Novels for Novel’s lover

Novels for Novel’s lover

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Novels for Novel’s lover, Library, Lahore.

07/01/2026

حصہ سوم
شہرِ میں اب سوال عام ہو چکے تھے، اور یہی سب سے بڑی تبدیلی تھی۔ جو شہر کبھی سرگوشیوں سے بھی ڈرتا تھا، اب وہاں سوال دیواروں پر لکھے جاتے تھے، کلاسوں میں پوچھے جاتے تھے، اور گھروں میں زیرِ لب دہرائے جاتے تھے۔
نیلم جانتی تھی کہ سوال پیدا ہو جانا ہی بغاوت کا پہلا قدم ہوتا ہے۔ مگر ہر بغاوت قیمت مانگتی ہے۔
ایک صبح کالج کے دروازے پر ایک نوٹس آویزاں تھا:
“ادبی حلقہ غیر ضروری سرگرمی ہے۔ فوری طور پر بند کیا جائے۔”
نیلم نے کاغذ اتارا، تہہ کیا، اور اپنی ڈائری میں رکھ لیا۔ وہ جانتی تھی—یہ لڑائی لفظوں سے آگے جا چکی ہے۔
اسی دن شہر میں پہلی بار ایک عوامی نشست ہوئی۔ نیلم کو مدعو نہیں کیا گیا تھا، مگر اس کا ذکر ہر تقریر میں تھا۔ کوئی اسے مثال کہہ رہا تھا، کوئی خطرہ۔
ریاست اس نشست میں خاموش بیٹھا تھا۔ ماضی میں وہ شاید خاموش ہی رہتا، مگر اب خاموشی اس کے لیے ممکن نہیں تھی۔
اس نے کھڑے ہو کر کہا:
“اگر ایک عورت کے بولنے سے نظام ہل جائے،
تو مسئلہ عورت نہیں،
نظام ہوتا ہے۔”
ہال میں ایک لمحے کو سکوت چھا گیا—وہ سکوت جو ٹوٹنے والا ہو۔
اسی رات نیلم کو دھمکی آمیز خط ملا۔ الفاظ کم تھے، ارادے واضح۔ پہلی بار اس کے ہاتھ کانپے۔ اس نے خط جلایا، مگر خوف کو نہیں۔
اس نے ریاست کو پیغام بھیجا:
“کیا ڈرنا کمزوری ہے؟”
جواب فوراً آیا:
“ڈرنا انسانی فطرت ہے،
خاموش رہ جانا انتخاب۔”
نیلم نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ شہر سو رہا تھا، مگر اس کی نیند بے چین تھی۔
اگلے دن ادبی حلقہ بند کر دیا گیا۔ دروازے پر تالا تھا، مگر لڑکیوں کی آنکھوں میں نہیں۔ وہ نیلم کے گھر جمع ہوئیں۔ بغیر اسٹیج، بغیر مائیک—مگر آواز مکمل۔
نیلم نے کہا:
“آواز جگہ کی محتاج نہیں،
حوصلے کی محتاج ہوتی ہے۔”
یہ جملہ کسی نے ریکارڈ کر لیا۔ اگلے ہفتے شہر کے باہر بھی سنا گیا۔
ریاست کو نوکری کی آخری تنبیہ ملی۔ اس نے خط پڑھا، مسکرایا، اور استعفیٰ لکھ دیا۔
“کچھ عہدے چھوڑنے پڑتے ہیں،
تب جا کر انسان بچتا ہے۔”
شہرِ خاموشاں اب تقسیم ہو چکا تھا—ایک طرف خوف، دوسری طرف سوال۔
اور سوالوں کا کوئی جواب صرف لفظ نہیں ہوتے،
وہ عمل مانگتے ہیں۔
نیلم جانتی تھی،
اب اگلا قدم صرف بولنا نہیں،
سامنے آنا تھا۔
اور ریاست جانتا تھا،
اب تاریخ پیچھے نہیں رہ گئی،
وہ دروازے پر دستک دے رہی ہے۔
کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی تھی—
مگر خاموشی اب آخری صفحہ نہیں تھی۔

