نہ تو علم رہبر_ حال ہے،نہ ہنر چراغ حیات ہے
مری ہر سعی میں مرے خدا ترے امر کو ہی ثبات ہے
نہ کوٸی دلیل سمجھ سکا نہ شعور عقدہ کشا ہوا
یہ جو اضطراب کی کیفیت ہے ،تری عطا کی برات ہے
کسی روشنی کی امید پر یہ جوتیرگی میں ہے دربدر
جسے لوگ کہتے ہیں زندگی، یہ حیات ہے نہ ممات ہے
یہ زمانہ سنگ دلوں کا ہے یہاں لفظ بھی ہیں لہو لہو
کوٸی بولتا نہیں سچ یہاں یہی مصلحت کی بساط ہے
یہ جو قحط و یاس کے زخم سے مجھے خیر ملنے لگی ہے اب
یہ نیاز ہے مرے صبر کی ،مرے درد کی یہ زکواة ہے
مجھے چھوڑ کر اے عزیز من ! کبھی خود سے خود کا سوال کر
ترا آٸینہ سا ضمیر ہی تری اصل میں تری ذات ہے
عبدالعزیز قاٸم
Aziz Qaim :poetry=poverty&community
خوش آمدید!!!
محبت،امن اور خوشحالی کے سفر میں ،شعر اور شعور کی روشنی میں ساتھ چلیے!
عبدالعزیز قاٸم 03430340436. . . .
اس نے کہا ضرورت
میں نے کہا محبت
اس نے کہا کہ”تم کون”
میں نے کہا حقیقت
میں نے کہا کہ تو کون
اس نے کہا میں وحشت
اچھا لگا تعارف
یوں ہو گٸ رفاقت
اس کو کہو کہ اس بار
مجھ پر کرے قناعت
میں تیرگی نہیں ہوں
میں روشنی کی حرمت
مفلس،فراغ دل ہوں
میں ظرف کی امارت
قاٸم اسے کہو ناں
لے جاۓ مجھ سے قربت!!
عجب اختلاف کا دور ہے عجب علم و فن کی سبیل ہے
نہ مکالمے کی تمیز ہے نہ مباحثے میں دلیل ہے
وہ جو اپنے آپ میں شعر فہمی کا دعوے دار تھا، نکتہ داں
ہوٸی بات جب تو پتا چلا وہ بے فہم شخص بخیل ہے
(مقولہ"
ادب شناسو!
ادب نوازو!
زبان دانو!
کبھی جو تم کو، یہ خود پسندی کی عادتوں سے
گروہ بندی کی سازشوں سے
عداوتوں کو رواج دیتی سیاستوں سے
ملے جو فرصت،!
تو میری تربت پہ میرے کتبے کو آ کے پڑھنا!
یقیں کی حد تک گماں ہے میرا
کہ پڑھ کے مجھ کو یہ ہی کہو گے،
"وہ اپنے لفظوں میں اپنی سانسیں بحال کر کے،
خود اپنی تربت پہ اپنے ہاتھوں سے اپنا کتبہ سجا گیا ہے.....!"
عبدالعزیز قاٸم
" نظم سوشل بھکاری"
مرے ناقد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
مرے ناصح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
یقینا ٹھیک کہتےہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
"کہ تم شاعر نہیں قاٸم"
"تم اک سوشل بھکاری ہو"
"غریبی کیش کرتے ہو"
"تم اپنے سارے شعروں میں"
"تم اپنی ساری نظموں میں"
" سبھی بے ربط غزلوں میں"
"فقط غربت کو روتے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!"
"غریبی کیش کرتے ہو.................!"
"اکیلے تو نہیں ہو تم"
" بھری دنیا میں تم سے بڑھ کے
مفلس اور بے کس ہیں"
"مگر خاموش رہتے ہیں"
" تمہی اک ہو کہ
شاعر ہو کے غربت کیش کرتے ہو"
"نہیں شاعر نہیں ہرگز
تم اک سوشل بھکاری ہو"
مرے ناقد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
مرے ناصح۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
یقینا ٹھیک کہتے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔!
