کیا ریاست نے عوام کو مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے؟
پاکستان میں اب مسئلہ یہ نہیں رہا کہ چوری چھپے ہو رہی ہے، مسئلہ یہ ہے کہ دن دیہاڑے، سرِ عام، پورے اعتماد کے ساتھ لوٹا جا رہا ہے—اور وہ بھی کسی گلی کے ڈاکو کے ہاتھوں نہیں بلکہ اُن اداروں کے ذریعے جنہیں سہولت، تحفظ اور اعتماد کی علامت ہونا چاہیے۔
آج جب ایک عام شہری سفر کے لیے Faisal Movers جیسے بڑے اور معروف بس سروس کے دفتر جاتا ہے تو اسے کیا ملتا ہے؟
کارڈ پیمنٹ سے انکار
صرف کیش وصولی
وہ بھی اصل ٹکٹ کے بجائے مبہم رسید یا غیر شفاف طریقے سے
یہ سب کچھ اس لیے کہ ٹیکس چوری کی جا سکے، ریاست کو دھوکہ دیا جائے، اور قانون کو جیب میں رکھا جائے۔
یہ سوال اب ناگزیر ہو چکا ہے:
کیا یہ بدانتظامی ہے یا باقاعدہ منظم فراڈ؟
سہولت کے نام پر زحمت، خدمت کے نام پر تذلیل
نہ مناسب اسٹاف،
نہ رہنمائی،
نہ اے ٹی ایم مشین،
نہ ڈیجیٹل ادائیگی کا انتظام،
نہ صارف کے لیے کوئی شکایت کا مؤثر نظام۔
لیکن کرایہ؟
وہ پورا، بروقت، اور کیش میں چاہیے—کیوں کہ یہی وہ طریقہ ہے جس سے حساب کتاب غائب ہو جاتا ہے۔
ریاست کہاں ہے؟
یہ سب کچھ خلا میں نہیں ہو رہا۔
یہ اس نظام کے سائے میں ہو رہا ہے جہاں:
ادارے ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں
نگرانی کا نظام مفلوج ہے
صارف کے حقوق محض کاغذی دعوے ہیں
جب ایک شہری قانون کے مطابق کارڈ سے ادائیگی کرنا چاہے اور اسے انکار ملے، تو یہ صرف ایک کاروباری بددیانتی نہیں بلکہ ریاستی ناکامی ہے۔
ریاست کی خاموشی دراصل اس جرم کی منظوری بن جاتی ہے۔
مافیا، کارٹلز اور فراڈیے — سرکاری چھتری تلے؟
آج عام آدمی کے ذہن میں یہ تلخ سوال جنم لے رہا ہے:
کیا ریاست نے عوام کو مافیا کارٹلز اور فراڈیوں کے ہاتھوں بیچ دیا ہے؟
کیونکہ اگر:
قانون موجود ہے مگر نافذ نہیں
ٹیکس قوانین ہیں مگر عمل نہیں
صارف حقوق ہیں مگر تحفظ نہیں
تو پھر ریاست صرف ایک نام رہ جاتی ہے، حقیقت نہیں۔
نتیجہ: خاموشی اب جرم ہے
یہ وقت ہے کہ:
ڈیجیٹل ادائیگی کو لازمی بنایا جائے
کیش پر مبنی ٹیکس چوری کے خلاف فوری کارروائی ہو
ٹرانسپورٹ کمپنیوں کا آڈٹ شفاف ہو
صارف کی آواز کو سنا جائے
ورنہ یہ لوٹ مار یونہی “کاروبار” کہلا کر چلتی رہے گی،
اور عام شہری ہر روز نئے طریقے سے قانونی لُٹ کا شکار بنتا رہے گا۔
یہ تحریر کسی ایک کمپنی یا واقعے پر نہیں،
بلکہ اس پورے نظام پر فردِ جرم ہے—
جس نے عوام کو سہولت کے بجائے صرف مایوسی دی ہے۔
پاکستان کے موجودہ حالات
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from پاکستان کے موجودہ حالات, Political organisation, The Mall, Lahore.
