سیاست میں داڑھی سفید ہوگئ لیکن آج تک ایک پیسے کی کرپشن ثابت نہیں ہوئی
ایسا ہے ہمارا مولانا
سب کہو الحمدلله
❤✌❤
JUI Lower Orakzai
نظامِ مصطفی ﷺ کا نفاذ، شریعت کا تحفظ، ختم نبوت کا دفاع، دینی اقدار کی ترویج، آئینی و جمہوری جدوجہد۔
ظفر اقبال نے۔ ماضی میں ایک حکومت کی خارجہ پالیسی پر مختصر تحریر لکھی ہے پڑھیے
سعودی اعلی سطح کے مہمان موجود تھے۔ عین اس وقت جب صدر مملکت معزز مہمان کے لئے اپنے خیالات کا اظہار کرنا شروع ہوئے، موصوف نے کھانا منگوا کر کھانا شروع کر دیا۔ مہمان نے ایک نظر دیکھا، یہ کیا کر رہا ہے۔ کھاتے ہوئے صدر کو ہدایت دی کہ کھڑے ہو کر تقریر کرو۔ یہ بھی معیوب تھا۔ سفارتی آداب کے بالکل خلاف۔
اپنی اہلیہ کہتی ہے کہ ایک ملک میں گئے۔ وہاں کے سربراہ نے کہا یہ کیا اٹھا کر لے آئے ہو۔ کویتی وفد آیا۔ پتہ چلا، کسی نے ان کا بیگ چوری کر لیا ہے۔ سعودی مہمان نے یک انتہائی قیمتی گھڑی تحفے میں دی۔ چوری چھپے بیچ دی۔ خبر نکلی تو اسے دبانے کی بھرپور کوشش کی۔ خواری اٹھائی کہ یہ خود اس بات پر دوسروں پر تنقید کیا کرتا تھا کہ تحفے حکومت کی ملکیت ہوتے ہیں۔ سستے داموں اپنے آپ کو بیچنا چوری اور حرام خوری ہے۔ حریم شاہ دفتر خارجہ میں آزادانہ گھومتی تھی۔ ٹھوکریں مار کر دروازے کھولتی تھی۔ ویڈیوز بنا کر اپنے اکاؤنٹ پر لگاتی تھی۔
یہ لوگ آج بتاتے ہیں کہ یہ سنہرا دور تھا۔ اسے واپس لاؤ۔
عمران خان کے بیٹے قاسم خان اپنے والد کی رہائی کے لیے احتجاج کریں یا جنیوا میں تقریر، ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں۔
لیکن انہوں نے توہینِ مذہب اور توہینِ رسالت کی سزاؤں پر تنقید کیوں کی؟ عمران خان کی رہائی کی مہم میں یہ 'خفیہ انجکٹ ایجنڈا' ہمیں کسی صورت قبول نہیں اور ہم اس پر بھرپور تنقید کریں گے۔ اگر چہ تحریک انصاف کے لیے سب کچھ عمران خان ہی ہیں،
ڈیڑھ منٹ کی تقریر میں 'وارداتی جملہ یہ ہے۔
The intolerance extends beyond him. Pakistan has expanded its blasphemy laws to impose life imprisonment ۔۔۔۔
ترجمہ
"عدم برداشت صرف ان تک محدود نہیں ہے۔ پاکستان نے توہینِ مذہب کے قوانین میں توسیع کرتے ہوئے عمر قید کی سزا شامل کر دی ہے.