07/01/2026

حصہ دوم: گونج
شہرِ اب بھی بظاہر ویسا ہی تھا، مگر اس کی دیواروں کے اندر سرگوشیاں بدل چکی تھیں۔ نیلم کے لفظ لوگوں کی زبان پر نہیں، دلوں میں زندہ تھے۔ وہ حویلی جو جل چکی تھی، اس کی راکھ میں بھی سوال باقی تھے—اور سوال کبھی راکھ نہیں ہوتے۔
نیلم اب کالج کی استاد نہیں رہی تھی، وہ ایک نظریہ بن چکی تھی۔ ادبی حلقہ اب صرف لڑکیوں تک محدود نہ تھا؛ مائیں، بہنیں، حتیٰ کہ کچھ مرد بھی خاموشی توڑنے لگے تھے۔ لفظ ڈرتے ڈرتے نکلتے، مگر نکلتے ضرور تھے۔
ریاست نے تدریس چھوڑ دی تھی، مگر سیکھانا نہیں۔ وہ اب کتابوں کے صفحوں میں نہیں، لوگوں کی آنکھوں میں تاریخ پڑھتا تھا۔ اسے اندازہ ہوا کہ اصل تاریخ وہ نہیں جو لکھی جائے، بلکہ وہ جو جھیلی جائے۔
ایک دن ایک طالبہ نے اس سے پوچھا،
“سر، اگر سچ بولنے کی قیمت سب کچھ ہو، تو کیا پھر بھی بولنا چاہیے؟”
ریاست نے پہلی بار بغیر توقف جواب دیا،
“سچ کی قیمت سب کچھ نہیں،
خاموشی کی قیمت پوری زندگی ہوتی ہے۔”
یہ جملہ کسی نے لکھ لیا۔ اگلے دن شہر کی دیوار پر چاک سے درج تھا۔
نیلم اور ریاست اب کم ملتے تھے، مگر دوری میں بھی ایک ربط تھا۔ کبھی کوئی کتاب، کبھی کوئی تحریر، کبھی کسی شاگرد کا ذکر—یہی ان کی گفتگو تھی۔ محبت اب خواہش نہیں رہی تھی، ذمہ داری بن چکی تھی۔
ایک شام نیلم نے ریاست کو خط لکھا:
“ہم ساتھ نہیں، مگر ایک سمت میں ہیں۔
اور شاید یہی کافی ہے۔”
ریاست نے جواب نہیں لکھا، مگر اسی رات اس نے ایک جلسے میں کھڑے ہو کر کہا:
“جو عورت بولنا سکھا دے،
وہ صرف عورت نہیں،
وہ عہد ہوتی ہے۔”
ہجوم میں نیلم موجود نہیں تھی، مگر اس کی خاموش موجودگی ہر لفظ میں تھی۔
شہر نے اب مخالفت کم اور خوف زیادہ محسوس کرنا شروع کر دیا تھا۔ کیونکہ خاموش لوگ اگر بولنا سیکھ جائیں، تو طاقتور بے زبان ہو جاتے ہیں۔
کئی سال بعد، شہرِ کے دروازے پر ایک تختی لگی:
“یہاں لفظوں نے بولنا سیکھا۔”
نیلم نے اسے دیکھا، مسکرائی، اور دل ہی دل میں کہا:
“خاموشی ہاری نہیں،
سمجھ لی گئی ہے۔”
ریاست نے دور سے شہر کو دیکھا—اور پہلی بار تاریخ اس کے سامنے نہیں، اس کے پیچھے تھی۔
کیونکہ کچھ کہانیاں ختم نہیں ہوتیں،
وہ لوگوں کے اندر چلتی رہتی ہیں۔
اور خاموشی؟
وہ اب صرف ایک عنوان رہ گئی تھی۔

07/01/2026

عنوان: خاموشی
شہرِ خاموشاں کی شام ہمیشہ اداس ہوتی تھی، مگر اُس دن نیلم کو یوں لگا جیسے ہوا بھی سوال کر رہی ہو۔ وہ پرانی حویلی کی چھت پر کھڑی تھی، جہاں اینٹوں کے بیچ دبی یادیں سانس لیتی تھیں۔ نیلم کے ہاتھ میں ماں کی لکھی آخری ڈائری تھی—الفاظ سادہ، مگر زخم گہرے۔
“عورت ہونا کمزوری نہیں، مگر اس کمزوری کو مان لینا جرم ہے۔”
یہ جملہ پڑھتے ہی نیلم کی آنکھیں بھر آئیں۔ ماں نے ساری عمر خاموشی میں گزار دی تھی، اور باپ نے اس خاموشی کو عزت کا نام دیا تھا۔ نیلم نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ خاموش نہیں رہے گی۔
اسی شہر میں ریاست رہتا تھا—ایک ایسا مرد جو اپنے اصولوں کے قلعے میں قید تھا۔ لوگ کہتے تھے وہ سخت دل ہے، مگر نیلم جانتی تھی کہ اُس کی آنکھوں میں چھپی اداسی جھوٹ نہیں بولتی۔ وہ دونوں ایک ہی کالج میں پڑھاتے تھے؛ نیلم ادب، ریاست تاریخ۔ الفاظ اور ماضی، دونوں کا بوجھ مشترک تھا۔
ریاست کی آنکھوں میں ہمیشہ ایک ٹھہرا ہوا درد رہتا تھا، جیسے وہ کچھ کہنا چاہتا ہو مگر لفظ اس سے روٹھ گئے ہوں۔ نیلم نے پہلی بار اسے کالج کی راہداری میں دیکھا تو دل نے عجیب سا شور مچایا۔ وہ جانتی تھی، یہ شور عام نہیں۔
نیلم خود بھی خاموش دکھوں کی امین تھی۔ ماں کی بے آواز قربانیوں نے اسے بولنا سکھایا تھا، مگر دنیا نے اسے خاموش رہنے کا سبق دیا تھا۔ دونوں ایک جیسے تھے—ٹوٹے ہوئے، مگر مضبوط۔
ایک دن نیلم نے کلاس میں سوال پوچھا،
“اگر تاریخ نے ہمیشہ طاقتور کا ساتھ دیا ہے، تو کمزور کی آواز کہاں گئی؟”
ریاست خاموش ہو گیا۔ پہلی بار کسی نے اُس کے یقین کو ہلا دیا تھا۔ کلاس کے بعد اُس نے نیلم سے کہا،
“ہر آواز سنی نہیں جاتی۔”
نیلم نے مسکرا کر جواب دیا،
“مگر ہر آواز اٹھائی ضرور جا سکتی ہے۔”
یہ جملہ ریاست کے دل میں اتر گیا۔
وہ اکثر لائبریری میں ملتے۔ کتابوں کے بیچ خاموش ملاقاتیں، ادھورے جملے، نظریں جو سب کہہ دیتی تھیں۔ ریاست چاہتا تھا کہ نیلم رک جائے، مگر وہ جانتا تھا کہ نیلم رکنے والوں میں سے نہیں۔
ایک دن اس نے دھیرے سے کہا،
“اگر میں کہوں کہ تم میرے یقین بدل رہی ہو؟”
نیلم مسکرا دی۔
“اور اگر میں کہوں کہ میں خود کو بچا رہی ہوں؟”
ریاست خاموش ہو گیا۔ محبت میں بھی وہ خاموشی کا عادی تھا۔
جب نیلم نے لڑکیوں کے لیے آواز اٹھائی، تو شہر نے اسے بدنام کیا۔ ریاست نے پہلی بار سب کے سامنے اس کا ساتھ دیا۔
“جو عورت سچ بولے، وہ کردار کی نہیں، معاشرے کی جانچ ہوتی ہے۔”
یہ الفاظ آگ بن گئے۔
نیلم نے اس رات کہا،
“میں تمہیں مشکل میں ڈال رہی ہوں۔”
ریاست نے جواب دیا،
“تم نے مجھے جینے کی وجہ دی ہے۔”
محبت مکمل نہ ہو سکی، مگر مضبوط ہو گئی۔ نیلم نے شہر بدل دیا، ریاست نے خود کو۔
وہ دونوں ساتھ نہ تھے، مگر ایک دوسرے کا حوصلہ بن چکے تھے۔
نیلم نے لکھا:
“کچھ محبتیں حاصل ہونے کے لیے نہیں ہوتیں،
وہ انسان بنانے آتی ہیں۔”
اور ریاست نے پہلی بار تاریخ نہیں، حال کا ساتھ دیا۔
دن گزرتے گئے۔ نیلم نے کالج میں لڑکیوں کے لیے ایک ادبی حلقہ قائم کیا۔ کہانیاں لکھی گئیں، سچ بولے گئے، آنسو بہے۔ شہر نے پہلی بار عورتوں کی تحریروں میں اپنا عکس دیکھا۔ مخالفت ہوئی، الزام لگے، مگر نیلم ڈٹی رہی۔
جب دھمکیاں آئیں تو ریاست نیلم کے ساتھ کھڑا ہوا۔ اُس نے اپنی خاموشی توڑی، اپنی تاریخ بدلی۔
“میں نے کتابوں میں سچ پڑھا تھا، مگر آج اسے جیتے دیکھا ہے،” اُس نے کہا۔
حویلی ایک دن جل گئی—یادیں راکھ ہو گئیں، مگر نیلم کی آواز نہیں۔ اُس نے ڈائری کے آخری صفحے پر لکھا:
“خاموشی وراثت نہیں، اور بغاوت گناہ نہیں۔”
شہرِ خاموشاں اب بھی ویسا ہی تھا ، لیکن تبدیلی آئی تھی۔ نیلم ریاست بن چکی تھی—صرف نام نہیں، ایک علامت۔ اور ریاست؟ وہ اب تاریخ نہیں پڑھاتا تھا، تاریخ بننے والوں کے ساتھ کھڑا تھا۔

