""I am proud to be Baltistani""

""I am proud to be Baltistani""

Share

feel proud balti people...... It is an extremely mountainous region, with an average altitude of over 3,350 m (11,000 ft). after receiving the Shyok.

LITTLE TIBET.BALTI YUL,BALTISTAN

Baltistan (Urdu: بلتستان, Balti: བལྟིསྟན), also known as بلتیول བལིུལ་(Baltiyul) in the Balti language, is a region in northern Pakistan which forms Gilgit-Baltistan, bordering the XinjiangAutonomous Region of China. In addition, a part of Baltistan also falls into Jammu and Kashmir of India.[1][2][3][4][5] It is situated in the Karakoram mountains just to the sou

05/01/2025
19/03/2024

خپلو بلتی ثقافت کے امین بلتی ثقافت و روایات کے سفیر۔۔۔۔!!!!
Proud of you Muhammad Shiraz
Shairaz village vlogs
God bless you Balti Boy❤️🤲

26/11/2023

آ پوچو سید یا سین شاہ اور تمام فیملی کے لیے سید توصیف شاہ کا اعزاز پاکستان ملٹری اکیڈمی سے برٹش ملٹری اکیڈمی برطانیہ
تک کا سفر بہت بہت مبارک ہو

09/06/2023

ضلع گانچھے کے وادی براہ سے تعلق رکھنے والے زوالفقار علی نے سی ایس ایس میں کامیابی حاصل کر کے براہ سے پہلا سی ایس پی آفیسر منتخب ہونے کا اعزاز اپنے نام کر لیا۔
وہ ماسٹر محمد جابر صاحب کا بیٹا جبکہ ڈاکٹر محمد علی جوہر کا چھوٹا بھائی ہے۔

Congratulations: Muhammad Ali Johar Zulfiqar Ali
نوٹ : سی ایس ایس 2022 میں گلگت بلتستان سے چار امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہیں۔

