27/09/2025
یہ وہ لڑکا ہے جس نے ڈیڑھ ملین افریقیوں کی پیاس بجھا دی۔ اس کا نام ریان ہے، اور وہ مئی 1991 میں کینیڈا میں پیدا ہوا تھا۔
جب وہ بچہ تھا، صرف چھ سال کا تھا، اس کے استاد نے کلاس کو بتایا کہ بچے افریقہ میں کیسے رہتے ہیں۔ وہ اس حقیقت سے دل کی گہرائیوں سے متاثر ہوا کہ کچھ تو پیاس سے بھی مر جاتے ہیں جب کہ وہ صرف نل پر جا کر صاف پانی پی سکتے تھے، ریان نے استاد سے پوچھا کہ افریقہ تک پانی لانے میں کتنا خرچ آئے گا۔ اس نے "واٹر کین" نامی ایک تنظیم کا ذکر کیا جو تقریباً 70 ڈالر میں کنویں بنا دیتی ہے۔
جب وہ گھر پہنچا، تو وہ سیدھا اپنی ماں سوسن کے پاس گیا اور اسے بتایا کہ اسے افریقی بچوں کے لیے کنواں خریدنے کے لیے 70 ڈالر کی ضرورت ہے۔ اس کی ماں نے اسے بتایا کہ اسے یہ رقم سخت محنت سے کمانی ہوگی اور اسے کام بتایا جس کی وجہ سے ریان ہر ہفتے چند ڈالر کما سکتا تھا۔
بالآخر، اس نے 70 ڈالر کی بچت کی اور واٹر کین گیا، جہاں انہوں نے اسے بتایا کہ کنویں کی کھدائی کی اصل قیمت 2,000 ڈالر ہے۔ اس کی ماں نے واضح کیا کہ وہ اسے وہ ساری رقم نہیں دے سکتی، لیکن ریان نے ہمت نہیں ہاری- اس نے وعدہ کیا کہ وہ پورے 2,000 ڈالر کے ساتھ واپس آئے گا۔
وہ پیسہ اکٹھا کرنے کے لیے محلے کے ارد گرد کام کرتا رہا، اپنے بھائیوں، پڑوسیوں، اور دوستوں کو اس میں شامل ہونے اور مدد کرنے کی ترغیب دیتا رہا جب تک کہ وہ ضروری فنڈ اکٹھا نہ کر لیں۔ جنوری 1999 میں شمالی یوگنڈا کے ایک گاؤں میں کنویں کی کھدائی کی گئی۔
کنواں تیار ہونے کے بعد، ریان کے اسکول نے مدد کرنا شروع کردی، اور انہوں نے کنویں کے قریب اسکول سے رابطہ قائم کیا۔ اس طرح ریان کی ملاقات اکانا سے ہوئی، ایک لڑکا جو ہر روز اسکول جانے کے لیے لڑتا تھا۔ ریان اتنا متاثر ہوا کہ اس نے اپنے والدین سے کہا کہ وہ اسے اکانا سے ملنے لے جائیں۔ 2000 میں، وہ گاؤں پہنچے، جہاں سینکڑوں لوگوں نے ان کا استقبال کیا، ایک راہداری بنا کر ان کے نام کا نعرہ لگایا۔
’’وہ میرا نام بھی جانتے ہیں؟‘‘ ریان نے حیرت سے گائیڈ سے پوچھا۔
"100 کلومیٹر کے اندر ہر کوئی جانتا ہے،" گائیڈ نے جواب دیا۔
آج، ریان کی عمر 33 سال ہے، وہ اپنی فاؤنڈیشن چلاتا ہے، اور افریقہ میں 400 سے زیادہ کنویں بنا کر دے چکا ہے ۔ وہ وہاں تعلیم عام کرنے اور مقامی لوگوں کو کنوؤں کی دیکھ بھال اور پانی کا انتظام کرنے کا طریقہ سکھانے کا بھی ذمہ دار ہے۔
جب کہ ہم بہت سی بے معنی چیزوں سے گزرتے ہیں، لیکن ایک سچے ہیرو کو خراج تحسین پیش کرنے سے بڑھ کر کوئی چیز درست نہیں۔
ہمارے ملک میں ایسے کھرب پتی ہیں جو تھر اور چولستان میں لوگوں کی بہت مدد کر سکتے ہیں لیکن وہ صرف پیسے ہتھیانے والے ہیں انہیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ وہ اپنی ساری دولت کبھی خرچ بھی کر سکیں گے یا نہیں۔
24/09/2025
جیسا باپ ویسا بیٹا
امیرالمومنین حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ ابھی اپنے بستر پر پہلو کے بل لیٹے ہی تھے کہ ان کا سترہ سالہ بیٹا عبدالملک کمرے میں داخل ہوا ۔ اس نے کہا : امیرالمومنین آپ کیا کرنا چاہتے ہیں ؟