26/03/2026
رپورٹ برائے عید ملن پارٹی
آج بروز جمعرات جمعیت علماء اسلام تحصیل لوئر اورکزئی کے زیرِ اہتمام ایک پروقار عید ملن پارٹی کا انعقاد بمقام مدرسہ شمس العلوم اتمان خیل میں کیا گیا۔
اس تقریب میں تحصیل بھر سے علماء کرام، مشران اور کارکنان نے کثیر تعداد میں شرکت کی، جبکہ جمعیت طلبہ اسلام تحصیل لوئر اورکزئی کے تمام صدور، نظماء اور کارکنان نے بھی بھرپور شرکت کی۔
تقریب کی صدارت امیرِ محترم حضرت مولانا نقیب احمد روحانی صاحب نے فرمائی، جبکہ یہ تقریب حضرت مولانا عزیز الرحمان صاحب کی زیرِ سرپرستی منعقد ہوئی۔
اس موقع پر جمعیت طلبہ اسلام نے حالیہ فارغ ہونے والے حفاظِ کرام کی حوصلہ افزائی کے لیے خصوصی پروگرام کا بھی انعقاد کیا، جس میں انہیں خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
تقریب خوشگوار ماحول میں اختتام پذیر ہوئی اور آخر میں اجتماعی دعا کی گئی۔
جاری کردہ:
سیکرٹری اطلاعات محمد باسط
جمعیت علماء اسلام تحصیل لوئر اورکزئی
نوٹیفکیشن
تمام معزز ذمہ داران، محترم کارکنان، محبینِ جمعیت، نوجوانانِ جمعیت طلبہ اسلام اور جمعیت علمائے اسلام کے وابستگان کی خدمت میں نہایت مسرت کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ:
تحصیل لوئر میں ایک پروقار عید ملن پارٹی
منعقد کی جا رہی ہے، جس کا مقصد
عید کی خوشیوں کو مل بیٹھ کر بانٹنا،
کارکنان کے درمیان محبت، اتحاد اور خیرسگالی کو مضبوط کرنا،
اور عید کے پرمسرت لمحات کو ایک ہی مقام پر یکجا کرنا ہے۔
تمام کارکنان، نوجوانان، محبین اور وابستگان سے خصوصی گزارش ہے کہ
اس عید ملن پارٹی میں بھرپور شرکت فرما کر
اجتماع کو کامیاب و بابرکت بنانے میں اپنا حصہ ڈالیں۔
تفصیلاتِ پروگرام
تاریخ: 26
بروز: جمعرات
وقت: صبح 9:00 بجے
بمقام: مدرسہ شمس العلوم
بحکم:
مولانا نقیب احمد روحانی
امیر جمعیت علمائے اسلام تحصیل لوئر
جاری کردہ:
مفتی حامد اللہ حقانی
جنرل سیکرٹری جمعیت علمائے اسلام تحصیل لوئر
محمد باسط سیکرٹری اطلاعات تحصیل لوئر اورکزئی
16/03/2026
تحریک انصاف کے ہاتھوں
خیبر پختونخوا میں بلدیاتی نظام کا جنازہ
تحریر:
مولانا محمد رحیم ح_قانی
خیبر پختونخوا میں بلدیاتی نمائندوں کی مدتِ ملازمت ختم ہوئی، چار سال مکمل کر گئے۔ بے چارے خالی ہاتھ آئے تھے اور خالی ہاتھ رخصت ہوئے۔ یہ ہوا نچلی سطح پر انصافیوں کے ہاتھوں انصاف کے قتل پر بسم اللہ کا آغاز۔ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت روزِ اول سے بلدیاتی نظام کی مخالف تھی، تاہم 2021 کے بلدیاتی انتخابات انہیں عدالتی فیصلے کی تعمیل میں کروانے پڑے۔
صوبے کے عوام کو پی ٹی آئی حکومت کا فراڈ اس وقت عملی طور پر دیکھنے کو ملا جب اپنا صوبائی اسمبلی سے پاس کردہ لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل، جو اس مقصد کے لیے انہوں نے پاس کرایا تھا تاکہ اختیارات نچلی سطح پر منتقل کیے جا سکیں، تاہم عقل سے عاری اور یوٹرن کے ماہر یوتھی اور یوتھنی ممبرانِ اسمبلی نے ممبرانِ لوکل گورنمنٹ کے اختیارات میں کمی کی خاطر گورنمنٹ ترمیمی بل کی منظوری کے ساتھ اپنے سابقہ ترمیمی بل کو خود اپنے پاؤں تلے روند ڈالا۔
اس بل کی منظوری کے خلاف جے یو آئی کے ممبران کے ساتھ خود ان کے منتخب نمائندے سڑکوں پر نکل آئے، اور یوں حکومت کے خلاف ایک ہمہ گیر احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا۔ اضلاع اور تحصیلوں کی سطح پر احتجاجات کے علاوہ صوبائی سطح پر ریکارڈ 7 احتجاج کیے گئے، جن میں 500 بلدیاتی چیئرمینوں پر مشتمل سب سے بڑا احتجاج پشاور میں کیا گیا۔