05/05/2023

بلتی اور تبتی کا اختلاف
تحریر: نذیر بیسپا
بلتستان میں جو زبان "بلتی" بولی جاتی ہے وہ تبتی زبان کی سب سے قدیمی شاخ ہے جو آج بھی اپنی اصل حالت میں موجود ہے۔ اگر چہ بلتی میں دیگر غیر تبتی زبانوں کے الفاظ بہ کثرت شامل ہو گئے ہیں اور درجن بھر نئی آوازوں کا اضافہ ہوا ہے لیکن جہاں تک تبت الاصل یا بلتی الاصل الفاظ کی بات ہیں، ان کی اکثریت اب بھی اپنی اصل شکل میں موجود ہیں لیکن رسم الخط کے تبدیل ہونے کے سبب ہر علاقے میں الگ الگ طریقوں سے مستعمل ہیں۔ بد قسمتی سے "یگے" یا "ایگے" رسم الخط متروک ہو چکا ہے اور مروجہ اردو-فارسی خط بھی پوری طرح بلتی کی آوازوں کو بیان کی صلاحیت نہیں رکھتا اسی لیے مختلف الفاظ مختلف شکل میں لکھے جا رہے ہیں۔ خط کے تبدیل ہونے اور لوگوں کے پاس لسانی شعور نہ ہونے کے سبب لفظوں کی بناوٹ اور جملوں کی تشکیل و ترتیب میں جو خامیاں موجود ہیں ان کو صرف اور صرف اس صورت میں حل کیا جا سکتا ہے کہ بین اللسانیات تقابلی جائزہ لیں اور مستند لغت کتابوں کی کتابوں سے لفظوں کی بناوٹ، تلفظ اور املا کی تصحیح کریں تاکہ ہماری زبان جنگل میں بچھڑ جانے والے بچے کی طرح اپنے حسب نسب سے دور نہ چلی جائے۔
جب ہم طرز تحریر کی اصالت کی بات کرتے ہیں تو بہت سے دوست احباب یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ہمیں بلتستان میں رائج لہجے کو اپنانا چاہیے اور تبت کے بدھسٹ کی زبان سے اثر نہیں لینا چاہیے لیکن یہ کرم فرما شاید نہیں جانتے کہ بلتی اپنے اصل تلفظ کے زیادہ قریب ہے جب کہ اہل تبت لفظ کو مختصر یا توڑ کر بولتے ہیں جو تحریری صورت سے بہت مختلف ہوتا ہے۔ جب کہ بلتستان کے لوگ جو زبان بولتے ہیں وہ اصل کے زیادہ قریب ہے لیکن اردو طرز تحریر میں غلط لکھتے ہیں اور اب "یگے" میں اسی غلط املا کو لکھنے پر اصرار کرتے ہیں۔
آئیں میں آپ کو 1 سے 10 کے اعداد کی مدد سے سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں کہ ان اعداد کو بلتستان کے لوگ کیا بولتے ہیں اور تبتی کیا بولتے ہیں اور اصل "یگے" خط میں کیا لکھا ہوا ہے ۔ یہ بھی غور کریں کہ کس کا تلفظ تحریری صورت کے زیادہ قریب ہے۔ صرف دو مثالوں سے سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں باقی مثالوں کے لیے جدول ملاحظہ کریں۔
عدد ایک کو بلتی میں "چگ" کہتے ہیں جب کہ اہل تبت "چی" کہتے ہیں۔ یہ لفظ اصل "یگے" خط میں "གཅིག་ " لکھا جاتا ہے یعنی (G-Ch-I-G)۔ اہل بلتستان اور تبت دونوں شروع کے "گ" کو بولتے نہیں ہیں لیکن اہل تبت اس "گ" کو لکھتے ہیں جب کہ اہل بلتستان لکھتے نہیں ہیں۔ آخری "گ" کو اہل تبت بولتے نہیں ہیں پھر بھی لکھتے ہیں (وہ یہ اعتراض نہیں کرتے کہ چوں کہ ہم بولتے نہیں ہیں اس لیے لکھنا بھی نہیں چاہيے)، ہم اہل بلتستان آخری "گ" کو بعض اوقات "ک " کی آواز کے ساتھ تلفظ کرتے ہیں لیکن لکھنا اسی "گ" کے ساتھ چاہیے کیوں کہ یہی اصول ہے۔ واضح رہے کہ سابقہ حروف "گ" اور "ب" بعض حالتوں میں "ک یا ق" اور "ف" میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ جیسے "بدون" اور "فچو" دونوں میں سابقہ حرف "ب" ہے لیکن دونوں جگہ تلفظ مختلف ہے ۔ ایک اور نکتے کی بات یہ ہے شروع میں جو "گ" ہے اسے مفرد اعداد کی صورت میں پڑھتے نہیں ہیں لیکن مرکب اعداد میں تلفظ کرتے ہیں جیسے نیشو-رژا-گچک۔ یہ مرکب عدد "یگے میں" اس طرح لکھا جاتا ہے (ཉི་ཤུ་རྩ་གཅིག་) یعنی (Nyi-Shu-Rtsa-Gchig) اسی طرح عدد تین تک شروع میں ایک "گ" ہے جو بولتے نہیں ہیں لکھتے ہیں لیکن جب مرکب حروف میں آئے تو اس حرف کی آواز واضح ہوجاتی ہے۔ نمونے کے طور پر آپ صرف عدد دس تک کی تحریری صورت اور بلتی اور تبتی تلفظ کے فرق پر غور کریں۔ ہم تحریری نظام کے زیادہ قریب ہیں لیکن غلط لکھنے پر اصرار کرتے ہیں جب کہ اہل تبت بالکل مختلف انداز میں تلفظ کرنے کے باوجود اسی طرز تحریر پر عمل پیرا ہے تاکہ اس خاندان کی تمام زبانوں میں نزدیکیاں بڑھیں نہ کہ دوریاں۔
ہم اردو میں درست لکھتے ہیں نہ "یگے" میں اور نہ ہم لغت کی کتابوں کا مطالعہ کرتے اور نہ ہی نظام تحریر کو سمجھنا چاہتے ہیں۔

