Discused History of Islam

Discused History of  Islam

Share

you can share your views about history of Islam

22/03/2024

سیرت حضرت زینب بنت محمدﷺ

حضرت زینب بنت محمدﷺ آپ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کی بڑی صاحبزادی تھی آپ رضی اللہ عنہا نہایت ہی نفیس اور بہادر أور صبر والی بیٹی تھی
آپؓ کا نکاح آپؓ کے خالہ زاد حضرت ابی العاص بن ربیع سے حضرت خدیجہؓ کی مرضی سے ہوا ۔
حضرت ابی العاص بن ربیع رضی اللہ عنہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو نہایت ہی عزیز تھے
حضرت زینبؓ کا نکاح نبوت سے پہلے ہی ہوگیا تھا تاہم جب آپﷺ نے نبوت کا اعلان کیا تو حضرت زینبؓ نے اپنی والدہ اور بہنوں کے ساتھ ہی اسلام قبول کر لیا تھا
جب آپؓ نے اسلام قبول کیا تو آپؓ کے شوہر تجارت کے لیے ملک سے باہر تھے جب انہیں پتہ چلا تو واپس لوٹے اور اپنی بیوی سے پتہ کیا کہ کیا وہ واقعی ہی اسلام قبول کر چکی ہے تو انہوں نے بتایا کہ بالکل وہ اپنے والد ﷺ کے دین کو قبول کر چکی ہے کیونکہ انکے والدﷺ حق کے دین پر ہے اگر وہ نہ ہوتے تو حضرت ابی العاص کے رشتہ دار حضرت زبیر بن عوام اور انکی خالہ حضرت خدیجہؓ آپ ﷺ پر ایمان نہ لاتے
حضرت زینبؓ نے اسلام کے شروع میں بہت زیادہ مصیبتیں جھیلیں جب مکہ والوں نے بنو ھاشم کے لوگوں کے ساتھ مکمل باٸیکاٹ کرکے انہیں شعب ابی طالب پر قید رکھا تو آپؓ بھی اپنے والدﷺ والدہ اور بہنوں کے اور باقی مسلمانوں کے ساتھ اتنی ہی مصیبتوں میں رہی جتنی مصیبتوں میں باقی مسلمان تھے کیونکہ آپ اولین مسلمانوں میں سے تھی آپ قریش کے لوگ آپؓ کو چھوڑنے کی ڈیمانڈ حضرت ابی العاصؓ سے کرتے تھے اور بدلے میں انہیں جو بھی لڑکی پسند ہو ان سے نکاح کرنے پیش کش کرتے رہے مگر حضرت ابی العاصؓ نے آپؓ کو نہیں چھوڑا حالانکہ تب تک انہوں نے اسلام قبول نہیں کیا تھا
جب نبی ﷺ پر ہجرت کا حکم آیا تو آپﷺ اپنی بیویوںؓ بیٹیوں اور باقی ساتھیوں کے ساتھ مدینہ کیطرف ہجرت کی تو حضرت زینب بنت محمدؓ نے اپنے شوہر کے ساتھ خواہش کی تو آپﷺ آپؓ کو مکہ ہی انکے شوہر چھوڑ گیے
لیکن جب غزوہ بدر میں جب کفار کیطرف سے حضرت ابی العاص قید ہو کر مدینہ لاۓ گے
جب حضرت زینبؓ بنت محمدﷺ کو یہ خبر ہوٸ کہ حضرت ابی العاص مسلمانوں کی قید میں ہے تو انہیں چھڑوانے کے لیے آپؓ نے اپنی والدہ کی نشانی جو کہ ایک ہار تھی جو آپؓ کو آپؓ کی والدہ نے آپ کو آپؓ کی شادی پر دیا تھا
وہ ہر جانے کے طور پر بعوز اپنے خاوند کی رہاٸ کے لیے بھیجا
