Novels for Novel’s lover

Novels for Novel’s lover

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Novels for Novel’s lover, Library, Lahore.

24/04/2026

ہمارے معاشرے میں آج بھی یہ رواج عام ہے کہ کسی کی وفات کے بعد تین دن تک میت کے گھر تعزیت کرنے والوں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔ بحث یہ نہیں کہ دعا ہونی چاہیے یا نہیں، بلکہ تلخ حقیقت یہ ہے کہ غریب کے گھر روح قبض ہونے سے لے کر قبر پر مٹی ڈالنے تک، صرف "کھانے پینے" کی مد میں ہی ہزاروں روپے کا بوجھ پڑ جاتا ہے۔ غم زدہ خاندان پر میت کے دکھ کے ساتھ ساتھ قرض کا بوجھ بھی سوار ہو جاتا ہے۔

​پنجاب کے ایک گاؤں نے اس رسم کو بدل کر ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔

​ایک غریب شخص کا جنازہ جب جنازہ گاہ پہنچا اور صفیں درست ہوئیں، تو امام صاحب نے شرکاء سے مخاطب ہو کر ایک دل سوز اعلان کیا:

​"یہ میت جس کا ہم جنازہ پڑھنے لگے ہیں، اپنے گھر کا واحد کفیل اور سہارا تھا۔ سوگواران میں صرف ایک بیوہ اور چھوٹے بچے ہیں۔ عدت کے ایام میں ان کے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ لہذا، جنازہ گاہ کے مرکزی دروازے پر ایک چادر بچھا دی گئی ہے۔ جو بھی صاحبِ توفیق بغیر کسی دکھلاوے کے، اللہ کی رضا کے لیے ایک روپے سے لے کر اپنی حیثیت کے مطابق جتنی رقم دے سکتا ہے، وہ وہاں ڈال دے۔"

​جنازے کے بعد جب چادر سے رقم جمع کی گئی تو وہ ایک لاکھ روپے سے زائد تھی۔ کسی کے 10 روپے تھے تو کسی کے 100، لیکن اس مشترکہ ہمدردی نے یتیم بچوں کے لیے کئی مہینوں کا معاشی سکون فراہم کر دیا۔
​تعزیت صرف ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے کا نام نہیں، بلکہ دکھ کی گھڑی میں عملی سہارا بننے کا نام ہے۔

​ہمارے نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ اگر کوئی پودا لگائے اور اس سے کسی انسان، پرندے یا جانور کو فائدہ پہنچے، تو لگانے والے کو اس کا ثواب ملتا رہتا ہے۔ جنت کا آسان راستہ مخلوقِ خدا کی خدمت میں چھپا ہے۔

اگر ہم ناشتے کا ایک بسکٹ ہی چیونٹیوں کو ڈال دیں، تو ہزاروں کا پیٹ بھر سکتا ہے۔ اگر کھانے کا ایک نوالہ پرندوں کے لیے رکھ دیں، تو کئی پرندوں کی دعا مل سکتی ہے۔

آئیں اس روایت کو ہر گاؤں اور شہر میں زندہ کریں۔ جب بھی کسی ایسے غریب کا جنازہ ہو جو گھر کا واحد کفیل تھا، تو وہاں کے علماءِ کرام پانچ منٹ اس کی زندگی پر بات کرنے کے بجائے یہ اعلان کریں کہ "مرحوم کے بچوں کے لیے اپنا حصہ ڈالیں"۔ تاکہ اس خاندان کو معاشی پریشانی سے بچایا جا سکے اور آپ کا یہ عمل آپ کے لیے صدقہ جاریہ بن جائے۔

