PTI INSAF

PTI INSAF

Share

🇦‌🇧‌🇸‌🇴‌🇱‌🇺‌🇹‌🇪‌🇱‌🇾‌ 🇳‌🇴‌🇹‌
امپورٹڈ_حکومت_نامنظور#
No 𝕀𝕞𝕡𝕠𝕣𝕥𝕖𝕕 ℍ𝕒𝕜𝕦𝕞𝕒𝕥

10/09/2025

Copy # #
جو انگریز افسران ہندوستان میں ملازمت کرنے کے بعد واپس انگلینڈ جاتے تو ان کو وہاں پبلک پوسٹ کی ذمہ داری نہ دی جاتی

دلیل یہ تھی کہ

تم ایک غلام قوم پر حکومت کر کے أۓ ہو

جس سے تمہارے اطوار اور رویے میں تبدیلی آ گی ہے

یہاں اگر اس طرح کی کوئی ذمہ داری تمہیں دی جائے گئی

تو تم آزاد انگریز قوم کو بھی اسی طرح ڈیل کرو گے

اس مختصر تعارف کے ساتھ درج ذیل واقعہ پڑھئے

ایک انگریز خاتون جس کا شوہر برطانوی دور میں پاک و ہند میں سول سروس کا آفیسر تھا

خاتون نے زندگی کے کئی سال ہندوستان کے مختلف علاقوں میں گزارے

واپسی پر اس نے اپنی یاداشتوں پر مبنی بہت ہی خوبصورت کتاب لکھی

خاتون نے لکھا ہے کہ :

میرا شوہر جب ایک ضلع کا ڈپٹی کمشنر تھا اُس وقت میرا بیٹا تقریبا چار سال کا اور بیٹی ایک سال کی تھی

ڈپٹی کمشنر کو ملنے والی کئی ایکڑ پر محیط رہائش گاہ میں ہم رہتے تھے

ڈی سی صاحب کے گھر اور خاندان کی خدمت گزاری پر کئی سو افراد معمور تھے

روز پارٹیاں ہوتیں، شکار کے پرواگرام بنتے ضلع کے بڑے بڑے زمین دار ہمیں اپنے ہاں مدعو کرنا باعث فخر جانتے

اور جس کے ہاں ہم چلے جاتے وہ اسے اپنی عزت افزائی سمجھتا

ہمارے ٹھاٹھ ایسے تھے کہ

برطانیہ میں ملکہ اور شاہی خاندان کو بھی مشکل سے ہی میسر تھے

ٹرین کے سفر کے دوران نوابی ٹھاٹھ سے آراستہ ایک عالیشان ڈبہ ڈپٹی کمشنر صاحب کی فیملی کے لیے مخصوص ہوتا تھا

جب ہم ٹرین میں سوار ہوتے تو

سفید لباس میں ملبوس ڈرائیور ہمارے سامنے دونوں ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو جاتا

اور سفر کے آغاز کی اجازت طلب کرتا

اجازت ملنے پر ہی ٹرین چلنا شروع ہوتی

ایک بار ایسا ہوا کہ

ہم سفر کے لیے ٹرین میں بیٹھے تو روایت کے مطابق ڈرائیور نے حاضر ہو کر اجازت طلب کی

اس سے پہلے کہ میں بولتی میرا بیٹا بول اٹھا جس کا موڈ کسی وجہ سے خراب تھا

اُس نے ڈرائیور سے کہا کہ ;

ٹرین نہیں چلانی

ڈرائیور نے حکم بجا لاتے ہوئے کہا کہ :

جو حکم چھوٹے صاحب

کچھ دیر بعد صورتحال یہ تھی کہ

اسٹیشن ماسٹر سمیت پورا عملہ جمع ہو کر میرے چار سالہ بیٹے سے درخواست کر رہا تھا

لیکن

بیٹا ٹرین چلانے کی اجازت دینے کو تیار نہیں ہوا

بالآخر

بڑی مشکل سے میں نے کئی چاکلیٹس دینے کے وعدے پر بیٹے سے ٹرین چلوانے کی اجازت دلائی تو سفر کا آغاز ہوا

