا اور مشقّت بڑھ جائے گی۔

آپ اپنے لیے کون سا راستہ چنیں گے؟

زیر نظر تصویر ایک گہری حقیقت کی عکاسی کرتی ہے۔

اگر آپ آج مشقّت اٹھاتے ہیں، تو آپ آگے چل کر بلندی پر پہنچتے ہیں، جہاں راستہ آسان ہوتا جاتا ہے اور آپ اپنی محنت کا پھل حاصل کرتے ہیں۔

لیکن اگر آپ آج آسانی چنتے ہیں، تو زندگی آخرکار آپ سے اس کی قیمت طلب کرے گی، اور اس آسانی کی قیمت بہت زیادہ ہوگی—انتہائی زیادہ—اور بعض اوقات اس قیمت کی ادائیگی بہت مشکل ہو سکتی ہے۔

صلاح الدین ایوبی کے بارے میں پڑھ رہا تھا۔ بچپن میں انہیں آرام اور آسائش سے نہیں پالا گیا۔ ان کے والدین کا ایک بڑا وژن تھا—القدس کو کفر سے آزاد کرانا۔ اسی لیے انہوں نے انہیں غیر متزلزل نظم و ضبط، فوکس اور مشقّت کے ساتھ پروان چڑھایا۔

شروع میں، انہوں نے حکمت عملی سیکھنے، خود پر قابو پانے، اور آسانیوں کی قربانی دینے کے معاملے میں کافی مشقّت اٹھائی۔ لیکن اسی ابتدائی جدوجہد اور مشقّت کی بدولت وہ تاریخ میں زندہ ہیں۔

آپ تاریخ میں کسی بھی ایسے انسان کو دیکھ لیں جس نے شروع میں مشقّت اٹھائی، بعد میں ان کے لئے راستہ آسان ہوا۔

آج بھی کسی ایسے انسان کو دیکھ لیں جو آپ کو زندگی میں کامیاب نظر آتا ہے اور لوگ اس سے کچھ کرنے کی تحریک لیتے ہیں، سیکھتے ہیں، اور جاننا چاہتے ہیں،

تو آپ کو نظر آئے گا کہ اکثر ابتدا میں مشقّت والی زندگی گزری ہوگی بلکل ایسے جیسے اوپر کی طرف چڑھ رہے ہوں۔ لیکن بالآخر اللہ ان کے لئے بعد میں آسانی پیدا فرما دیتے ہیں۔

اور آپ کو بہت سے ایسے لوگ ملیں گے جو اپنا وقت جب بہت ہوتا ہے تو تفریح اور کھیل تماشوں میں صرف کر دیتے ہیں، لیکن پھر زندگی جیسے جیسے آگے بڑھتی ہے، مشقتیں بڑھتی چلی جاتی ہیں۔

خود پر محنت نہیں کی ہوتی اور اب ذمہ داریوں کا بوجھ کاندھوں پر آ چکا ہوتا ہے، راستہ جیسے دشوار تر ہو چکا ہوتا ہے اور چڑھنا مشکل تر معلوم ہوتا ہے۔

اب اپنی زندگی پر غور کریں۔

آپ فوری آرام کی تلاش تو نہیں کرتے؟

فوری حاصل ہونے والے مزے کے پیچھے تو نہیں بھاگتے؟

موبائل کی اسکرین پر گھنٹوں ضائع تو نہیں کرتے؟

عارضی لذتوں میں تو نہیں کھو جاتے؟

یا مشکل فیصلوں کو ٹالتے تو نہیں ہیں؟

حقیقت یہ ہے کہ آج آپ جو آسانی یا تفریح یا مزہ چنتے ہیں، غالب امکان ہے کہ وہ کل کے لیے ایک بڑی مشکل بن کر سامنے آئے گا۔

میرے والد صاحب رحمہ اللہ ایک بات کہا کرتے تھے:

"بیٹا، تمہیں زندگی میں دو میں سے ایک تکلیف تو اٹھانی ہی ہوگی: آج نظم و ضبط، محنت اور مشقّت کی تکلیف یا کل پچھتاوے کی تکلیف، زندگی میں سمجھداری سے انتخاب کرنا۔"

یہ آج اپنے آپ میں سرمایہ کاری کرنے کا فیصلہ کرنا ہے، چاہے ہم اس وقت ایسا محسوس نہ کریں، تاکہ ہم کل کے لیے تیار ہو سکیں۔