درحقیقت جمہوریت کی بنیاد صرف پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں نہیں ہوتی بلکہ جمہوریت کی اصل روح بلدیاتی اداروں میں ہوتی ہے۔ دنیا کی ہر مہذب ریاست میں عوام کے مسائل انہی مقامی اداروں کے ذریعے حل کیے جاتے ہیں، مگر خیبر پختونخوا میں گزشتہ چار سالوں کے دوران بلدیاتی نظام کے ساتھ جو سلوک کیا گیا وہ خیبر پختونخوا کی جمہوری تاریخ میں سیاہ ترین باب کے عنوان سے یاد کیا جائے گا۔
اس کے پس منظر پر نظر ڈالیں گے تو انصافی حکومت کا عدم برداشت، غیر سیاسی اور غیر جمہوری چہرہ مزید کھل کر عیاں ہو جاتا ہے۔ وہ اس طرح کہ 2021 اور 2022 کے بلدیاتی انتخابات کے نتیجے میں جب جمعیت علماء اسلام کے امیدوار زیادہ تعداد میں کامیاب ہوئے اور حکمران جماعت کو جمعیت علماء اسلام کے خلاف غلیظ پروپیگنڈا اور سرکاری وسائل بے دریغ خرچ کرنے کے باوجود شکست کا سامنا کرنا پڑا تو پی ٹی آئی حکومت نے پورے چار سالوں میں ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز کی مد میں ایک روپیہ تک ریلیز نہیں کیا۔
اس تناظر میں:
1۔ کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ اگر صوبائی حکومت اختیارات منتخب نمائندوں کو نہیں دینا چاہتی تھی تو غریب عوام کے ٹیکسوں سے حاصل شدہ 18 ارب روپے بلدیاتی انتخابات پر کیوں ضائع کر دیے گئے؟
2۔ کیا اس ملک کے غریب عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے والوں کے خلاف احتساب کا کوئی قانون نہیں؟
3۔ کیا کامیاب بلدیاتی نمائندوں کو ترقیاتی فنڈز ریلیز کرنا ان کا قانونی حق نہیں تھا؟
4۔ کیا آئین شکنی اور انارکی پھیلانے والوں کے لیے اس ملک میں کوئی قانون نہیں؟
5۔ کیا صرف ملکی سرحدات پر گڑبڑ کرنے والے مجرم ہیں، یا قومی خزانے میں خرد برد کرنے اور قومی املاک کو نقصان پہنچانے والے بھی مجرموں کے زمرے میں آتے ہیں؟
6۔ کیا سب سے بڑا جرم غداری اور دہشت گردی ہے، یا غداروں اور دہشت گردوں کے لیے سہولت کار بننے والے بھی اس زمرے میں شمار ہوتے ہیں؟
7۔ کیا را اور موساد کے اصل جاسوس اور تخریب کار مجرم ہیں، یا پاکستان میں ان اداروں کے لیے سہولت کار بننے والے ملک دشمن عناصر بھی اس زمرے میں آ جاتے ہیں؟
8۔ کیا پاکستان میں آئین اور قانون کے ضابطے صرف سفید پوش، ایماندار، دیانتدار اور محب وطن شہریوں کے لیے ہیں، یا ان قوانین کا اطلاق قومی خزانے کو بے دردی سے لوٹنے والوں پر بھی ہوتا ہے؟
9۔ کیا اس ملک میں محکمہ احتساب اور عدالتیں صرف "جس کی لاٹھی اس کی بھینس" کے تابع ہیں، یا اس ملک کی تعمیر و ترقی میں خون پسینہ ایک کرنے والے غریب شہریوں کی داد رسی کے لیے بھی اس میں کوئی گنجائش موجود ہے؟
10۔ کیا اس فرسودہ زنگ آلود نظام پر نظر ثانی کی ضرورت نہیں؟ درحقیقت اس فرسودہ نظام پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ اگر آج بھی حکمرانوں نے احتساب کا دائرہ خود اپنی صفوں تک نہیں بڑھایا اور بلا تفریق سب کے احتساب کو اپنا لائحہ عمل نہیں بنایا تو عین ممکن ہے کہ قانونِ الٰہی کے مطابق فتنۂ عمرانیہ سے دین دشمنی، ملک دشمنی اور عوام دشمنی میں بڑھ کر کوئی خطرناک بلا اور ناسور اس ملک پر مسلط نہ ہو۔
وما توفیقی الا باللہ
Copied
26/02/2026
#ماشاءاللــّٰـــــه
قائد ملت اسلامیہ مولانا فضل الرحمن صاحب کو دنیا کا بہترین تحفہ ملا ہے گلاف کعبہ
ہمیں فخر ہیں اپنے لیڈر پر
اللہ تعالیٰ سلامت رکہے سب کہو امین ❤️🤲
05/01/2026
انا للہ وانا الیہ راجعون😭
اطلاع ملی ہے حضرت مولانا فضل الرحیم صاحب مہتمم جامعہ اشرفیہ لاہور کا انتقال ہو گیا ہے۔
سیاست 🤔
میری عقیدتوں کے محور ومرکز،جان سے پیارے مرشد،پیر طریقت رہبر شریعت حضرت مولانا پیر حافظ ذوالفقار احمد نقشبندی مجددی،اللہ کوپیارے ہوگئے۔
اناللہ وانا الیہ راجعون
😭😟😭
اس حکومت نے آئین کا حلیہ بگاڑ دیا ہے، آئین ان کے ہاتھ کا کھلونا بن گیا ہے ، مضبوط ہاتھوں سے انہیں روکنا ہو گا! عبدالغفور حیدری صاحب.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Address
Kohat