چند ماہ بعد میں دوستوں اور رشتہ داروں سے ملنے واپس برطانیہ آئی

ہم بذریعہ بحری جہاز لندن پہنچے

ہماری منزل ویلز کی ایک کاونٹی تھی جس کے لیے ہم نے ٹرین کا سفر کرنا تھا

بیٹی اور بیٹے کو اسٹیشن کے ایک بینچ پر بٹھا کر میں ٹکٹ لینے چلی گئی

قطار طویل ہونے کی وجہ سے خاصی دیر ہو گئی

جس پر بیٹے کا موڈ بہت خراب ہو گیا

جب ہم ٹرین میں بیٹھے تو عالیشان کمپاونڈ کے بجائے فرسٹ کلاس کی سیٹیں دیکھ کر بیٹا ایک بار پھر ناراضگی کا اظہار کرنے لگا

وقت پر ٹرین نے وسل دے کر سفر شروع کیا تو بیٹے نے باقاعدہ چیخنا شروع کر دیا

وہ زور زور سے کہہ رہا تھا

یہ کیسا الو کا پٹھہ ڈرائیور ہے

ہم سے اجازت لیے بغیر ہی اس نے ٹرین چلانا شروع کر دی ہے

میں پاپا سے کہہ کر اسے جوتے لگواؤں گا

میرے لیے اُسے سمجھانا مشکل ہو گیا کہ :

یہ اُس کے باپ کا ضلع نہیں ایک آزاد ملک ہے

یہاں ڈپٹی کمشنر جیسے تیسرے درجہ کے سرکاری ملازم تو کیا

وزیر اعظم اور بادشاہ کو بھی یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ

اپنی انا کی تسکین کے لیے عوام کو خوار کر سکے

آج یہ واضع ہے کہ :

ہم نے انگریز کو ضرور نکالا ہے

البتہ غلامی کو دیس سے نہیں نکال سکے

یہاں آج بھی کئی

1- ڈپٹی کمشنرز
2- ایس پیز
3- وزرا مشیران
4- سیاست دان
5- باوردی افسران

صرف اپنی انا کی تسکین کے لیے عوام کو گھنٹوں سٹرکوں پر ذلیل و خوار کرتے ہیں

اس غلامی سے نجات کی واحد صورت یہی ہے کہ

ہر طرح کے تعصبات اور عقیدتوں کو بالا طاق رکھ کر ہر پروٹوکول لینے والے کی مخالفت کرنی چاہئیے

ورنہ صرف 14 اگست کو جھنڈے لگا کر اور موم بتیاں سلگا کر خود کو دھوکہ دے لیا کیجئیے کہ ہم آزاد ہیں

10/09/2025

انقلاب کی تلاش: پاکستان کیوں محروم رہا؟

دنیا کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب ظلم، ناانصافی اور معاشی استحصال اپنی حدوں کو چھوتے ہیں تو عوام خاموش نہیں رہتے۔ عرب دنیا میں "عرب اسپرنگ" نے آمروں کی بنیادیں ہلا دیں، بنگلادیش میں عوام نے دھاندلی اور بدعنوانی کے خلاف سڑکیں بھر دیں، سری لنکا میں معاشی تباہی نے عوام کو ایوانِ اقتدار پر دھاوا بولنے پر مجبور کر دیا اور نیپال میں بادشاہت کا خاتمہ عوامی بیداری کا نتیجہ تھا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ پاکستان میں ایسا کیوں نہ ہو سکا؟ یہاں انقلاب کیوں نہیں آیا؟

طاقت کا کھیل

پاکستان کی سیاست ایک انوکھا کھیل ہے جہاں اصل طاقت عوام کے ہاتھ میں کم اور اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں زیادہ رہی ہے۔ عوامی تحریک جب بھی اٹھتی ہے، یا تو اسے طاقت کے زور پر کچل دیا جاتا ہے یا پھر سیاسی انجینئرنگ کے ذریعے کسی نئی بساط بچھا کر عوام کو وقتی سکون دے دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 1968 میں ایوب خان کے خلاف تحریک ہو یا 2007 میں وکلا تحریک، یہ سب تبدیلی کی لہریں تو ضرور پیدا کرتی ہیں لیکن انقلاب کی شکل اختیار نہیں کر پاتیں۔

بکھرا ہوا معاشرہ

انقلاب کے لیے اتحاد ضروری ہوتا ہے، مگر پاکستان کا معاشرہ لسانی، مذہبی اور مسلکی تقسیم کا شکار ہے۔ کوئی پنجابی اپنے مسئلے پر احتجاج کرتا ہے، کوئی بلوچ اپنے دکھ لے کر سڑکوں پر آتا ہے، کہیں مہاجر تحریک ابھرتی ہے تو کہیں پشتون تحفظ کا نعرہ بلند ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ عوام کسی ایک بڑے مقصد پر متحد نہیں ہو پاتے۔