یہ ایک کڑوی حقیقت ہے کہ۔۔۔

آرام ایک نشہ آور چیز کی مانند ہے، اور آرام کوشی کے ساتھ اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ آپ ایک شاندار انسان بن سکیں اور ایک بھرپور زندگی جی سکیں۔

جبکہ مقصدیت کے ساتھ محنت اور جدوجہد آپ میں مضبوطی، کردار، اور ایک بھرپور زندگی جینے کا امکان پیدا کرتی ہے۔

تو آج خود سے یہ سوال کریں:

کیا میں آج ایک بہتر کل کے لیے محنت کر رہا ہوں؟

صرف اپنے لئے نہیں بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کے لیے، اس امّت کے لیے اور اپنی آخرت کے لیے؟

کیا آپ اپنے بچوں میں ہمّت اور استقامت کی صفات پیدا کرنے پر محنت کر رہے ہیں یا انہیں ان مشقّتوں سے بچا رہے ہیں جو ان کا پوری زندگی پیچھا کریں گی؟

کیا آپ عارضی مزوں کو ترک کرنے کے لیے تیار ہیں تاکہ زندگی زیادہ بامعنی اور پر اثر بن سکے؟

یاد رکھیں، زندگی کی ڈھلوان بے رحم ہے۔ آج چڑھائی نہ چڑھنا، کل اسے اور زیادہ مشکل کر دے گا۔

تو آج ہی مضبوط ارادے اور وژن کے ساتھ اپنا سفر شروع کریں۔

زندگی کے چیلنجز کو سوچ سمجھ کر اور شعوری طور پر قبول کریں۔

ان شاء اللہ ١٩ سے ٣٠ دسمبر تک سیرہ ریٹریٹ کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں اور الحمد للّہ تمام سلوٹس بک ہو چکی ہیں۔ بلکہ اگلی سیره ریٹریٹ کے لیے بھی لوگوں نے ابھی سے نام لکھوا دئیے ہیں۔

ہم سیره ریٹریٹ میں سیرت کا سفر کریں گے اور تاریخ انسانی کے عظیم ترین لوگوں کی مشقّتوں سے اپنی زندگیوں کے لیے سبق کشید کریں گے، لکھیں گے، اور ڈسکشنز کریں گے۔

سوال یہ نہیں ہے کہ، "کیا آپ کو محنت اور جدوجہد کرنی ہوگی؟"

وہ تو بہر کیف کرنی ہی ہوگی لیکن سوال یہ ہے کہ، "آپ کب اور کیسے یہ محنت اور جدوجہد کریں گے؟"

اپنے راستے کا سمجھداری سے انتخاب کریں، کیونکہ زندگی آپ کے لیے دوبارہ سے شروع نہیں ہوگی۔

یمین الدین احمد
11 دسمبر 2024ء
کراچی، پاکستان

10/12/2024

شادی شدہ زندگی تین مراحل سے گزرتی ہے:

پہلا مرحلہ:

یہ تعارف، منگنی اور ابتدائی شادی کا وقت ہوتا ہے، جہاں رومانس، خوشگوار خواب اور مسرت بھرے لمحات غالب رہتے ہیں۔

دوسرا مرحلہ:

یہ شادی کے ابتدائی سال ہوتے ہیں، جہاں زندگی کے ساتھی کے بارے میں ابتدائی تصور اور حقیقت کے درمیان فرق واضح ہونے لگتا ہے۔
یہ مرحلہ آپ کو مجبور کرتا ہے کہ آپ اپنے ذہن میں موجود خوبصورت تصور کو اپ ڈیٹ کریں اور حقیقت کو قبول کریں۔

اس دوران مختلف وجوہات جیسے شخصیت، دلچسپیوں، اور رویوں کے فرق کی وجہ سے اختلافات اور جھگڑے پیدا ہو سکتے ہیں۔
یہ اختلافات زیادہ یا کم وقت تک رہ سکتے ہیں، جو اس بات پر منحصر ہے کہ میاں بیوی ان مسائل کو کس طرح سمجھداری اور محبت سے حل کرتے ہیں۔
یہ مرحلہ سب سے زیادہ حساس اور اہم ہے۔

اہم مہارتیں:

غصے پر قابو پانا

اختلاف کو حل کرنے کی صلاحیت

درمیانی حل نکالنے کی مہارت

تیسرا مرحلہ:

یہ دوسرے مرحلے کے نتائج پر منحصر ہوتا ہے اور میاں بیوی کے رویے اور عمل سے جڑا ہوتا ہے۔
یہ مرحلہ دو صورتیں اختیار کر سکتا ہے:

1. محبت اور سمجھوتے کی زندگی:
میاں بیوی ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور سمجھداری سے رہنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔
وہ مثبت پہلوؤں پر توجہ دیتے ہیں اور منفی پہلوؤں کے ساتھ سمجھوتہ کرتے ہیں، محبت کو مضبوط کرتے ہیں اور اپنے تعلق کی حفاظت کرتے ہیں۔

2. بے زاری اور دوری:
میاں بیوی بات چیت میں دلچسپی کھو دیتے ہیں، نفسیاتی دیواریں کھڑی کرتے ہیں، اور ایک دوسرے کو نظرانداز کرتے ہیں۔
وہ ایک چھت کے نیچے رہتے ہیں، لیکن جذباتی محرومی، افسوس، اور مایوسی کا شکار رہتے ہیں، جو بالآخر علیحدگی کا سبب بن سکتا ہے۔

مشورہ:

ہر مرحلے کو سمجھداری اور شعور کے ساتھ سمجھیں۔
اپنے فیصلوں اور رویوں کے نتائج کو سمجھیں اور ضرورت پڑنے پر تجربہ کار افراد سے مدد لیں۔
شادی کوئی خیالی تجربہ نہیں بلکہ ایک حقیقی سفر ہے جو زندگی پر گہرا اثر چھوڑتا ہے۔

اللہ سے دعا گو ہوں کہ آپ کی ازدواجی زندگی آپ کے بہترین نصیبوں میں سے ہو

10/12/2024

کسی کے ہونٹ چھونے سے آپ کی ساری (vulnerability ) دور ہو جاتی ہے۔
‏ ( vulnerability ) ایک حساسیت کو کہتے ہیں ۔ جب بدن آپ کو بے جان لگتا ہے جب ذرا سی بات آپ کو دکھ دیتی ہے جب آپ سوشل ہونے سے ڈرنے لگتے ہو تو یہ سب آپ کو physical vulnerability,
‏ ,Emotional vulnerability
اور social vulnerability کے نتیجے میں ملتے ہیں۔

کسی کے ہونٹ چھونے سے موٹر نیورونز کے راستوں سے ان ساری vulnerability کی رکاوٹیں دور ہو جاتی ہیں ۔ nerves کے fibre میں روشنی سی آ جاتی ہے۔ اس لئیے دو پارٹنرز کو ایک دوسرے کے بننے کے لئے اس روشنی کو محسوس کرنا چاہئیے۔ ناکہ مادیت پرست زندگی کی شرائط سے بنے رشتے کو بنا کر ہونٹ ایک دوسرے کے اوپر رکھ دینے چاہئیے۔

اگر دو پارٹنر ز میں یہ روشنی نہیں تو یہ ایک دوجے کے لئیے نہیں بنے۔ ایسی روشنی کو محسوس کرنے کے لئیے ڈیمی سیکچوئیل اور سیپیو سیکچوئیل بنئیے۔ گہرے رشتے بنائیں۔ یہ سطحی سپر فیشل ریلیشنز نہ ہی آپ کی vulnerability’ دور کریں گے نہ ہی آپ کو روشنی دیں گے۔

09/12/2024

طلاق سے پہلے سرگرمی دکھائیے نہ کہ طلاق کے بعد۔۔

نکاح مرد اور عورت کے درمیان ایک سماجی معاہدہ ہے اور طلاق اس معاہدہ کو منسوخ کرنے کا اعلان _ دیکھا یہ گیا ہے کہ ساتھ رہتے ہوئے زوجین کے درمیان تعلقات میں معمولی سے ناہمواری آئی اور شوہرِ نام دار کو بیوی کا کوئی رویّہ ناگوار گزرا ، یا شوہر روزی کمانے کے لیے ہزاروں میل دور ہے ، گھر پر ساس کو بہو سے یا نند کو بھابھی سے کوئی شکایت ہوگئی ، وہ شکایت فون سے شوہر تک پہنچائی گئی اور اس نے فوراً طیش میں آکر بیوی کو طلاق دے دی _