میں آج اک سچ بتاتا ہوں
وہ دنیا میرے اندر ہے
کہ جس دنیا میں مجھ سے بڑھ کے مفلس اور بے بس ہیں
وہ میرے جیسے ہیں سارے
یا میں پھر ان کے جیسا ہوں
مجھے جب بھوک لگتی ہے
تو پھر احساس ہوتا ہے
وہ دنیا میرے اندر ہے
کہ جس دنیا میں مجھ سے بڑھ کے مفلس اور بے کس ہیں
مرے ناصح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
میں خود سے کچھ نہیں لکھتا
میں بے بس ہو کے لکھتا ہوں
جہاں غربت کے ڈیرے ہوں
جہاں تنگی کے ساٸے ہوں
جہاں تنگی سے تنگ آ کر
ضرورت روز مرتی ہو
مقدر کی بغاوت پر
محبت بین کرتی ہو
جہاں سوچوں پہ پہرہ ہو
جہاں خوابوں پہ قدغن ہو
جہاں ارمان مرتے ہوں
جہاں غیرت کو گروی رکھ کے روٹی لاٸی جاتی ہو
جنہیں در در کی ٹھوکر کھا کے پھر خیرات ملتی ہو
انہیں معلوم ہوتا ہے کہاں پر خرچ کرنا ہے۔
کہاں خاموش رہنا ہے یا واویلا مچانا ہے
انہیں معلوم ہوتا ہے
دوا کتنے کی پڑتی ہے
دعا کتنے کی ملتی ہے
انہیں معلوم ہوتا ہے
کہ روٹی کتنی کھانی ہے یا پھر کتنی بچانی ہے
توکل اور کفایت کا جو بھاشن ہے جو مقصد ہے
انہیں معلوم ہوتا ہے
تمٕیں معلوم ہے ناصح۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
یہ سب کچھ جانتے ہو تم
مگر وہ کیا ہے کہ تم پر یہ سب بیتا نہیں شاٸد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو تم بھی ٹھیک کہتے ہو
یقيینا ٹھیک کہتے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔!
یہ میں بھی مان لیتا ہوں
کہ میں شاعر نہیں ہرگز
میں اک شوشل بھکاری ہوں
میں اپنی ساری نظموں میں
غریبی کیش کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
عبدالعزیز قاٸم
طلب تو پھر طلب ہے آرزو ضاٸع نہیں کرتا
سنا ہے بندہ پرور جستجو ضاٸع نہیں کرتا
مجھے جہد مسلسل کی مشقت کا ثمر دے دے
کسی مزدور کی محنت کو تو ضاٸع نہیں کرتا
محبت کی عبادت میں طہارت کا میں قاٸل ہوں
نمازیں رہ بھی جاٸیں تو وضو ضاٸع نہیں کرتا
شرابی تو نہیں ہرگز مگر یہ میرا سچ ہے کہ
ضرورت کے تشدد پر سبو ضاٸع نہیں کرتا
حقیقی سوز شامل ہے مرے اشعار میں قاٸم
میں جھوٹے استعاروں پر لہو ضاٸع نہیں کرتا
عبدالعزیز قاٸم
02/01/2026
نبیﷺ کی سرپرستی کا ثمر دے کر
بنی ہاشم کو کعبے کا گہر دے کر
ابو طالب کو حیدر سا پسر دے کر
خدا خوش ہے علی کو اپنا گھر دے کر
جبیں پہ رکھ دیا نور_ولایت کو
نبی کے ایک بوسے میں اثر دے کر
علوم_مصطفی کا باب کھولا ہے
علی کو رمز_وحدت کا ہنر دے کر
علی سے پیار اللہﷻ کی عطا سے ہے
نہیں ملتا یہ رتبہ مال و زر دے کر
فقیروں کو سکھایا ہے ولی ہونا
علی ابن ابی طالب کا در دے کر
صعوبت میں علی مولا کے صدقے سے
مجھے ثابت قدم رکھنا ضرر دے کر
مرے اللہ مری مشکل کو حل کر دے
مری ٹھہری دعاوں میں اثر دے کر
جو تو چاہے دل_قاٸم کو راحت دے
مری تاریک راتوں کو سحر دے کر
#منقبت
31/12/2025
27/12/2025
خار چنتا ہوں پھول بونا ہے
زیر رہتا ہوں پیش ہونا ہے
میرے سر میں دماغ ہے ہی نہیں
ایک لٹو نما کھلونا ہے
گھوم جاۓ تو گھوم جاتا ہے
مرکزے میں رہے تو سونا ہے
آتے آتے بھی آدمی رویا
جاتے جاتے بھی خوب رونا ہے
تف ہے غربت کی زندگی پہ عزیز
جس کے دامن میں دکھ پرونا ہے