01/06/2025
https://youtu.be/QJeHNHhaxP4?si=GYt4aOiCpIaQh5zb
*🚨 ہوشیار با ش*پاکستان کے بڑے شہروں میں توہین مذہب کے مقدمات ۔ #pakistan #media #viralvideo #court
24/05/2025
https://youtu.be/It-zAj6rGjo?si=DgcsgjtL-gyBwRg4
Pakistani female lawyers exposing judge corruption #pakistan #media #viralvideo #india #court
03/04/2025
اج مورخہ 4/4-2025 کو مری میں موجود ہوں اور مرحبا ان ہوٹل کے سامنے جہاں پہ سنوکر لاونچ ایم سی بی بنک کے ساتھ ہے اس کے سامنے سے ایک منرل واٹر کی بوتل خریدی تو اس کی قیمت 250 روپیہ وصول کی گئی جبکہ سنی پلاسٹ 20 روپے کا اور چائے 150 روپے کی انڈا 100 روپے ہے استفسار پر یہ بتایا گیا کہ اے سی مری نے بھاری رقم دے کر مری میں تعیناتی حاصل کی ہے اور اس نے وہ پیسے پورے کرنے کے لیے کوئی ٹیکس لگایا ہوا ہے اور وہ وصولی کر رہا ہے جس کی وجہ سے بوتل ڈھائی سو کی ہے ..حیران ہوں کہ کیا اس طرح بھی ہوتا ہے ..اور کیا مریم نواز صاحبہ کی جو کہتی ہیں کہ مری کا حوالے سے ان کے خاص جذبات ہیں اور ان کے والد صاحب کو مری کے لوگوں سے پیار ہے وہاں پہ سیا حوں کو اس طرح لوٹا جاتا ہے اور یہ بھی حیران ہوں کہ کمشنر راولپنڈی ڈی سی راولپنڈی ڈی سی مری اےسی مری کیا ان کے نام پر مری کے تاجر سیاحوں کو اس طرح لوٹ رہے ہیں کہ اے سی مری نے تعیناتی بھی حاصل کی ہے اس لیے ہم250 روپے کی منرل واٹر کی بوتل بیچ رہے ہیں تاکہ ایےسی مری وہ تعیناتی میں ادا کی گئی رقم پوری کر سکے اور کیا یہ رقم مریم نواز تعیناتی کے بدلے رقم وصول کر رہی ہے اگر تو یہ بات غلط ہوئی تو ضرور اس پہ ایکشن ہوگا کیونکہ تصویر میں نے ساتھ لگا دی ہے اور اگر یہ بات صحیح ہوئی تو پھر پاکستان کا اللہ حافظ پھر اس حکومت سے بھی کوئی خیر کی توقع نہیں ہے پھر یہ بھی تعیناتیاں بیچی جا رہی ہیں اور سیاح اسی طرح لٹتے جا رہے ہیں اور عوام کا کوئی پرسان حال نہیں
10/02/2025
مساج پارلر میں میرے ساتھ تقریباً زیادتی ہو جاتی 😳
میرا نام زینب ہے، اور چھ مہینے پہلے میں تعلیم کے لیے اسلام آباد شفٹ ہوئی تھی 🇵🇰۔ میں ہاسٹل میں رہنے لگی کیونکہ میرے گھر والے زیادہ امیر نہیں تھے اور میں اپنا ذاتی فلیٹ افورڈ نہیں کر سکتی تھی۔ میرے والدین ہمیشہ چاہتے تھے کہ میں اچھی تعلیم حاصل کروں، اسی لیے مجھے گاؤں سے بڑے شہر بھیجا۔ میں ان کی بہت شکر گزار ہوں کیونکہ انہوں نے میرے لیے سالوں تک محنت کر کے پیسے جمع کیے 🙏۔
پڑھائی میرا زیادہ تر وقت لے لیتی تھی, لیکن مجھے جینے کے لیے ساتھ میں کام بھی کرنا پڑتا تھا 🥺۔ پارٹ ٹائم جاب ڈھونڈنا بہت مشکل تھا کیونکہ ایک اسٹوڈنٹ ہونے کے ناطے میرا کوئی تجربہ نہیں تھا، اور کسی کو بھی پارٹ ٹائم ورکر کی ضرورت نہیں تھی 😫۔ لیکن قسمت سے میری ہاسٹل کی ایک دوست نے مجھے بتایا کہ وہ جس مساج پارلر میں کام کرتی ہے وہاں نئی لڑکیوں کی ضرورت ہے، اور تجربہ نہ ہونے کے باوجود وہ سب کچھ سکھا دیتے ہیں۔ میں نے یہ جاب جوائن کر لی۔