24/12/2025
01/03/2025

حضورنبی کریم ﷺ نے متعدد نکاح کیوں کیے؟❤️
ایک پروفیسر صاحب لکھتے ہیں کہ کافی عرصہ کی بات ہے کہ جب میں لیاقت میڈیکل کا لج جامشورو میں سروس کررہا تھا تو وہاں لڑکوں نے سیرت النبی ﷺ کانفرس منعقد کرائی اورتمام اساتذہ کرام کو مدعو کیا ۔
چنانچہ میں نے ڈاکٹر عنایت اللہ جوکھیو ( جو ہڈی جوڑ کے ماہر تھے) کے ہمراہ اس کانفرنس میں شرکت کی۔ اس نشست میں اسلامیات کے ایک لیکچرار نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی پرائیویٹ زندگی پر مفصل بیان کیا اور آپ کی ایک ایک شادی کی تفصیل بتائی کہ یہ شادی کیوں کی اور اس سے امت کو کیا فائدہ ھوا..

"Why did Prophet Muhammad (peace be upon him) marry multiple wives? A professor writes that it is worth mentioning that when I was serving at Liaquat Medical College Jamshoro, the students organized a Seerat-un-Nabi (peace be upon him) conference and invited all the respected teachers. So, I attended this conference with Dr. Anayatullah Jokhio, who was an expert in bone joints. In this session, a lecturer of Islamic studies explained the private life of the Holy Prophet (peace be upon him) in detail and told the details of each of his marriages, why he married and what benefit the Ummah got from it."
یہ بیان اتنا موثر تھا کہ حاضرین مجلس نے اس کو بہت سراہا ۔ کانفرس کے اختتام پر ہم دونوں جب جامشورو سے حیدر آباد بذریعہ کار آرہے تھے تو ڈاکٹر عنایت اللہ جوکھیو نے عجیب بات کی...
اس نے کہا کہ ۔۔۔۔۔۔ آج رات میں دوبارہ مسلمان ھوا ھوں
میں نے تفصیل پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ آٹھ سال قبل جب وہ FRCS کے لیے انگلستان گئے تو کراچی سے انگلستان کا سفر کافی لمبا تھا ہوائی جہاز میں ایک ائیر ہوسٹس میرے ساتھ آ کر بیٹھ گئی ۔