فرمایا : بیٹا میں تھوڑی دیر سونا چاہتا ہوں ، اس لیے کہ اب میرے جسم میں طاقت نہیں ہے ، میں بہت تھک چکا ہوں ۔ بیٹے نے کہا :
امیرالمومنین ! کیا آپ مظلوم لوگوں کی فریاد سنے بغیر ہی سونا چاہتے ہیں ؟ ان کا وہ مال جو ظلم سے چھینا گیا ہے ، انھیں واپس کون دلائے گا؟ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے فرمایا : بیٹا ! چونکہ میں تمھارے چچا خلیفہ سلیمان کی وفات کی وجہ سے گزشتہ ساری رات جاگتا رہا ، تھکاوٹ کی وجہ سے میرے جسم میں طاقت نہیں ۔ تھوڑا آرام کرنے کے بعد ظہر کی نماز لوگوں کے ساتھ پڑھوں گا اور پھر یقیناً مظلوموں کی فریاد رسی ہوگی اور ہر ایک کو اس کا حق دیا جائے گا ؟ کوئی محروم نہیں رہے گا ۔
امیرالمومنین ! اس کی کون ضمانت دیتا ہے کہ آپ ظہر تک زندہ رہیں گے ۔ بیٹے کی یہ بات سن کر حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ تڑپ اٹھے ، آنکھوں سے نیند جاتی رہی ، تھکے ہوئے جسم میں دوبارہ طاقت لوٹ آئی اور ایک دم بیٹھ گئے اور فرمایا : بیٹا ! ذرا میرے قریب آؤ ۔
بیٹا قریب ہوا ، تو اسے گلے لگاکر پیشانی کو بوسہ دیا اور فرمایا : اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے ایسا نیک فرزند عطا کیا ، جو دینی معاملے میں میری مدد کرتا ہے۔
پھر آپ اٹھے اور حکم دیا کہ یہ اعلان کر دیا جائے کہ جس پر کوئی ظلم ہوا ، ہے وہ اپنا مقدمہ خلیفہ کے سامنے اسی وقت آکر پیش کرے ۔ چنانچہ مقدمات آئے اور آپ نے انصاف کے مطابق فیصلہ کیا ،
دیکھیے عبدالملک نے کس طرح اپنے والد کو ایک اچھے کام پر ابھارا ، جس طرح امیرالمومنین حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ انصاف پسند ، غریبوں اور محتاجوں کی مدد کرنے والے اور اللہ سے ڈر کر زندگی گزارنے والے تھے ، اسی طرح ان کے بیٹے عبدالملک بھی اپنے والد صاحب جیسی اچھی اچھی بےشمار خوبیاں تھیں ۔
دوستوں ! گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں ، اس لیے اچھے کاموں میں کبھی دیر مت کرو اور ہمیشہ مظلوموں اور غریبوں کی مدد کرو ، اللہ تعالی اس سے خوش ہوں گے اور دنیا و آخرت میں بہترین بدلہ عطا کریں گے ۔
✭ نوٹ :- عمدہ قسم کے سبق آموز واقعات وحکایات کیلئے آج ہی ہمارا چینل لائک شیئر اور فالو کر لیں شُکریہ
جزاک اللہ خیرا کثیرا
21/09/2025
محبت اور قربانی کی عظیم مثال
— راکھی دتہ کی کہانی
صرف 19 سال کی عمر میں، راکھی دتہ نے ایک ایسا فیصلہ کیا جو اکثر بڑے لوگ سوچ کر بھی خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔
راکھی، جو بھارت کے شہر کولکتہ سے تعلق رکھتی ہیں، ایک کٹھن اور دل توڑ دینے والی حقیقت سے دوچار ہوئیں: ان کے والد، سودیپ دتہ، شدید جگر کی بیماری میں مبتلا تھے اور ڈاکٹروں نے خبردار کیا کہ اگر فوری ٹرانسپلانٹ نہ ہوا تو ان کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ جب راکھی کو معلوم ہوا کہ ان کا جگر والد کے لیے موزوں ہے، تو انہوں نے ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر خود کو بطور ڈونر پیش کر دیا۔
