02/11/2025
راجپوت میں راجپوت خصلتیں
اس میں کوئی شک نہیں کہ متحدہ ہندوستان کی تاریخ راجپوتوں کے بغیر نامکمل ہے اور یہ دھرتی راجپوتوں کے بغیر غیر محفوظ تھی
جس کا باپ شیر جیسا اور ماں ببر شیرنی جیسی ہو اسے راجپوت کہتے ہیں جس کی گردن تو کٹ جاۓ مگر دشمن کے سامنے سر نہ جھکاۓ وہ راجپوت کہلاتا ہے لفظ راجپوت کا مطلب راج کا پتر یا راجے کا بیٹا ہے یعنی دھرتی ماں کا رکھوالا راجدھانی کا محافظ اور رسم رواج کی خاطر مرمٹنے والے کو راجپوت کہتے ہیں مثل مشہور ہے کہ کہ راج تو جاۓ پر رواج نہ جاۓ یعنی راج کے لالچ میں رواج کو نہ چھوڑنا یہ کہاوت دراصل راجپوت خصلت کی عکاس ہے
تاریخ کے اوراق پلٹنے سے پتہ چلتا ہے کہ راجپوتوں کے اقتدار کا باضابطہ آغاز چھٹی اور ساتویں صدی عیسوی میں ہوا تھا 648ء میں جب شمالی ہندوستان کے عظیم مہاراجہ ہرش وردھن کی موت واقع ہوئی تو ملک میں چار سو ابتری پھیل گئی اس ابتری کا فائدہ اٹھا کر بہادر راجپوتوں نے تمام شمالی ہندوستان پر قبضہ کر لیا اور کئی چھوٹی بڑی خود مختار ریاستیں قائم کر لیں جو 650ء سے لیکر تقریبآ 1200ء تک قائم رہیں راج پتروں کا یہ زمانہ کم و بیش ساڑھے پانچ سو سال تک کا بنتا ہے تاہم راجہ ہرش کی موت سے لے کر اسلامی حکومت کے قیام تک کے زمانے کو راجپوتوں کا زمانہ کہا جاتا ہے تاریخ مغلیہ ہو یا تاریخ انگلشیہ ہو بہر حال تمام تواریخ میں دوسری اقوام کے حکمران راجپوتوں کی بہادری کے معترف ہیں
راجپوت میں راجپوت خصلتیں
1ـ راجپوت نڈر بے باک بہادر بے خوف ہوتا ہے خون سے کھیلنا اس کی فطرت میں شامل ہوتا ہے
2ـ راجپوت باکردار باحیاء باوقار سچا اور صاف گو ہوتا ہے اصولوں پہ ڈٹ جانا اس کی تربیت کا حصہ ہوتا ہے
3ـ ایک راجپوت بااصول رسم ورواج کا اسیر ہوتا ہے اور ان کے دفاع میں اپنی جان خطرے میں ڈال دیتا ہے
4ـ بدرجہ اعلیٰ رواج راجپوتاں ہے کہ وہ اپنے خاندان کے علاوہ نہ کسی کورشتہ دیتے ہیں نہ کسی سے لیتے ہیں
5ـ راجپوت شراب زناء دھوکہ بازی بے ایمانی لالچ فریب جیسی خرابیوں سے دور رہتا ہے
6۔ ایک راجپوت اصولوں کی خاطر اپنی ضد پہ قائم رہتا ہے غریب کی مدد کرتا ہے مظلوم کا دفاع کرتا ہے
7۔ راجپوت عورتیں دلیر بہادر اور جنگجو ہوتی ہیں تاہم وہ اپنےشوہروں کی وفاداری میں اپنی جان تک بھی قربان کردیتی ہیں
10/01/2023
آپ کے دادا پڑدادا 1947ء میں کس ضلع ، تحصیل اور گاؤں سے ہجرت کر کے پاکستان آئے تھے ؟ اپنا ضلع دیکھنے کے لئے ایک بار پنجاب یا ہریانہ کو ٹچ کریں . میرا تعلق گاؤں ہندوان پاتن ضلع حصار ریاست ھریانہ سے ہے
20/12/2022
کلا نور ، پنوار راجپوتوں کا آباد کردہ شہر ۔
کلا نور ، روہتک ، ہریانہ کی مختصر تاریخ اور کلا نور کے پنوار راجپوتوں کا تعارف ۔
