1. پوسٹ مارٹم کی قانونی حیثیت اور متعلقہ قوانین
پاکستان میں پوسٹ مارٹم درج ذیل قوانین کے تحت کیا جاتا ہے:
ضابطہ فوجداری (CrPC) دفعہ 174 اور 176: جب بھی کوئی مشکوک موت، قتل، خودکشی یا حادثاتی موت واقع ہوتی ہے، تو پولیس افسر (دفعہ 174) یا مجسٹریٹ (دفعہ 176) لاش کا معائنہ کرنے اور اس کی موت کی وجوہات جاننے کے لیے پوسٹ مارٹم کا حکم دینے کا مجاز ہے۔
پنجاب میڈیکل لیگل مینوئل (Medical Legal Manual): یہ ڈاکٹروں کو پوسٹ مارٹم کے طبی طریقہ کار، نمونے لینے اور رپورٹ تیار کرنے کے تفصیلی قواعد فراہم کرتا ہے۔
تعزیراتِ پاکستان (PPC): پوسٹ مارٹم کی رپورٹ سے یہ طے ہوتا ہے کہ ملزم پر قتل (دفعہ 302)، اقدامِ قتل (دفعہ 324) یا دیگر دفعات کا اطلاق کیسے ہوگا۔
2. ٹائم فریم (Time Frame) اور وقت کی اہمیت
میڈیکل جیورس پروڈنس (Medical Jurisprudence) میں وقت کو کلیدی اہمیت حاصل ہے:
فوری ضرورت: پوسٹ مارٹم جتنا جلدی ہو سکے (ترجیحاً موت کے 24 گھنٹے کے اندر) ہونا چاہیے تاکہ جسم میں تعفن (Putrefaction) پیدا نہ ہو، جس سے زخموں کے نشانات مٹ سکتے ہیں۔
وقتِ وفات کا تعین: ڈاکٹر جسم کے درجہ حرارت، اکڑن (Rigor Mortis) اور خون کے جمنے کی حالت دیکھ کر بتاتا ہے کہ موت کو کتنا وقت گزر چکا ہے۔ یہ ملزم کے "البی" (Alibi) یعنی جائے وقوعہ پر موجودگی کو جھٹلانے کے لیے اہم ہے۔
3. پوسٹ مارٹم میں تاخیر (Delay) اور اس کا حل
اگر پوسٹ مارٹم میں تاخیر ہو جائے تو اس کا طریقہ کار یہ ہے:
تحریری وجہ: پولیس اور ڈاکٹر کو تاخیر کی ٹھوس وجہ بیان کرنی پڑتی ہے۔ اگر تاخیر جان بوجھ کر ہو تو یہ تفتیش کو مشکوک بنا دیتی ہے۔
قبر کشائی (Exhumation): اگر لاش دفنا دی گئی ہو اور بعد میں قتل کا شبہ ہو، تو CrPC کی دفعہ 176 کے تحت علاقہ مجسٹریٹ کی اجازت اور موجودگی میں لاش نکال کر پوسٹ مارٹم کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جاتا ہے۔
4. اعلیٰ عدلیہ (Supreme Court & High Court) کے فیصلے
اعلیٰ عدالتوں نے پوسٹ مارٹم رپورٹ کی اہمیت پر کئی رہنما اصول طے کیے ہیں:
تضاد کا نتیجہ (2020 SCMR 1564): سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگر پوسٹ مارٹم رپورٹ اور عینی شاہدین کے بیان میں واضح تضاد ہو (مثلاً گواہ کہے کہ گولی سامنے سے لگی اور رپورٹ کہے کہ پیچھے سے لگی)، تو اس کا فائدہ ملزم کو ملے گا اور اسے بری کیا جا سکتا ہے۔
پوسٹ مارٹم میں غیر ضروری تاخیر (PLD 2011 SC 350): عدالت نے واضح کیا کہ پوسٹ مارٹم میں بلاوجہ تاخیر اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ پولیس "فرضی گواہ" تیار کرنے کے لیے وقت گزار رہی ہے، جس سے استغاثہ کا کیس کمزور ہو جاتا ہے۔