جمہوریت کا سراب

پاکستانی عوام کے سامنے سب سے بڑا دھوکہ جمہوریت کا ہے۔ ہر پانچ سال بعد انتخابات کا چراغ جلا دیا جاتا ہے، عوام امید باندھ لیتے ہیں کہ شاید اب کوئی نیا مسیحا آ جائے گا۔ یہی سراب عوامی غصے کو ٹھنڈا کر دیتا ہے۔

صبر یا مجبوری؟

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستانی عوام میں ناقابلِ یقین صبر ہے۔ مہنگائی، لوڈشیڈنگ، بدعنوانی اور بے روزگاری کے باوجود لوگ سب کچھ سہہ جاتے ہیں۔ مذہبی سوچ بھی عوام کو قائل کرتی ہے کہ یہ سب "تقدیر" ہے۔ اسی سوچ نے انقلاب کے جذبے کو دبا رکھا ہے۔

قیادت کا فقدان

انقلاب کے لیے صرف غصہ نہیں، ایک مضبوط اور عوامی قیادت بھی درکار ہوتی ہے۔ بھٹو نے عوام کو جوش دیا لیکن انجام تختہ دار ہوا۔ بے نظیر کو گولیوں نے خاموش کر دیا۔ عمران خان عوامی مقبولیت لے کر آئے مگر نظام نے انہیں بھی کمزور کرنے میں کسر نہیں چھوڑی۔ قیادت کا یہی خلا انقلاب کو راستہ نہیں دے پاتا۔

نکتۂ انجام

پاکستان کے حالات بار بار انقلاب کے دہانے پر لے آتے ہیں، لیکن ہر بار طاقتور قوتیں حالات کو اپنے قابو میں کر لیتی ہیں۔ مگر تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ جب عوام کی برداشت کا پیمانہ لبریز ہو جائے اور قیادت میسر آ جائے، تو پھر کوئی طاقت انقلاب کو نہیں روک سکتی۔ شاید وہ لمحہ ابھی نہیں آیا، مگر اس امکان کو رد بھی نہیں کیا جا سکتا کہ کل کی صبح پاکستان میں بھی "انقلاب" کی کہانی لکھی جائے۔

09/09/2025

‎"عرب اسپرنگ سے نیپال تک: پاکستان کے لیے سبق"

‎تاریخ بار بار یہ ثابت کر چکی ہے کہ جب حکمران عوام کے اعتماد اور ان کے حقوق کا استحصال کرتے ہیں تو ایک دن وہی عوام اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور تخت و تاج کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے جاتے ہیں۔ عرب دنیا کی مثال سب کے سامنے ہے۔ 2010 میں تیونس کے ایک غریب نوجوان کی خودسوزی نے وہ آگ بھڑکائی جس نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ مصر میں حسنی مبارک، لیبیا میں معمر قذافی اور یمن میں علی عبداللہ صالح جیسے طاقتور حکمرانوں کو عوامی طوفان بہا لے گیا۔ ان سب کی حکومتیں اس وقت گر گئیں جب انہوں نے عوام کی آواز کو دبانے اور ان کے ووٹ کو پامال کرنے کی کوشش کی۔

‎اسی طرح آج برصغیر کے قریب ترین ممالک بھی اسی راہ پر ہیں۔ بنگلا دیش میں شیخ حسینہ عوامی غیظ و غضب کا سامنا نہ کر سکیں اور اقتدار چھوڑ کر بھاگ گئیں۔ ان کے خلاف سب سے بڑی شکایت یہی تھی کہ انہوں نے عوامی مینڈیٹ کو مسخ کیا اور مخالفین کو دبانے کے لیے ریاستی طاقت استعمال کی۔ نیپال میں حالات اس نہج پر پہنچے کہ عوامی احتجاج کے دباؤ تلے وزیراعظم کو استعفیٰ دینا پڑا اور وہ بھی ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ یہ سب محض سیاسی کھیل نہیں بلکہ اس حقیقت کی شہادت ہے کہ جب عوام اٹھتے ہیں تو کوئی طاقت ان کو روک نہیں سکتی۔