18/04/2023

Congratulations🎉🎊

Proud Daughter of Gilgit Baltistan

Congrats🎉🎊 batool
hailing from Kharmang Baltistan

She has completed her MBBS from DOW Medical College
One of the brightest students throughout her educational career board topper

Keep shining champ
Best of luck Doctor Sahiba

08/01/2023

Shyok winter festival Khaplu Ghanche Baltistan

31/12/2022

Learning sessions 1

I. 34 Sanskritized bhoti script Alphabets.
༡་ རྒྱ་གར་འཕག་པའི་ཡི་གེ་གསལ་བྱེད་སོ་བཞི།
ཀ་ ཁ་ ག་ གྷ་ ང་། ཙ་ ཚ་ ཛ་ ཛྷ་ ཉ།
ཊ་ ཋ་ ཌ་ ཌྷ་ ཎ། ཏ་ ཐ་ ད་ དྷ་ ན།
པ་ ཕ་ བ་ བྷ་ མ། ཡ་ ན་ ལ་ ཝ།
ཤ་ ཥ་ ས་ ཧ་ ་ྵ ཀ།

II. Pronunciation/ སྒྲ་གདངས།
ཀ་ka ཁ་kha ག་ga གྷ་gahata gha ང་། nga ཙ་tsa ཚ་tsha ཛ་za ཛྷ་zahata za ཉ།nya
ཊ་ talok ta ཋ་thalok tha ཌ་dalok da ཌྷ་dalok dahata dha ཎ། anna ཏ་ta ཐ་tha ད་da དྷ་dahata da ན།na
པ་pa ཕ་pha བ་ba བྷ་bahata ba མ།ma ཡ་ya
ན་na ལ་la ཝ།wa
ཤ་sha ཥ་shalok sha ས་sa ཧ་ha ་ྵ ཀ།ka shalok sha.

Some teach as 33 Alpbahets but I teach as 34 Alphabets. Corrections are most welcome.
Feel free to give comment.
lama