میڈیکل بورڈ کی تشکیل: اگر پہلی رپورٹ پر شک ہو، تو ہائی کورٹ یا سیکرٹری صحت کو درخواست دے کر سینئر ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ سے دوبارہ معائنہ کروایا جا سکتا ہے۔
5. میڈیکل جیورس پروڈنس (Medical Jurisprudence) کے اہم نکات
زخموں کی نوعیت: ڈاکٹر یہ بتاتا ہے کہ زخم گولی کا ہے، چھری کا ہے یا کسی کند آلے کا۔
کیمیائی تجزیہ (Chemical Examiner): اگر زہر کا شبہ ہو تو معدے کے نمونے (Viscera) لیبارٹری بھیجے جاتے ہیں۔
DNA ٹیسٹ: شناخت نہ ہونے کی صورت میں یا جنسی زیادتی کے کیسز میں ڈی این اے نمونے لیے جاتے ہیں۔
خلاصہ (کاپی پیسٹ کے لیے):
قانون: CrPC دفعہ 174 (پولیس انکوائری) اور 176 (مجسٹریٹ انکوائری)۔
مقصد: موت کی اصل وجہ (Cause of Death) اور وقتِ وفات معلوم کرنا۔
تاخیر کا نقصان: ثبوت مٹ سکتے ہیں اور ملزم کو "شک کا فائدہ" (Benefit of Doubt) مل سکتا ہے۔
عدالتی موقف: پوسٹ مارٹم رپورٹ ایک ماہر کی رائے ہے، لیکن اگر یہ عینی شاہدین کے خلاف ہو تو استغاثہ کا کیس ختم ہو سکتا ہے۔
1. پوسٹ مارٹم رپورٹ کو چیلنج کرنا (Challenging Autopsy Report)
اگر آپ کو لگے کہ ڈاکٹر نے جان بوجھ کر حقائق چھپائے ہیں یا رپورٹ غلط تیار کی ہے، تو آپ درج ذیل اقدامات کر سکتے ہیں:
میڈیکل بورڈ کی تشکیل (Medical Board): آپ متعلقہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (DHO) یا سیکرٹری صحت کو درخواست دے کر سینئر ڈاکٹروں پر مشتمل ایک "سپیشل میڈیکل بورڈ" بنانے کا مطالبہ کر سکتے ہیں جو پہلی رپورٹ کا دوبارہ جائزہ لے۔
سول ریٹ پٹیشن (Writ Petition): اگر انتظامیہ بورڈ نہ بنائے، تو آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ میں رٹ دائر کی جا سکتی ہے تاکہ عدالت میڈیکل بورڈ بنانے کا حکم دے۔
جرح (Cross-Examination): ٹرائل کے دوران، آپ کا وکیل ڈاکٹر پر جرح کر کے اس کی رپورٹ کی خامیوں کو ثابت کر سکتا ہے، خاص طور پر میڈیکل جیورس پروڈنس کی کتب کا حوالہ دے کر۔
2. قبر کشائی (Exhumation) کا قانونی فورم
قبر کشائی کا عمل ضابطہ فوجداری (CrPC) کی دفعہ 176(2) کے تحت ہوتا ہے۔
متعلقہ فورم: قبر کشائی کی اجازت دینے کا اختیار علاقہ مجسٹریٹ (Illaqa Magistrate) کے پاس ہوتا ہے۔
درخواست کا طریقہ: ورثاء یا پولیس مجسٹریٹ کو تحریری درخواست دیتے ہیں کہ موت مشکوک ہے اور سچائی جاننے کے لیے لاش کا دوبارہ معائنہ ضروری ہے۔
قانونی تقاضے: 1. مجسٹریٹ کی موجودگی لازمی ہے۔
2. میڈیکل بورڈ کا ہونا ضروری ہے۔
3. شناخت کے لیے ورثاء کی موجودگی ضروری ہے۔
3. قانونی خصوصیات اور عدالتی نظائر (Case Laws)