‎پاکستان کا منظرنامہ بھی کچھ مختلف نہیں۔ 8 فروری کے انتخابات میں عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعے واضح رائے دی، لیکن اس رائے پر ڈھاکہ ڈال کر نتائج کو مسخ کیا گیا۔ عوام جانتے ہیں کہ ان کے ووٹ چوری کیے گئے اور ان پر وہی پرانے چور، ڈاکو اور لٹیرے مسلط کر دیے گئے۔

‎اس پس منظر میں عمران خان کی جدوجہد ایک نئی علامت کے طور پر ابھری ہے۔ وہ آج پاکستان کے سب سے مقبول لیڈر ہیں، مگر ان کے ساتھ جو کچھ کیا جا رہا ہے وہ تاریخ میں سیاہ باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ نو مئی کے واقعے کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر کے ان کارکنوں اور رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا جو دباؤ کے باوجود عمران خان کا ساتھ چھوڑنے کے لیے تیار نہ تھے۔ جنہوں نے وفاداری بدل دی وہ سب دودھ کے دھلے قرار پائے، اور جنہوں نے ڈٹ کر ساتھ دیا وہ جیلوں اور ظلم کا نشانہ بنے۔ عوام یہ سب دیکھ رہے ہیں اور سمجھ رہے ہیں کہ اصل جرم وفاداری ہے، نہ کہ کوئی اور۔

‎یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخ کا سبق دہرانا ضروری ہے۔ عرب دنیا کے آمرین، بنگلا دیش کی شیخ حسینہ اور نیپال کے وزیراعظم سبھی ایک ہی غلطی کے مرتکب ہوئے: عوام کے مینڈیٹ کو روندنا اور ان کی آواز کو دبانا۔ پاکستان کے حکمران بھی اگر اسی راہ پر چلتے رہے تو نتیجہ مختلف نہیں ہوگا۔

‎اب بھی وقت ہے کہ حکمران ہوش کے ناخن لیں۔ عمران خان اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا ازالہ کریں، ووٹ کو اس کی اصل عزت دیں اور عوامی فیصلے کو تسلیم کریں۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو وہی کچھ ہوگا جو عرب دنیا میں ہوا، جو بنگلا دیش میں ہوا اور جو آج نیپال میں ہو رہا ہے۔ عوامی غصے کا لاوا پھٹنے کے بعد کسی کے قابو میں نہیں آتا۔


09/09/2025

صحافت یا لفافہ

پاکستان میں صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے، مگر افسوس کہ یہ ستون اب مضبوطی کا نہیں بلکہ کمزوری کا استعارہ بن چکا ہے۔ آج کے دور میں کچھ ایسے عناصر صحافت کے نام پر مسلط ہیں جنہیں صحافی کہنا دراصل اس مقدس پیشے کی توہین ہے۔ یہ لوگ دراصل "لفافی" ہیں، جو مخصوص ایجنڈے اور غیر جمہوری قوتوں کے دَست و بازو بنے ہوئے ہیں۔

یہ نام نہاد صحافی پریس کانفرنسوں میں بیٹھ کر غیر ضروری اور بہودہ سوالات اٹھاتے ہیں، معصوم لوگوں کو ذلیل کرنے اور بدمزگی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا مقصد حقائق اجاگر کرنا نہیں بلکہ اپنے آقاؤں کے اشاروں پر تماشا لگانا ہوتا ہے۔ اور جب کبھی عوام یا پارٹی کارکن ان کی حرکتوں سے تنگ آ کر ان کا محاسبہ کرتے ہیں تو یہ پورا طبقہ "صحافت خطرے میں ہے" کا راگ الاپنا شروع کر دیتا ہے۔

مگر سوال یہ ہے کہ ان نام نہاد صحافیوں کو اُس وقت صحافت کیوں یاد نہیں آئی جب پاکستان کے حقیقی جرأت مند صحافیوں پر زمین تنگ کر دی گئی تھی؟

کیا اُس وقت صحافت خطرے میں نہیں تھی جب ارشد شریف کو کینیا میں شہید کر دیا گیا؟ اُس وقت یہ لفافی کہاں تھے؟

کیا اُس وقت صحافت خطرے میں نہیں تھی جب عمران ریاض کو اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اور جب وہ واپس آیا تو ہڈیوں کا ڈھانچہ اور زبان لڑکھڑاتی ہوئی تھی؟

کیا اُس وقت صحافت خطرے میں نہیں تھی جب معید پیرزادہ، صابر شاکر، زبیر علی خان سمیت درجنوں سچ بولنے والے صحافی ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے؟

