19/05/2026
وہ شہر جہاں کتابوں کی قیمت سونے سے زیادہ تھی ــ جہاں تک پہنچنے کے لیے لوگ صحرا میں ہی مر جاتے تھے۔ـ
کیونکہ
دنیا کے سب سے بڑے راز اکثر اُن جگہوں میں دفن ہوتے ہیں… جنہیں لوگ ویران سمجھ لیتے ہیں۔
افریقہ کے مغربی حصے میں موجود Timbuktu آج بظاہر ایک خاموش اور گرد آلود شہر دکھائی دیتا ہے… مگر ایک وقت تھا جب یہ دنیا کے امیر ترین، علمی اور پراسرار شہروں میں شمار ہوتا تھا۔
یہ شہر موجودہ ملک Mali کے شمالی حصے میں دریائے نائجر کے قریب اور عظیم صحرائے صحارا کے جنوبی کنارے پر واقع ہے۔ اسی محلِ وقوع نے اسے صدیوں تک تجارت کا مرکز بنائے رکھا۔
شمالی افریقہ سے آنے والے اونٹوں کے قافلے نمک، سونا، کپڑا اور قیمتی اشیاء لے کر یہاں پہنچتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اس دور میں بعض اوقات نمک کی قیمت سونے کے برابر سمجھی جاتی تھی۔
تاریخی شواہد کے مطابق تیمبکٹو کی بنیاد تقریباً 1100 عیسوی کے آس پاس طوارق قبائل نے رکھی۔ ابتدا میں یہ ایک موسمی تجارتی پڑاؤ تھا جہاں صحرا عبور کرنے والے قافلے آرام کیا کرتے تھے۔ مگر 13ویں صدی تک یہ مغربی افریقہ کی تجارت کا اہم مرکز بن چکا تھا۔
یہ شہر پہلے Mali Empire کا حصہ رہا۔ 1324 میں مالی سلطنت کے مشہور بادشاہ منسا موسی (Mansa Musa) نے حج کا تاریخی سفر کیا۔ اس سفر میں وہ اتنا سونا ساتھ لے کر گیا کہ مصر کی معیشت کئی سال متاثر رہی۔
اسی دور میں تیمبکٹو کو غیر معمولی ترقی ملی۔ 1327 میں عظیم Djinguereber Mosque تعمیر کی گئی، جسے اندلس کے معمار ابو اسحاق الساحلی نے ڈیزائن کیا تھا۔
15ویں اور 16ویں صدی میں تیمبکٹو اپنی علمی عظمت کے عروج پر تھا۔ اس دور میں یہاں کی آبادی تقریباً 70 ہزار سے 100 ہزار کے درمیان بتائی جاتی ہے، جبکہ ہزاروں طلبہ یہاں تعلیم حاصل کرتے تھے۔
شہر میں مختلف نسلی گروہ آباد تھے، جن میں طوارق، سونگھائی، عرب، منڈے اور فولانی شامل تھے۔ یہاں کا معاشرتی نظام تجارت، اسلامی تعلیمات اور علمی روایت پر قائم تھا۔ قاضی، علما اور تاجر شہر کے طاقتور طبقات سمجھے جاتے تھے۔
خواتین بھی تجارت اور جائیداد کے معاملات میں حصہ لیتی تھیں، جو اس دور کے لحاظ سے ایک نہایت ماڈرن اور غیر معمولی بات تھی۔
یہاں کے مدارس اور لائبریریاں پورے افریقہ اور اسلامی دنیا میں مشہور تھیں۔ خاص طور پر Sankore Madrasah ایک عظیم تعلیمی مرکز تھا جہاں فلکیات، ریاضی، فقہ، طب، جغرافیہ اور فلسفہ پڑھایا جاتا تھا۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق اس شہر میں سات لاکھ سے زائد نایاب مخطوطات موجود تھے۔ اسی لیے کہا جاتا تھا کہ۔۔۔
“تیمبکٹو میں کتابوں کی تجارت سونے سے زیادہ منافع دیتی ہے۔”
بعد میں یہ شہر Songhai Empire کے زیرِ اقتدار آگیا۔ مگر 1591 میں ایک تباہ کن واقعہ پیش آیا۔
مراکش کے سلطان احمد المنصور نے سونے کی دولت پر قبضہ کرنے کے لیے تیمبکٹو اور سونگھائی سلطنت پر حملہ کردیا۔ “جنگِ تونڈیبی” میں مراکشی فوج نے بارود اور بندوقوں کی مدد سے سونگھائی فوج کو شکست دے دی۔
اس حملے کے بعد تیمبکٹو کی علمی اور سیاسی طاقت آہستہ آہستہ ختم ہونا شروع ہوگئی۔ بہت سے علما قتل یا جلاوطن کردیے گئے اور کئی علمی مراکز تباہ ہوئے۔
19ویں صدی میں یورپی دنیا میں تیمبکٹو کو ایک افسانوی “سنہری شہر” سمجھا جاتا تھا۔ کئی مہم جو صحرا عبور کرتے ہوئے اسے تلاش کرنے نکلے مگر راستے میں مارے گئے۔
آخرکار 1828 میں فرانسیسی مہم جو رینی کایئے یہاں پہنچنے میں کامیاب ہوا۔ مگر اس نے دیکھا کہ شہر مٹی کی عمارتوں، خاموش گلیوں اور زوال پذیر معیشت کا شکار ہوچکا تھا۔
1893 میں فرانسیسی افواج نے تیمبکٹو پر قبضہ کرلیا اور یہ فرانسیسی نوآبادیاتی سلطنت کا حصہ بن گیا۔ بعد میں 1960 میں مالی کی آزادی کے بعد یہ مستقل طور پر جدید ریاست مالی کا حصہ بن گیا۔
پھر 2012 میں ایک اور سانحہ پیش آیا۔ شمالی مالی میں شدت پسند گروہوں نے تیمبکٹو پر قبضہ کرلیا۔
ان گروہوں میں انصار الدین اور القاعدہ سے وابستہ جنگجو شامل تھے۔ انہوں نے قدیم مزارات، مقبروں اور تاریخی مقامات کو “غیر اسلامی” قرار دے کر تباہ کرنا شروع کردیا۔
یونیسکو کے مطابق کئی تاریخی مزارات اور قدیم عمارتوں کو جزوی یا مکمل نقصان پہنچا۔ دنیا کو سب سے بڑا خوف یہ تھا کہ شہر کے لاکھوں نایاب مخطوطات جلا دیے جائیں گے۔
مگر تب ایک حیران کن واقعہ ہوا۔
شہر کے عام لوگوں، لائبریری مالکان اور مقامی نوجوانوں نے رات کے اندھیرے میں ہزاروں قدیم کتابیں لکڑی کے صندوقوں میں چھپا کر خفیہ راستوں سے باہر منتقل کردیں۔
تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار سے زائد مخطوطات تباہ ہونے سے بچا لیے گئے۔ بعض لوگ اس مشن کے دوران اپنی جان سے بھی گئے۔
آج تیمبکٹو کی آبادی تقریباً 55 ہزار کے قریب ہے۔ اگرچہ اب یہ دنیا کا عظیم ترین علمی مرکز نہیں رہا… مگر اس کی مٹی میں آج بھی وہ تاریخ دفن ہے جب صحرا کے بیچ ایک ایسا شہر آباد تھا ۔۔۔
جہاں لوگ سونا نہیں… علم جمع کرنے آتے تھے۔
17/05/2026
سانپ نے مرغی کو کاٹ لیا، اور اپنے جسم میں زہر کو محسوس کرتے ہوئے، وہ اپنے مرغی خانے میں پناہ لینے پہنچی۔
لیکن دوسری مرغیوں نے اسے نکال باہر کرنے کو ترجیح دی تاکہ زہر پھیل نہ جائے۔
مرغی لنگڑاتی ہوئی درد میں روتی رہی۔ کاٹنے کی وجہ سے نہیں، بلکہ اپنوں کی بے یارو مددگاری اور تحقیر کی وجہ سے جب اسے سب سے زیادہ ضرورت تھی۔
اور یوں وہ چلی گئی... تیز بخار میں جھلستی ہوئی، ایک ٹانگ گھسیٹتی، ٹھنڈی راتوں کے لیے بے بس۔
ہر قدم پر ایک آنسو گرتا۔
مرغی خانے کی مرغیوں نے اسے دور جاتے دیکھا، افق پر غائب ہوتے دیکھا۔ کچھ نے آپس میں کہا:
— جانے دو... ہم سے دور ہی مر جائے گی۔
اور جب مرغی آخرکار دھندلے افق میں گم ہو گئی، تو سب کو یقین ہو گیا کہ وہ مر چکی ہے۔
کچھ نے آسمان کی طرف دیکھا، شاید گدھوں کو اڑتے دیکھنے کی امید میں۔
وقت گزرا۔
کافی عرصے بعد، ایک پنچھی مرغی خانے میں آیا اور اعلان کیا:
— تمہاری بہن زندہ ہے! وہ یہاں سے دور ایک غار میں رہتی ہے۔
وہ ٹھیک ہو گئی، لیکن سانپ کے کاٹنے سے اس کی ایک ٹانگ جاتی رہی۔
اسے کھانا ڈھونڈنے میں دشواری ہوتی ہے اور تمہاری مدد کی ضرورت ہے۔
خاموشی چھا گئی۔ پھر بہانے شروع ہوئے:
— میں نہیں جا سکتی، انڈے دے رہی ہوں...