میں مختلف عمر کے مرد اور عورتوں کو مساج دیتی تھی۔ یہ کام مجھے زیادہ پسند نہیں تھا کیونکہ مجھے رات کے وقت کام کرنا پڑتا تھا، اور اکثر دیر رات واپس ہاسٹل جانا پڑتا تھا۔ 😓 اس کے ساتھ کالج کے اسائنمنٹ بھی کرنے ہوتے تھے، جس کی وجہ سے نیند پوری نہیں ہوتی تھی۔ لیکن گزارہ کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی تھا۔
میرے مساج کلائنٹس میں ایک بوڑھا آدمی اکثر آتا تھا۔ شروع میں وہ بہت خوش اخلاق اور نرم مزاج لگتا تھا 🥲۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ وہ ذاتی سوالات کرنے لگا اور عجیب و غریب تعریفیں کرنے لگا، جس سے مجھے عجیب سا محسوس ہونے لگا۔
پھر ایک دن وہ دوبارہ آیا 😰۔ مساج کے دوران اس نے بہت گندی باتیں شروع کر دیں، پھر اچانک میرے جسم کو پکڑ لیا 😡۔ میں نے فوراً اس کا ہاتھ جھٹک دیا اور کہا کہ باز آؤ۔ لیکن وہ نہیں رکا۔ وہ اٹھ کر میرے قریب آ گیا اور مجھے چھونے کی کوشش کرنے لگا۔ پھر میرے کان میں کہا کہ وہ دیکھ سکتا ہے کہ میں بھی اسے چاہتی ہوں 🔞۔
میں خوف سے کانپ رہی تھی, اور آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ میں پہلے تو آرام سے اسے روکنے کی کوشش کی, لیکن جب اس نے میرے کپڑوں میں ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی، تو میں نے زور سے دھکا دے کر بھاگ نکلی 😭۔
اس دن میں کافی دیر تک صدمے میں تھی۔ اگلے دن اس آدمی کو پارلر آنے سے روک دیا گیا, لیکن مجھے وہاں مزید کام کرنے کا حوصلہ نہیں ہوا, اور میں نے نوکری چھوڑ دی 😣۔
لیکن مسئلہ یہ تھا کہ مجھے کہیں نہ کہیں سے پیسے کمانے تھے 💵۔ جب میں گھر واپس جا رہی تھی, تو راستے میں اپنی یونیورسٹی کے ایک دوست سے ملی۔ ہم باتیں کرنے لگے, اور اس نے بتایا کہ حال ہی میں اس نے آن لائن کیسینو سے 8,20,000 روپے جیتے ہیں 💸۔
مجھے یقین نہیں آیا, لیکن جب اس نے اپنے اکاؤنٹ کا بیلنس اور بینک ٹرانسفر دکھایا, تو میں حیران رہ گئی 💳۔ پھر میں نے اس سے مدد مانگی کہ مجھے بھی رجسٹر کرے 🎰۔
ہاسٹل پہنچ کر میں نے ایک چھوٹا سا ڈپازٹ کیا اور کھیلنا شروع کیا۔ پہلے 15 منٹ میں ہی میں نے 2500 روپے جیت لیے، اور 20 منٹ بعد یہ رقم 7300 روپے ہو گئی 💸۔ میں فوراً یہ چیک کرنا چاہتی تھی کہ آیا پیسے نکل سکتے ہیں یا نہیں۔
صرف چند منٹوں میں پیسے میرے بینک اکاؤنٹ میں آ گئے 👌۔
پھر میں نے دو ہفتے تک کھیلنا جاری رکھا۔ چھوٹے چھوٹے اماؤنٹس جیتتی رہی اور نکلواتی رہی، لیکن پھر ایک دن قسمت نے ایسا ساتھ دیا کہ میں نے پورے 20,00,000 روپے کا جیک پاٹ جیت لیا 😳۔https://royalxcasino222.com?refer_id=101118317547
جب میں نے اپنے اکاؤنٹ میں یہ رقم دیکھی، تو میں خوشی کے مارے اتنا زور سے چیخی کہ پورے ہاسٹل کو میری آواز آ گئی 😅۔
https://royalxcasino222.com?refer_id=101118317547
اب میں اپنی پڑھائی پر پوری توجہ دے سکتی تھی, بغیر کسی جاب کے ٹینشن لیے 👍۔ اور یہ سب میرے فیورٹ آن لائن کیسینو کی بدولت ممکن ہوا ❤️۔