جب وہ ہار آپﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا کہ یہ حضرت أبی العاصؓ کی آزادی کے ان کی بیوی نے بھیجا ہے اور درخواست کی ہے کہ انکے پاس اسکے علاوہ دینے کو کچھ نہیں
آپﷺ نے حضرت ابی العاصؓ کو أپنے ساتھیوں کو یہ بتا کر آزاد کردیا کہ یہ انکی بیوی حضرت خدیجہؓ کی انکی بیٹی کو دی گی نشانی ہے تو آپ یہ یار انہیں واپس کردیں
اور شرط یہ رکھی کہ حضرت ابی العاصؓ مکہ پہنچتے ہی حضرت زینبؓ بنت محمدﷺ کو مدینہ بھیج دیں گے
حضرت ابی العاص چونکہ قول و قرار کے شرنف نفس انسان تھے انہوں آپﷺ کی بات من لی
حضرت محمدﷺ نے اپنے منہ بھولے بیٹے حضرت زید بن حارثؓ کو حضرت ابی العاصؓ کیساتھ بھیجا تاکہ وہ اپنی بہنؓ کو اپنے ساتھ لے آۓ
مکہ سے کچھ پہلے دیگستان میں حضرت ابی العاص نے انہیں روکدیا کہ وہ حضرت زینب بنت محمدﷺ کو کسی کے ساھ ادھر بھیج دیں گے
حضرت زید بن حارث انکی بات مانتے ہوے وہی ک گیے
حضرت ابی العاص مکہ پہنچ کر أپنے بھاٸ کنانہ بن لقیط جو کہ حضرت زینبؓ کے خالہ زاد کیساتھ روانہ کردیا
مگر جیسے ہی مکہ کے لوگوں و پتہ چلا کہ حضرت زینبؓ مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ جانے لگی ہے تو انہوں نے راستے میں محاصرہ کر کے گھیر لیا
مگر کنانہ بن لقیط نے کفار کا مقابلہ کیا قافلے کے سردار ابو سفیان نے کنانہ اے کہا کہ آپ انکو اسطرح بھیج دیں گے تو مکہ کہ سرداروں کی تضحیک ہوگی آپ اس طرح کریں کے آپ کچھ رک کر انہیں لوگوں کی نظر سے بچا کر بھجواٸیں
تاہم کنانہ بن لقیط نے ایسا ہی کیا اور کچھ دنوں بعد حضرت زینب بنت محمدﷺ کو حضرت زید بن حارٹؓ کیساتھ مدینہ بیج دیا
حضرت زینب مدینہ آکر حضرت سودہؒ کے ساتھ رہی کچھ عرصہ بعد حضرت ابی العاص تجارت کے سلسلے میں قافلے کیساتھ مدینے سے گزر رہے تھے کہ مسلمانوں نے قافلے کا محاصرہ کر کے سب کو قید کرلیا جن میں حضرت ابی العاصؓ بھی تھے
جب یہ خبر حضرت زینبؓ تک پہنچی توانہوں نے حضرت ابی العاص کا دفع کیا
تاہم حضرت ابی العاص نے حضرت محمدﷺ سے اجزت لی اور مکہ والوں کی امنتیں واپس کرکے مدینہ آکر اسلام قبول کرلیا
اور بعد میں حضرت ابی العاص ؓ کا نکاح آپﷺ نے دوبارہ حضرت زینب بنت محمدﷺ کردیا تاہم حضرت زینبؓ زیادہ دیر زندہ نہ رہی اور ٨ ہجری کو وصال کر گیی
آپؓ کے باطن سے دو اولاد ہوٸ امیامہ اور علی
امایمہ کا نکاح حضرت علی بن ابی طالبؓ سے حضرت فاطمہؓ کے وصال کی بعد وصیت فاطمہ کے مطابق ہوا
حضرت ابی العاصؓ جنگ یرموک میں شہید ہوے
دعا گو

