آج پاکستان کی سیاست میں سب سے بڑی مذاق اور خیانت پاکستان تحریک انصاف کی موجودہ لیڈرشپ کر رہی ہے۔ یہ لوگ عمران خان کا نام لے کر ووٹ بٹورتے ہیں، سیٹیں جیتتے ہیں، تنخواہیں کھاتے ہیں، مگر جب بات عمران خان کی رہائی، صحت یا آزادی کی آتی ہے تو یہ سب بیان بازی، پریس کانفرنسز اور خالی خواہشات تک محدود رہ جاتے ہیں۔ عمران خان جیل میں ہیں، ان کی آنکھ کی بینائی خطرے میں ہے، صحت بگڑ رہی ہے، مگر یہ "وفادار" لیڈرز خدانخواستہ ان کی موت کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ ان کے نام پر مزید سیاست چمکائیں اور پارٹی پر قبضہ جمائیں۔ یہ خیانت کی انتہا ہے، عوام کے ساتھ دھوکہ ہے، اور عمران خان کی جدوجہد کی توہین ہے۔
سب سے پہلے **سہیل افریدی** کی بات۔ یہ صاحب جب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا بنے تو عمران خان سے "عشق" میں مرنے مرنے کی باتیں کرتے تھے۔ مگر حقیقت؟ اڈیالہ جیل کے باہر چار پانچ گھنٹے کا تماشہ لگا کر عوام کو بیوقوف بنانے کی کوشش کی۔ عمران خان سے پہلے کسی سے نہ ملنے کی قسمیں کھاتے تھے، مگر شہباز شریف سے ملاقاتیں، کور کمانڈرز سے ہاتھ ملانا، اور عمران خان کو نظر انداز۔ پشاور کو ملک کے دوسرے حصوں سے منقطع کرنے کی دھمکیاں دیتے تھے، موٹروے بند کرنے کے اعلان کرتے تھے، مگر کیا ہوا؟ کچھ بھی نہیں! بس زبانی جمع خرچ، ڈرامہ بازی، اور کرسی کی گرمی میں سکون۔ سہیل افریدی صاحب، یہ بیان بازی بند کریں، عوام کو دھوکہ دینا چھوڑیں، اور اگر واقعی وفادار ہیں تو عملی طور پر عمران خان کی رہائی کے لیے کچھ کریں۔ مگر یہ ممکن نہیں، کیونکہ یہ نظام بک چکا ہے اور آپ بھی اسی میں شامل ہو چکے ہیں۔
**سلمان اکرم راجہ**، جو پی ٹی آئی کے جنرل سیکریٹری ہیں یہ صاحب قانونی ماہر کہلاتے ہیں، مگر عمران خان کی قانونی جنگ میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں دکھا رہے۔ بیانات دیتے ہیں، ٹی وی پر بھاشن دیتے ہیں، مگر عدالتوں میں حقیقی لڑائی؟ صفر! عمران خان کی آنکھ کی بینائی کی رپورٹ سامنے آئی، بینائی چلی گئی، مگر سلمان صاحب کی آنکھیں اب بھی بند ہیں۔ پارٹی کے اندرونی اختلافات میں گروپنگ، نئی کمیٹیوں میں سینئرز کو نظر انداز، اور بانی چیئرمین کے ٹویٹس کو ری ٹویٹ نہ کرنا – یہ سب کیا ہے؟ اقتدار کی ہوس اور پارٹی کو اپنے قبضے میں لینے کی کوشش۔ سلمان اکرم راجہ صاحب، آپ کی قانونی مہارت کہاں گئی؟ اگر عمران خان کی رہائی نہیں کروا سکتے تو کم از کم پارٹی کو کمزور نہ کریں۔ یہ عہدہ چھوڑ دیں یا عملی اقدامات کریں، ورنہ تاریخ آپ کو خیانت کار کے طور پر یاد رکھے گی۔
**شیر افضل مروت** تو پارٹی ڈسپلن کی سب سے بڑی خلاف ورزی کرنے والا ہے۔ یہ صاحب پارٹی کو متنازع اور کمزور کرنے میں سب سے آگے ہیں۔ بار بار پارٹی لیڈرشپ پر تنقید، سلمان اکرم راجہ پر الزامات، اندرونی لڑائیاں، اور بیانات جو پارٹی کو تقسیم کرتے ہیں۔ عمران خان نے خود ان کو شو کاز نوٹس دیا، معطلی کی، اور پھر نکال دیا – مگر یہ اب بھی پارٹی کے خلاف بولتے پھرتے ہیں، الزامات لگاتے ہیں، اور پارٹی کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شیر افضل مروت صاحب، آپ کی "بہادری" پارٹی کو تباہ کرنے میں استعمال ہو رہی ہے۔ اگر واقعی عمران خان کے ساتھ ہیں تو پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی بند کریں، ورنہ آپ بھی انہی لوگوں میں شمار ہوں گے جو عمران خان کی جدوجہد کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
**بیرسٹر گوہر** کا حال بھی کچھ مختلف نہیں۔ چیئرمین بنے، عمران خان کی جگہ سنبھالی، مگر رہائی کے لیے کیا کیا؟ صرف بیانات اور پریس کانفرنسیں۔ پارلیمنٹ میں بیٹھ کر تنخواہیں کھا رہے ہیں، مگر جیل کے دروازے کھولنے کے لیے ایک سنجیدہ احتجاج بھی نہیں۔ یہ سب لوگ عمران خان کے نام پر سیاست کر رہے ہیں، مگر عملی جدوجہد سے بھاگ رہے ہیں۔
پی ٹی آئی کی باقی لیڈرشپ – علی محمد خان، اسد قیصر،، پرویز الٰہی – سب ایک جیسے۔ عمران خان کی جدوجہد کا کریڈٹ لیتے ہیں، مگر جب بات عملی اقدامات کی تو سب غائب۔ یہ لوگ پارٹی کو کمزور کر رہے ہیں، اندرونی لڑائیاں بڑھا رہے ہیں، اور عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں
PTI INSAF
🇦🇧🇸🇴🇱🇺🇹🇪🇱🇾 🇳🇴🇹
امپورٹڈ_حکومت_نامنظور#
No 𝕀𝕞𝕡𝕠𝕣𝕥𝕖𝕕 ℍ𝕒𝕜𝕦𝕞𝕒𝕥
Want your business to be the top-listed Government Service in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Address
Lahore