میں ہفتے میں بس چند بار کھیلتی ہوں, اور اب میں اپنے والدین کی بھی مالی مدد کر سکتی ہوں۔ 😍 میرے ساتھ ہاسٹل کی باقی لڑکیاں بھی یہ گیم کھیلنے لگی ہیں، اور سب کو بہت مزہ آ رہا ہے۔
جو بھی اپنا جیک پاٹ جیتنا چاہتا ہے، میں لنک چھوڑ رہی ہوں جہاں سے آپ بھی کھیل سکتے ہیں 👌۔
https://royalxcasino222.com?refer_id=101118317547
Royal x Casino | Real Money Casino Games & Online Earnings App Turn virtual earning into real earnings! With RoyalxCasino, you can play exciting casino games and win real money everyday
15/01/2025
آیک دن میں 10 لاکھ روپیہ لاہور کی مہرین یہ گیم کھیل کر جیت گئی۔ ۔ اس آن لائن گیم کے پورٹل نےآن لائن گیم تمام مارکیٹ کو کور کرلیا ہے ہے لڈو اور اس جیسی دوسری درجنوں گیموں میں لوگ ہزاروں اور لاکھوں روپے جیت رہے ہیں ۔۔ پاکستان میں اس وقت لڑکیوں کی ایک بڑی تعدادجاب کرنے کی بجائے اس گیم پورٹل پر لاکھوں روپے کما رہی ہے ۔۔جو فوری طور پر ان کے جاز کیش یا ایزی پیسہ میں منتقل ہو جاتے ہیں ۔۔ اس لنک پر کلک کرکے آپ آسانی سے اس گیم پورٹل کو ڈاون لوڈ کرسکتے ہیں ۔۔اور ماہانہ گیمیں کھیل کر ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپیہ کما سکتے ہیں
Royal x Casino | Real Money Casino Games & Online Earnings App Turn virtual earning into real earnings! With RoyalxCasino, you can play exciting casino games and win real money everyday
لاہور ہائی کورٹ کا لینڈ مارک فیصلہ
شوروم مالکان اور رینٹ اے کار والوں کے لیے اج کا دن ہائی کورٹ میں بہت اہم تھا
کیونکہ ہائی کورٹ اج ایک ایسے نقطے پر فیصلہ کرنے والی تھی جو پاکستان میں ان دونوں شعبوں پر بہت زیادہ اثر انداز ہونا تھا
پاکستان بالخصوص پنجاب میں یہ روایت بن چکی ہے کہ لوگ بینکوں سے گاڑیاں لیز پر لے کر اس کے بعد رینٹ اے کار کا بزنس شروع کر دیتے ہیں اور بے تحاشہ پیسہ کماتے ہیں اسی رقم سے وہ اس گاڑی کی قسط بھی ادا کرتے ہیں اور بعض اوقات شوروم مالکان بھی یہ لیز گاڑیاں فروخت کرنے میں ان کی مدد کرتے ہیں اور ضرورت کے وقت یہ افراد اپنی لیز گاڑیاں بھی سیل کر دیتے ہیں
لیکن وقت کے ساتھ ایک ایسے مسئلے نے سر اٹھایا کہ مختلف افراد مختلف ناموں سے ان رینٹ اے کار اور شوروم سے گاڑیاں کرائے پر لیتے اور بعد ازاں فروخت کردیتے تھے اور اس کے بعد اصل مالکان ان کے خلاف ایف ائی ار جرم 406 کے تحت مختلف تھانوں میں درج کرواتے تھے جس کے بعد ان ملزمان کو گرفتار کیا جاتا تھا اور پھر گاڑیوں کی برامدگی کی جاتی تھی
اج اسی سلسلے میں لاہور ہائی کورٹ میں مختلف ملزمان کی درخواست ضمانت ودیگر کیس زیر سماعت تھے جن کی پیروی سینیئر قانون دان سید علی عباس شیرازی ایڈوکیٹ(03005757587) کر رہے تھے
