Jamiat Ulama-e-Islam Orangi Town Karachi West

Jamiat Ulama-e-Islam Orangi Town Karachi West

Share

Official page of JUI Orangi Town District West Karachi.

02/06/2026

حافظ عبید اللہ کی خوبصورت آواز میں ترانہ جمعیت ملاحظہ فرمائیں

Photos from Jamiat Ulama-e-Islam Orangi Town Karachi West's post 02/06/2026

جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری سے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبد الواسع صاحب کی دربار سروری میں ملاقات

4 جون کو پشین میں ہونے والی عظیم الشان کانفرنس اور قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب کے دورۂ بلوچستان کے حوالے سے تفصیلی مشاورت

کارکنان 4 جون کو عظیم الشان کانفرنس میں شرکت کرکے یہ عہد کریں کہ مدارس ہماری ریڈ لائن ہیں۔ مولانا عبدالغفور حیدری

جو بھی ہماری ریڈ لائن کو کراس کرنے کی کوشش کرے گا، ہم اس کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر مقابلہ کریں گے۔ مولانا عبدالواسع

جاری کردہ.
مرکزی میڈیا سیل جمعیت علماء اسلام پاکستان

02/06/2026

Get ready for 4th June.

31/05/2026

سابق کرکٹر جنید خان کا فواد چوہدری کو جواب.

Photos from Jamiat Ulama-e-Islam Orangi Town Karachi West's post 31/05/2026

سکھر: اسلامک اسکالرز کنوینشن سے جےیو آئی ضلع لاڑکانہ کے امیر علامہ ناصر خالد محمود سومرو خطاب فرما رہے۔

صوبائی سیکریٹری جنرل علامہ راشد خالد محمود سومرو، سائین سید سراج احمد شاہ امروٹی، مرکزی سالار انجنیئر حاجی عبدالرزاق عابد لاکھو ودیگر رہنما جلوہ افروز ہیں۔

ڈیجیٹل میڈیا سیل جےیو آئی سندھ

Photos from Jamiat Ulama-e-Islam Orangi Town Karachi West's post 31/05/2026

سکھر: اسلامک اسکالرز کنوینشن بسلسلہ عالم امن اجتماع سکھر 2027
صوبائی امیر مولانا سائیں عبدالقیوم ھالیجوی صاحب، سینئر نائب امیر مولانا سائین صالح الہداد مدظلہ، مولانا سید سراج احمد شاہ امروٹی مدظلہ، مولانا سائیں منظور احمد سومرو مدظلہ، سائین عبداللہ مہر مدظلہ، مولانا عبد الحمید مہر، صوبائی سالار سلیم سندھی، ایڈووکیٹ غلام سرور بلیدی ودیگر رہنما خطاب کرتے ہوئے۔
ڈیجیٹل میڈیا سیل جےیو آئی سندھ

Photos from Jamiat Ulama-e-Islam Orangi Town Karachi West's post 31/05/2026

سکھر: اسلامک اسکالرز کنوینشن سے جےیو آئی صوبائی پریس ترجمان الحاج ڈاکٹر اے جی انصاری، صوبائی ڈیجیٹل میڈیا کوآرڈینیٹر مولانا سمیع الحق سواتی، صوبائی بزنس فورم کے صدر جناب رفیق احمد سومرو خطاب کرتے ہوئے۔

ڈیجیٹل میڈیا سیل جےیو آئی جیکب آباد


Photos from Jamiat Ulama-e-Islam Orangi Town Karachi West's post 31/05/2026

قائد سندھ علامہ راشد محمود سومرو صاحب سکھر کے مقامی ہوٹل میں منعقد اسلامک اسکولرز کنونشن سے خطاب فرما رہے ہیں


Photos from Jamiat Ulama-e-Islam Orangi Town Karachi West's post 31/05/2026

سکھر: اسلامک اسکالرز کنوینشن سے جےیو آئی صوبائی ڈپٹی جنرل سیکریٹری مولانا محمد صالح انڈھڑ، ناظم مولانا محمد رمضان پھلپوٹو، ناظم مولانا محمد اسحاق لغاری اور ناظم محترم عبدالمالک ٹالپر خطاب کرتے ہوئے۔
بمقام: آر ٹی ہوٹل سکھر

ڈیجیٹل میڈیا سیل جےیو آئی سندھ

31/05/2026

لاڑکانہ، قادیانیت اور قربانی
لاڑکانہ، سندھ اور اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک مضبوط، مستحکم اور فعال اسلامی ریاستی نظام کے تحت زندگی گزار رہے ہیں، جہاں ریاست کا مذہب اسلام ہے۔

آئینِ پاکستان کے مطابق قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر نہ صرف امتِ مسلمہ کے ایک دیرینہ مطالبے کو پورا کیا بلکہ ایک آئینی اور قانونی حد بھی متعین کر دی، تاکہ کوئی فرد یا گروہ اسلام کی بنیادی تعلیمات اور تشخص کو مسخ نہ کر سکے۔

