Jutt Gee.

Jutt Gee.

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Jutt Gee., Political organisation, Lahore.

28/11/2024

کون کہاں کھڑا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اصل تاریخ جو ہماری نسل سے چھپا لی گئی
پاکستان میں پہلی دھاندلی 1965 کے صدارتی الیکشن میں فوج ،بیوروکریٹس، پیروں اور وڈیروں کےگٹھ جوڑ سے ہوئی جس کے بعد حق سچ کا ساتھ دینے والے کتنے ہی لوگ جنہوں نے پاکستان کیلئےسب کچھ قربان کردیا تھا غدار کہلائے۔اور کیسے کیسے لوگ معتبر بن بیٹھے ۔

1965کےصدارتی الیکشن میں پہلی دھاندلی خود فیلڈ مارشل ایوب خان نےکی جو پہلے الیکشن۔بالغ رائےدہی کی بنیاد پر کروانےکا اعلان کر کے مُکر گئے

ایوب خان کےمنہ بولے بیٹے ذوالفقار بھٹو نے مس جناح کو بڑھیا اور ضدی کے القابات سے نوازا۔
لیکن دوسری طرف جماعت اسلامی کے مولاناابوالاعلی مودودی، سندھ سےجی ایم سید اور صوبہ سرحد سےخان عبدالغفار خان نے جبکہ مشرقی پاکستان سے شیخ مجیب نےکھل کر اور دبنگ انداز میں فاطمہ جناح کی حمایت کی۔
جس کا غسہ ایوب نے یوں نکالا!
جماعت اسلامی کے مولانا مودودی کو پھانسی کی سزا سنا دی گئی، جی ایم سید ملک کے غدار ٹہرے، خان عبد الغفار خان کو پٹھانوں کا دشمن اور شیخ مجیب الرحمٰن کو ملک توڑنے کا الزام لگا کر بنگلادیش بنوا دیا گیا!

یہ سارا منصوبہ ایوب خان کی انتظامی مشینری نے ترتیب دیا تھا اور الیکشن تین طریقوں سےلڑنےکا فیصلہ کیا

پہلا مذھبی سطح پر
جس کےانچارج پیر آف دیول شریف تھے جنہوں نےمس جناح کےخلاف فتوے نکلوائے

*دوسرا انتظامی سطح پر
ایک حاضر سروس طاقتور صدر کے حق میں پوری سرکاری مشینری استعمال کی گئی۔ جسکا نتیجہ یہ ہےکہ آج بھی الیکشن سرکاری ملازمین کےدباؤ سےجیتےجاتے ہیں

*تیسری سطح پر*
مس جناح کےحامیوں پر جھوٹے مقدمات درج کئےگئے ۔عدالتوں سے ‏انکے خلاف فیصلے لئے گئے
اور یہی عدلیہ کےتابوت میں پہلی اور آخری کیل ثابت ہوئی جو آج تک ٹھکی ھوئی ہے

سندھ کےتمام جاگیردار گھرانے ایوب خان کےساتھ ہو گئے تھے۔
بھٹو فیملی ،جتوئی فیملی ،محمدخان جونیجو فیملی ،ٹھٹھہ کے شیرازی ،خان گڑھ کےمہر
نواب شاہ کےسادات ،بھرچونڈی۔۔رانی پور
‏ہالا👈کے اکثر پیران کرام، ایوب خان کے ساتھ تھے

سوائے کراچی میں گہری جڑیں رکھنےوالی جماعت اسلامی ،اندرون سندھ کےجی ایم سید_ حیدرآباد کےتالپور برادران ،بدین کے فاضل راہو اور رسول بخش پلیجو
مس جناح کےحامی تھے ۔تاریخ کا جبر دیکھیں یہی لوگ بعد میں پاکستان کےغدار بھی ٹہراےُ گئے، اور آج بھی جماعت اسلامی اسکی سزا کسی نہ کسی پروپیگنڈا کی شکل میں بھگت رہی ہے۔