The statement was so effective that the audience applauded it greatly. At the end of the conference, when we were traveling from Jamshoro to Hyderabad, Dr. Inayatullah Jokhio said something strange. He said, "Tonight I have become a Muslim again." When I asked for details, he told me that eight years ago, when he went to England for FRCS, the journey from Karachi to England was quite long. An air hostess came and sat with me in the plane...
ایک دوسرے کے حالات سے آگاہی کے بعد اس عورت نے مجھ سے پوچھا کہ تمہارا مذہب کیا ہے؟
میں نے بتایا اسلام ۔ ہمارے نبی ﷺ کا نام پوچھا میں نے حضرت محمد ﷺ بتایا ، پھر اس لڑکی نے سوال کیا کہ کیا تم کو معلوم ہے کہ تمہارے نبی ﷺ نے گیارہ شادیاں کی تھیں؟
میں نے لاعلمی ظاہر کی تو اس لڑکی نے کہا یہ بات حق اور سچ ہے ۔ اس کے بعد اس لڑکی نے حضور ﷺ کے بارے میں (معاذاللہ ) نفسانی خواہشات کے غلبے کے علاوہ دو تین دیگر الزامات لگائے، جس کے سننے کے بعد میرے دل میں (نعوذ بااللہ) حضور ﷺکے بارے میں عجیب بے چینی اور شک پیدا ہوگیا اور جب میں لندن کے ہوائی اڈے پر اترا تو میں مسلمان نہیں تھا۔
آٹھ سال انگلستان میں قیام کے دوران میں کسی مسلمان کو نہیں ملتا تھا، حتیٰ کہ عید کی نماز تک میں نے ترک کر دی۔ اتوار کو میں گرجوں میں جاتا اور وہاں کے مسلمان مجھے عیسائی کہتے تھے۔

After becoming aware of each other's situations, the woman asked me what my religion was. I told her Islam and when she asked for the name of our Prophet (peace be upon him), I told her it was Prophet Muhammad (peace be upon him). Then the girl asked me if I knew that our Prophet (peace be upon him) had eleven marriages. I expressed my ignorance, and she said that this fact was true and real. After that, the girl, in addition to being overwhelmed by her psychological desires, made two or three other accusations about the Prophet (peace be upon him), which, upon hearing, caused me to develop (God forbid) a hatred for the Prophet (peace be upon him) in my heart. When I landed at London's airport after eight years of stay in England, I was not a Muslim anymore. During my stay in England, I did not find any Muslims, to the extent that I gave up attending Eid prayers. On Sundays, I would go to Church and the Muslims there would call me a Christian
جب میں آٹھ سال بعد واپس پاکستان آیا تو ہڈی جوڑ کا ماہر بن کر لیاقت میڈیکل کالج میں کام شروع کیا ۔ یہاں بھی میری وہی عادت رہی ۔ آج رات اس لیکچرار کا بیان سن کر میرا دل صاف ہو گیا اور میں نے پھر سے کلمہ پڑھا ہے۔
غور کیجئے ایک عورت کے چند کلمات نے مسلمان کو کتنا گمراہ کیا اور اگر آج ڈاکٹر عنایت اللہ کا یہ بیان نہ سنتا تو پتہ نہیں میرا کیا بنتا؟
اس کی وجہ ہم مسلمانوں کی کم علمی ہے۔ ہم حضور ﷺ کی زندگی کے متعلق نہ پڑھتے ہیں اور نہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں ۔
کئی میٹنگز میں جب کوئی ایسی بات کرتا ہے تو مسلمان کوئی جواب نہیں دیتے، ٹال دیتے ہیں۔ جس سے اعتراض کرنے والوں کےحوصلے بلند ہوجاتے ہیں ۔
اس لئیے بہت اہم ہے کہ ہم اس موضوع کا مطالعہ کریں اور موقع پر حقیقت لوگوں کو بتائیں ۔
میں ایک دفعہ بہاولپور سے ملتان بذریعہ بس سفر کر رہا تھا کہ ایک آدمی لوگوں کو حضور ﷺ کی شادیوں کے بارے میں گمراہ کر رہا تھا۔ میں نے اس سے بات شروع کی تو وہ چپ ہوگیا اور باقی لوگ بھی ادھر ادھر ہوگئے...

"When I returned to Pakistan after eight years, I became an expert in bone joints and started working at Liaquat Medical College. I had the same habit here as well. After listening to this lecturer's speech tonight, my heart became clear and I recited the kalima again.

Think about how a few words from a woman have misled Muslims, and if I hadn't heard Dr. Anayatullah's speech today, I don't know what would have become of me. The reason for this is our lack of knowledge. We don't read or try to learn about the life of the Prophet (PBUH).

In many meetings, when someone says something like this, Muslims don't respond and ignore it, which raises the morale of those who object. That's why it's important that we study this topic and tell people the truth when the opportunity arises.

Once I was traveling by bus from Bahawalpur to Multan when a man was misleading people about the Prophet's marriages. When I started talking to him, he became quiet and the others also gathered around
لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کی خاطر جانیں قربان کی ہیں۔ کیا ہما رے پاس اتنا وقت نہیں کہ ہم اس موضوع کے چیدہ چیدہ نکات کو یاد کر لیں اور موقع پر لوگوں کو بتائیں ۔
اس بات کا احساس مجھے ایک دوست ڈاکٹر نے دلایا جو انگلستان میں ہوتے ہیں اور یہاں ایک جماعت کے ساتھ آئے تھے ۔ انگلستان میں ڈاکٹر صاحب کے کافی دوست دوسرے مذاہب سے تعلق رکھتے تھے ، وہ ان کو اس موضوع پر صحیح معلومات فراہم کرتے رہتے ہیں ۔
انہوں نے چیدہ چیدہ نکات بتائے، جو میں پیش خدمت کررہا ہوں۔ اتوار کے دن ڈاکٹر صاحب اپنے دوستو ں کے ذریعے ”گرجا گھر“ چلے جاتے ہیں ، وہاں اپنا تعارف اور نبی کریم ﷺکا تعارف کراتے ہیں ۔ عیسائی لوگ خاص کر مستورات آپ کی شادیوں پر اعتراض کرتی ہیں ۔ ڈاکٹر صاحب جو جوابات دیتے وہ مندرجہ ذیل ہیں:
◀️ (1) میرے پیارے نبی ﷺ نے عالم شباب میں (25 سال کی عمر میں) ایک سن رسیدہ بیوہ خاتون حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی عمر 40 سال تھی اور جب تک حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا زندہ رہیں آپ نے دوسری شادی نہیں کی۔
50 سال کی عمر تک آپ نے ایک بیوی پر قناعت کیا ۔ (اگر کسی شخص میں نفسانی خواہشات کا غلبہ ہو تو وہ عالم ِ شباب کے 25 سال ایک بیوہ خاتون کے ساتھ گزارنے پر اکتفا نہیں کرتا ) حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد مختلف وجوہات کی بناء پر آپ ﷺنے نکا ح کئے ۔
پھر اسی مجمع سے ڈاکٹر صاحب نے سوال پوچھا کہ یہاں بہت سے نوجوان بیٹھے ہیں ...... آپ میں سے کون جوان ہے جو 40 سال کی بیوہ سے شادی کرے گا...