فاضل قانون دان، ان تمام لوگوں کی وکالت کر رہے تھے ۔ جن پر یہ الزام تھا کہ انہوں نے شوروم اور رینٹ اے کار والوں سے گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنے کے بعد اگے فروخت کردی ہیں۔ ایسے تمام ملزمان نے فاضل قانون دان کے ذریعے ضمانت و د یگر معاملات کی پٹیشنیں دائر کی ہوئی تھی جبکہ مدعیان نے بھی لاہور کے جید وکلاء کی خدمات حاصل کر رکھی تھی اور یہ تمام کیسز جسٹس شہرام سرور چوہدری کی عدالت میں زیر سماعت تھے جسٹس شہرام سرور چوہدری جو فوجداری قانون میں اس وقت لاہور ہائی کورٹ میں نمایاں نام ہیں اور فوجداری امور پر ان کی گہری نظر اور تجربہ ہے اور فوجداری معاملات میں ان کی سینکڑوں ججمنٹس بطور پریسیڈنٹ استعمال ہوتی ہیں اور بار کے نمائندگان بھی ان کو فوجداری قانون پر اتھارٹی سمجھتے ہیں
اج جب کیس کی سماعت شروع ہوئی تو
سینیئر قانون دان سید علی عباس شیرازی نے اپنے دلائل کا اغاز اس بات سے کیا کہ بینک سے لیز پر حاصل کی گئی گاڑی کو بطور رینٹ اے کار میں استعمال کرنا اور رینٹ پر دینا بذات خود بینک کے ساتھ کیے گئے ایگریمنٹ کی خلاف ورزی ہے اور کیونکہ مدعی خود قانون کی خلاف ورزی کر چکا ہے اس لیے اسے ایف ائی ار درج کروانے کا حق نہیں ہے کیونکہ اس نے جب بینک کے ساتھ لیز ایگریمنٹ سائن کیا تھا تو اس میں اس نے واضح طور پر اس بات کی پابندی تھی کہ وہ گاڑی کو کمرشل مقاصد یا رینٹ پر نہیں دےگا
اور کیونکہ اس نے گاڑی بینک سے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کرائے پر اور رینٹ پر دی ہے اس لیے بینک اس کے خلاف کاروائی کرے نہ کہ وہ کسی ایسے شخص کے خلاف ایف ائی ار درج کروائے جواس کی اس مجرمانہ غفلت کا فائدہ آٹھا کر وہ گاڑی لے کے جانے میں کا میاب ہوگیا فاضل قانون دان نے استدلال دیا کہ
قانونی نقطہ نظر سے اصل ملزم گاڑی کا مالک ہے جس نے بینک کے ساتھ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گاڑی رینٹ پہ دی نہ کہ وہ شخص جس نے رینٹ پر حاصل کرنے کے بعد اس کی اس کی غفلت اور کوتاہی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے گاڑی کو فروخت کر دیا مزید فاضل قانون دان نے عدالت کے اندر یہ موقف اختیار کیا کہ رینٹ کے معاملات لین دین کے معاملات ہوتے ہیں نہ کہ خیانت مجرمانہ کے اور اس حوالے سے کوئی بھی ایف ائی ار قابل پذیرائی نہیں ہے اور قابل اخراج ہے گاڑی کا کے رینٹ کی وصولی یا گاڑی کی ریکوری کے لیے دیوانی عدالتوں میں جانا چاہیے نہ کہ ایف ائی ار درج کروا کر لوگوں کو گرفتار کرنا چاہیے فاضل قانون دان نے مزید یہ موقف اختیار کیا کہ گاڑی رینٹ پر لیتے ہوئے ایک ایک ایگریمنٹ کو سائن کیا جاتا ہے اور ا اس میں اس شق کا شامل کرنا کہ گاڑی کے نقصان یا دیگر کی صورت میں ایف ائی ار درج ہوگی قطعی غیر قانونی ہے کیونکہ ایک ایگریمنٹ سے صرف فریقین کی ذمہ داریاں متعین ہو سکتی ہیں نہ کہ ایف ائی ار درج کروا کے قانون کا غلط استعمال کیا جائے سینیئر قانون دان نے ان تمام شوروم