عدالتیں ان معاملات میں درج ذیل اصولوں کو مدنظر رکھتی ہیں:
پوسٹ مارٹم کی تاخیر (2022 YLR 145): اگر پوسٹ مارٹم میں غیر معمولی تاخیر ہو، تو اسے استغاثہ کے خلاف سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس سے یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ پولیس نے کہانی گھڑنے کے لیے وقت لیا۔
قبر کشائی کا مقصد (PLD 2015 SC 327): سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ قبر کشائی صرف "انصاف کی فراہمی" کے لیے کی جانی چاہیے، محض شک کی بنیاد پر قبر کی بے حرمتی نہیں کی جا سکتی۔ ٹھوس شواہد ہونے چاہئیں کہ دوبارہ معائنہ سے کیس کا رخ بدل سکتا ہے۔
میڈیکل بورڈ کی رائے (2018 P.Cr.L.J 45): اگر پہلا پوسٹ مارٹم اور میڈیکل بورڈ کی رپورٹ مختلف ہوں، تو بورڈ کی رپورٹ (جو کہ سینئر ڈاکٹرز دیتے ہیں) کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔
4. درخواست میں شامل کیے جانے والے اہم نکات
جب آپ چیلنج کریں یا قبر کشائی مانگیں، تو درج ذیل نکات لازمی لکھیں:
پہلی رپورٹ میں تضاد: (مثلاً زخم کی جگہ غلط لکھی گئی ہے)۔
پولیس اور ڈاکٹر کی ملی بھگت: اگر آپ کو شبہ ہو کہ رشوت یا دباؤ کے تحت رپورٹ بدلی گئی۔
عینی شاہدین کا بیان: اگر گواہ کچھ اور کہہ رہے ہیں اور میڈیکل رپورٹ کچھ اور
Punjab Criminal Prosecution Department Pakpatan
Punjab Criminal Prosecution Case laws sharing Group
CNIC Card issued by NADRA cannot be treated as a
movable property of its holder, as such it cannot be
attached, impounded, cancelled or blocked by the civil
courts in civil proceedings as coercive measure.
*2025 LHC 8528*
Approved for reporting
*Criminal proceedings via Attorney/Wakil/Mukhtar/Pleader permissible*
An attorney of a person can lodge an FIR with the police and can also initiate criminal proceedings before a Court for the interest of his Principal. If the proceedings before the Court were initiated by the principal, and he becomes unavailable or incapacitated, the attorney can also continue it on his behalf with the permission of the Court.
*PLJ 2026 Cr.C. 209*
ماں بچے کا خرچہ باپ کو معاف بھی کردے تو باپ پھر بھی دینے کا پابند ہے
2014 MLD 351 Pesh
*U.S.B is a documentary evidence* as defined under Article: 2 (1)(c) of QSO, 1984.
U.S.B. qua video recording of the raid conducted at the time of occurrence will be submitted with police report by the prosecution in the court, as per number of the accused.