07/01/2026

حصہ سوم
شہرِ میں اب سوال عام ہو چکے تھے، اور یہی سب سے بڑی تبدیلی تھی۔ جو شہر کبھی سرگوشیوں سے بھی ڈرتا تھا، اب وہاں سوال دیواروں پر لکھے جاتے تھے، کلاسوں میں پوچھے جاتے تھے، اور گھروں میں زیرِ لب دہرائے جاتے تھے۔
نیلم جانتی تھی کہ سوال پیدا ہو جانا ہی بغاوت کا پہلا قدم ہوتا ہے۔ مگر ہر بغاوت قیمت مانگتی ہے۔
ایک صبح کالج کے دروازے پر ایک نوٹس آویزاں تھا:
“ادبی حلقہ غیر ضروری سرگرمی ہے۔ فوری طور پر بند کیا جائے۔”
نیلم نے کاغذ اتارا، تہہ کیا، اور اپنی ڈائری میں رکھ لیا۔ وہ جانتی تھی—یہ لڑائی لفظوں سے آگے جا چکی ہے۔
اسی دن شہر میں پہلی بار ایک عوامی نشست ہوئی۔ نیلم کو مدعو نہیں کیا گیا تھا، مگر اس کا ذکر ہر تقریر میں تھا۔ کوئی اسے مثال کہہ رہا تھا، کوئی خطرہ۔
ریاست اس نشست میں خاموش بیٹھا تھا۔ ماضی میں وہ شاید خاموش ہی رہتا، مگر اب خاموشی اس کے لیے ممکن نہیں تھی۔
اس نے کھڑے ہو کر کہا:
“اگر ایک عورت کے بولنے سے نظام ہل جائے،
تو مسئلہ عورت نہیں،
نظام ہوتا ہے۔”
ہال میں ایک لمحے کو سکوت چھا گیا—وہ سکوت جو ٹوٹنے والا ہو۔
اسی رات نیلم کو دھمکی آمیز خط ملا۔ الفاظ کم تھے، ارادے واضح۔ پہلی بار اس کے ہاتھ کانپے۔ اس نے خط جلایا، مگر خوف کو نہیں۔
اس نے ریاست کو پیغام بھیجا:
“کیا ڈرنا کمزوری ہے؟”
جواب فوراً آیا:
“ڈرنا انسانی فطرت ہے،
خاموش رہ جانا انتخاب۔”
نیلم نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ شہر سو رہا تھا، مگر اس کی نیند بے چین تھی۔
اگلے دن ادبی حلقہ بند کر دیا گیا۔ دروازے پر تالا تھا، مگر لڑکیوں کی آنکھوں میں نہیں۔ وہ نیلم کے گھر جمع ہوئیں۔ بغیر اسٹیج، بغیر مائیک—مگر آواز مکمل۔
نیلم نے کہا:
“آواز جگہ کی محتاج نہیں،
حوصلے کی محتاج ہوتی ہے۔”
یہ جملہ کسی نے ریکارڈ کر لیا۔ اگلے ہفتے شہر کے باہر بھی سنا گیا۔
ریاست کو نوکری کی آخری تنبیہ ملی۔ اس نے خط پڑھا، مسکرایا، اور استعفیٰ لکھ دیا۔
“کچھ عہدے چھوڑنے پڑتے ہیں،
تب جا کر انسان بچتا ہے۔”
شہرِ خاموشاں اب تقسیم ہو چکا تھا—ایک طرف خوف، دوسری طرف سوال۔
اور سوالوں کا کوئی جواب صرف لفظ نہیں ہوتے،
وہ عمل مانگتے ہیں۔
نیلم جانتی تھی،
اب اگلا قدم صرف بولنا نہیں،
سامنے آنا تھا۔
اور ریاست جانتا تھا،
اب تاریخ پیچھے نہیں رہ گئی،
وہ دروازے پر دستک دے رہی ہے۔
کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی تھی—
مگر خاموشی اب آخری صفحہ نہیں تھی۔