— میں نہیں جا سکتا، مکئی ڈھونڈ رہا ہوں...
— میں نہیں جا سکتی، اپنے چوزوں کی دیکھ بھال کرنی ہے...
یوں ایک ایک کر کے سب نے انکار کر دیا۔ پنچھی بغیر مدد کے واپس غار کو لوٹ گیا۔
پھر وقت گزرا۔
کافی عرصے بعد، وہ پنچھی دوبارہ آیا، لیکن اس بار درد بھری خبر لے کر:
— تمہاری بہن چل بسی... وہ غار میں تنہا مر گئی... کوئی نہیں تھا جو اسے دفنائے یا اس پر ماتم کرے۔
اس لمحے سب پر گہرا دکھ چھا گیا۔ مرغی خانے میں کراہٹوں کی گونج ہوئی۔
جو انڈے دے رہی تھیں، رک گئیں۔
جو مکئی ڈھونڈ رہے تھے، دانے چھوڑ بیٹھے۔
جو چوزوں کی دیکھ بھال کر رہی تھیں، لمحہ بھر کو بھول گئیں۔
پچھتاوا کسی زہر سے زیادہ کڑوا تھا۔ "ہم پہلے کیوں نہیں گئے؟" سب اپنے آپ سے پوچھنے لگے۔
اور بغیر فاصلہ یا مشقت گنے، سب روتے ہوئے غار کی طرف چل پڑے۔ اب ان کے پاس ملن کی وجہ تھی، لیکن بہت دیر ہو چکی تھی۔
جب وہ غار پر پہنچے، تو مرغی نہ ملی... صرف ایک خط ملا جس پر لکھا تھا:
زندگی میں اکثر لوگ زندہ رہتے ہوئے تمہاری مدد کے لیے ایک قدم نہیں اٹھاتے، لیکن مرنے کے بعد تمہیں دفنانے کے لیے دنیا پار کر آتے ہیں۔
اور جنازوں کے بیشتر آنسو درد کے نہیں، بلکہ پچھتاوے اور افسوس کے ہوتے ہیں۔"*
15/05/2026
سورہ مریم کی 66 سے 70 آیات کا ترجمہ ابھی پڑھ رہا تھا تو سوچا آپ احباب سے شیئر کروں اور مختصر سی تشریح بھی کردوں۔
۔
"اور انسان کہتا ہے جب میں مرجاؤں گا تو کیا پھر زندہ کر کے نکالا جاؤں گا؟
۔
کیا انسان کو یاد نہیں ہے کہ اس سے پہلے ہم نے اسے بنایا تھا اور وہ کچھ بھی نہ تھا؟
۔
سو تیرے رب کی قسم ہے ہم انہیں اور ان کے شیطانوں کو ضرور جمع کریں گے پھر ہم انہیں گھٹنوں پر گرے ہوئے دوزخ کے گرد حاضر کریں گے۔
۔
پھر ہر گروہ میں سے ان لوگوں کو الگ کرلیں گے جو رحمٰن کے مقابلے میں زیادہ سرکش بنا ہوا تھا۔
۔
پھر ہم ان لوگوں کو خوب جانتے ہیں جو دوزخ میں جانے کے زیادہ مستحق ہیں۔"
۔
تشریح: یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ ان افراد کا زکر ہے جو روز حساب کے یکسر منکر ہیں۔ گویا ایتھیسٹ یعنی ملحد ہیں یا پھر الحاد زدہ تشکیک میں پوری طرح مبتلا ہیں۔ لہٰذا اس بات کو احمقانہ سمجھ کر تمسخر کرتے ہیں کہ مٹی میں جسم گھل جانے کے بعد بھی بھلا کوئی دوبارہ جی سکتا ہے؟ یہ تمسخر میری جانب سے اضافہ نہیں ہے بلکہ دیگر آیات سے واضح ہوتا ہے جیسے سورہ الصفات کی 11 سے 19 آیات میں کفار کا اسی اعتراض پر مذاق اڑانے کا زکر ہے۔
۔
جواب دیا کہ پہلے بھی تو تمہارا یہ جسم نہیں تھا ؟ اور رب نے تمہیں تولیدی عمل سے ماں کے پیٹ میں گزارا اور ایک باشعور وجود کی صورت میں لاکھڑا کیا۔ جب وہ یہ ایک بار اپنے دست قدرت سے کرسکتا ہے جیسا تم پر ثابت ہے تو دوسری بار کرنے میں کیا حیرت کی بات ہے؟
۔
اب سخت وعید دی گئی ہے کہ جہنم میں ان منکرین خدا و آخرت کو جمع کیا جائے گا اور ساتھ میں ان کے وہ شیاطین لیڈرز بھی ہوں گے جو ان کی تشکیک و کبر کو ہوا دیتے تھے۔ لگتا ایسا ہے کہ ان شیاطین سے مراد ہر وہ ملحد ہے جس کی تشکیک یا الحاد اپنی ذات تک محدود نہ تھا بلکہ جو رحمٰن یعنی اللہ کے دین کے خلاف معاشرے میں کمربستہ رہا۔ چاہے تحریر سے یا تقریر سے۔ یوں تو ہر منکر ہی مجرم ہے مگر ان کا جرم سخت ترین ہے جنہوں نے اپنی زندگی خدا کے انکار کو گلوریفائی کرنے میں گزار دی۔ جو شب و روز دین، رسالت، کتاب کا مذاق اڑاتے رہے اور ساتھ میں ملحدین کی ایک خلقت کو بیوقوف بناتے رہے کہ گویا اس شعر کے مصداق کہ ہم تو ڈوبے ہیں صنم ۔۔ تم کو بھی لے ڈوبیں گے۔ یہ لیڈرز یا یہ شیاطین الگ کرلیئے جائیں گے اور ان کی سزا بھی غالباً سخت تر ہوگی۔ گو دوسرے مقامات پر قرآن میں یہ بھی زکر ہے کہ کفار ایک دوسرے پر لعنت ملامت کرتے ہوئے دنیا میں بھٹکانے والو کیلئے سخت تر سزا مانگیں گے مگر دونوں گروہوں کو دہرا عذاب دیا جائے گا۔ اللهم أجرني من النار
۔