مالکان کی ایف ائی ار کے حوالے سے موقف اختیار کیا کہ بینک سے لیز لی ہوئی گاڑی بینک کی ملکیت ہوتی ہے اور اس کو کسی صورت بھی بیچنا یا بیچنے کے بعد ایف ائی ار درج کروانا بذات خود ایک جرم ہے جس کے مرتکب شوروم مالکان ہو رہے ہیں اور اپنی اس ذمہ داری سے بچنے کے لیے وہ ان افراد پر ایف ائی ار درج کروا دیتے ہیں جو ان سے گاڑی غلط یا صحیح طریقے سے لے جاتے ہیں ایسے تمام معاملات جہاں پہ شوروم مالکان بینک کی گاڑی کو فروخت کریں اس پر ملزمان کی بجائے ان پر ایف ائی ار درج ہونی چاہیے کیونکہ وہ سب جانتے بوجھتے ہوئے خود قانون کی خلاف ورزی کر کے بعدمیں اپنی مدعیت میں ایف ائی ار درج کرواتے ہیں
اپنے قانونی موقف کی وضاحت کرتے ہوئے سید علی عباس شیرازی ایڈوکیٹ سپریم کورٹ نے دلائل دیے کہ ایسے تمام لوگ جن پر رینٹ کے ذریعے گاڑی لینے کے بعد فروختگی کا الزام لگایا گیا ہے وہ قانونی طور پر قابل سزا نہ ہے اور نہ ہی ایسی کسی ایف ائی ار کی کوئی قانونی وقعت ہے اور نہ ہی اس میں کسی ملزم کو سزا دی جا سکتی ہے ایسے تمام افراد جو بینکوں سے گاڑیاں ذاتی مقاصد کے لیے لیز پر لینے کے بعد کمرشل استعمال کرتے ہیں یا انہیں رینٹ اے کار کے بزنس میں ڈالتے ہیں یا شوروم مالکان جو بیچنے میں مدد کرتے ہیں وہ تمام قابل سزا ہے نہ کہ ملزمان جن پر ایف آئی آرز درج کی گئی ہے دیگر قانونی نقاط کے حوالے سے بحث کے بعد فاضل قانون دان نے اپنی بحث مکمل کی تو شوروم کہ مالکان اور رینٹ اے کار کے بزنس والوں کےتمام وکلاءاور ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے نے اپنے دلائل دیے اور کہا کہ گاڑی جب کسی کو رینٹ پر دی جاتی ہے تو وہ امانت ہوتی ہے اور اس کو بیچنا یا اس کو خراب کرنا یا ذاتی استعمال میں لانا ایک جرم ہے جو کہ امانت میں خیانت کے زمرے میں اتا ہے اور اس پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 406 کا طلاق ہوتا ہے ملزمان سے گاڑیاں ریکور کرنی ہیں اس لیے ان کی ضمانتیں خارج کی جائیں اور دیگر پٹیشنیں بھی خارج کی جائیں
عدالت عالیہ کے فاضل بینچ جسٹس شہرام سرور چودری نے ممتاز قانون دان سید علی عباس شیرازی کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے تمام ملزمان کی ضمانتیں کنفرم کردی ہیں فاضل جج نے یہ ابزرویشن دی کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ مدعی بینک کے ساتھ ایک طرف معاہدہ کرے کے وعدہ کرے کہ وہ گاڑی کمرشل مقصد کے لیے نہیں دے گا اور پھر اس کے بعد وہ گاڑی رینٹ پر چلانا شروع کرے خود معاہدے کی خلاف ورزی کرے اور پھر ایف ائی ار درج کروائے مدعی بیک وقت غیر قانونی کام کر کے قانون کی عملداری کی درخواست نہیں کر سکتا اور مدعی عدالت میں صاف ہاتھوں سے نہیں ائے ہیں
مدعیوں کے وکیل کے وکلاء کے اس استدلال پر کہ گاڑیاں ریکور کرنی ہیں گرفتاری ضروری ہے فاضل جج نے ابزرویشن دی کے سول کورٹ اسی کام کے لیے ہے اس معاملے میں سول کورٹ کو کا اختیار سماعت ہے