"People have sacrificed their lives for the honor and dignity of the Prophet Muhammad (peace be upon him). Don't we have enough time to learn the details of this issue and inform people about it when the opportunity arises? A friend of mine, who is a doctor in England and came here with a group, made me realize this. Dr. Sahib had many friends of other religions in England, and he used to provide them with accurate information on this topic. He told them the detailed points, which I am presenting here. On Sunday, Dr. Sahib went to church through his friends, where he introduced himself and introduced the Prophet Muhammad (peace be upon him). Especially Christian women object to your weddings. Dr. Sahib's answers are as follows:

(1) My beloved Prophet Muhammad (peace be upon him) married a mature widow, Hazrat Khadijah (may Allah be pleased with her), in the world of youth (at the age of 25). Hazrat Khadijah was 40 years old at the time, and as long as she was alive, you did not marry another woman. Until the age of 50, you satisfied yourself with one wife. (If a person is dominated by psychological desires, he does not limit himself to spending time with a widow woman in the youth world.) Due to various reasons, you ﷺ married other wives after the death of Hazrat Khadijah.

Then, at the same gathering, Dr. Sahib asked the question, "There are many young people sitting here... which young person among you will marry a 40-year-old widow...?"
سب خاموش رھے ۔ ڈاکٹر صاحب نے ان کو بتایا کہ نبی کریم ﷺ نے یہ کیا ہے ، پھر ڈاکٹر صاحب نے سب کو بتایا کہ جو گیارہ شادیاں آپ ﷺنے کی ہیں سوائے ایک کے، باقی سب بیوگان تھیں ۔ یہ سن کر سب حیران ہوئے ۔
پھر مجمع کو بتایا کہ جنگ اُحد میں ستر صحابہ رضی اللہ عنہم شہید ہوئے ۔ نصف سے زیادہ گھرانے بے آسرا ہوگئے ، بیوگان اور یتیموں کا کوئی سہارا نہ رہا۔
اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو بیوگان سے شادی کرنے کو کہا ، لوگوں کو ترغیب دینے کے لئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ۔۔۔
◀️ (2) حضرت سودہ رضی اللہ عنہا
◀️ (3) حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور
◀️ (4)حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا سے مختلف اوقات میں نکاح کئے ۔ آپ کو دیکھا دیکھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بیوگان سے شادیاں کیں جس کی وجہ سے بے آسرا خواتین کے گھر آباد ہوگئے -
◀️ (5) عربوں میں کثرت ازواج کا رواج تھا۔ دوسرے شادی کے ذریعے قبائل کو قریب لانا اور اسلام کے فروغ کا مقصد آپ ﷺ کے پیش نظر تھا۔
ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ عربوں میں دستور تھا کہ جو شخص ان کا داماد بن جاتا اس کے خلاف جنگ کرنا اپنی عزت کے خلاف سمجھتے۔
ابوسفیان رضی اللہ عنہ اسلام لانے سے پہلے حضور ﷺکے شدید ترین مخالف تھے ۔ مگر جب ان کی بیٹی ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے حضور ﷺ کا نکاح ہوا تو یہ دشمنی کم ہو گئی۔ ہوا یہ کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا شروع میں مسلمان ہو کر اپنے مسلمان شوہر کے ساتھ حبشہ ہجرت کر گئیں ، وہاں ان کا خاوند نصرانی ہو گیا.

Everyone remained silent. Doctor sahib told them that this was done by the Prophet ﷺ. Then Doctor sahib told everyone that besides one, all of the Prophet's ﷺ eleven marriages were with widows. Upon hearing this, everyone was surprised.

Then Doctor sahib told the gathering that in the Battle of Uhud, over seventy companions were martyred. More than half of the households were left without a male provider, and there was no support for widows and orphans. To solve this issue, the Prophet ﷺ instructed his companions to marry widows, to encourage people to do so.

The noble companions, including Hazrat Sauda, Hazrat Umme Salma, and Hazrat Zainab bint Khuzaima, were married at different times. The companions saw you, and as a result of marrying widows, the homes of destitute women were filled.

It was customary among the Arabs to have multiple wives. The purpose of promoting Islam and bringing tribes closer together was achieved through second marriages, according to your guidance. Doctor sahib explained that it was the custom of the Arabs to consider it a matter of honor to fight against the person who became their son-in-law.