28/07/2023

سیدہ فاطمہ الزہرہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی وفات کے بعد مولا علی نے ان کی وصیت کے مطابق دوسری شادی کی ۔ حسن حسین زینب ابھی چھوٹے تھے ۔ آپ نے سیدنا عقیل کو رشتہ دیکھنے کے لئیے کہا تو کلبسی بنو قلاب کے قبیلے کا انتخاب ہوا ۔ سیدنا علی کی خواہش تھی کہ کوئی ایسی خاتون ہو جو شجاعت سخاوت اور ایثار کی خصوصیات سے مالا مال ہو ۔ بنو قلاب کی خاتون فاطمہ بنت حزم کے گھر رشتہ بھیجا تو سردار حزم اپنی بیوی کے پاس گئے اور پوچھا کہ سیدنا علی کا بیٹی فاطمہ کے لئیے رشتہ آیا ہے کیا آپ نے اپنی بیٹی کی ایسی تربیت کی ہے جو نبی کے خاندان میں بیاہی جا سکے ۔ رشتہ قبول ہوتا یے تو فاطمہ بنت حزم( سیدہ ام البنین) سیدنا علی کے گھر جاتی ہیں تو سیدنا حسن حسین اور فاطمہ کو گلے لگا لیتی ہیں۔ سیدنا علی سے درخواست کرتی ہیں کہ ان بچوں کے سامنے آپ مجھے کچھی فاطمہ مت کہئیے گا انہیں اس سے ان کی ماں یاد آ جائے گی ۔ میں اس گھر میں ان کی ماں بن کر نہیں آئی بلکہ کنیز بن کر آئی ہوں۔ میرا یہ مقام نہیں کہ ان کی ماں کی جگہ لے سکوں ۔ اس کے بعد آپ نے انہیں بیٹا نہیں کہا بلکہ ہمیشہ مولا کہتی رہیں۔ ان کے چار بیٹے ہوئے اس لئیے انہیں ام البنین بھی کہتے مطلب بیٹوں کی ماں ۔ اپنے بیٹوں کو ہمیشہ حسن حسین علی کی صرف اطاعت کا حکم دیا ۔ ادب سکھایا اور کہا جو وہ کہیں بس حکم بجا لانا ہے بحث نہیں کرنی۔ یہ اہل بیت ہیں ہم ان کے نوکر ہیں۔

چار بیٹوں میں عباس ابن علی ، عبداللہ ابن علی ، جعفر ابن علی اور عثمان ابن علی تھے ۔ سیدنا عباس علیہ السلام لشکر حسین کے سپہ سالار بھی رہے شجاعت میں یہ ایک مقام رکھتے تھے دونوں ہاتھ سے تلوار چلاتے تھے ۔ جنگ صفین میں سیدنا علی نے ان کو بھیجا تو محمد بن حنفیہ کہتے کہ مولا آپ صرف عباس کو کیوں آگے بھیجتے ہیں تو سیدنا عباس کہنے لگے حسن حسین میرے ابا کی آنکھیں ہیں اور میں ان کا بازو اور بازو ہمیشہ آنکھوں کی حفاظت کرتے ہیں ( حالانکہ عمر میں حسن و حسین سے چھوٹے تھے ) مطلب کہ یہ سوال بھی نہیں بنتا ، ماں کی تربیت ہر مقام پر جھلکتی تھی ۔

واقعہ کربلا میں جب ایک ایک کر کے لشکر حسین کے سپاہی شہید ہوتے گئے تو سیدنا عباس نے مولا حسین سے درخواست کی کہ مجھے جانے دیں۔ سیدنا حسین ان سے تلواریں لے لیتے ہیں کہ بس عباس تم پانی لے آو ۔ آپ پانی لینے جاتے ہیں تو یزیدی لشکر ان پر حملہ کر دیتا ہے دونوں بازو کاٹ دئیے جاتے ہیں وہی جنہوں نے حسین کی حفاظت کرنی تھی ۔ گھٹنے میں تیر لگتا ہے حسین عالی مقام کی آنکھیں بھر آتی ہیں۔ سیدنا عباس مولا حسین سے درخواست کرتے ہیں کہ میرے گھٹنے سے تیر نکال دیں اور کہتے ہیں کہ مولا میری والدہ سے کہہ دیجئیے گا کہ عباس کے دونوں بازو نہیں تھے اس لئیے صرف آپ کو تیر نکالنے کا کہا ۔ یہ وہ ادب تھا وہ اطاعت تھی جو سیدہ ام البنین کی تربیت تھی جنہوں نے ساری زندگی نبی کے اس گھرانے کی کنیز بن کر گزار دی ۔ آپ کے چاروں بیٹے اس جنگ میں شہید ہو گئے ۔ علی کے پانچ بیٹوں نے اس میں جام شہادت نوش کیا جس میں 4 سیدہ ام البین کے فرزندان تھے ۔ جو لشکر حسین کا نہ صرف حصہ بنے بلکہ امام عالی مقام پر اپنی جان تک قربان کر دی اور ساری عمر کبھی زبان پر کوئی سوال نہ لائے ۔