عدالت عالیہ نے تمام ملزمان کی ضمانتیں کنفرم کر دی اور سید علی عباس شیرازی ایڈوکیٹ کی طرف سے دائر کی گئی تمام پٹیشنوں کو منظور فرما کر ملزمان کو ضمانتی مچلکوں پر رہا کرنے کا حکم دے دیا
(رپوٹنگ : سلیمان بابرکورٹ رپوٹر )
10/10/2024
We pray that this will not happen ...but if then shame on us
[24/09, 12:06 pm] +92 306 4000986: *آرٹیکل 63 اے کیا ہے؟*
اسلام آباد: آرٹیکل 63 اے کے مطابق کسی رکن پارلیمنٹ کو انحراف کی بنیاد پر نااہل قرار دیا جا سکتا ہے۔اگر پارلیمنٹیرین وزیراعظم یا وزیر اعلیٰ کے انتخابات کے لیے اپنی پارلیمانی پارٹی کی طرف سے جاری کردہ کسی بھی ہدایت کے خلاف ووٹ دیتا ہے یا عدم اعتماد کا ووٹ دینے سے باز رہتا ہے تو اس سے نااہل قرار دیا جاسکتا ہے۔آرٹیکل میں کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں پارٹی سربراہ کو تحریری طور پر اعلان کرنا ہوگا کہ متعلقہ رکن اسمبلی منحرف ہوگیا ہے لیکن اعلان کرنے سے قبل پارٹی سربراہ ’منحرف رکن کو وضاحت دینے کا موقع فراہم کرے گا‘۔اراکین کو ان کی وجوہات بیان کرنے کا موقع دینے کے بعد پارٹی سربراہ اعلامیہ اسپیکر کو بھیجے گا اور وہ اعلامیہ چیف الیکشن کمشنر کو بھیجے گا۔بعدازاں چیف الیکشن کمیشن کے پاس اعلان کی تصدیق کے لیے 30 روز ہوں گے۔آرٹیکل کے مطابق اگر چیف الیکشن کمشنر کی طرف سے تصدیق ہو جاتی ہے، تو مذکورہ رکن ’ایوان کا حصہ نہیں رہے گا اور اس کی نشست خالی ہو جائے گی۔
[ لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس کے ساتھ مشاورت کے بعد الیکشن ٹریبیونلز کا مسئلہ حل ہو گیا ہے، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے چار ٹریبیونل ججز برقرار رکھے باقی چار الیکشن کمیشن مقرر کرے گا، الیکشن کمیشن کے وکیل کا سپریم کورٹ میں بڑا انکشاف
www.bestpakistanilawyers.com
[ سپریم کورٹ میں الیکشن ٹربیونل کیس کی سماعت
چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ کیس کی سماعت کر رہا ہے
مائی لارڈ ایک درخواست ہم نے دینی ہے حامد خان وکیل سلمان اکرم راجہ
آپ سنئیر وکیل ہیں ہمارے لئے آپ قابل احترام ہے پہلے آڈر پڑھنے دیں چیف جسٹس
ہمیں آپ کے کیس سننے پر اعتراض ہے ۔
حامد خان
سلمان اکرم راجہ نے چیف جسٹس پر اعتراض کر دیا
آپ نے خود کو علیحدہ کرنا ہے تو کر لیں، چیف جسٹس
[ چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے حامد خان ایڈووکیٹ کو روسٹرم چھوڑنے کا کہتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آپ نے خود کو کیس سے الگ کرنا ہے تو کر لیں میں الگ نہیں ہونگا
[: چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ریڈر کو اعتراض کی درخواست لینے سے ہی روک دیا، حامد خان کمرہِ عدالت سے ہی چلے گئے
24/09/2024
پنجاب بھر میں۔۔ پنجاب کی یونیورسٹیوں میں ڈینز کی تعیناتی کے لیے طریقہ کار کو ہائی کورٹ نے کالعدم قرار دے دیا ۔۔۔