یہ آپریشن ایک عظیم اور جان جوکھم کا کام تھا۔ پندرہ گھنٹے سے زائد وقت تک ماہر سرجنز نے نہایت احتیاط سے راکھی کے جگر کا 65 فیصد حصہ نکال کر ان کے والد کے جسم میں ٹرانسپلانٹ کیا۔ ہر لمحہ خطرے سے بھرپور تھا، مگر قسمت اور حوصلے نے ساتھ دیا اور یہ آپریشن کامیاب رہا۔ والد اور بیٹی دونوں زندہ بچ گئے اور ٹرانسپلانٹ میں کوئی پیچیدگی پیدا نہ ہوئی۔
راکھی کا سفر آپریشن تھیٹر پر ختم نہیں ہوا۔ ان کی بحالی کا مرحلہ، جسمانی ہو یا جذباتی، انتہائی حوصلے، صبر اور ہمت کا متقاضی تھا۔ مگر راکھی نے ہر چیلنج کا مقابلہ پختہ عزم کے ساتھ کیا۔
آج راکھی کی قربانی صرف ایک زندگی بچانے کی کہانی نہیں بلکہ محبت اور خاندان کی اہمیت، بیٹیوں کی قدر اور رضا کارانہ عطیہ دینے کی شاندار مثال ہے۔ ان کی بہادری نے امید اور وفاداری کی ایک نئی داستان رقم کی ہے جو آنے والی نسلوں کو متاثر کرتی رہے گی۔
03/07/2025
گوجرانوالہ، بجلی بل کی عدم ادائیگی پر باپ گرفتار ہونے پر بیٹے نے خودکشی کر لی ، نواحی علاقہ ونیہ والا میں 3 ماہ کے 38 سو روپے بجلی بل کی عدم ادائیگی کے باعث محنت کش کا بجلی میٹر کٹ گیا
ہمسائیوں سے بجلی لینے پر گیپکو نے انور پر بجلی چوری کا مقدمہ درج کر کے جیل بھیج دیا پھر 700 یونٹ ڈال کر بجلی کا بل 40 ہزار تک پہنچ گیا
اڑھائی ماہ تک گھر کی بجلی نہ ہونے اور والد کی گرفتاری سے بیٹے فراز نے دلبرداشہ ہو کر خودکشی کر لی , میرا بیٹا فراز گیپکو GEPCO آفس کے چکر لگا تا رہا جس سے دلبرداشہ ہو اس نے خود کشی کر لی، مجھے انصاف چاہئے۔ والدہ ۔۔۔۔۔۔۔
03/07/2025
� ایک باپ کی دل سے نکلی فریاد – آیئے ایک ننھی جان کی زندگی بچائیں! 🌟
عمر حیات، ضلع بھکر کا ایک غریب مزدور، روزانہ کی دیہاڑی لگا کر اپنے بچوں کا پیٹ پالتا ہے۔ آج وہ زندگی کے سب سے کٹھن مرحلے سے گزر رہا ہے — اس کا معصوم بیٹا ایک خطرناک دل کی بیماری Severe Pulmonary Stenosis کا شکار ہے۔
⚠️ ڈاکٹرز کے مطابق، اگر فوری علاج نہ کیا گیا تو بچے کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
بدقسمتی سے عمر حیات کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ علاج کا خرچ برداشت کر سکے۔ اس نے آپ کی مدد کی امید باندھ رکھی ہے۔
🤲 آئیے! ہم سب مل کر اس معصوم بچے کو زندگی کا تحفہ دیں۔
آپ کی صدقہ، زکوٰۃ یا عطیہ کی صورت میں دی گئی معمولی سی مدد بھی اس بچے کی سانسوں کو جینے کا حق دے سکتی ہے۔
یہ وقت ہے انسانیت کا ہاتھ تھامنے کا۔
📞 رابطہ نمبر:
0308-4355512
💸 عطیہ کا ذریعہ: JazzCash – 0308-4355512
30/06/2025
یہ ہے جان ڈی راک فیلر یہ کبھی دنیا کے امیر ترین آدمی تھے۔ دنیا کا پہلا ارب پتی۔ 25 سال کی عمر میں، اس نے امریکہ کی سب سے بڑی آئل ریفائنریوں میں سے ایک کو کنٹرول کیا۔ 31 سال کی عمر میں، وہ دنیا کا سب سے بڑا تیل صاف کرنے والا بن گیا تھا۔ 38 سال کی عمر میں، اس نے امریکہ میں 90 فیصد تیل کو صاف کیا۔
50 تک، وہ ملک کا سب سے امیر آدمی تھا۔ ایک نوجوان کے طور پر، ہر فیصلہ، رویہ، اور رشتہ اس کی ذاتی طاقت اور دولت پیدا کرنے کے لئے تیار کیا گیا تھا.