سیدہ ام البنین کو جب بیٹوں کی شہادت کی خبر ملی تو کہا عباس شہد ہوا جعفر شہید ہوا عثمان شہید ہوا عبداللہ بھی شہید ہو گیا فرمانے لگی سب چھوڑیں میرے مولا حسین کا بتائیں تو بتایا کہ وہ بھی شہید ہو گئے تو کہنے لگی کیا میرے بیٹے بعد میں شہید ہوئے مولا حسین سے تو بتایا کہ نہیں وہ پہلے شہید ہوئے اور مولا کی حفاظت کے لئیے خوب لڑے تو شکر ادا کیا کہ انہوں نے بیشک حق ادا کر دیا ۔۔۔۔
یہ وہ ماں تھی جو اہل بیت کے مقام کو سمجھتی تھی جس نے اپنے سارے بیٹوں کو ساری عمر صرف اطاعت سکھائی ادب سکھایا خود کو اس گھر کی کنیز بنایا اور حسن و حسین کو بیٹا نہیں ہمیشہ مولا کہا ۔
خدا ہم سب کو اہل بیت کا مقام سمجھنے اور اس ادب و اطاعت کی ہدایت فرمائے جو سیدہ ام البینین نے اپنی اولاد کو سکھایا ۔

27/07/2023

حضرت علی المرتضی شیر خداکے کربلا میں شہید ہونے والوں کے نام

حضرت مولا حسین بن علیؓ

حضرت مولا غازی عباس بن علیؓ

حضرت عبیداللہ بن علیؓ

حضرت عبداللہ بن علیؓ

حضرت ابوبکر بن علیؓ

حضرت عثمان بن علیؓ

حضرت عمر بن علیؓ

حضرت جعفر بن علیؓ

حضرت اصغر بن علیؓ

19/07/2023

*احترام محرم الحرام*

محرم الحرام کا احترام صرف اہلِ تشیع مسلک پہ ہی لازمی نہیں بلکہ ہر اُس شخص پر واجب ہے جو امام حسینؑ کے نانا خاتم النبینﷺ کا کلمہ پڑھتا ہے

*قال رسول ﷲﷺ*
*حسینؑ منی و انا من الْحسینؑ*
*رسو ﷲﷺ نے فرمایا*
*حسینؑ مجھ سے ہے اور میں حسینؑ سے ہوں*

اس لئے اپنے محمدی اور حسینی ہونے کا ثبوت دیں اور ایامِ محرم کو نہایت ادب و احترام اور سوگ کی حالت میں گزرایں تاکہ روزِ آخرت رسول ﷲﷺ کی شفاعت نصیب ہوسکے.

اہل سنت والجماعت سے گزارش ہے کہ وہ کوٸ ایسی بات نہ کریں جن سے اہل تشیع کو جزبات مجروح ہوں ایسے ہی اہل تشیع اس بات کا خیال رکھیں کہ انکی کسی بات سے کسی بھی اہل سنت کے جذبات مجروح نہ ہوں

*محشر میں مصطفٰیﷺ کو منانے کے واسطے*
*ہر شخص کو پڑے گی ضرورت حسینؑ کی*

24/02/2023

قرآن کریم
سورت البقرہ آیات ١٢٩ سے ١٣٤

اور کون ہے جو انحراف کرے دین ابراہیم سے
بجز اسکے جو حماقت کرے اپنے آپ سے اور بیشک منتخب کیا تھا ہم نے اس کو دنیا میں ۔ اور یقینا وہ ہوگا آخرت میں صالحین میں سے ۔(١٣٠)

جب فرمایا اس سے اس کے رب نے کہ فرمانبردار ہوجا
کہا اس نے فرمانبردار ہوگیا میں رب العالمین کا (١٣١)

اور وصیحت کی اسی بات کی ابراہیم نے اپنوں بیٹوں کو اور یعقوب نے بھی ۔ اے میرے بیٹوں اللہ نے منتخب فرما لیا ہے تمہارے لیے یہی دین تو نہ ہرگز مرنا تم جبکہ ہو تم مسلمان ۔(١٣٢)

کیا تھے تم موجود اس وقت جب قریب آٸ یعقوب کو موت۔
جب کہا اسنے اپنے بیٹوں سے کس کی عبادت کروگے تم

میرے بعد
کہا انہوں نے عبادت کریں گے ہم تیرے معبود کی اور معبود کی تیرے باپ دادا ابراہیم اور اسمعیل اور اسحق کے جو معبود واحد ہے اور ہم اسی کے حکم بردار ہے (١٣٣)