اس حوالے سے یونیورسٹی اف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کی ڈاکٹر شازیہ ارشد نے سینیئر قانون دان سید علی عباس شیرازی(03005757587) کی توسط سے لاہور ہائی کورٹ میں رٹ کے ذریعے گورنر پنجاب کی جانب سے تعیناتی کے حوالے سے وضع کیا گیا مجوزہ طریقے کار کو چیلنج کیا تھا ۔،جبکہ دیگر درجنوں درخواست گزاروں نے گورنر پنجاب کے طریقہ کار کو صحیح قرار دے کر ان تعیناتی بمطابق نمبرز کرنے کی استدعا کی تھی جس میں یونیورسٹی اف پنجاب۔ یونیورسٹی اف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی اف ایگریکلچر فیصل آباد کی یونیورسٹیوں کی ڈینز کی رٹس شامل تھی تا ہم عدالت عالیہ نے تمام رٹس کو خارج کرتے ہوئےممتاز قانون دان سید علی عباس شیرازی کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے ڈاکٹر شازیہ ارشد کی استدعا کو منظور فرما کر گورنر پنجاب جانب سے تعیناتی کے لیے بھجوایا گیا مراسلہ کلعدم قرار دے دیا ۔۔۔جس کے بعد پنجاب کی تمام یونیورسٹیوں میں گورنر پنجاب کی مراسلے کے ذریعے تعیناتی ختم ہو گئی اور مجوزہ طریقہ کار کے تحت تعینات کیے گئے افراد کی تعیناتی بھی کلعدم متصور ہوگی اس حوالے سے سید علی عباس شیرازی نے عدالت کو اگاہ کیا کہ گورنر پنجاب کے پاس کوئی اختیار نہ تھا اور انہوں نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے یونیورسٹیوں کے معاملات میں مداخلت کی ہے انہوں نے مزید عدالت میں دلائل دیے کے ہر یونیورسٹی کا اپنا ایکٹ موجود ہے اس میں تعیناتی کا طریقہ کار موجود ہے جبکہ گورنر پنجاب نے ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اور مجوزہ طریقہ کار سے ہونے والی تعیناتیوں نے بہت سارے قابل اور اہل لوگوں کی حق تلفی کی ہے اس کے بعد عدالت نے ڈاکٹر شازیہ ارشد کی رٹ کو منظور کرتے ہوئے سید علی عباس شیرازی کی تمام استدعا کو قانونی قرار دے دیا ۔۔۔
23/09/2024
دوسرے سینئر جج جسٹس منیب اختر کو کمیٹی سے کیوں نکالا گیا کوئی وجہ نہیں بتائی گئی، اس سے اگلے سینئر جج جسٹس یحیی آفریدی کو نظر انداز کرنے کی بھی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی، چیف جسٹس آرڈیننس پر فوری طور پر ججز کا فل کورٹ اجلاس بلائیں، بغیر کسی قانونی جواز اور وجوہات کے موجودہ کمیٹی کو خاموشی سے دوبارہ تشکیل دینا مناسب نہیں، بدقسمتی سے ’ون مین شو‘ کا مظاہرہ کیا گیا۔۔۔ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی تشکیل کا فیصلہ فل کورٹ کا تھا اور اس میں رد و بدل یا تو فل کورٹ بنچ یا فل کورٹ اجلاس کے ذریعے ممکن ہے،جب تک کمیٹی کو اصل حال میں بحال نہیں کیا جاتا، شرکت نہیں کروں گا،جسٹس منصور علی شاہ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس کے بعد ججز کمیٹی کی تشکیل پر سوالات اٹھا دیے، 3 صفحات پر مشتمل خط لکھ دیا
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
The Mall
Lahore