آیات پر مبنی یہ پوسٹ بھی ہر سرکش کیلئے ایک جعلی ڈراوے یا مذہبی ڈھکوسلے سے زیادہ کچھ نہیں۔ مگر ہر مومن کیلئے یہ ایک بڑی حقیقت کا بیان ہے۔ ایک تنبیہ ہے کہ خبردار الفاظ سے کھیلتے ان شیاطین کی پیروی نہ کرنا، جنہوں نے روشن خیالی کی نقاب اوڑھ کر انکار خدا کی تاریکی کا بیڑا اٹھا رکھا ہے۔
۔
====عظیم نامہ====
12/05/2026
قرآن مجید کی سورۃ المومنون (آیات 12 تا 14) میں ان مراحل کو اس طرح بیان کیا گیا ہے:
"اور البتہ ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصے سے پیدا کیا۔ پھر ہم نے اسے ایک محفوظ جگہ (رحمِ مادر) میں نطفہ بنا کر رکھا۔ پھر ہم نے اس نطفہ کو علقہ (خون کا لوتھڑا جو جونک کی طرح چمٹ جاتا ہے) بنایا، پھر ہم نے اس علقہ کو مضغہ (گوشت کی بوٹی جس پر دانتوں کے نشان ہوں) بنا دیا، پھر ہم نے اس مضغہ سے ہڈیاں بنائیں، پھر ہم نے ان ہڈیوں پر گوشت چڑھایا، پھر ہم نے اسے ایک دوسری ہی صورت میں پروان چڑھایا۔ پس بڑا ہی بابرکت ہے اللہ جو سب سے بہتر پیدا کرنے والا ہے۔"
قرآنی اصطلاحات اور تصویر کے مراحل
تصویر میں دکھائے گئے ہفتوں کے حساب سے قرآنی مراحل کو اس طرح سمجھا جا سکتا ہے:
نطفہ (Sperm/Zygote): یہ آغاز ہے جب زندگی کی بنیاد پڑتی ہے (تصویر میں ہفتہ 1 سے 3 کے قریب)۔
علقہ (Leech-like Clot): ہفتہ 5 اور 6 کے گرد جب جنین رحم کی دیوار سے چمٹ جاتا ہے اور اس کی شکل ایک جونک جیسی ہوتی ہے۔
مضغہ (Chewed-like lump): ہفتہ 8 سے 12 کے درمیان، جب اعضاء کی ابتدائی شکل بننا شروع ہوتی ہے اور یہ گوشت کے ایک ٹکڑے کی مانند لگتا ہے۔
عظام (Bones): ہڈیوں کا ڈھانچہ بننا شروع ہوتا ہے۔
لحم (Flesh/Muscles): ہڈیوں پر پٹھے اور گوشت چڑھنا (ہفتہ 13 سے 20 تک کے مراحل)۔
خلقاً آخر (Another Creation): جب اس میں روح پھونکی جاتی ہے اور وہ مکمل انسانی شکل اختیار کر لیتا ہے (تصویر کے آخری مراحل)۔
ایک اہم نکتہ:
قرآن پاک میں ایک اور جگہ سورۃ الحج (آیت 5) میں گوشت کی بوٹی (مضغہ) کے بارے میں فرمایا گیا کہ وہ "مُخَلَّقَةٍ وَغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ" (کچھ بنی ہوئی اور کچھ ادھوری) ہوتی ہے، جو بالکل ویسا ہی ہے جیسا کہ تصویر میں ابتدائی ہفتوں میں اعضاء کی غیر واضح شکل نظر آتی ہے۔
یہ آیات 1400 سال پہلے نازل ہوئیں جب مائیکروسکوپ یا الٹرا ساؤنڈ جیسی کوئی ٹیکنالوجی موجود نہیں تھی، اسی لیے بہت سے لوگ اسے ایک عظیم معجزہ قرار دیتے ہیں۔
08/05/2026
🚨 مویشی منڈی جانے والے خریدار حضرات کیلئے اہم ہدایات 🚨
✅ جانور خریدتے وقت مکمل تسلی کریں، جلد بازی سے بچیں۔
✅ رات کے وقت بڑی رقم ساتھ لے جانے سے گریز کریں۔
✅ اکیلے جانے کے بجائے کسی قابلِ اعتماد فرد کو ساتھ رکھیں۔
✅ جانور کی صحت، دانت، عمر اور چلنے پھرنے کا اچھی طرح جائزہ لیں۔
✅ بیوپاری کی باتوں پر مکمل انحصار نہ کریں، خود جانچ ضرور کریں۔
✅ جعلی نوٹ، جیب تراشی اور ڈکیتی سے ہوشیار رہیں۔
✅ ادائیگی کرتے وقت رش والی جگہ میں محتاط رہیں۔
✅ خریدے گئے جانور کو پانی، سایہ اور مناسب خوراک ضرور فراہم کریں۔
✅ جانوروں پر غیر ضروری رنگ، اسپرے یا خطرناک انجیکشن سے بچیں۔
✅ کسی بھی مشکوک صورتحال میں فوری طور پر منڈی انتظامیہ یا پولیس سے رابطہ کریں۔
🐄 محفوظ خریداری کریں — ذمہ دار شہری بنیں 🐐
08/05/2026
اللہ تمہارے وجود کو سکون کی ایک بوند کے لیے ترسا دے اللہ تمہاری بینائی چھین لے تاکہ تم روشنی کو ترسو، اللہ تمہارے قدموں سے زمین نکال دے تاکہ تم کہیں پناہ نہ پا سکو۔
اے جادو کے غلام! اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے دکھ دکھائے، تمہارے گھروں میں وہ آگ لگائے جو کبھی نہ بجھے، اور تمہارے رزق کے تمام دروازے ہمیشہ کے لیے بند کر دے۔ تمہارے قریب غم ، حسرت اور دائمی دکھ کا ڈیرا ہو ، اور تم اس وقت تک نہ مرو جب تک اپنی آنکھوں سے اپنی ہر عزیز چیز کو برباد ہوتا نہ دیکھ لو۔ آمین!