*2024 Pcrlj 2005*
پاکستان کی سپریم کورٹ نے 45 سال بعد سپریم کورٹ رولز 1980 کو منسوخ کر کے سپریم کورٹ رولز 2025 نافذ کر دیے ہیں، جو 6 اگست 2025 سے مؤثر ہیں۔ یہ نئے رولز عدالتی کارروائیوں میں شفافیت، کارکردگی، اور ڈیجیٹلائزیشن کو فروغ دینے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ ذیل میں رولز 1980 اور رولز 2025 کا تقابلی جائزہ اور نئے رولز کی اہم خصوصیات پیش کی جا رہی ہیں:
تقابلی جائزہ: رولز 1980 بمقابلہ رولز 2025
پہلو
رولز 1980
رولز 2025
اپیل دائر کرنے کی مدت
فوجداری اور براہِ راست دیوانی اپیلوں کے لیے مدت 30 دن تھی۔
فوجداری اور براہِ راست دیوانی اپیلوں کی مدت بڑھا کر 60 دن کر دی گئی ہے۔
نظرثانی درخواست کی مدت
واضح طور پر مدت کا ذکر نہیں تھا، یا پرانے طریقہ کار پر عمل ہوتا تھا۔
نظرثانی درخواست کی مدت 30 دن مقرر کی گئی ہے۔ درخواست گزار کو فوری طور پر دوسرے فریق کو نوٹس دینا لازم ہے۔
رجسٹرار اعتراضات پر اپیل
اعتراضات کے خلاف اپیل کی مدت واضح نہیں تھی یا روایتی طریقہ کار پر انحصار تھا۔
رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے خلاف اپیل 14 دن کے اندر دائر کرنا لازمی ہے۔
نظرثانی درخواست کے تقاضے
نئے شواہد یا دستاویزات کے لیے مخصوص تقاضوں کا ذکر نہیں تھا۔
نظرثانی درخواست کے ساتھ فیصلے کی تصدیق شدہ کاپی لازمی ہے۔ نئے شواہد پر مبنی درخواستوں کے لیے مصدقہ دستاویزات اور حلف نامہ درکار ہے۔
غیر سنجیدہ درخواستوں پر جرمانہ
غیر سنجیدہ یا پریشان کن درخواستوں کے لیے جرمانے کا کوئی واضح نظام نہیں تھا۔
غیر سنجیدہ یا پریشان کن نظرثانی درخواست پر وکیل یا فریق پر 25,000 روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
نظرثانی درخواست کی سماعت
واضح طور پر بینچ کے تعین کا ذکر نہیں تھا۔
نظرثانی درخواست وہی بنچ سنے گا جس نے فیصلہ دیا تھا۔ اگر جج ریٹائر یا مستعفی ہو جائے تو باقی ججز سماعت کریں گے۔
جیل درخواستوں پر فیس
جیل درخواستوں پر فیس کے بارے میں واضح ہدایات نہیں تھیں۔
جیل درخواستوں پر کوئی کورٹ فیس نہیں لی جائے گی۔
کورٹ فیس
فیس کا ڈھانچہ پرانا تھا اور ڈیجیٹلائزیشن کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔
نیا کورٹ فیس چارٹ جاری کیا گیا ہے، مثلاً: سی پی ایل اے/سول اپیل کی فیس 2500 روپے، آئینی درخواست کی فیس 2500 روپے، سول ریویو کی فیس 1250 روپے، سیکیورٹی چالان کی فیس 50,000 روپے، انٹرا کورٹ اپیل کی فیس 5000 روپے، وغیرہ۔
ڈیجیٹلائزیشن اور شفافیت
ڈیجیٹلائزیشن یا آٹومیشن پر زور نہیں تھا۔
ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے کیس مینجمنٹ اور آٹومیشن کو بہتر بنانے پر توجہ دی گئی ہے۔
رولز کی تیاری
پرانے رولز 1980 میں بنائے گئے تھے اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں تھے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی ہدایت پر جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں چار رکنی کمیٹی نے ججز، سپریم کورٹ آفس، بار کونسلز، اور وکلاء ایسوسی ایشنز سے تجاویز لے کر رولز تیار کیے۔
نئے رولز 2025 کی اہم خصوصیات
مدت میں اضافہ:
فوجداری اور براہِ راست دیوانی اپیلوں کی مدت 30 دن سے بڑھا کر 60 دن کر دی گئی ہے، جو درخواست گزاروں کو زیادہ وقت فراہم کرتی ہے۔
رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے خلاف اپیل کی مدت 14 دن مقرر کی گئی ہے۔