Abu Sufyan, may Allah be pleased with him, was the Prophet's ﷺ staunchest opponent before he embraced Islam. However, when his daughter, Um Habibah, may Allah be pleased with her, married the Prophet ﷺ, the enmity decreased. This happened because Um Habibah, may Allah be pleased with her, had become a Muslim and migrated to Ethiopia with her Muslim husband. There, her husband became a Christian
حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کا والد قبیلہ مصطلق کا سردار تھا۔ یہ قبیلہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان رہتا تھا ۔ حضور ﷺ نے اس قبیلہ سے جہاد کیا ، ان کا سردار مارا گیا ۔
حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا قید ہوکر ایک صحابی رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آئیں ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مشورہ کر کے سر دار کی بیٹی کا نکاح حضور ﷺ سے کر دیا اور اس نکاح کی برکت سے اس قبیلہ کے سو گھرانے آزاد ہوئے اور سب مسلمان ہو گئے

Hazrat Juwairiyah (RA)'s father was a leader of the Mustaliq tribe, which lived between Mecca and Medina. The Prophet (PBUH) waged Jihad against this tribe, and their leader was killed.

Hazrat Juwairiyah (RA) was taken as a captive and later joined the household of a Sahabi (companion) (RA). The companions (RA) consulted and suggested that the daughter of the tribe's leader should marry the Prophet (PBUH). The blessed marriage resulted in the release of a hundred families from captivity, and they all embraced Islam.
خیبر کی لڑائی میں یہو۔د۔ی سردار کی بیٹی حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا قید ہو کر ایک صحابی رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آئیں ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مشورے سے ا ن کا نکاح حضور اکرم ﷺ سے کرا دیا ۔
◀️ (8) اسی طر ح میمونہ رضی الله عنہا سے نکاح کی وجہ سے نجد کے علاقہ میں اسلام پھیلا ۔ ان شادیوں کا مقصد یہ بھی تھا کہ لوگ حضور ﷺکے قریب آسکیں ، اخلاقِ نبی کا مشاہدہ کر سکیں تاکہ انہیں راہ ہدایت نصیب ہو ۔
◀️ (9) حضرت ماریہ رضی اللہ عنہا سے نکاح بھی اسی سلسلہ کی کڑی تھا۔ آپ پہلے مسیحی تھیں اور ان کا تعلق ایک شاہی خاندان سے تھا۔ ان کو بازنطینی بادشاہ شاہ مقوقس نے بطور ہدیہ کے آپ ﷺکی خدمت اقدس میں بھیجا تھا.

7)In the battle of Khaybar, the daughter of a Je۔w.ish leader was taken captive and later embraced Islam. Her name was Hazrat Safiya (RA) and she became the wife of a companion (RA) after seeking the counsel of other companions. Because of the marriages to these women, Islam spread to new areas as people were drawn to the Prophet's (PBUH) teachings and morals.(8) In this way, through the marriage of Ummul Mu'mineen Hazrat Maimona (RA), Islam spread to the area of Najd. The purpose of these marriages was also to allow people to be close to the Prophet ﷺ, witness his noble character, and be guided towards the path of guidance. 9)This was also the case with Hazrat Mariya (RA), who was initially Christian and had connections to a royal family. She was sent as a gift to the Prophet (PBUH) by the Byzantine Emperor, and later married him.
(10) The marriage of Hazrat Zainab bint Jahsh (may Allah be pleased with her) with Hazrat Zaid (may Allah be pleased with him), who was known as the adopted son of Prophet Muhammad (peace be upon him), was annulled. Hazrat Zaid (may Allah be pleased with him) was referred to as the "son of the mouth" by the Prophet (peace be upon him). When the occasion was not suitable, Hazrat Zaid (may Allah be pleased with him) divorced her. The Prophet (peace be upon him) then married her and proved that the adopted son did not fall under the category of a real son.

◀️ (11) Continuing his speech, Dr. Sahib explained that the foundation of Islamic sciences is the Holy Quran and the pure life of Prophet Muhammad (peace be upon him). To preserve every aspect of his pure life, especially for men, the Companions of the Prophet (may Allah be pleased with them), especially the Ahl-e-Suffa, participated actively. A group was needed to perform this task among women.

It was difficult to work with a female Companion.
اس کام کی تکمیل کے لئیے آپ ﷺ نے کئی نکاح کیے ۔ آپ نے حکما ً ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کو ارشاد فرمایا تھا کہ ہر اس بات کو نوٹ کریں جو رات کے اندھیرے میں دیکھیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جو بہت ذہین، زیرک اور فہیم تھیں، حضور ﷺ نے نسوانی احکام و مسائل کے متعلق آپ کو خاص طور پر تعلیم دی ۔
حضور اقدس ﷺ کی وفات کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا 48 سال تک زندہ رہیں اور 2210 احادیث آپ رضی اللہ عنہا سے مروی ہیں ۔
صحابہ کرام رضی اللہ علیہم اجمعین فرماتے ہیں کہ جب کسی مسئلے میں شک ہوتا ہے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس کا علم ہوتا ۔
اسی طرح حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایات کی تعداد 368 ہے ۔
ان حالا ت سے ظاہر ہوا کہ ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کے گھر، عورتوں کی دینی درسگاہیں تھیں کیونکہ یہ تعلیم قیامت تک کے لئیے تھیں اور سار ی دنیا کے لیے تھیں اور ذرائع ابلاغ محدود تھے، اس لیے کتنا جانفشانی سے یہ کام کیا گیا ہو گا، اس کا اندازہ آج نہیں لگایا جاسکتا۔

To complete this task, you ﷺ entered into several marriages. You instructed the wives of the Prophet ﷺ to take note of everything they observed in the darkness of the night. Hazrat Aisha (may Allah be pleased with her), who was very intelligent, wise, and insightful, was specially educated by you ﷺ on matters related to women's rulings and issues.