اے جادو کھلا کر اور پلا کر لوگوں کے جگر چھلنی کرنے والو! اللہ تمہیں وہ زہریلا پانی پلائے جو تمہاری انتڑیوں کو کاٹ کر رکھ دے، تمہیں جہنم کا وہ زقوم کھانا نصیب ہو جو تمہارے پیٹوں میں کھولتے ہوئے تیل کی طرح ابلے۔
تم نے لوگوں کے ہنستے بستے گھر اجاڑے، اب اللہ تمہاری نسلوں میں ایسی تفریق ڈالے کہ تم خود اپنی بربادی پر آنسو بہاؤ ،جادوگر کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا، نہ اس جہان میں اور نہ اس جہان میں۔۔
اللہ نے فرمایا "جو کچھ تم لائے ہو وہ جادو ہے ، یقیناً اللہ اسے باطل کر دے گا، بے شک اللہ فساد کرنے والوں کے عمل کو درست نہیں ہونے دیتا۔" اور اللہ اپنے کلمات سے حق کو ثابت کر دیتا ہے، چاہے تم جیسے مجرموں کو کتنا ہی ناگوار گزرے۔ تمہارے یہ کالے دھاگے، یہ پتلے اور یہ ناپاک عزائم اللہ کی ایک جنبش کے سامنے مٹی کا ڈھیر ہیں۔ تمہارے فریب کی رسی بہت چھوٹی ہے،
کیونکہ اللہ نے فرما دیا ہے کہ: "انہوں نے جو کچھ بنایا وہ جادوگر کا فریب ہے، اور جادوگر جہاں بھی جائے کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔"
اے وہ شخص جو جادو کی بھٹی میں بیٹھ کر دوسروں کی خوشیاں جلاتا ہے ، اللہ تجھے اس ذلت کا ذائقہ چکھائے جو تو نے دوسروں کو چکھائی ، تو پروردگار کی رحمت سے دور اور ابلیس کے سائے میں رہے ، یہاں تک کہ تجھ پر اللہ کا قہر ٹوٹ پڑے اور تجھے نہ زمین قبول کرے نہ قبر ، تجھ پر کھولتا ہوا پانی انڈیلا جائے اور فرشتے تجھے عذاب کی نوید دیں۔ اللہ نہ تجھے معاف کرے، نہ تجھے بخشے اور نہ تجھ پر کبھی رحم فرمائے۔ تو ملعون ہے اور تیرا ہر عمل لعنت کا مستحق ہے۔
اللہ تمہیں ایسی بدحالی اور ذلت سے دوچار کرے کہ تم سکون کے ایک لمحے کو ترسو، تمہارا اپنا جادو تمہارے گھر کے در و دیوار سے لپٹ جائے، اور تم پر وہ وقت آئے کہ نہ زمین تمہیں پناہ دے اور نہ آسمان تمہاری فریاد سنے۔
اللہ تمہیں تمہارے اپنے ہی پیدا کردہ دکھوں اور اندھیروں کے سپرد کر دے۔
اے اللہ! ان کے ہاتھوں کو مفلوج کر دے جو معصوموں کی بربادی کے لیے اٹھتے ہیں۔
اے جادو کے ذریعے رزق باندھنے والو اور صحتیں چھیننے والو! اللہ تمہیں وہ ذلت چکھائے کہ تم زمین کے کسی کونے میں منہ دکھانے کے قابل نہ رہو۔ تم نے لوگوں کو جادو کے پلید کھانے کھلائے اور غلاظتیں پلائیں، اب اللہ تمہیں جہنم کے وہ پیالے پلائے جو تمہارے حلق کو جلا دیں اور تمہارے جگر کے ٹکڑے کر دیں..
اے جادو کے ذریعے ماؤں کی گود اجاڑنے والو اور بہنوں کے نصیبوں پر پہرے بٹھانے والو! اللہ تمہیں وہ دن دکھائے کہ تم اپنی اولاد کے جنازے اپنے کندھوں پر اٹھاؤ اور تمہاری نسلوں میں ایسا مرض پیدا ہو جو قیامت تک تمہارے گناہوں کی گواہی دے۔
تمہارے لیے دنیا میں بھی لعنت ہے اور آخرت میں بھی رسوائی۔ تمہارا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے۔
حسبنا اللہ ونعم الوکیل،
نعم المولیٰ ونعم النصیر۔
02/05/2026
قرآن مجید واضح طور پر گواہی دیتا ہے کہ یاجوج ماجوج دو وحشی، خوں خوار قبیلوں کے نام تھے۔ وہ لوگ اپنے اِرد گرد بہت زیادتیاں، ظلم و ستم کرتے تھے۔ مفسّر، علامہ طباطبائی نے ’’المیزان‘‘ میں لکھا ہے کہ ’’توریت کی ساری باتوں سے مجموعی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ یاجوج ماجوج ایک یا کئی بڑے بڑے قبیلے تھے، یہ شمالی ایشیا کے دُور دراز علاقے میں رہنے والے جنگ جُو، غارت گر اور ڈاکو قسم کے لوگ تھے۔
مہذّب دنیا پر وحشیانہ حملے
:
تقریباً روز کا معمول بن چکا تھا کہ پہاڑ کی دوسری جانب سے بدہیئت، وحشی، خوں خوار یاجوج ماجوج بڑی تعداد میں آکر مہذّب انسانی دنیا پر حملہ آور ہوتے اور ہر چیز تباہ و برباد کر ڈالتے۔ اُن کے لیے انسانوں کو ہلاک کرنا، مال مویشی لُوٹنا اور کھیت کھلیان تباہ کرنا ایک عام سی بات تھی۔ لوگ نہایت خوف کی حالت میں اُس زمینی آفت سے نجات کے لیے اپنے ربّ سے گِڑگِڑا کر دُعائیں کرتے۔ ایک صبح جب وہ سوکر اُٹھے تو انہوں نے دیکھا کہ ہزاروں کی تعداد میں ایک عالی شان اجنبی فوج ان کے کُھلے میدانوں میں خیمہ زن ہے۔ پہلے تو وہ حیران اور خوف زدہ ہوئے، لیکن پھر قوم کے چند سردار اس جنگ جُو لشکر کو اپنے لیے غیبی مدد اور نجات دہندہ سمجھتے ہوئے لشکر کی جانب گئے اور سپہ سالار سے ملنے کی خواہش ظاہر کی۔
اجازت کے بعد مقامی سرداروں کو فوج کے سپہ سالار کے خیمے میں پیش کیا گیا۔ سپہ سالار نے معززینِ شہر کو خوش آمدید کہتے ہوئے یہ یقین دلایا کہ اُن کی فوج اُن کے علاقوں پر قبضہ کرے گی، نہ ہی اُن کے مال مویشی اور کھیت کھلیان کو کوئی نقصان پہنچائے گی۔ مقامی سردار، جنگی لباس میں ملبوس فوج کے سپہ سالار کا حُسنِ اخلاق اور طرزِ مہربانی دیکھ کر مطمئن ہوگئے، لیکن جب اُن کے سامنے یہ بات لائی گئی کہ وہ دنیا کے عظیم بادشاہ ذوالقرنین سے ہم کلام ہونے کا شرف حاصل کررہے ہیں، تو بہت حیران ہوئے اور دل میں سوچنے لگے کہ ’’شاید یہ شخص قدرت کی جانب سے ہمارے لیے نجات دہندہ بن کر آیا ہے۔‘‘