نظرثانی درخواستوں کے تقاضے:
نظرثانی درخواست کے ساتھ فیصلے یا حکم کی تصدیق شدہ کاپی لازمی ہے۔
نئے شواہد پر مبنی درخواستوں کے لیے مصدقہ دستاویزات اور حلف نامہ درکار ہے۔
درخواست پر دستخط کرنے والے وکیل یا فریق کو نظرثانی کی بنیاد مختصر طور پر بیان کرنا ہوگا۔
غیر سنجیدہ درخواستوں پر جرمانہ:
غیر سنجیدہ یا پریشان کن نظرثانی درخواستوں پر وکیل یا فریق پر 25,000 روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے، جو عدالتی نظام کے غلط استعمال کو روکنے میں مدد دے گا۔
نظرثانی کی سماعت کا طریقہ کار:
نظرثانی کی درخواست وہی بنچ سنے گا جس نے فیصلہ دیا تھا۔ اگر جج ریٹائر یا مستعفی ہو جائے تو باقی ججز سماعت کریں گے۔
جیل درخواستوں پر فیس معافی:
جیل درخواستوں پر کوئی کورٹ فیس نہیں لی جائے گی، جو قیدیوں کے لیے انصاف تک رسائی کو آسان بناتی ہے۔
نیا کورٹ فیس چارٹ:
نیا فیس چارٹ 6 اگست 2025 سے نافذ العمل ہے، جس میں شامل ہے:
سی پی ایل اے/سول اپیل کی فیس: 2500 روپے
آئینی درخواست کی فیس: 2500 روپے
سول ریویو کی فیس: 1250 روپے
سیکیورٹی چالان کی فیس: 50,000 روپے
انٹرا کورٹ اپیل کی فیس: 5000 روپے
پاور آف اٹارنی، کیویٹ، کنسائز اسٹیٹمنٹ کی فیس: 500 روپے
حلف نامہ کی فیس: 500 روپے
درخواست فیس: 100 روپے
ڈیجیٹلائزیشن اور شفافیت:
نئے رولز میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے کیس مینجمنٹ کو بہتر بنانے اور آٹومیشن کے ذریعے انتظامی کاموں کو تیز کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ اس سے عدالتی کارروائیوں میں تاخیر کم ہوگی اور عوام کے لیے عدالتی معلومات تک رسائی بہتر ہوگی۔
چیف جسٹس کی صوابدیدی اختیارات:
اگر کسی شق پر عمل درآمد میں مشکل پیش آئے تو چیف جسٹس کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر حکم جاری کر سکتے ہیں، جو رولز سے متصادم نہ ہو۔
100 SMART VOCABULARY YOU MUST KNOW
Frustrated – Upset due to failure
Synthesize – Combine ideas
Subtle – Slight, not obvious
Promote – Support or advertise
Narrative – Story or account
Assumption – Believed without proof
Merge – Combine into one
Emphasize – Give importance to
Vivid – Clear and bright
Rebrand – Change image or name
Innovate – Create something new
Grateful – Thankful
Outline – Summarize main points
Phenomenon – Remarkable event
Cite – Refer to (a source)
Curious – Wanting to know
Implement – Put into action
Conclude – Decide after thinking
Hopeless – Without hope
Furious – Extremely angry
Overwhelmed – Feeling too much at once
Analyze – Examine in detail
Facilitate – Make easier
Predict – Say what will happen
Abstract – Not concrete
Tangible – Can be touched or felt
Dynamic – Full of energy
Cautious – Careful to avoid danger
Budget – Plan money use
Lucid – Clear and easy to understand
Confident – Sure of oneself
Assess – Evaluate or judge
Shocked – Extremely surprised
Justify – Prove with reasons
Motivated – Eager to do something
Evaluate – Judge or assess
Resentful – Bitter about unfairness
Contrast – Show differences
Strategize – Plan carefully
Oversee – Supervise
Tangential – Slightly connected
Dull – Boring
Compare – Show similarities
Perspective – Point of view