یہ تھی ایک جماعت جو گزر چکی اسکے لیے جو اس نےکمایا اور تمہارے لیے جو تم کماٶ گے
اور نہ پوچھا جاۓ گا تم سے اس کے بارے میں جو وہ کیا کرتے تھے (١٣٤)

The Holy Quran
Surat al-Baqarah verses 129 to 134

And who can deviate from the religion of Abraham?
Except him who commits folly from himself and indeed We had chosen him in this world. And surely he will be among the righteous in the Hereafter. (130)

When his Lord told him to be obedient He said: I have obeyed the Lord of the worlds (131).

And Abraham gave the same commandment to his sons and also Jacob. O my sons, Allah has chosen for you this religion, and you will never die while you are Muslims. (132)

Were you present when Jacob's death came near?
When he said,
which of your sons will you worship? after me They said: We will worship your God and the God of your fathers Abraham, Ishmael and Isaac, who is the only God and we are His Lordship (133).

This was a party that passed for what it earned and for you what you will earn
And you will not be asked about what they used to do (134).

Photos from Discused History of  Islam's post 03/02/2023

قرآن کریم
سورت البقرہ آیات ١٢٢ سے ١٢٩

اے بنی اسراٸیل یاد کرو میری نعمت جو عطا کی میں نے تم کو اور یہ کہ میں نے فضیلت بخشی تم کو اہل عالم پر (١٢٢)

اور ڈرو اس دن سے جب نہ کام آۓ کوٸ شخص کسی بھی شخص کےکچھ بھی
اور نہ قبول کیا جاۓ اس سے بدلہ اور نہ کچھ فاٸدہ دے اسکو سفارش اور نہ وہ مدد کیے جاسکیں گے (١٢٣)

ار جب آزمایا ابراہیم کو اسکو رب نے چند باتوں سے تو اس نے پوری کردیں وہ۔ فرمایا بیشک بناٶں گا تجھ کو لوگوں کا پیشوا
کہا اس نے اور میری اولاد میں سے بھی ۔فرمانا نہیں پہنچے گا میرا وعدہ ألموں کو ۔(١٢٤)

اور جب بنایا ہم خانہ کعبہ کو اجتماع کی جگہ لوگوں کے لیے اور امنکی جگہ ۔اورچحکم دیا بنالو مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ۔
اور حکم دیا ہم نے ابراہیم اور اسمعیل کو پاک رکھنا پاک میرے گھر کو طواف کرنے والے لوگوں کے لیے اور اعتکاف کرنے والو اور رکعو سجود کرنے والوں کے لیے (١٢٥)

اورجب دعا کی ابراہیم نے میرے رب بنا دے اس شہر کو امن والا اور رزق عطا فرما اس کے رہنے والوں کو پھلوں میں سے وہ جو ایمان لاٸیں ان میں سے اللہ پر اور یوم آخرت پر
فرمایا اس نے اور جس نے کفر کیا تو دوں گا اسے سامان زندگی انہیں بھی تھوڑا پھر مجبور کردوں گا اس کو دوزخ کے عذاب کیطرف اور بری ہے وہ لوٹنے کی جگہ (١٢٦)

اور جب اٹھارہے تھے ابراہیم بنیادیں اس گھر کی اوف اسمعیل بھی ( تو دعا کیے جاتے تھے)
ہمارے رب قبول فرما ہم سے بیشک توسننے والا جاننے والا ہے (١٢٧)

ہمارے رب اور بنا ہم کو فرما بردار اپنا اور ہماری اولاد میں سے اٹھا ایک امت فرمانبردار اپنی اور دیکھا ہمیں ہمارے طریق عبادت اور توبہ قبول فرما ہماری بیشک تو توبہ قبول فرمانے والا ہے مہربان ہے (١٢٨)

ہمارے رب اور مبعوث فرما ان میں سے ایک رسول ان ہی میں سے جو پڑھ کر سنایا کرے انکو تیرٕی آیتیں ۔اور تعلیم دے ان کو کتاب حکمت کی اور تزکیہ کرے انکا بیشک تو غالب صاحب حکمت (١٢٩)
The Holy Quran

Surat al-Baqarah verses 122 to 129

O Children of Israel, remember My favor which I bestowed upon you and that I favored you over the people of the world (122).