سرداروں کو سوچ میں گُم دیکھ کر ذوالقرنین نے کہا ’’اے میرے قابلِ احترام دوستو! ویسے تو مَیں اپنی بادشاہت سے بہت دُور دیارِ غیر ایک سفر پر ہوں، لیکن اگر میں آپ لوگوں کی کوئی خدمت کرسکوں، تو مجھے خوشی ہوگی۔‘‘ بس یہی وہ لمحہ تھا کہ جب اُن کی دلی خواہش اُن کے لبوں پر آگئی۔ اُن سب نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا اور پھر ایک شخص بولا ’’اے مہربان بادشاہ! اس پہاڑ کے دوسری جانب یاجوج ماجوج نام کی قوم رہتی ہے، جو زمین پر بہت فساد مچانے والے لوگ ہیں۔ اگر ہم آپ کو کچھ خراج ادا کردیں، تو کیا اس کے عوض آپ ہمارے اور اُن کے درمیان ایک دیوار تعمیر کردیں گے؟‘‘ بادشاہ نے کہا ’’میرے قابلِ احترام دوستو! ربّ نے مجھے جو کچھ دے رکھا ہے، وہ بہت بہتر ہے، البتہ اگر تم لوگ میری مدد قوت و طاقت سے کرو، تو میں تمہارے اور اُن کے درمیان ایک مضبوط دیوار تعمیر کردوں گا۔‘‘ (سورئہ کہف، آیات95,94:
✨سدّذوالقرنین کی تلاش:✨
ذوالقرنین نے دونوں پہاڑوں کے سروں کے درمیان جو خلا تھا، اُسے لوہے کی بڑی موٹی چادروں کے ساتھ پُر کردیا۔ پھر چادروں کو خُوب گرم کرکے اُن پر پگھلا ہوا لوہا، تانبا اور سیسہ ڈال کر اُسے مضبوطی سے بند کردیا۔ جسے عبور کرکے یاجوج ماجوج کا دوسری طرف انسانی آبادیوں میں آنا ناممکن ہوگیا۔ ڈاکٹر اسرار احمد تحریر فرماتے ہیں کہ ’’اس دیوار کے آثار بحیرئہ کیسپئن کے مغربی ساحل کے ساتھ ساتھ داریال اور دربند کے درمیان اب بھی موجود ہیں۔ یہ دیوار پچاس میل لمبی، انتیس فٹ اونچی اور دس فٹ چوڑی ہے۔ آج سے سیکڑوں سال پہلے لوہے اور تانبے کی اتنی بڑی دیوار تعمیر کرنا یقیناً ایک بہت بڑا کارنامہ تھا۔‘‘ (بیان القرآن، جلد4،صفحہ،387)۔ داریال روس اور جارجیا کے درمیان ایک دریائی گھاٹی ہے۔ داریال اور دربند کا درمیانی راستہ کوہستانی درّوں پر مشتمل ہے۔
حضرت مولانا انور شاہ کشمیریؒ اپنی کتاب ’’عقیدۃ الاسلام‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں کہ ’’مختلف ادَوار میں مفسد اور وحشی انسانوں کی تاخت و تاراج سے حفاظت کے لیے زمین پر بہت سی جگہوں پر سدّیں (دیواریں) تعمیر کی گئیں۔‘‘ حضرت مولانا حفظ الرحمٰن سیوہارویؒ نے اپنی کتاب ’’قصص القرآن‘‘ میں فرمایا کہ ’’یاجوج ماجوج کی تاخت و تاراج اور شر و فساد کا دائرہ اتنا وسیع تھا کہ ایک طرف کاکیشیا کے نیچے بسنے والے اُن کے ظلم و ستم کا شکار تھے، تو دوسری طرف تبّت اور چین کے باشندے بھی ہر وقت اُن کی زد میں رہتے تھے۔
ان ہی یاجوج ماجوج کے شر و فساد سے بچنے کے لیے مختلف زمانوں میں مختلف مقامات پر متعدد دیواریں تعمیر کی گئیں۔‘‘ ابنِ کثیرؒ نے ’’البدایہ والنہایہ‘‘ میں لکھا کہ ’’واثق باللہ خلیفہ عباسی نے سدّ ذوالقرنین کی تحقیق کی غرض سے ایک جماعت کو روانہ کیا، جس نے اپنی تحقیق کے بعد بتایا کہ ’’یہ دیوار لوہے سے تعمیر کی گئی ہے، اس میں بڑے بڑے دروازے بھی ہیں، ان پر قفل پڑا ہوا ہے اور یہ شمال مشرق میں واقع ہے۔‘‘ واللہ اَعلم
✨اہلِ مغرب کا گم راہ کُن پروپیگنڈا✨
حضرت مولانا سیّد محمد انور شاہؒ نے کوہ قاف قفقاز کی سدّ کو ترجیح دیتے ہوئے فرمایا کہ ’’یہ سدّ ذوالقرنین کی تعمیر کردہ ہے۔‘‘ (عقیدۃ الاسلام، 297) اہلِ یورپ ان شمالی دیواروں میں سے کسی کا موجود ہونا یا، یاجوج ماجوج کا راستہ بند ہونا تسلیم ہی نہیں کرتے۔ اسی بنیاد پر بعض مسلمان مؤرخین نے بھی یہ لکھنا شروع کردیا ہے کہ قرآن و حدیث میں یاجوج ماجوج کے خروج کا جو ذکر ہے، وہ ہوچکا ہے۔ بعض نے چھٹی صدی ہجری میں قومِ تاتار کی طوفانی یلغار کو یاجوج ماجوج قرار دے دیا اور بعض نے دنیا پر غالب آجانے والی قوموں روس، چین، یورپ اور امریکا کو یاجوج ماجوج کہہ کر اس باب کو بند کردیا۔
علامہ شہاب الدین محمود آلوسی نے اپنی تفسیر’’ روح المعانی‘‘ میں تاتاریوں کو یاجوج ماجوج قرار دینے والوں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’ایسا خیال کرنا کُھلی گم راہی اور نصوصِ حدیث کی مخالفت ہے۔ البتہ یہ فتنہ یاجوج ماجوج کے فتنے سے مشابہ ضرور ہے۔‘‘ (روح المعانی،44)۔ قرآنِ مجید اور احادیث میں یاجوج ماجوج کے خروج کو قُربِ قیامت کی ایک بڑی علامت قرار دیا گیا ہے اور اُن کے خروج کا وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد بتایا گیا ہے۔ (صحیح مسلم،7285)۔ حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ مزید فرماتے ہیں کہ ’’اہلِ یورپ کی اس دلیل میں کوئی وزن نہیں ہے کہ ہم نے ساری دنیا چھان ماری ہے، ہمیں اس دیوار کا سراغ نہیں ملا، لیکن اوّل تو یہ خود ان لوگوں ہی کی تصریحات میں موجود ہے، جن میں وہ کہتے ہیں کہ سیّاحت اور تحقیق کے انتہائی معراج پر پہنچنے کے باوجود آج بھی بہت سے ایسے جنگل، دریا، جزیرے اور صحرا پوشیدہ ہیں، جن کا ہمیں علم نہیں۔
دوسرے اس بات کا بھی احتمال بعید نہیں کہ اب یہ دیوار موجود ہونے کے باوجود پہاڑوں کے گرنے اور باہم مل جانے کے سبب ایک پہاڑ ہی کی صورت اختیار کرچکی ہو۔‘‘(واللہ اعلم)، لیکن سدّ ذوالقرنین کے تاقیامت باقی رہنے پر بڑا استدلال تو قرآنِ کریم کے ان الفاظ سے کیا جاتا ہے۔ ترجمہ،’’قیامت کے قریب جب یاجوج ماجوج کے نزول کا وقت آجائے گا، تو اللہ تعالیٰ اس آہنی دیوار کو ریزہ ریزہ کرکے زمین کے برابر کردے گا۔‘‘ چناں چہ دیوارِ ذوالقرنین کے تعلق سے ہمارا پختہ عقیدہ ہے کہ قیامت کے قریب اللہ تعالیٰ اس دیوار کو ڈھادے گا اور یاجوج ماجوج کا خروج ہوجائے گا