24/12/2022

بلتی کیلنڈر --- بلتی لوتھو

بلتی کیلنڈر 127 سال قبل مسیح پہلا تبتی بادشاہ نیا کھری ژھین پو کی تاجپوشی سے شروع ھوتا ہے تبت کا پہلا بادشاہ نیاکھری ژھین پو کا تخت ہمیشہ لوگوں کے کاندھوں پر ہوتا تھا لوگ اس سے اتنی محبت کرتے تھے کہ وہ اس کی تخت کو زمین پر رکھنا ہی گوارا نہیں کرتے تھے اسی وجہ سے اس کا نام نیا کھری ژھن پو پڑھ گیا سنیا کا مطلب کاندھا کھری کا مطلب تخت اور ژھن پو کا مطلب بادشاہ جب وہ بادشاہ بنا تو اسی سے تبتی کیلینڈر کی ابتدا ہوئی ہے پھر تبت کے 33 ویں بادشاہ سترونگ ستن زگامپو کے زمانے میں جب تبت میں بدھ مت مذھب آیا تو انہوں نے ایک نئی قمری کیلنڈر کے تحت اس شمسی کیلنڈر میں ایک اور ماہ کا اضافہ کرکے اسے 13 ماہ کا بنا دیا یوں بدھ مت کیلنڈر وجود میں آیا لیکن تبت کے یرلونگ سلطنت کے لوگوں نے بدھ مت کیلنڈر کو قبول نہیں کیا کیونکہ ان کا تعلق بون مذھب سے تھا انہوں نے اپنی قدیم روایت کو باقی رکھا اور یہ سلسلہ چلتا ھوا تبت کا آخری بادشاہ خلنگ درما تک پہنچا جب وہ ایک بدھ مت پنڈٹ کے ہاتھوں قتل ہوا تو بدھ مت عناصر نے بون مذھب کے لوگوں کو ملک بدر کیا اس کے بعد ملک بدر ہونے والے بون مذھب کے کچھ لوگ لداخ میں آباد ہوئے اور کچھ بلتستان میں اگرچہ بون مذھب کے لوگوں کو اپنا شہر چھوڑنا پڑا لیکن انہوں نے اپنی قدیم تہذیب کبھی نہیں بدلی اسی وجہ سے صرف لداخ اور بلتستان میں اکیس دسمبر کو لوسر منایا جاتا ہے لیکن تبت میں ابھی یہ متروک ہے کیونکہ تبت میں بدھ مت رائج ہے اگرچہ اس وقت لداخ میں بھی بدھ مت مذھب رائج ہے لیکن اپنی پرانی روایت باقی رکھا ہوا ہے ورنہ بدھ مت مذھب کے کیلنڈر کے مطابق نیا سال 17 فروری سے شروع ہوتا ہے
بلتی تبتی کیلنڈر کے مطابق بارہ مہینے مختلف بارہ جانوروں کے نام پر ہیں جن کے نام یہ ہیں
1 ستق لزا ( چیتا ) 2 یوس لزا ( خرگوش ) 3 بروک لزا ( ڈراگون ) 4 غبول لزا ( سانپ ) 5 ہرتا لزا ( گھوڑا ) 6 لوک لزا ( بھیڑ ) 7 سپری لزا ( بندر ) 8 بیا لزا ( مرغا ) 9 کھی لزا ( کتا ) 10 فق لزا ( سور ) 11 بی لزا ( چوہا ) 12 خلنگ لزا ( بیل )
اور تبتی کیلنڈر کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس میں بارہ سالوں کو بھی شمار کرتے ہیں جسے لوسکور بولتے ہیں اور ان بارہ سالوں میں سے ہر ایک سال کا نام بھی انہی حیوانوں کے نام پر ہے لیکن سال کی ابتدا یوس ( خرگوش ) سے ہوتا ہے جبکہ مہینے کی ابتدا ستق ( چیتا ) سے ہوتا تھا اس بنا پر بارہ سالوں کے نام یہ ہونگے
1 یوس لو 2 بروک لو 3 غبول لو 4 ہرتا لو 5 لوک لو 6 سپری لو 7 بیا لو 8 کھی لو 9 فق لو 10 بی لو 11 خلنگ لو 12 ستق لو
اس کیلنڈر کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ اس میں ایک سال کو مذکر اور دوسرے سال کو مؤنث شمار کیا جاتا ہے
اور تیسری خصوصیت یہ ہے کہ ان بارہ سالوں میں سے ہر ایک سال پانچ عناصر میں سے ایک ایک عنصر کی طرف منسوب ہوتا ہے ان کی ابتدا آگ سے ہوتی ہے :
1 آگ 2 مٹی 3 لوہا 4 پانی 5 لکڑی
اب ہر سال کو ان حیوانوں کے ناموں کے ساتھ ساتھ ان عناصر میں سے ایک کو بھی ملایا جاتا ہے اور ساتھ میں جنس کو بھی کہ یہ مذکر ہے یا مؤنث
تو کل سالوں کی تعداد ساٹھ بنتی ہے 12 ضرب 5 = 60
سنہ 2018 کو بلتی تبتی کیلنڈر کے مطابق (( سا فو کھی لو )) کہیں گے یعنی سال کا نام کھی لو ہے عنصر مٹی ہے اور جنس مذکر ہے
چوتھی خصوصیت یہ ہے کہ جب لوسکور ( 12 سال ) بارہ ہوجائے تو اسے کھیم سکور کہا جاتا ہے ایک کھیم سکور میں 144سال ہوتے ہیں جس میں ہمارا سورج ملکی وے گیلیکسی کے گرد ایک چکر مکمل کر لیتا ہے تعجب کی بات یہ ہے کہ ہمارے آباواجداد کو 2145 سال پہلے اس کا علم کیسے ہوا جبکہ ملکی وے گیلیکسی کی حقیقت کل آشکار ہوئی ہے جب سائنس نے عروج حاصل کیا.

Want your business to be the top-listed Government Service in Khapalu?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

Khapalu Ghanche
Khapalu
16800