And be afraid of the day when nothing will be of use to anyone And if it is not accepted, neither a reward nor any benefit is given to him, nor will he be helped (123).

And when the Lord tested Ibrahim with a few things, he fulfilled them. He said, I will surely make you the leader of the people He said, "And from among my children, my promise will not reach the people." (124)

And when we made the Kaaba a place of gathering for the people and a place of peace, and ordered to make the place of Ibrahim a place of prayer.
And We ordered Abraham and Ishmael to be pure for the people who circumambulate My House and for those who perform Itikaaf and those who bow and prostrate (125).

And when I prayed, Abraham, my Lord, made this city a place of peace and sustenance to its inhabitants, from among the fruits of those who believed in Allah and the Last Day.
He said: And whoever disbelieved, I will give him the goods of life, and I will compel him a little more to the punishment of Hellfire, and evil is the place of return (126).

And when Abraham was raising the foundations of this house and Ishmael too (then supplications were made).
Our Lord, accept from us, verily He who hears You is All-Knowing (127)

Our Lord, and make us yours, and raise up from among our children a nation obedient to you, and see us in our way of worship and accept our repentance.(128)

Our Lord and Messenger, send a messenger from among them who should recite to them Your verses and teach them the book of wisdom and purify them.(129)

25/12/2022

قرآن کریم
سورت البقرہ آیات ١١٧ سے ١٢١
پیدا کرنے والا ہے آسمانوں اور زمین کا اور جب فیصلہ کرتا ہے وہ کسی کام کا
تو بس ارشاد فرما دیتا ہے وہ اس کے لیے کہ ہوجا تو وہ ہو جاتا ہے (١١٧)

اور کہا ان لوگوں نے نہیں جو علم رکھتے
کیوں نہیں کلام کرتا ہم سے اللہ یا کیوں نہیں آتی ہمارے پاس نشانی
اسی طرح کہا تھا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے ان ہی کے جیسی بات - ملتے جلتے ہے ان کے دل
بیشک بیان کردی ہم نے نشانیاں ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں (١١٨)

بیشک بھیجا ہے ہم نے تم کو حق کیساتھ خوشخبری دینے والا اور نہیں پوچھا جاۓ گا تم سے اہل دوزخ کے بارے میں (١١٩)

اور ہرگز راضی نہیں ہوگے تم یہود اور نہ نصاری یہاں تک کہ تم پیروی اختیار کرلو ان کے دین کی
کہہ دو بیشک اللہ کی ہدایت وہی اصل ہدایت ہے
اوراگر پیروی کی تم نے انکی خواہشوں کی کہ اس کے بعد آچکا ہو تمہارے پاس علم
تو نہ ہوگا تمہارا اللہ سے بچانے والا کوٸ دوست اور نہ مددگا (١٢٠)

وہ لوگ دی ہم نے جن کو کتاب پڑھتے ہے اسکو جیسا حق ہے اسکو پڑھنے کا
یہی لوگ ایمان رکھتے ہے اس پر
اور جو کفر کرے اسکا تو وہ ہی خسارہ پانے والا ہے (١٢١)

The Holy Quran
Surat al-Baqarah verses 117 to 121

He is the Creator of the heavens and the earth and when He decides something
So he just says that if it happens, then it happens (117).

And they said not those who have knowledge
Why doesn't Allah speak to us or why doesn't a sign come to us?
Similarly, those who were before him said the same thing - their hearts are similar
Indeed, We have made clear the signs for those who believe (118).

Indeed, We have sent you a bearer of glad tidings with the truth, and you will not be asked about the people of Hell (119).

And you Jews and Christians will never be satisfied until you follow their religion
Say, surely Allah's guidance is the original guidance
And if you followed their wishes, knowledge would have come to you after that
Then you will not have any friend from Allah to save you, nor will you help (120).