30/04/2026
اصل جنگ کیا ہے؟
بیت المقدس تین مذاہب کی مقدس جگہ۔۔۔۔
مسلمانوں کا قبلہ دوئم
عیسائیوں کے لئے یسوع کی جائے ولادت
یہودیوں کے لئے ہیکل سلیمان
شروع کرتے ہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے۔ جن کے دو بیٹے تھے اسماعیل اور اسحاق۔
اسحاق علیہ السلام کے بیٹے تھے حضرت یعقوب۔
یہیں سے کہانی شروع ہوتی ہے اسرائیل کی۔ اسرائیل یعنی اللہ کا بندہ۔ اور یہ لقب حضرت یعقوب علیہ السلام کو دیا گیا۔
حضرت یوسف علیہ السلام نے جب کفیل مصر بنے تو آپ کو حکم ہوا کہ اپنے تمام خاندان یعنی آل یعقوب کو مصر بلایا جائے۔ اور مصر کی سرزمین کا ایک مخصوص حصہ ان کے لئے مختص کیا گیا۔ اور اللہ کی طرف سے کہا گیا کہ اے آل یعقوب اس سرزمین میں تمھارے لئے برکتیں ہیں۔
حضرت یوسف علیہ السلام بارہ بھائی تھے اسی لئے اللہ تعالی نے ان کے لئے بارہ چشمے جاری کیے۔ اور یوں اس سرزمین کا نام حضرت یعقوب کے لقب سے اسرائیل پڑگیا۔ جسے آج یروشلم بھی کہا جاتا ہے۔
آپ کی نسل سے کم و بیش ستر ہزار انبیائے کرام آئے۔
حضرت یوسف کے بھائی یہودا کی نسل آگے بڑھی تو اس میں سے آنے والے تمام بنی اسرائیلی یہودی کہلائے۔
وقت گزرتا گیا اور حضرت موسی علیہ السلام کا دور آیا۔ جب فرعون نے مصر کی آپ پر تنگ کی تو بنو اسرائیل کے ساتھ آپکو مصر سے نکلنا پڑا۔
اس دوران بنی اسرائیل پر اللہ تعالی کی بہت سے کرم نوازیاں بھی ہوئیں، جس میں من و سلوی، چشموں کی بہتات، مچھلیوں کے شکار کا ذکر قرآن پاک سے بھی ملتا ہے۔ اور وہیں ہمیں ایک گائے کا ذکر بھی ملتا ہے، جس کے لوتھڑے سے مردے نے اللہ کے حکم سے زندہ ہوکر اپنے قاتل کا بتایا۔ اس گائے کی نشانیاں اللہ تعالی نے قرآن پاک میں بیان فرمائیں۔ جوکہ ایک سرخ مائل رنگت کی گائے تھی اور ایسی گائے آج بھی یہودیوں کے نزدیک مقدس مانی جاتی ہے۔
حضرت موسی علیہ السلام کے بعد دیگر نبی آئے۔ اس دوران میں حضرت موسی علیہ السلام اور ان کے دور کی کچھ باقیات، تورات، من و سلوی کا کچھ حصہ بنی اسرائیل نے ایک صندوق میں محفوظ کرلیا۔ یہ اللہ کی طرف حضرت آدم کو دیا گیا ایک خاص صندوق تھا جو نسل در نسل نبیوں کے پاس رہا۔ جسے قرآن میں تابوت سکینہ کے نام پکارا گیا ہے۔ اور یہ یہودیوں کو اپنی جان سے ذیادہ عزیز ہے۔
حضرت داؤد نے جب جالوت کو ہرا کر اس سے تابوت سکینہ حاصل کیا تو یوں بنی اسرائیل نے انہیں نبی تسلیم کرلیا۔ اور حضرت داؤد علیہ السلام نے اس صندوق کی حفاظت کے لئے ایک ہیکل تعمیر کروانا شروع کیا جو کہ انکی زندگی میں مکمل نہ ہوسکا۔ ان کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام نے جنوں کی مدد سے اس کو مکمل کروایا اور اسی دوران میں آپکی بھی وفات ہوگئی۔
اسی وجہ سے اسے ہیکل سلیمانی کہا جاتا ہے۔
بعد ازاں بابل کے باشاہ بخت نصر نے اسرائیل پر حملہ کیا اور ہیکل سلیمانی کو بھی گرا دیا۔ اور تابوت سکینہ بھی اپنے ساتھ لے گیا۔
سیپرس دی گریٹ نے دوبارہ یہ شہر حاصل کیا۔ یہودیوں کو دوبارہ یہاں آباد کیا اور تابوت سکینہ کو بھی واپس لایا گیا۔ ہیکل سلیمانی ایک دفعہ پھر تعمیر کیا گیا۔
پھر وقت گزرا اور حضرت عیسی علیہ السلام کی آمد ہوئی۔ جنہیں نعوذبااللہ یہودیوں نے دجال، ناجائز اور کیا کیا لقب دیئے۔ یہاں سے یہودیوں میں سے دو الگ قومیں ہوگئیں ایک یہودی اور دوسرے عیسائی۔
یہودیوں نے سازش کرکے حصرت عیسی علیہ السلام کو صلیب پر چڑھانا چاہا اور اللہ تعالی نے انہیں اپنے پاس اٹھالیا۔
اس کے بعد یہودیوں اور عیسائیوں میں کئی چھوٹی موٹی جنگیں ہوئیں۔ پھر عیسائی رومی بادشاہ ٹائیٹس نے اس شدت سے یروشلم پر حملہ کیا کہ اس پورے علاقے کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ ہیکل سلیمانی کو گرادیا۔ جس کی صرف ایک دیوار اس وقت اپنی اصلی حالت میں موجود ہے جسے دیوار گریہ کہاجاتا ہے۔ جہاں یہودی جاکر تورات کی تلاوت کرتے ہیں اور گریہ و زارہ کرتے ہیں۔ تابوت سکینہ بھی نہ جانے کہاں غائب ہوگیا۔
ٹائٹس کے حملے کے بعد یہودی آخری نبی کے انتظار میں تھے۔ کیونکہ اللہ پاک کا ان سے وعدہ تھا کہ انہیں پھر عروج بخشا جائے گا۔
اس وعدہ کا ذکر سورہ البقرہ میں بھی موجود ہے کہ
"اے بنی اسرائیل، ان نعمتوں کو یاد کرو جو تم پر کی گئیں، اور اپنا وعدہ پورا کرو (ایمان لاو) تاکہ ہم بھی اپنا وعدہ پورا کریں۔"
قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ ہیکل سلیمانی کی تین دفعہ تعمیر ہوگی۔ جوکہ دو دفعہ ہوچکی ہے۔
یہودی اپنے مسیحا اور آخری نبی کے انتظار میں تھے کہ ٹائیٹس کے حملے کے پانچ سو سال بعد نبی آخرالزمان کی ولادت ہوئی۔ یہاں یہودیوں کو یہ جھٹکا لگا کہ سارے نبی حضرت اسحاق کی نسل سے ہیں تو آخری نبی حضرت اسماعیل کی نسل سے کیونکر آگئے۔۔۔ اور انہوں نے ایمان لانے سے انکار کردیا۔