کیا اُس وقت صحافت خطرے میں نہیں تھی جب بزرگ صحافی ایاز میر کو سرِعام کپڑے پھاڑ کر ذلیل کیا گیا؟

کیا اُس وقت صحافت خطرے میں نہیں تھی جب اوریا مقبول جان جیسے سینئر صحافی کو اغوا کر لیا گیا؟

کیا اُس وقت صحافت خطرے میں نہیں تھی جب جمیل فاروقی کو اٹھایا گیا، ننگا کر کے تشدد کیا گیا اور ذلت کا نشانہ بنایا گیا؟

کیا اُس وقت صحافت خطرے میں نہیں تھی جب حق کی آواز اٹھانے والے ہر صحافی پر غداری اور دہشت گردی کے مقدمات قائم کیے گئے؟

کیا اُس وقت صحافت خطرے میں نہیں تھی جب اپنے ضمیر کی آواز بلند کرنے والے صحافیوں کو نوکریوں سے زبردستی برخاست کیا گیا؟

کیا اُس وقت صحافت خطرے میں نہیں تھی جب آزادیٔ اظہار رائے پر ایسا قفل لگا دیا گیا کہ 90 فیصد عوام کے محبوب لیڈر کا نام اور تصویر میڈیا پر دکھانے پر پابندی لگا دی گئی؟

یہ تمام ظلم و ستم برداشت کرنے والے صحافی "حقیقی صحافی" تھے۔ مگر اُس وقت لفافی طبقہ خاموش رہا، کیوں کہ اُن کے مفادات کو کوئی خطرہ نہیں تھا۔

اب ذرا تماشہ دیکھیے! جب ایک جیالے طیب بلوچ نے علیمہ خان کی پریس کانفرنس روکنے کے لیے بدکلامی کی اور اسے باہر نکالا گیا تو یکایک پورے ملک میں صحافت خطرے میں پڑ گئی۔ اب یہ لفافی چیخ رہے ہیں، احتجاج کر رہے ہیں، اور اپنے آپ کو آزادیٔ صحافت کا علمبردار ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سچ تو یہ ہے کہ یہ نام نہاد صحافی صحافت کے نہیں، صرف اپنے لفافے کے وفادار ہیں۔ ان کا قلم بکا ہوا ہے، ان کی زبان گروی ہے، اور ان کی غیرت مر چکی ہے۔

صحافت اُس وقت خطرے میں نہیں ہوتی جب حق پر چلنے والا صحافی قربان ہو، بلکہ صحافت اُس وقت خطرے میں پڑتی ہے جب لفافہ صحافیوں کو عزت دی جائے اور سچ بولنے والوں کو غدار قرار دیا جائے۔

وقت آ گیا ہے کہ عوام ان چہروں کو پہچانیں۔ یہ طے کریں کہ کون سچ کا پرچم بردار ہے اور کون جھوٹ کے پردے میں ذاتی مفاد کی دوکان چلا رہا ہے۔ ورنہ آنے والی نسلیں نہ تو آزاد صحافت دیکھ سکیں گی اور نہ ہی آزاد معاشرہ۔

06/08/2024

Geo News Urdu

05/08/2024

ہم بھی دیکھیں گے

Imran Khan
PTI London Dr Israr Ahmed Geo News Urdu

05/08/2024

Don't underestimate the Power of a Common

29/07/2024

توحید پر اتنے پکے رہو کہ لوگ تمہیں اہلِ حدیث سمجھنے لگیں، امر بالمعروف ونہی عن المنکر اور صحابہ کرام سے اتنی محبت کرو کہ لوگ تمہیں دیوبندی سمجھنے لگیں، عشقِ رسول صل الّلہ علیہ وآلہ وسلم اتنا دل و زبان و عمل میں رکھو کہ لوگ تمہیں بریلوی سمجھنے لگیں، اور اہلِ بیت سے اتنی شدید محبت رکھو کہ لوگ تمہیں اہلِ تشیع سمجھنے لگیں. لیکن جب کوئی پوچھے کہ تم کس فرقے سے ہو تو کہہ دینا کہ میں بس مسلمان ہی ہوں اور میں الّلہ کی پناہ مانگتا ہوں فرقہ واریت سے۔
شیخ الاسلام ڈاکٹر اسرار احمد رحہ
Dr Israr Ahmed Dr.Israr Ahmed

29/07/2024

, میرے کپتان🙋‍♂️🙋‍♀️

Want your business to be the top-listed Government Service in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Address

Lahore