We have given those people who read the Book the right to read it as they have
These are the people who believe in it
And whoever disbelieves, he is the one who will lose. (121)

12/12/2022

قرآن کریم
سورت البقرہ آیات ١١٤ سے ١١٦

اور کون ہے پڑھ کر ظالم اس سے جو منع کرے اللہ کی سجدوں میں کہ درکیا جاۓان میں ای انکے نام کا اور کوشش کرے انکی ویرانی کے کیلیے
یہ لوگ کہ نہیں تھا کچھ حق انکو کہ داخل ہوں مسجدوں میں مگر ڈرتے ہوے ان کے لیے دنیا میں رسواٸ ہے اور انکے لیے آخرت میں عذاب عظیم ہے (١١٤)

اور اللہ ہی کے لیے مشرق اور مغرب تو جس طرف بھی تم منہ کرو سو اسی طرف ہے رخ اللہ کا
بیشک اللہ صاحب وسعت ہے سب جاننے والا یے (١١٥)

اور کہا انہوں رکھتا ہے اللہ اولاد پاک ہے وہ
بلکہ اسی کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں سب اسی کا ہے (١١٦)

The Holy Quran
Surat al-Baqarah verses 114 to 116

And who is the wrongdoer who forbids him in the prostrations of Allah, that His name should be recognized in them, and strives to destroy them?
These people said that they had no right to enter the mosques, but they were afraid; for them is disgrace in this world, and for them is a great punishment in the Hereafter (114).

And for Allah alone is the east and the west, so wherever you turn, that is the direction of Allah
Indeed, Allah is Vast, All-Knowing (115).

And they said, Allah keeps children, pure is He
Rather, to Him belongs whatever is in the heavens and whatever is in the earth (116).

Photos from Discused History of  Islam's post 21/11/2022

قرآن کریم
سورت البقرہ آیات ١٠٦ سے ١١٣

نہیں منسوخ کرتے ہم کوٸ آیت یا بھلا دیتے ہیں اسے تو لے آتے اس بہتر یا ایسی ہی کیا نہیں تم جانتے اللہ ہر چیز پر قادر ہے (١٠٦)

کیا نہیں جانتے کہ اللہ کی ہی ہے بادشاہت زمین اور آسمان کی۔
اور نہیں ہے تمہارا اللہ کے سے کوٸ اور نہ ہی دوست مدد گار (١٠٧)

کیا چاہتے ہو تم کہ سوال کرو اپنے رسول سے اسی طرح جیسے سوال کۓ گۓ تھے موسی سے اس سے پہلے اور جس نے اختیار کیا کفر ایمان کے بدلے میں یقینا وہ بھٹک گیا سیدھے راستے سے (١٠٨)

چاہتے ہے بہیت سے لوگ اہل کتاب میں سے کہ کاش واپس پھیر دیں وہ تمکو ایمان لابے کے بعد کفر میں
حسد کی بنا پر جو انکے دلوں میں ہے بعد اسکے جب کہ واضح ہو چکا ہے ان پر حق تو معاف کردو تم اور درگزر کرو
یہاں تک کہ بھجواۓ اللہ اپنا حکم
بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے (١٠٩)

اور قاٸم کرو نماز اور دیتے رہو زکوتہ اور و کچھ آگے بھیجو گے اپنی جان کو کوٸ بھلاٸ تس پالو گے تم اسے اللہ کے پاس
بیشک اللہ اس کو جو تم کرتے ہو دیکھ رہا ہے (١١٠)

اور کہیتے ہے ہرگز داخل نہیں ہوگا کوٸ جنت میں مگر وہ جو ہوگا یہودی یا نصرانی یہ ہے انکی تمناٸیں
کہہ دو کہ پیش کرو اپنی کوٸ دلیل اگر تم ہو سچے (١١١)

کیوں نہیں وہ جس نے جھکا دیا اپنا چہرہ اللہ کہ حضور اور وہ ہو نیکو کار تواس کے لیے اسکا اجر اس کے رب کے پاس ہے اور نیں خوف ایے لوگوں کو نہ وہ غمناک ہو (١١٢)

اور کہا یہودو نے نہیں ہیں نصاری کسی چیز پر حالانکہ وہ پڑھتے ہے کتاب اسی طرح کی
ان لوگوں نے نہیں جو علم رکھتے انہی کی جیسی بات
پس اللہ فیصلہ کردے گا قیامت کے دن انکے درمیان ان باتوں پر جن میں کررہے تھے اختلاف (١١٣)

The Holy Quran
Surat al-Baqarah verses 106 to 113

We do not abrogate any verse or forget it, but bring it to us; it is better or something like that. You know that Allah is Able to do all things (106).

Don't you know that to Allah belongs the kingdom of the earth and the sky?
And you have no helper besides Allah, nor a friend (107).