مسلمانوں کے لئے بھی وہ انبیاء کی ہی نشانی تھی اسی لئے ہیکل سلیمانی کو بیت المقدس کا نام دیا گیا۔
اسلام کے آغاز میں یہودیوں کو قائل کروانے کی خاطر ہی بیت المقدس کی جانب منہ کرکے نماز ادا کرنے کا حکم ہوا۔ کیونکہ یہودی اسی طرف منہ کرکے عبادت کیا کرتے تھے۔
سترہ ماہ بعد ہماری عبادت کا رخ بیت المقدس سے بیت اللہ کی جانب موڑ دیا گیا۔ کیونکہ مسلمانوں کا شروع سے قبلہ اول وہی رہا۔ جسے پہلے حضرت آدم اور پھر حضرت ابراہیم نے تعمیر کیا۔
حضرت عمر رض کے دور حکومت میں اسرائیل یعنی یروشلم پر عیسائیوں کا قبضہ تھا۔ بیت المقدس کے ہی احاطے میں انہوں نے گرجا گھر تعمیر کیا ہوا تھا۔ اور عین تابوت سکینہ والی جگہ وہ گند پھینکا کرتے تھے یہودیوں کی نفرت میں۔ یروشلم کی فتح کے وقت جب حضرت عمر وہاں گئے تو عیسائیوں پر برہم ہوئے۔ وہاں صفائی کروا کر مسجد تعمیر کروائی، اور قرآن میں موجود معراج والے واقعے کی نسبت سے اس مسجد کو اقصی کا نام دیا۔
یہودیوں کی دیوار گریہ بھی اسی احاطے میں موجود تھی تو زائرین کی حثیت سے انہیں بھی وہاں آنے کی اجازت دے دی گئی۔
خلافت عباسیہ تک یروشلم ایک مسلم شہر رہا۔
اس کے بعد عسائیوں نے دوبارہ یروشلم پر حملہ کرکے اس پر قبضہ کرلیا۔ صلاح الدین ایوبی نے عیسائیوں کے خلاف پچاس سے زائد جنگیں کرکے بیت المقدس دوبارہ حاصل کیا۔ اور پھر سات سو سالوں تک یہ خلافت عثمانیہ کے زیر سلطنت رہا۔ یہودیوں کو بھی دیوار گریہ تک اپنے مذہبی اقدامات کی آزادی رہی۔ اور یہودی آہستہ آہستہ پھر یروشلم میں آباد ہونا شروع ہوگئے۔ اس دوران میں کئی بار انہوں نے خلافت عثمانیہ کے سلطان کو پیسوں کے عوض یروشلم انہیں سونپنے کا لالچ دیا لیکن ناکام رہے۔
اور پھر دوسری جنگ عظیم میں عیسائی سپاہی ہٹلر نے چن چن کر یہودیوں مارا۔ قریبا ساٹھ لاکھ کے قریب یہودیوں کا قتل عام کیا گیا اور یہ دربدر بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔ اس دوران میں انہیں یہ اندازہ ہوچکا تھا کہ انہیں اب خود اپنی پہچان بنانی ہے۔ اور بائبل میں موجود یہودیوں کے آخری عروج سے قبل والی کئی نشانیاں بھی ظاہر ہوچکی تھیں۔ اور وہ یہ تسلیم کرچکے تھے کہ انکا آخری مسیحا اب دجال ہوگا جس کی بدولت پوری دنیا میں انکا دوبارہ بول بالا ہوگا۔
انہوں نے برطانیہ سے ساز باز کرکے خود کو الگ ریاست تسلیم کروالیا۔ یوں اسرائیل باقاعدہ ایک ملک کی صورت میں دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ پھر آہستہ آہستہ انہوں نے فلسطین اور دیگر مصری علاقوں پر بھی قبضہ کرلیا۔ عرب ممالک اسرائیل کے خلاف جنگ پر آئے لیکن اس وقت تک یہ خود کو اتنا مضبوط کرچکے تھے عرب ممالک کو اس ایک چھوٹے سے ملک سے منہ کی کھانی پڑی۔ عسائیوں نے بھی دیکھ لیا کہ اب ان سے لڑ کر کچھ وصول نہیں ہونا تو باقاعدہ گرجا گھروں میں پادریوں نے تقریبات منعقد کیں اور یہودیوں کے لئے معافی کا اعلان کیا گیا۔ یوں سیاسی اور اقتصادی مفاد پرستی نے دو ہزار سالوں سے ایک دوسرے کے ازلی و جانی دشمنوں کو ایک صف پر لا کھڑا کیا۔ اور قرآن کی بات بھی سچ ہوگئی کہ
یہود و نصری ایک دوسرے کے دوست ہیں۔
یہودیوں کے عقائد کے مطابق وہ ہیکل سلیمانی کی حفاظت نہیں کرپائے تو خود کو قصوروار کہتے ہیں۔ خود کو سزا دینے کے لئے زنجیروں اور چمڑے سے پیٹتے ہیں۔ اور دیوار گریہ کے پاس آہ و زاری کرتے ہیں۔
وہ ایمان رکھتے ہیں تیسری بار انہیں پوری دنیا پر حکمرانی حاصل ہوگی۔ اس کے لئے انہیں مسجد اقصی کو گرانا ہوگا۔ جس کی تیارہ وہ کرچکے ہیں۔ کب سے مسجد اقصی کے نیچے بارودی سرنگیں بچھا دی گئی ہیں۔ اس کے بعد ہیکل سلیمانی تعمیر کرکے تابوت سکینہ وہاں رکھنا ہے۔ تابوت سکینہ بھی وہ دوبارہ حاصل کرچکے ہیں۔
لیکن مسئلہ تھا سرخ گائے۔۔۔ کیونکہ ان کے عقیدے کے مطابق وہ ناپاک ہیں اور جب تک پاک نہیں ہوجاتے ہیکل سلیمانی تعمیر نہیں کرسکتے۔ اور پاک ہونے کے لئے سرخ گائے کی قربانی دینا ہوگی۔
وہ گائے جس کی نشانیاں قرآن پاک میں بیان کی گئیں۔ جو اسوقت بھی انہیں ڈھونڈنے میں مشکل ہوئی تھی۔ اب بھی ایک سو سال تک وہ ویسی گائے کی تلاش کرتے رہے۔ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے بچے پیدا کرنے کا کامیاب تجربہ کیا انہوں نے۔ پھر اس تجربے کی بدولت ویسی نشانیوں والی گائے پیدا کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ناکام رہے۔ دوہزار انیس میں ایک امریکی ریاست سے پانچ عدد ویسی گائیں انہیں مل گئیں۔ جن کے جسم پر سرخ رنگ کے علاوہ اور کوئی بال نہیں تھا۔ انہیں کبھی کام کے لئے استعمال نہیں کیا گیا تھا۔ اگلی نشانی کہ ان پر کسی بیماری کا اثر نہیں ہونا چاہیے، پوری دنیا میں کووڈ پھیلا کر مختلف جانوروں کے ساتھ انہیں بھی ٹیسٹ کیا گیا اور ان پر اس بیماری کا کوئی اثر نہ ہوا۔
یہ گوگل میں سرچ کرکے آپ اس متعلق تفصیل سے پڑھ سکتے ہیں۔
الغرض قرب قیامت اور دجال کے ظہور والی تمام تر تیاریاں وہ مکمل کرچکے ہیں۔