After the demise of the Prophet ﷺ, Hazrat Aisha (may Allah be pleased with her) lived for 48 years and transmitted 2,210 ahadith. The Companions of the Prophet ﷺ unanimously agreed that whenever they had any doubt on an issue, Hazrat Aisha (may Allah be pleased with her) had knowledge about it.

Likewise, the number of narrations transmitted by Hazrat Umm Salamah (may Allah be pleased with her) is 368. It is evident from these facts that the homes of the wives of the Prophet ﷺ were centers of religious education for women, as this knowledge was for eternity and for the whole world, and means of communication were limited. Therefore, it is difficult to estimate how much effort was put into this task
آخر میں ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ یہ مذکورہ بالا بیان میں گرجوں میں لوگوں کو سناتا ہوں اور وہ سنتے ہیں ۔ باقی ہدایت دینا تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے ۔
اگر پڑھے لکھے مسلمان ان نکات کو یاد کرلیں اور کوئی بدبخت حضور ﷺ کی ذات پر حملہ کرے تو ہم سب اس کا دفاع کریں ۔
*🌹جزی الله عنا سيدنا محمدا صلی اللہ علیہ وسلم بما هو اهله🌹*
کم سے کم اسکو اپنے ہر گروپ وہاٹساپ فیس بک اور تمام کونٹیکٹ بک پر شیر کرکے اپنی ذمہ داری نبھائیں
اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے اور عمل کرنے والا بنائے ۔ (آمین)

In the above statement, it is mentioned that Prophet Muhammad (peace be upon him) married several times to complete the task given to him by Allah. He instructed his wives to take note of everything they saw in the darkness of the night. Hazrat Aisha (may Allah be pleased with her) was particularly knowledgeable about women's religious affairs and was taught by the Prophet (peace be upon him) in this regard. After the Prophet's death, Hazrat Aisha (may Allah be pleased with her) lived for 48 years and narrated 2,210 Hadiths. The companions (may Allah be pleased with them) said that when there was any doubt about a matter, Hazrat Aisha (may Allah be pleased with her) knew about it. Similarly, the number of Hadiths narrated by Hazrat Umm Salamah (may Allah be pleased with her) is 368. It is evident from this that the homes of the Prophet's wives were places of religious learning because this teaching was for all of eternity and for the whole world, and the means of dissemination were limited, so this work was done with great care. It cannot be estimated how much effort was put into this.

Finally, Dr. Sahib mentioned that he reads the above statement to people in gatherings, and they listen. The rest of the guidance is in the hands of Allah Almighty. If educated Muslims remember these points and if anyone attacks the honor of the Prophet (peace be upon him), we should all defend him. If at least we share this on our WhatsApp, Facebook, and all contact books, we fulfill our responsibility. May Allah Almighty grant us all success and make us doers of good deeds (Ameen)

25/12/2024

آپ نے حضرت ابراہیمؑ کے متعلق کبھی ایک بات نوٹ کی؟

اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ان کی personality کے متعلق کافی کچھ بتایا ہےمثلاً دو جگہ تو یہ بتایا ہے کہ وہ ایک بہت ہی نرم دل کے مالک تھے ، ایک بہت پیار کرنے والی شخصیت، ایک رحمدل انسان۔
(التوبہ 09:114 ، ھود 11:75)

لیکن اگر آپ میری طرح قرآن پاک کو سٹڈی کر رہے ہیں تو آپ دیکھیں گے کہ قرآ ن پاک میں ان کی شخصیت کا ایک اور پہلو بھی نظر آتا ہے ۔

ایک متجسس شخصیت ، ایک curious personality ۔

مثلاً کبھی وہ ستاروں کی طرف دیکھ کر سوچتے ہیں کہ شاید یہ میرا رب ہے ، لیکن پھراسے غروب ہوتا دیکھ کر اس سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں ۔
(الانعام 06:76)

پھر کبھی وہ چاند کو چمکتا دیکھ کروہ اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ شاید یہ میرا رب ہے لیکن وہ بھی غروب ہو جاتا ہے ۔
(الانعام 06:77)

صرف یہاں تک ہی نہیں بلکہ جب وہ سورج کو نکلتا دیکھتے ہیں تو اس کی بارے میں بھی تجسس کا اظہار کرتے ہیں کہ یہ تو سب سے بڑا ہے ، شاید یہ میرا رب ہے لیکن بالآخر اسے بھی غروب ہوتا دیکھ کر اس سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں ۔ (الانعام 06:78)

آپ کچھ نوٹس کر رہے ہیں ؟ He is pondering, He is curious ۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ نبوت کے بعد بھی ان کی curiosity ، ان کا تجسس ختم نہیں ہوتا بلکہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ مجھے مردے زندہ ہوتے دیکھنے ہیں (البقرۃ 02:260) اور اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتے بھی ہیں کہ ابراہیم کیا تمہیں ایمان نہیں ہے ؟ تو وہ آگے سے جواب دیتے ہیں کہ ایمان تو ہے لیکن اے اللہ میرے دل کو سکون آ جائے گا ۔ (البقرۃ 02:260)

اور پھر چار پرندے ذبح کر کہ پہاڑوں پر رکھنے والا واقعہ ہوتا ہے کہ جو زندہ ہو کر ان کے پاس بھاگتے چلے آتے ہیں ۔ (البقرۃ 02:260)

لیکن اپنے اس پیٹرن میں مجھے جو سب سے خوبصورت بات نظر آ رہی ہے وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح ان کے تجسس کو پورا کیا ۔

ہم نے ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کی مخلوقات دکھا دیں تاکہ اسے پورا یقین آ جائے۔ (الانعام 06:75)

صرف ایک منٹ کے لیے امیجن کریں کہ انہوں نے کیا کیا مخلوقات دیکھ لی ہوں گی ۔

اگر آپ امیجن نہیں کر پا رہے تو میں آپ کو ایک hint دے دیتا ہوں ۔

عبدالرحمٰن بن عائش ایک تابعی تھے ، انہیں یہ بات ایک صحابی نے بتائی کہ ایک مرتبہ ہم صبح کے وقت محمد الرسول اللہؐ کے پاس گئے تو دیکھا کہ آپ کے چہرے پر ایک حیرت انگیز سی خوشی اور چمک نظر آ رہی ہے ۔

جب ہم نے پوچھا تو آپؐ نے ہمیں رات کو دیکھا اپنا ایک خواب سنایا کہ آج رات میں نے اپنے رب کو سب سے بہترین شکل میں دیکھا اور میں نے کہا کہ ...