07/01/2026

حصہ دوم: گونج
شہرِ اب بھی بظاہر ویسا ہی تھا، مگر اس کی دیواروں کے اندر سرگوشیاں بدل چکی تھیں۔ نیلم کے لفظ لوگوں کی زبان پر نہیں، دلوں میں زندہ تھے۔ وہ حویلی جو جل چکی تھی، اس کی راکھ میں بھی سوال باقی تھے—اور سوال کبھی راکھ نہیں ہوتے۔
نیلم اب کالج کی استاد نہیں رہی تھی، وہ ایک نظریہ بن چکی تھی۔ ادبی حلقہ اب صرف لڑکیوں تک محدود نہ تھا؛ مائیں، بہنیں، حتیٰ کہ کچھ مرد بھی خاموشی توڑنے لگے تھے۔ لفظ ڈرتے ڈرتے نکلتے، مگر نکلتے ضرور تھے۔
ریاست نے تدریس چھوڑ دی تھی، مگر سیکھانا نہیں۔ وہ اب کتابوں کے صفحوں میں نہیں، لوگوں کی آنکھوں میں تاریخ پڑھتا تھا۔ اسے اندازہ ہوا کہ اصل تاریخ وہ نہیں جو لکھی جائے، بلکہ وہ جو جھیلی جائے۔
ایک دن ایک طالبہ نے اس سے پوچھا،
“سر، اگر سچ بولنے کی قیمت سب کچھ ہو، تو کیا پھر بھی بولنا چاہیے؟”
ریاست نے پہلی بار بغیر توقف جواب دیا،
“سچ کی قیمت سب کچھ نہیں،
خاموشی کی قیمت پوری زندگی ہوتی ہے۔”
یہ جملہ کسی نے لکھ لیا۔ اگلے دن شہر کی دیوار پر چاک سے درج تھا۔
نیلم اور ریاست اب کم ملتے تھے، مگر دوری میں بھی ایک ربط تھا۔ کبھی کوئی کتاب، کبھی کوئی تحریر، کبھی کسی شاگرد کا ذکر—یہی ان کی گفتگو تھی۔ محبت اب خواہش نہیں رہی تھی، ذمہ داری بن چکی تھی۔
ایک شام نیلم نے ریاست کو خط لکھا:
“ہم ساتھ نہیں، مگر ایک سمت میں ہیں۔
اور شاید یہی کافی ہے۔”
ریاست نے جواب نہیں لکھا، مگر اسی رات اس نے ایک جلسے میں کھڑے ہو کر کہا:
“جو عورت بولنا سکھا دے،
وہ صرف عورت نہیں،
وہ عہد ہوتی ہے۔”
ہجوم میں نیلم موجود نہیں تھی، مگر اس کی خاموش موجودگی ہر لفظ میں تھی۔
شہر نے اب مخالفت کم اور خوف زیادہ محسوس کرنا شروع کر دیا تھا۔ کیونکہ خاموش لوگ اگر بولنا سیکھ جائیں، تو طاقتور بے زبان ہو جاتے ہیں۔
کئی سال بعد، شہرِ کے دروازے پر ایک تختی لگی:
“یہاں لفظوں نے بولنا سیکھا۔”
نیلم نے اسے دیکھا، مسکرائی، اور دل ہی دل میں کہا:
“خاموشی ہاری نہیں،
سمجھ لی گئی ہے۔”
ریاست نے دور سے شہر کو دیکھا—اور پہلی بار تاریخ اس کے سامنے نہیں، اس کے پیچھے تھی۔
کیونکہ کچھ کہانیاں ختم نہیں ہوتیں،
وہ لوگوں کے اندر چلتی رہتی ہیں۔
اور خاموشی؟
وہ اب صرف ایک عنوان رہ گئی تھی۔