اپنی مرضی کے ڈاکٹر، انجینئر بچے پیدا کرنا، نائن ڈی ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک جگہ ہوتے ہوئے کئی جگہ موجود رہنا، اپنی مرضی کے موسم بنانا، جب چاہو بارش برسا دینا، چند دنوں میں پوری دنیا گھوم لینا یہ سب دجالی نشانیاں ہیں جو آج کے دور میں کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ ہمارے اسلام میں بتائی گئی قیامت کی نشانیوں کی انہوں نے اتنے اچھے سے تیاری کرلی ہے کہ غرقد کے درخت لگا دیے۔ جو انہیں پناہ دیں گے۔ باب لد جس جگہ احادیث کے مطابق دجال کا حضرت عیسی ع کے ہاتھوں قتل ہونے کا ذکر موجود ہے اس جگہ وہ دجال کے فرار کے لئے ایئر پورٹ بنا چکے ہیں۔
یہ سب تو قربت قیامت کی نشانیاں ہیں اور ہیکل سلیمانی نے بھی بن کر رہنا ہے۔ پھر اصل جنگ کیا ہے؟
اصل جنگ عقائد کی ہے۔ ہم اپنے عقائد میں اس قدر کمزور ہوچکے ہیں کہ نماز پڑھیں یا نہ پڑھیں ہمیں فرق نہیں پڑتا۔ اپنے بہن بھائیوں کا حق کھا کر خوشی محسوس کرتے ہیں اور فرقوں کے خرافات میں الجھے ہوئے ہیں۔
فلسطینوں کے لئے سوائے دعا اور احتجاج کے ہم کیا کرسکتے ہیں؟
کیا ہم اپنے عقائد کے اتنے مضبوط ہیں کہ ڈالر کہ بہکاوے میں نہ آئیں؟
کیا ہم یہودیوں کے مقابلے میں نکلنے والے خراسان مجاہدین کی لسٹ میں آتے ہیں یا بس سوشل میڈیا کے تماشائی ہیں؟
اگر آج دجال ظاہر ہوجائے اور توبہ کا دروازہ بند ہوجائے تو ہماری آخرت کے لئے کیا تیاری ہے؟
19/04/2026
"سمی میری وار، میں واری
میں واری آں نی سمئیے"
ترجمہ:
سمّی میری باری ہے، میں قربان
میں جان قربان کرتی ہوں، اے سمّی
سن 1730ء (اکثر حوالوں میں یہی درست سال ہے) کا راجستھان… جودھپور کے حکمران مہاراجہ ابھئے سنگھ نے ایک عظیم الشان محل کی تعمیر کا حکم دیا۔ اس محل کے لیے درکار تھی مضبوط اور قیمتی لکڑی — کھجرلی (جنڈ/سمی) کے درختوں کی۔
سپاہیوں کا دستہ جب بشنوئی قبیلے کے گاؤں کھجرلی پہنچا، تو انہیں اندازہ نہ تھا کہ وہ ایک ایسی سرزمین میں قدم رکھ رہے ہیں جہاں درخت صرف سایہ نہیں دیتے… بلکہ ایمان کا حصہ ہوتے ہیں۔
بشنوئی مذہب کے بانی گرو جمبھیشور جی نے اپنے ماننے والوں کو 29 اصول دیے تھے، جن میں سب سے اہم:
🌿 ہرا درخت کاٹنا حرام ہے
🦌 کسی جاندار کو نقصان پہنچانا گناہ ہے
جب سپاہیوں نے درخت کاٹنے شروع کیے تو ایک سادہ مگر عظیم عورت سامنے آئی — امریتا دیوی بشنوئی۔
انہوں نے نہ کوئی ہتھیار اٹھایا، نہ کوئی لشکر بلایا… بس ایک درخت کے تنے سے لپٹ گئیں اور تاریخ کا وہ جملہ کہا جو آج بھی گونجتا ہے:
"سر سانٹے رُکھ رہے تو بھی سستو جان"
(اگر درخت بچ جائے اور سر کٹ جائے تو بھی سودا سستا ہے)
سپاہیوں نے نہ رکنے کا فیصلہ کیا… اور امریتا دیوی کو درخت سمیت کاٹ دیا گیا۔
یہاں کہانی ختم نہیں ہوتی… بلکہ یہاں سے شروع ہوتی ہے۔
ان کی تین بیٹیاں — آسو، رتنی، اور بھاگو — ماں کے نقشِ قدم پر چل پڑیں۔
وہ بھی درختوں سے لپٹ گئیں اور ایک ہی صدا بلند کی:
"سمی میری وار، میں واری آں نی سمیئے!"
(اے سمی! یہ میری باری ہے، میں تجھ پر قربان ہوں)
پھر جو ہوا، وہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا ماحولیاتی احتجاج بن گیا۔
گاؤں کے لوگ جوق در جوق درختوں سے لپٹتے گئے… اور ایک ایک کر کے اپنی جانیں دیتے گئے۔
🔥 جب تک راجہ کو خبر ملی…
تب تک 363 مرد، عورتیں اور بچے اپنے درختوں کے ساتھ ما رے جا ہو چکے تھے۔
اسی پس منظر میں 1998 کا سلمان خان کا مشہور "کالا ہرن شکار کیس" سامنے آتا ہے۔ الزام یہ تھا کہ فلم کی شوٹنگ کے دوران انہوں نے نایاب کالے ہرن کا شکار کیا، جو بشنوئی قبیلے کے لیے نہایت مقدس ہے۔ اس واقعے نے نہ صرف ایک بڑا قانونی مقدمہ جنم دیا بلکہ بھشنوی برادری کے جذبات کو بھی شدید متاثر کیا۔ برسوں تک اس کیس کی پیروی کی گئی اور 2018 میں عدالت کی جانب سے سزا بھی سنائی گئی، جسے اس برادری نے اپنے اصولوں کی جزوی فتح سمجھا۔
تاہم اس معاملے نے بعد میں ایک خطرناک اور افسوسناک رخ بھی اختیار کیا۔ لارنس بشنوئی نامی ایک مجرمانہ گروہ سے وابستہ شخص نے خود کو بھشنوی قبیلے کے جذبات کا نمائندہ ظاہر کرتے ہوئے سلمان خان کو قتل کی دھمکیاں دیں۔
اسی سلسلے میں پنجابی گلوکار سدھو موسے والا کے قتل کا واقعہ بھی سامنے آیا، جس کی ذمہ داری بھی اسی قبیلے کے ایک مجرمانہ نیٹ ورک سے منسوب کی گئی۔ یہ ایک انتہائی افسوسناک سانحہ تھا جس نے پورے خطے کو ہلا کر رکھ دیا۔ لیکن یہ واضح رہنا چاہیے کہ یہ جرائم کسی مذہبی یا ثقافتی تعلیم کا نتیجہ نہیں بلکہ مجرمانہ سوچ اور ذاتی دشمنیوں کا شاخسانہ ہوتے ہیں۔
یہ واقعہ صرف ایک قربانی نہیں تھا…
یہ دنیا کی پہلی "چپکو تحریک" تھی — وہی تحریک جس نے بعد میں بھارت میں درختوں کو بچانے کی جدید جدوجہد کو جنم دیا۔
کھجرلی کا یہ سانحہ آج بھی دنیا میں ماحولیات کے تحفظ کی سب سے بڑی قربانی مانا جاتا ہے۔
ہر سال "کھجرلی شہداء ڈے" منایا جاتا ہے۔
بھارت میں امریتا دیوی کے نام پر ماحولیاتی ایوارڈ بھی دیا جاتا ہے۔
وہی درخت (کھیجڑی/جنڈ/سمی) آج بھی صحرا کی زندگی کا سہارا ہے۔
یہ کہانی ہمیں ایک سخت سوال دیتی ہے:
ہم آج درخت کاٹتے وقت کیا کھو رہے ہیں… اور کیا ہم کبھی اتنے مخلص ہو سکتے ہیں جتنے وہ لوگ تھے؟
یہ صرف تاریخ نہیں… یہ ضمیر کا امتحان ہے۔