Embarrassed – Ashamed or shy
Syntax – Sentence structure
Paradox – Contradictory truth
Compelling – Hard to resist
Reluctant – Unwilling
Cautious – Careful to avoid danger
Lonely – Feeling alone
Dense – Thick or crowded
Highlight – Point out as important
Semantics – Word meanings
Forecast – Predict future
Perspective – Point of view
Valid – True or logical
Nostalgic – Missing the past
Flawed – Not perfect
Demonstrate – Show clearly
Innovate – Create something new
Ideology – System of ideas
Assert – State strongly
Compelling – Hard to resist
Delighted – Very happy
Monitor – Watch closely
Harsh – Rough or cruel
Interpret – Explain the meaning
Meticulous – Very careful
Inspire – Motivate creatively
Dull – Boring
Motivated – Eager to do something
Rationale – Reason or explanation
Paradigm – Model or pattern
Vibrant – Bright and lively
Delegate – Assign tasks
Shock – Extremely surprised
Cautious – Careful to avoid danger
Predict – Say what will happen
Expand – Grow larger
Hopeless – Without hope
Subtle – Slight, not obvious
Launch – Start or release
Elusive – Hard to catch or define
Assert – State strongly
Implication – Suggested meaning
Concede – Admit something is true
Intricate – Very detailed
Correlate – Show a connection
Tangible – Can be touched or felt
Discrepancy – Difference or conflict
Recommend – Suggest something
Consult – Ask for advice
Synthesize – Combine ideas
Define – Explain the meaning
Anxious – Nervous or worried
Interpret – Explain the meaning
Flawed – Not perfect
Rationale – Reason or explanation
Framework – Basic structure
_Narcotic Case_
*Summoning of CDR* of police officials in order to verify their presence at the spot.
Application Dismissed.
*PLJ 2025 Cr.C. 1*
PLD 2024 LHR 522
PLJ 2023 CR.C 371
25/02/2026
حکومتِ پنجاب نے مورخہ 23 فروری 2026 کو، پنجاب سول سرونٹس ایکٹ 1974 کے سیکشن 23 کے تحت، پنجاب سول سروسز پینشن رولز میں اہم ترامیم جاری کی ہیں۔ یہ ترامیم فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور ان کا براہِ راست تعلق رضاکارانہ ریٹائرمنٹ، جبری ریٹائرمنٹ اور کوالیفائنگ سروس کے تعین سے ہے۔
🔹 1️⃣ رضاکارانہ ریٹائرمنٹ (Voluntary Retirement) — سب سے اہم تبدیلی
📌 سابقہ قانونی پوزیشن:
پہلے اگر کوئی سرکاری ملازم 25 سال کی کوالیفائنگ سروس مکمل کر لیتا تھا تو وہ رضاکارانہ ریٹائرمنٹ لے سکتا تھا، چاہے اس کی عمر 55 سال سے کم ہی کیوں نہ ہو۔
یعنی 25 سال سروس خود ایک مکمل بنیاد تھی۔
📌 ترمیم کے بعد نئی پوزیشن:
اب شرط یہ مقرر کی گئی ہے کہ:
رضاکارانہ ریٹائرمنٹ 25 سال کی کوالیفائنگ سروس یا 55 سال عمر، جو بھی بعد میں ہو، کی بنیاد پر ہوگی۔
سادہ الفاظ میں:
اگر 25 سال سروس مکمل ہو گئی مگر عمر 55 سال نہیں ہوئی → ریٹائرمنٹ نہیں
اگر عمر 55 ہو گئی مگر سروس 25 سال نہیں → پینشن نہیں
یعنی اب 25 سال سروس اکیلے کافی نہیں، عمر کی شرط فیصلہ کن بن گئی ہے۔
⚖️ عملی اثر:
یہ تبدیلی قبل از وقت ریٹائرمنٹ کے دروازے کو مؤثر طور پر محدود کر دیتی ہے۔
🔹 2️⃣ جبری ریٹائرمنٹ (Compulsory Retirement)
📌 پہلے کیا تھا؟