Do you want to question your Messenger as Moses was asked before him, and whoever takes disbelief instead of faith has surely gone astray from the straight path (108)

People of the People of the Book wish that they would turn you back to disbelief after believing
Because of the jealousy that is in their hearts after the truth has become clear to them, forgive them and have mercy on them.
Until Allah sends His order
Verily, Allah is Able to do all things (109).

And establish prayer and give zakat and send something further.
Indeed, Allah is watching what you do (110).

And they say that no one will enter heaven except those who will be Jews or Christians, this is their wish.
Say: Present your argument if you are truthful (111).

Why not he who bows down his face to Allah, and may he be a doer of good, for him his reward is with his Lord, and there shall be no fear, O people, nor shall he grieve (112).

And said the Jews are not Christians on anything, although they read the same book
Not by those who have knowledge
So Allah will judge between them on the Day of Resurrection concerning the matters in which they differed (113).

15/11/2022

قرآن کریم
سورت البقرہ آیات ١٠٢ سے ١٠٥

اور پیروی کی انہوں نے اس کی جو پڑھا کرتے تھے شیاطین سلطنت میں سلیمان کی
حالانکہ نہیں کفر کیا سلیمان نے بلکہ شیاطین ہی کفر کرتے تھے
سکھاتے تھے لوگوں کو جادو اور وہ جو نازل کیا گیا تھا وہ فرشتوں پر
بابل میں ہاروت و ماروت پر۔ اور نہیں سکھاتے تھے وہ دونوں کسی کو جب تک نہ کہہ دیتے تھے در حقیقت ہے ہم آزماٸش تو نہ تم کفر کرنا
تو وہ سیکھا کرتے تھے ان دونوں سے وہ جداٸٸ ڈالدیں
جسکے ذریعہ سے درمیان میں مرد اور اسکی بیوی کے
اور نہیں پہنچا سکتے تھے وہ کوٸٸ نقصان اس سے کسی کو مگر ازن سے اللہ کے
اور وہ سیکھتے تھے وہ کچھ جو نقصان ہی پہنچاۓ انکو اور نہ کوٸٸ فاٸدہ دے انہیں
اور بیشک وہ جانتے تھے جو خریدار ہوگا ایسی چیز کا تو نہیں اسکا آخرت میں کچھ حصہ اور یقینا بہت برا ہے وہ بیچ ڈالا انہوں نے جس عوض انہوں نے اپنی جانوں کو کاش کہ وہ جانتے (١٠٢)

اور اگر وہ ایمان لاتے اور تقوی اختیار کرتے تو جو صلہ ملتا اللہ کی پاس سے بہت بہتر ہوتا
کاش کہ وہ جانتے (١٠٣)

اے لوگوں جو ایمان لاۓ نہ کہا کرو راعنا اور نہ کہا کرو انظرنا
اور خوب سن رکھو اور کافروں کے لیے عزاب ہے دکھ دینے والا (١٠٤)

نہیں پسند کرتے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے اور نہ ہی مشرکین کہ نازل کی جاۓ تم پر کوٸ خیر تمہارے رب کیطرف سے
اور اللہ خاص کرلیتا ہے اپنی رحمت کے ساتھ جس کوچاہتا ہے اور اللہ مالک ہے فضل عظیم کا (١٠٥)

The Holy Quran
Surat al-Baqarah verses 102 to 105

And they followed what the devils used to teach in Solomon's kingdom
Although it was not Solomon who disbelieved, it was the devils who disbelieved
He used to teach people magic and what was revealed to the angels
On Harut and Marut in Babylon. And they didn't teach unless they told anyone, "In fact, we are testing, so neither are you disbelieving."
So they used to learn to separate from both of them
Through which between the man and his wife
And they could not harm anyone except by the permission of Allah
And they used to learn that which would harm them and not benefit them
And surely they knew that the buyer of such a thing would not have a share in the Hereafter, and indeed it is a very bad thing.

And if they had believed and adopted piety, the reward would have been much better from Allah
I wish they knew (103)

O people who believe, do not say do Raana and do not say look
And listen well, and for the disbelievers is a painful punishment (104).

Those who disbelieved among the People of the Book, nor the polytheists, do not like that any good should be sent down to you from your Lord.
And Allah bestows with His Mercy whom He wills, and Allah is the Owner of Great Bounty (105).

Want your business to be the top-listed Government Service in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Lahore