پنجاب کےتمام گدّی نشین اور صاحبزادگان و سجادہ نشین سوائےپیر مکھڈ۔صفی الدین

پیر آف دیول نےداتادربار پر مراقبہ کیا اور فرمایا کہ داتا صاحب نےحکم دیا ہےایوب خان کو کامیاب کیاجائے ‏ورنہ خدا پاکستان سےخفا ہوجائے گا۔
آلو مہارشریف کےصاحبزادہ فیض الحسن نےعورت کےحاکم ہونے کےخلاف فتوی جاری کیا
معراج الدین نے فاطمہ جناح پر اخلاقی بددیانتی کا الزام لگایا موصوف موجودہ بیمار
‏وزیر صحت یاسمین راشد کےسسر تھے۔

گجرانوالہ کےغلام دستگیر نے مس جناح کی تصویریں کتیا کےگلے میں ڈال کر پورے گجرانوالہ میں جلوس نکالے
میانوالی کی ضلع کونسل نےفاطمہ جناح کےخلاف قرار داد منظور کی۔

دوسری طرف جماعت اسلامی
کےامیر مولانا سید ابوالاعلی مودودی کا ایک جملہ زبان زد عام ہوگیا
ایوب خان میں ‏اسکے سوا کوئی خوبی نہیں کہ وہ مرد ہیں اورفاطمہ جناح میں اسکے سوا کوئی کمی نہیں کہ وہ عورت ہیں۔

بلوچستان میں مری سرداروں اور جعفر جمالی ظفر اللہ جمالی کے والد صاحب کوچھوڑ کر سب فاطمہ جناح کےخلاف تھے
قاضی محمد عیسی جسٹس فائز عیسی کےوالد مسلم لیگ کا بڑا نام ‏بھی فاطمہ جناح کےمخالف اور ایوب خان کےحامی تھے
انہوں نےکوئٹہ میں ایوب خان کی مہم چلائی
حسن محمود نےپنجاب اور سندھ کے۔روحانی خانوادوں کو ایوب کی حمایت پرراضی کیا۔

شیخ مسعود صادق نےایوب خان کے لئےوکلاء
‏کی حمایت کا سلسلہ شروع کیا کئی لوگوں نےانکی حمایت کی ،پنڈی سے راجہ ظفرالحق بھی ان میں شامل تھے
اسکے علاوہ میاں اشرف گلزار بھی فاطمہ جناح کےمخالفین میں شامل تھے
صدارتی الیکشن۔1965 کے دوران گورنر امیر محمد خان صرف چند لوگوں سے پریشان تھے
ان میں سرفہرست سید ابوالاعلی مودودی،
‏شوکت حیات ،خواجہ صفدر والد خواجہ آصف
چودھری احسن والد اعتزازاحسن، خواجہ رفیق والد سعدرفیق، کرنل عابد امام والد عابدہ حسین اور علی احمد تالپور شامل تھے یہ لوگ آخری وقت تک فاطمہ جناح کےساتھ رہے
صدارتی الکشن کےدوران فاصمہ جناح پر پاکسان توڑنےکا الزام بھی لگا
یہ الزام ZA-سلہری نے ‏اپنی ایک رپورٹ میں لگایا جسمیں مس جناح کی بھارتی سفیر سےملاقات کا حوالہ ديا گیا تھا
یہ بیان کہ قائداعظم تقسیم کےخلاف تھے یہ وہی تقسیم تھی جسکا پھل کھانےکیلئےآج سب اکٹھےہوئے تھے
یہ اخبار ہرجلسےمیں لہرایا گیا ۔ایوب اسکو لہرا لہرا کر مس جناح کوغدار کہتے رہے

پاکستان کا مطلب کیا
‏لاالہ الااللّہ
جیسی نظم لکھنے والے اصغرسودائی ایوب خان کے قصیدے اور ترانے لکھتے تھے

اوکاڑہ کےایک شاعر ظفراقبال نےچاپلوسی کےریکارڈ توڑ ڈالے یہ وہی ظفراقبال ہیں جو بعد میں اپنےکالموں میں سیاسی راہنماؤں کا مذاق اڑاتے رہے۔
میانوالی جلسے کے دوران جب گورنر امیرخان کےغنڈوں نےفائرنگ کی توفاطمہ جناح ڈٹ کر کھڑی ہوگئیں
اسی حملےکی یادگار
*بچوں پہ چلی گولی۔*
*ماں دیکھ کے یہ بولی* نظم ہے
فیض صاحب خاموش حمائتی تھے