پنوار / پوار راجپوتوں کا مشہور قصبہ کلانور نزد روہتک موجودہ ہریانہ ، راؤ کلیان سنگھ نے آباد کیا گیا تھا جو ایک پنوار / پرمارا راجپوت تھا ۔ کلیان سنگھ ، دھارا نگری میں اجین شہر کا رہائشی تھا ۔ اس کے بیٹے نے آننگ پال سنگھ ( جو دہلی کا بادشاہ تھا ) کی بیٹی سے شادی کی تھی ۔ ان کی شادی کے وقت بادشاہ آننگ پال سنگھ نے کلیان سنگھ کو یہ خطے تحفے میں دیا تھا ، اس طرح یہ علاقہ کلیان سنگھ کے قبضے میں آ گیا ، جس سے اسے وہاں موجود ایک نہر کے قریب واقع گاؤں بھلی کو مضبوط کرنے میں بھی مدد ملی ۔ اس کے بعد اس نے اس نہر کے کنارے پر ہی اپنی گدی یعنی بیٹھک بنائی جسے گدی کھیڑی کہا جانے لگا ۔ پھر کلیان سنگھ نے ہی 1071 ء میں کلانور کا قصبہ آباد کیا ۔ کلیان سنگھ کے تین بیٹے تھے ۔ کلانور کو ان کے ناموں کے مطابق تقسیم کیا گیا تھا لیکن فی الحال یہ کلانور کلاں اور کلانور خورد کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ مقامی زبان میں انہیں چھوٹا پانا اور بڑا پانا کے طور پر جانا جاتا ہے ۔ راجپوتوں کے جتنے گاوں تھے ان میں کلانور واحد گاوں تھا جس میں ھائ سکول تھا جس کی وجہ سے وہاں کے راجپوت تعلیم حاصل کر سکے ۔
1947ء کی تقسیم پنجاب کے دوران راجپوتوں کے گڑھ کلا نور کے تمام راجپوتوں نے پاکستان ہجرت کی اور پورا قصبہ راجپوت سے خالی ہو گیا تھا ( سواے ان چند مسلمان غیر راجپوت گھرانوں کے جو وہاں دوکانداری کرتے تھے ) اور پاکستان پنجاب کے مختلف علاقوں میں ازسرِنو آباد ہو گئے تھے ۔ کہتے ہیں کہ کلانور میں جھنگ سے جانے والے سکھوں کو آباد کر دیا گیا تھا جو ابھی بھی وہاں رھائش پذیر ہیں ۔
کلانور سے پاکستان ہجرت کر کے آنے والی کچھ نمایاں شخصیات مندرجہ ذیل ھیں:
1 - راؤ خورشید علی خان مرحوم MNA .
2 - راؤ محمد افضل خان مرحوم MNA .
3 - راؤ سکندر اقبال مرحوم وفاقی وزیر .
4 - میجر جنرل راو فرمان علی خان مرحوم .
5-لیفتینٹ جنرل راؤ ذوالفقارعلی خاں چئیرمین واپڈا، اوقاف
6 - راؤ عبدالرشید خان مرحوم IG پنجاب.
7 - راؤ عبدالجلیل خان سابق AIG ریلوے.
8 - میجر جنرل راو محمد امراو خان مرحوم .
9 - میجرجنرل شفیق الرحمان کلانوری مرحوم .
10 - راؤ سخاوت علی خان مرحوم ڈسٹرکٹ آفیسر .
11- میجر راو محمد اقبال خان مرحوم پاک آرمی.
12- راؤ ضیاء الدین چیرمین بلدیہ اوکاڑہ .
13- راؤ عبدالمالک مرحوم چیف انجینیئر فوجی فاونڈیشن.
اس کے علاوہ بھی کلانور سے تعلق رکھنے والی اگلی نسل کے بہت سے راجپوت ، آج کل پاکستان کی سیاست ، افواج ، تعلیم ، بیوروکریسی ، کاروبار اور تجارت میں اپنا بھر پور کردار ادا کر رہے ہیں۔
07/12/2021
Please Subscribe
TLP Habib Abad Official Channel Labyak TV
Labaik TV - YouTube
TLP Habib Abad Official
28/12/2020
Great Rajput
I'm Heartidly Congratulate to Homoeopathic Dr. Rao Ghulam Murtaza who elected as President of National Council for Homoeopathy, Islamabad Government of Pakistan