غصہ ٹھنڈا ہوتا ہے تو اِدھر اُدھر سے نکاح کو باقی رکھنے کی تدبیریں دریافت کی جاتی ہیں ، دار الإفتاء اور مفتیوں کے گھروں کے چکّر لگائے جاتے ہیں _ عموماً غصے میں 3 طلاق دے دی جاتی ہے ، پھر تو مفتی صاحب کا جواب ہوتا ہے کہ اب حلالہ کے بغیر بیوی واپس نہیں آسکتی ، چنانچہ کسی ایسے قابل اعتماد فرد کو تلاش کیا جاتا ہے جو چند گھنٹے عورت کو اپنے پاس رکھ کر اسے طلاق دے دے ، تاکہ اس سے دوبارہ نکاح کرلینا ان کے لیے جائز ہوجائے _ یہ سب کچھ اس وجہ سے کرنا پڑتا ہے کہ لوگوں نے طلاق کو پہلا آپشن سمجھ رکھا ہے _ اگر وہ اسے آخری آپشن سمجھیں تو یہ سب کچھ کرنے کی نوبت ہی نہ آئے _

اگر نکاح کے بعد بیوی کے ساتھ کچھ وقت گزار کر شوہر کو اس کی طرف سے عدمِ موافقت ، غیر ہم آہنگی اور نامناسب رویّہ کا اظہار ہو تو قرآن میں مختلف تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے :
(1) سب سے پہلی بات یہ کہی گئی ہے کہ اگر بیوی کی کوئی ایک بات تمھیں ناپسند ہو تو ( عین ممکن ہے کہ اس کی 10 باتیں تمھیں پسند ہوں اور ) اللہ تعالی نے اس میں بہت سی بھلائیاں رکھی ہیں _ اس لیے تمھیں تحمّل اور برداشت کا مظاہرہ کرنا چاہیے _(النساء :19)
(2) بیوی سے شکایت پیدا ہو رہی ہو تو شوہر کو چاہیے کہ تنہائی میں ( نہ کہ سب لوگوں کے سامنے ) اسے سمجھایے بجھائے ، اپنی ناراضی کا اظہار کرنے کے لیے اس سے ظاہری طور پر قطعِ تعلق کرلے ، اس کی سرزنش کرے _(النساء :34)
(3) شوہر بیوی اکیلے اپنے اختلافات دور نہ کرسکیں تو دونوں کے خاندانوں کے بزرگوں کو معاملہ اپنے ہاتھ میں لینا چاہیے اور مل بیٹھ کر، دونوں کی شکایات سن کر ، انھیں رفع دفع کرنا چاہیے _ اگر وہ صدقِ دل سے تنازعہ سلجھانا چاہیں گے تو اللہ تعالی ضرور اس کی کوئی نہ کوئی راہ نکال دے گا _ (النساء :35)
(4) اگر اختلاف پھر بھی باقی رہے اور منافرت قائم رہے تو شوہر ایک طلاق دے __ صرف ایک طلاق ___ یہ طلاق اس وقت دے جب عورت پاکی کی حالت میں ہو ، مزید یہ کہ اسے گھر سے نہ نکالے ، بیوی تقریباً 3 ماہ تک (دورانِ عدّت) گھر میں زیب و زینت کی حالت میں رہے _
ایک گھر میں رہنے کا فائدہ یہ ہوگا کہ شوہر اور بیوی دونوں کو اپنے معاملے اور رویّے پر غور و فکر کرنے کا موقع ملے گا _ اگر انھیں اپنے رویّے پر پچھتاوا ہو اور وہ دوبارہ میاں بیوی کی حیثیت سے رہنا چاہیں تو رہنے لگیں، انھیں اس کے لیے کچھ کرنے کی ضرورت نہیں _
اگر عدّت گزر جائے تو عورت آزاد ہے ، اس کا نکاح کہیں اور ہو سکتا ہے ، لیکن اگر اس کا کہیں نکاح نہیں ہوا اور سابق شوہر اسے پھر بیوی کی حیثیت سے رکھنا چاہتا ہے اور عورت بھی رضامند ہے ، تو ایسا ممکن ہے _ بس از سرِ نو انھیں نکاح کرنا ہوگا _
کتنا آسان ہے یہ طریقہ!! اور اس پر عمل میں کتنی سہولت اور افادیت ہے!!!
تین طلاق دینے کے بعد نکاح کو بحال کرنے کے لیے لوگ جتنی سرگرمی دکھاتے ہیں، اگر اس کے دسویں حصے کی سرگرمی طلاق دینے سے پہلے دکھائیں تو نہ رشتے ٹوٹیں اور نہ طلاق کی نوبت آئے _

Want your business to be the top-listed Government Service in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address

Nazma Abad No. 3
Karachi