07/01/2026

عنوان: خاموشی
شہرِ خاموشاں کی شام ہمیشہ اداس ہوتی تھی، مگر اُس دن نیلم کو یوں لگا جیسے ہوا بھی سوال کر رہی ہو۔ وہ پرانی حویلی کی چھت پر کھڑی تھی، جہاں اینٹوں کے بیچ دبی یادیں سانس لیتی تھیں۔ نیلم کے ہاتھ میں ماں کی لکھی آخری ڈائری تھی—الفاظ سادہ، مگر زخم گہرے۔
“عورت ہونا کمزوری نہیں، مگر اس کمزوری کو مان لینا جرم ہے۔”
یہ جملہ پڑھتے ہی نیلم کی آنکھیں بھر آئیں۔ ماں نے ساری عمر خاموشی میں گزار دی تھی، اور باپ نے اس خاموشی کو عزت کا نام دیا تھا۔ نیلم نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ خاموش نہیں رہے گی۔
اسی شہر میں ریاست رہتا تھا—ایک ایسا مرد جو اپنے اصولوں کے قلعے میں قید تھا۔ لوگ کہتے تھے وہ سخت دل ہے، مگر نیلم جانتی تھی کہ اُس کی آنکھوں میں چھپی اداسی جھوٹ نہیں بولتی۔ وہ دونوں ایک ہی کالج میں پڑھاتے تھے؛ نیلم ادب، ریاست تاریخ۔ الفاظ اور ماضی، دونوں کا بوجھ مشترک تھا۔
ریاست کی آنکھوں میں ہمیشہ ایک ٹھہرا ہوا درد رہتا تھا، جیسے وہ کچھ کہنا چاہتا ہو مگر لفظ اس سے روٹھ گئے ہوں۔ نیلم نے پہلی بار اسے کالج کی راہداری میں دیکھا تو دل نے عجیب سا شور مچایا۔ وہ جانتی تھی، یہ شور عام نہیں۔
نیلم خود بھی خاموش دکھوں کی امین تھی۔ ماں کی بے آواز قربانیوں نے اسے بولنا سکھایا تھا، مگر دنیا نے اسے خاموش رہنے کا سبق دیا تھا۔ دونوں ایک جیسے تھے—ٹوٹے ہوئے، مگر مضبوط۔
ایک دن نیلم نے کلاس میں سوال پوچھا،
“اگر تاریخ نے ہمیشہ طاقتور کا ساتھ دیا ہے، تو کمزور کی آواز کہاں گئی؟”
ریاست خاموش ہو گیا۔ پہلی بار کسی نے اُس کے یقین کو ہلا دیا تھا۔ کلاس کے بعد اُس نے نیلم سے کہا،
“ہر آواز سنی نہیں جاتی۔”
نیلم نے مسکرا کر جواب دیا،
“مگر ہر آواز اٹھائی ضرور جا سکتی ہے۔”
یہ جملہ ریاست کے دل میں اتر گیا۔
وہ اکثر لائبریری میں ملتے۔ کتابوں کے بیچ خاموش ملاقاتیں، ادھورے جملے، نظریں جو سب کہہ دیتی تھیں۔ ریاست چاہتا تھا کہ نیلم رک جائے، مگر وہ جانتا تھا کہ نیلم رکنے والوں میں سے نہیں۔
ایک دن اس نے دھیرے سے کہا،
“اگر میں کہوں کہ تم میرے یقین بدل رہی ہو؟”
نیلم مسکرا دی۔
“اور اگر میں کہوں کہ میں خود کو بچا رہی ہوں؟”
ریاست خاموش ہو گیا۔ محبت میں بھی وہ خاموشی کا عادی تھا۔
جب نیلم نے لڑکیوں کے لیے آواز اٹھائی، تو شہر نے اسے بدنام کیا۔ ریاست نے پہلی بار سب کے سامنے اس کا ساتھ دیا۔
“جو عورت سچ بولے، وہ کردار کی نہیں، معاشرے کی جانچ ہوتی ہے۔”
یہ الفاظ آگ بن گئے۔
نیلم نے اس رات کہا،
“میں تمہیں مشکل میں ڈال رہی ہوں۔”
ریاست نے جواب دیا،
“تم نے مجھے جینے کی وجہ دی ہے۔”
محبت مکمل نہ ہو سکی، مگر مضبوط ہو گئی۔ نیلم نے شہر بدل دیا، ریاست نے خود کو۔
وہ دونوں ساتھ نہ تھے، مگر ایک دوسرے کا حوصلہ بن چکے تھے۔
نیلم نے لکھا:
“کچھ محبتیں حاصل ہونے کے لیے نہیں ہوتیں،
وہ انسان بنانے آتی ہیں۔”
اور ریاست نے پہلی بار تاریخ نہیں، حال کا ساتھ دیا۔
دن گزرتے گئے۔ نیلم نے کالج میں لڑکیوں کے لیے ایک ادبی حلقہ قائم کیا۔ کہانیاں لکھی گئیں، سچ بولے گئے، آنسو بہے۔ شہر نے پہلی بار عورتوں کی تحریروں میں اپنا عکس دیکھا۔ مخالفت ہوئی، الزام لگے، مگر نیلم ڈٹی رہی۔
جب دھمکیاں آئیں تو ریاست نیلم کے ساتھ کھڑا ہوا۔ اُس نے اپنی خاموشی توڑی، اپنی تاریخ بدلی۔
“میں نے کتابوں میں سچ پڑھا تھا، مگر آج اسے جیتے دیکھا ہے،” اُس نے کہا۔
حویلی ایک دن جل گئی—یادیں راکھ ہو گئیں، مگر نیلم کی آواز نہیں۔ اُس نے ڈائری کے آخری صفحے پر لکھا:
“خاموشی وراثت نہیں، اور بغاوت گناہ نہیں۔”
شہرِ خاموشاں اب بھی ویسا ہی تھا ، لیکن تبدیلی آئی تھی۔ نیلم ریاست بن چکی تھی—صرف نام نہیں، ایک علامت۔ اور ریاست؟ وہ اب تاریخ نہیں پڑھاتا تھا، تاریخ بننے والوں کے ساتھ کھڑا تھا۔

Want your business to be the top-listed Government Service in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address

Lahore