‏چاغی۔لورالائی،سبی ،ژوب، مالاکنڈ،باجوڑ، دیر،سوات، سیدو، خیرپور، نوشکی،دالبندین، ڈیرہ بگٹی، ہرنائی، مستونگ، چمن، سبزباغ، سے فاطمہ جناح کو کوئی ووٹ نہیں ملا۔

سارا اردو اسپیکنگ طبقہ جو جماعت اسلامی کی طاقت تھا فاطمہ جناح کی حمایت کرتا رہا تھا
انکو کراچی سے 1046 ایوب خان کو837 ووٹ ملے
‏مشرقی پاکستان مس جناح کےساتھ تھا
فاطمہ جناح کو ڈھاکہ سے353 اور ایوب خان کو 199ووٹ ملے
جسکی سزا اسٹیبلشمنٹ نےیہ دی کہ انہیں دو نمبر شہری اور پاکستان سےالگ ہونےپر مجبور کردیاگیا
ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ایوب خان اور مس فاطمہ کے ووٹ برابر تھے
مس جناح کےایجنٹ ایم حمزہ تھے اور اے-سی جاویدقریشی جو بعد میں چیف سیکرٹری بنے
‏مس جناح کوکم ووٹوں سےشکست اکیلی عورت
فوج ،بیوروکریٹ، پیروں، وڈیروں، جاگیر داروں سےمقابلہ کر رہی تھی
جہلم سے ایوب کے82 اور مس جناح کے67 ووٹ تھے
اس الیکشن میں جہلم کےچودھری الطاف فاطمہ جناح کےحمائتی تھے مگر نواب کالاباغ کے دھمکانےکے بعد پیچھے ہٹ گئے یہاں تک کہ جہلم کےنتیجے پر دستخط کیلئے
‏مس جناح کےپولنگ ایجنٹ گجرات سے آئے
اسطرح کی دھونس اور دھاندلی عام رہی

اس الیکشن میں مس فاطمہ جناح نہیں ہاری بلکہ جمہوریت ہار گئی_ پاکستان ہار گیا۔۔۔۔جو محبِ وطن اور جان نثار تھے غدّار ٹہرے اور اسمبلیوں اور ایوانوں سے ان کا خاتمہ ہو گیا۔ ابن الوقت اور چاپلوسی کرنے والے معتبر ٹہرے اور آج بھی اسمبلیوں میں انہی ‏کی اولادیں موجود ہیں
اس کے بعد پاکستان کی عوام نےکوئی نیا لیڈر پیدا نہیں کیا۔ ضرورت اس بات کی ہے کیا ہم اپنی سوچ بدلنا چاہتے ہیں؟

*حوالےکیلئے دیکھئے

ڈکٹیٹرکون۔۔ایس-ایم-ظفر
میرا سیاسی سفر۔۔حسن محمود
فاطمہ جناح۔۔ابراھیم جلیس
مادرملت۔۔ظفرانصاری۔
فاطمہ جناح۔۔حیات وخدمات۔۔وکیل انجم
اور کئی پرانی اخبارات
👈پڑھیں اور جانےآپنا ماضی

ریاض خالق کی وال سے

08/11/2024
08/11/2024

لیہ آر ٹی سیکرٹری کے نام پر اختیارات کا ناجائز استعمال ۔ فرخ بھٹی کی جانب سے بھتہ خوری عروج پر ۔ ناجائز جرمانے ۔ بلاوجہ گاڑیاں بند کرنے دھمکیاں دے کر بھاری بھتہ وصول کیا جا رہا ہے ۔ ڈرائیورز کا بے لگام آر ٹی سیکرٹری کے نمائندے کے خلاف احتجاج کا عندیہ
اعلیٰ احکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ بھی کر دیا

04/07/2024

فتح پور چک نمبر 251 میں ڈپٹی کمشنر لیہ کی طرف سے لگائی گئی کھلی کچہری ایک ماہ گزر جانے کے بعد کسی بھی شہری کی درخواست پر عمل درامد نہ ہو سکا

18/12/2023
Want your business to be the top-listed Government Service in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Lahore