اے اللہ میں حاضر ہوں ، اے اللہ میں حاضر ہوں ! اور پھر اس نے اپنا ہاتھ میرے دونوں کندھوں کے درمیان اس طرح رکھا کہ مجھے اپنے سینے میں اس کی ٹھنڈک محسوس ہوئی اور اس وقت آسمانوں اور زمین کی ہر چیز میرے سامنے آ گئی ۔ (مسند أحمد 8979)

اور یہاں تک بتانے کے بعد پھر آپؐ نے الانعام کی وہی آیت تلاوت کی (جو میں نے ابھی آپ کو بتائی) کہ ہم نے ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کی تمام مخلوقات دکھا دیں تاکہ اسے پورا یقین آ جائے ۔

اور اب آپ امیجن کریں کہ ابراہیمؑ کو کون کونسی مخلوقات دکھا دی گئی ہوں گی ۔

امیجن کریں کہ اس وقت ابراہیمؑ نے کیا کیا کچھ دیکھ لیا ہو گا کہ جس نے انہیں اتنا یقین دلا دیا کہ وہ اپنے بیٹے کو بھی قربان کرنے لگے تھے ۔

لیکن مزے کی بات کہ پیٹرن ، یہاں break نہیں ہوتا ۔

جس رات آپؐ معراج پر گئے تھےتو اس رات کے لیے سورۃ نجم میں بالخصوص ایک آیت آئی ۔ ایک ایسی آیت جو چھٹے اور ساتویں آسمان کے realm کے حوالے سے ہے۔

(سدرۃ المنتہیٰ اور جنت الماویٰ کے قریب) اس نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیوں میں سے کچھ نشانیاں دیکھ لیں ۔ (النجم 53:18)

ساتویں آسمان کے اوپر وہ جگہ ، جہاں بڑی بڑی نشانیاں موجود ہیں ، آپؐ نے ایک اور شخص کو بھی دیکھا تھا ۔ ایک ایسے نبی ، کہ جو نشانیوں کے بارے میں بہت متجسس ہوا کرتے تھے ۔۔۔ حضرت ابراہیمؑ ۔

لیکن دلچسپ بات تو یہ ہے کہ پیٹرن یہاں بھی break نہیں ہوتا ۔

حضرت ابراہیمؑ کے بیٹھنے کے posture پر غور کریں ، آپؐ نے بتایا کہ وہ بیت المعمور کی دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر اطمینان سے بیٹھے ہوئے تھے ۔(مشکوٰۃ المصابیح 5863)

جیسے ایک مطمئن شخص ، اپنے تمام تجسس پورے ہونے کے بعد ٹیک لگا کر سکون سے بیٹھا ہو ۔ یاد ہے انہوں نے ہی تو وہ دعا مانگی تھی کہ اے اللہ ، مجھے کوئی بڑی نشانی دکھا دے تاکہ میرے دل کو سکون آ جائے ۔

اور اس وقت بڑی بڑی نشانیوں والی جگہ پر وہ کیسے پرسکون ہو کر ٹیک لگائے بیٹھے ہیں ۔

لیکن میرا پیٹرن یہاں بھی break نہیں ہوتا ۔

اس تھریڈ کا آغاز میں نے ابراہیمؑ کی شخصیت کے ایک خاص پہلو سے کیا تھا جس کی اللہ تعالیٰ نے دو مرتبہ تعریف کی ہے کہ ابراہیمؑ ایک بہت نرم دل انسان تھے ، ایک مخلص دل والے انسان ۔

لہٰذا ساتویں آسمان کے اوپر انہیں ایک ایسا چارج دیا گیا جسے واقعی ایک نرم دل والا انسان ہی کر سکتا ہے ۔

امام بیہقی نے اپنی کتاب دلائل النبوۃ میں معراج کی رات کا واقعہ بہت تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے اور یہ وہ واقعہ ہے کہ جس کے اندر مجھے اپنا پیٹرن پورا ہوتا ہوا ملا ۔

کہ جب آپؐ نے حضرت ابراہیمؑ کو دیکھا تو اس وقت ان کے پاس بہت سارے چھوٹے چھوٹے بچے بھی کھیل رہے تھے ، یہ ان بچوں کی روحیں تھیں جو بہت چھوٹی عمر میں ہی فوت ہو جایا کرتے ہیں اور یہ وہ بچے ہیں جن کی روحیں ایک بہت ہی نرم دل نبی کے پاس ساتویں آسمان پر کھیلنے چلی جاتی ہیں ۔

وہ نرم دل نبی جو اپنے تمام تجسس پورے ہونے کے بعد پرسکون ہو کر بیت المعمور کی دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھے ہیں ۔

ایک ایسے درخت کے نیچے کہ جس کے پتے چراغوں جیسے ہیں۔

Want your business to be the top-listed Government Service in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address

Lahore