لیکن 53 سال کی عمر میں وہ بیمار ہو گئے۔ اس کا پورا جسم درد سے لرز گیا اور اس کے سارے بال جھڑ گئے۔ مکمل اذیت میں، دنیا کا واحد ارب پتی اپنی مرضی کے مطابق کچھ بھی خرید سکتا تھا، لیکن وہ صرف سوپ اور کریکر ہضم کر سکتا تھا۔ ایک ساتھی نے لکھا، وہ سو نہیں سکتا تھا، مسکرا نہیں سکتا تھا اور زندگی میں کوئی بھی چیز اس کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی تھی۔ اس کے ذاتی، انتہائی ماہر ڈاکٹروں نے پیش گوئی کی تھی کہ وہ ایک سال کے اندر مر جائے گا۔ وہ سال اذیت سے آہستہ آہستہ گزر گیا۔
جب وہ موت کے قریب پہنچا تو وہ ایک صبح اس مبہم احساس کے ساتھ بیدار ہوا کہ وہ اپنی دولت میں سے کچھ بھی اپنے ساتھ اگلے جہان میں لے جانے کے قابل نہیں ہے۔ وہ آدمی جو کاروباری دنیا کو کنٹرول کر سکتا تھا، اچانک احساس ہوا کہ وہ اپنی زندگی کے کنٹرول میں نہیں ہے۔ اس کے پاس ایک انتخاب رہ گیا تھا۔
اس نے اپنے اٹارنی، اکاؤنٹنٹ، اور مینیجرز کو بلایا اور اعلان کیا کہ وہ اپنے اثاثوں کو ہسپتالوں، تحقیق اور خیراتی کاموں میں منتقل کرنا چاہتے ہیں۔
جان ڈی راک فیلر نے اپنی فاؤنڈیشن قائم کی۔ یہ نئی سمت بالآخر پینسلین کی دریافت کا باعث بنی، ملیریا، تپ دق اور خناق کا علاج۔
لیکن شاید راک فیلر کی کہانی کا سب سے حیرت انگیز حصہ یہ ہے کہ جس لمحے اس نے اپنی کمائی ہوئی تمام چیزوں کا ایک حصہ واپس دینا شروع کیا، اس کےجسم کی کیمسٹری میں اس قدر نمایاں تبدیلی آتی چلی گئی کہ وہ بہتر سے بہتر ہوتا چلا گیا۔ ایک وقت تھا کہ ایسا لگتا تھا وہ 53 سال کی عمر میں ہی مر جائے گا۔ لیکن وہ 98 سال کی عمر تک زندہ رہا۔ مال خیرات کرنے سے وہ تندرست ہو گیا۔ گویا یہ خیرات نام کی چیز بھی ایک طریق علاج ہے۔ اسے بھی آزما کر دیکھ لیجئے .
اپنی موت سے پہلے، اس نے اپنی ڈائری میں لکھا،
*"سپریم انرجی نے مجھے سکھایا، کہ سب کچھ اس کا ہے، اور میں اس کی خواہشات کی تعمیل کرنے کے لیے صرف ایک چینل ہوں۔* _
میری زندگی ایک طویل، خوشگوار چھٹی رہی؛ کام اور کھیل سے بھرپور۔
میں نے پریشانی کو راستے میں چھوڑ دیا اب میں تھا اور میرا خدا تھا_
_میرے لیے ہر دن اچھا تھا۔"_
🥀تقریباً آج سے 1450 سال پہلے نبی کریم صل اللہ علیہ والہ وسلم نے امت کو بتایا تھا کہ اپنی بیماریوں کا علاج صدقہ سے کیا کرو
ہم سب کے لیے ایک اچھا پیغام!
#منقول