قادیانی آئینِ پاکستان کی رو سے غیر مسلم ہیں، اور انہیں خود کو مسلمان ظاہر کرنے یا اسلامی شعائر کو مسلمان شناخت کے ساتھ اختیار کرنے کی اجازت حاصل نہیں۔ قربانی چونکہ شعائرِ اسلام میں سے ایک اہم مذہبی فریضہ ہے، اس لیے اس حوالے سے بھی آئینی اور قانونی حدود و قیود موجود ہیں۔

ضلع لاڑکانہ، خصوصاً تحصیل ڈوکری کے چند دیہات اور بعد ازاں شہر لاڑکانہ کی سچل کالونی میں گزشتہ کچھ عرصے سے قادیانیت کی سرگرمیوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ مساجد کی تعمیر، تبلیغی سرگرمیوں اور ربوہ سے مربیوں کی آمد کے ذریعے نوجوانوں اور عام مسلمانوں کے عقائد پر اثر انداز ہونے کی کوششوں کے حوالے سے مختلف حلقوں کی جانب سے بارہا تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔

اس معاملے میں انتظامیہ کو بھی متوجہ کیا گیا، قانونی چارہ جوئی ہوئی، مقدمات عدالتوں تک پہنچے، اور متعلقہ فریقین آج بھی اس تمام عمل کے گواہ ہیں۔ موجودہ ایس ایس پی لاڑکانہ کی نگرانی میں تبلیغی سرگرمیوں سے متعلق بعض افراد کے خلاف قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی گئی۔

آئینِ پاکستان واضح طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیتا ہے۔ بطور شہری انہیں اپنے قانونی اور شہری حقوق حاصل ہیں، تاہم اسلامی شناخت اختیار کرنے، خود کو مسلمان ظاہر کرنے یا اسلامی شعائر کو مسلمانوں کی حیثیت سے ادا کرنے کے حوالے سے قانون اپنی واضح حدود متعین کرتا ہے۔

عیدالاضحیٰ کے دوسرے روز جس گھر کے باہر لاڑکانہ کے شہری جمع ہوئے، وہ مکان ایک ایسے خاندان سے منسوب ہے جس کا سربراہ آسٹریلیا میں مقیم ہے، جبکہ اس کا بیٹا اور دیگر اہلِ خانہ لاڑکانہ میں رہائش پذیر ہیں۔

مقامی سطح پر یہ مؤقف سامنے آیا کہ مذکورہ خاندان قادیانی عقائد سے تعلق رکھتا ہے اور قربانی کے گوشت کی تقسیم کا معاملہ بھی اسی تناظر میں زیرِ بحث آیا۔
اس حوالے سے اہلِ محلہ، مقامی افراد اور بعض دیگر متعلقہ اشخاص کی گواہیاں بھی سامنے آئیں، جبکہ بعد ازاں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے معاملے کو اپنی تحویل میں لے کر قانونی طریقۂ کار کے مطابق کارروائی کی۔

اصل سوال یہ ہے کہ جب آئینِ پاکستان کسی گروہ کی مذہبی حیثیت کے بارے میں واضح رہنمائی فراہم کرتا ہے تو پھر اسی آئینی و قانونی دائرے میں رہتے ہوئے تمام فریقوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ قانون کی پابندی کریں۔ ایسے حساس معاملات میں جذبات کے بجائے قانون اور ریاستی اداروں پر اعتماد ہی امن و استحکام کی ضمانت بن سکتا ہے۔

میرے جماعتی احباب اور شہر لاڑکانہ کے ذمہ دار شہریوں نے بھی اسی اصول کے تحت سچل تھانے سے رابطہ کیا، پولیس کو صورتحال سے آگاہ کیا اور معاملہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سپرد کیا۔ اس تمام عمل کا مقصد کسی قسم کے انتشار یا تصادم کے بجائے قانونی راستہ اختیار کرنا تھا۔

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر بعض حلقوں نے اصل قانونی اور آئینی پہلوؤں کو نظر انداز کرتے ہوئے معاملے کو ایک مختلف رخ دینے کی کوشش کی۔ بعض عناصر مذہبی اور آئینی مسئلے کو محض سیاسی یا سماجی زاویے سے پیش کر کے عوامی رائے کو متاثر کرنے میں مصروف دکھائی دیے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی مضبوطی، جمہوریت کا استحکام، سندھ کا امن اور مذہبی ہم آہنگی—یہ سب ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کے معاون ہیں۔ ہم پہلے مسلمان ہیں، پھر سندھی اور پاکستانی۔ دینِ اسلام اور عقیدۂ ختمِ نبوت ہمارے ایمان کا حصہ ہیں، اور ان کے تحفظ کو ہم اپنی دینی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔

قادیانیوں کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے زندگی گزارنے کا مکمل حق حاصل ہے، لیکن اسلامی شعائر، مذہبی شناخت اور تبلیغی سرگرمیوں کے حوالے سے آئین و قانون جو حدود مقرر کرتا ہے، ان کی پابندی سب پر لازم ہے۔

ختمِ نبوت، دینِ اسلام اور اسلامی شعائر ہمارے لیے ریڈ لائن کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ کوئی مسلکی مسئلہ نہیں بلکہ عقیدۂ ختمِ نبوت کا معاملہ ہے، جس پر تمام مکاتبِ فکر کے علماء اور عوام متفق ہیں۔

ہم سندھ کے ساتھ کھڑے ہیں، جمہوری عمل پر یقین رکھتے ہیں، ملک کی ترقی اور استحکام کے خواہاں ہیں، مگر اس کے ساتھ ساتھ اپنے دینی نظریات اور اسلامی تشخص کے تحفظ پر بھی کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔

لاڑکانہ میں قربانی کے اس تنازع کو قانونی راستے سے حل کر کے ایک بار پھر ممکنہ کشیدگی کو کم کرنے اور امن برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی۔ ہمارے ساتھیوں نے جذبات کو قابو میں رکھنے، پولیس اور انتظامیہ کے ساتھ تعاون کرنے اور معاملے کو قانون کے ذریعے حل کرنے میں سنجیدہ کردار ادا کیا، جس سے شہر کا امن برقرار رکھنے میں مدد ملی۔

سندھ یقیناً امن، محبت، صوفیاء کرام اور بزرگانِ دین کی سرزمین ہے، لیکن یہ بابُ الاسلام بھی ہے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کا ایک اہم اور مضبوط صوبہ بھی۔ یہاں کی اکثریت اسلام سے محبت رکھنے والے لوگوں پر مشتمل ہے، اس لیے مذہبی حساسیتوں کو نظر انداز کرنا دانشمندی نہیں۔

جمعیت علماء اسلام کا ہر کارکن آئین، قانون اور جمہوری طریقۂ کار کے دائرے میں رہتے ہوئے دینِ اسلام، عقیدۂ ختمِ نبوت اور ملکی استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
لاڑکانہ، سندھ اور پاکستان کا امن اسی وقت برقرار رہ سکتا ہے جب ہر فرد، ہر جماعت اور ہر طبقہ آئین اور قانون کے متعین کردہ دائرۂ کار میں رہ کر اپنی ذمہ داریاں ادا کرے ،

سندھ، اسلام اور رواداری کا یکساں معیار

ہم ہمیشہ یہ سمجھتے آئے ہیں کہ سندھ کے حقوق، وسائل، امن اور عوامی مفادات کا تحفظ ایک مشترکہ قومی ذمہ داری ہے۔ اسی سوچ کے تحت جمعیت علماء اسلام اور دینی طبقات نے نصف صدی سے زائد عرصے تک سندھ کے سیاسی، سماجی اور عوامی مسائل پر مؤثر کردار ادا کیا ہے۔ پانی، زمین، زراعت، بدامنی اور عوامی حقوق کے معاملات میں ہماری جدوجہد ہمیشہ آئینی، پرامن اور جمہوری رہی ہے۔

ہمارے قائد علامہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو کی المناک شہادت کے باوجود ہم نے انتقام یا تشدد کا راستہ اختیار نہیں کیا بلکہ قانون، عدالت اور آئین پر اعتماد کیا۔ اسی طرح سندھ میں مختلف مذاہب اور مسالک کی عبادت گاہوں کے تحفظ، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور سماجی استحکام کے لیے بھی دینی حلقوں نے ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر کسی قوم، زبان، ثقافت، زمین یا وسائل کی توہین ناقابلِ قبول ہے تو کروڑوں مسلمانوں کے عقائد، مقدسات اور شعائرِ اسلام کی توہین کو اظہارِ رائے کی آزادی کیوں قرار دیا جاتا ہے؟

اور اگر مسلمان ایسے معاملات میں قانون اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے متعلقہ اداروں سے رجوع کریں تو اسے انتہاپسندی یا رجعت پسندی کا نام کیوں دیا جاتا ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ سندھ اور اسلام ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کے معاون ہیں۔ سندھ کے مذہبی طبقات بھی اسی دھرتی کے فرزند ہیں اور اپنی زبان، ثقافت، سرزمین اور عوامی حقوق سے اتنی ہی محبت رکھتے ہیں جتنی کوئی اور سندھی رکھتا ہے۔

اختلاف اور تنقید ہر شخص کا حق ہے، لیکن حقیقی رواداری وہی ہے جو سب کے عقائد، جذبات، حقوق اور شناختوں کا یکساں احترام کرے۔
دوہرے معیار کسی معاشرے میں نہ انصاف پیدا کرتے ہیں اور نہ ہی پائیدار ہم آہنگی

تحریر
علامہ ناصر خالد محمود سومرو

Want your business to be the top-listed Government Service in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Address

Orangi Town
Karachi