جبری ریٹائرمنٹ کی صورت میں پینشن کا تعین عمومی اصولوں کے مطابق کیا جاتا تھا، تاہم کم از کم سروس کی حد اس انداز میں سختی سے متعین نہیں تھی۔
📌 اب کیا ہوگا؟
اب واضح کر دیا گیا ہے کہ:
جبری ریٹائرمنٹ کی صورت میں کم از کم 20 سال کی کوالیفائنگ سروس لازمی ہوگی۔
⚖️ اثر:
اگر کسی ملازم کو 20 سال سے کم سروس کے دوران جبری طور پر ریٹائر کیا جاتا ہے تو اسے مکمل پینشن کے حق میں دشواری کا سامنا ہو سکتا ہے۔
🔹 3️⃣ بدعنوانی یا مس کنڈکٹ کی بنیاد پر علیحدگی
ترمیم کے بعد یہ امر مزید واضح کیا گیا ہے کہ اگر ملازم کو بدعنوانی یا مس کنڈکٹ کی بنیاد پر سروس سے الگ کیا جائے تو بھی پینشن کا حق کوالیفائنگ سروس کی تکمیل سے مشروط ہوگا۔
⚖️ آئینی و قانونی پہلو
پاکستانی عدالتی نظائر میں بارہا قرار دیا گیا ہے کہ:
پینشن کوئی سرکاری عنایت نہیں بلکہ ملازم کا حاصل شدہ حق (accrued right) ہے۔
تاہم یہ بھی اصول ہے کہ: قانون ساز اتھارٹی کو قواعد میں ترمیم کا اختیار حاصل ہے، بشرطیکہ:
ترمیم امتیازی نہ ہو
آئین کے بنیادی حقوق سے متصادم نہ ہو
ماضی سے مؤثر (retrospective) انداز میں حاصل شدہ حقوق کو غیر منصفانہ طور پر متاثر نہ کرے
سابقہ قانون
ترمیم کے بعد
25 سال سروس پر رضاکارانہ ریٹائرمنٹ ممکن
25 سال سروس + 55 سال عمر (جو بعد میں ہو)
عمر کی شرط عملی طور پر غیر مؤثر
عمر کی شرط فیصلہ کن
جبری ریٹائرمنٹ میں واضح کم از کم حد نہیں
جبری ریٹائرمنٹ پر 20 سال سروس لازمی
قبل از وقت ریٹائرمنٹ نسبتاً آسان
قبل از وقت ریٹائرمنٹ محدود
💰 مالی و انتظامی اثرات
✔ حکومت کے لیے:
پینشن کے بڑھتے ہوئے مالی بوجھ میں کمی
تجربہ کار افسران کا زیادہ عرصہ تک سروس میں رہنا
سروس اسٹرکچر میں تسلسل
❗ ملازمین کے لیے:
25 سال مکمل کرنے کے باوجود فوری ریٹائرمنٹ ممکن نہیں
سروس پلاننگ متاثر
نوجوان افسران کے لیے اگلے گریڈز میں پروموشن کے مواقع سست ہو سکتے ہیں
جبری ریٹائرمنٹ کی صورت میں کم سروس والوں کے لیے خطرہ
📌
یہ ترمیم پینشن کے تصور کو "سروس مکمل ہونے پر فوری حق" سے ہٹا کر "مقررہ عمر اور مدت کی تکمیل" سے مشروط کر رہی ہے۔
24/02/2026
It is important to state here that when an offence is also punishable with fine only as an alternative punishment in lieu of imprisonment, then, the concession of bail ought not to be withheld because if at the trial he is sentenced with fine only, then the period as undertrial prisoner due to refusal of bail would amount to a case of double jeopardy. Similarly, while dealing with such-like cases, the refusal of bail would also be in contravention of Article 13(a) of the Constitution which embodies the provision of the legal maxim nemo debet bis vexari pro eadem causa (No one should be twice troubled (or vexed) for the same cause) as well as section 403 of the Code, because at the end of the day, if the accused is sentenced with fine alone, then it would not be possible to compensate him for his detention in judicial lock up during trial. The same spirit is also reflected in section 26 of the General Clauses Act, 1897. It is also worth-mentioning that in such state of affairs, continued custody of the applicant in jail is not likely to serve any beneficial purpose. Even otherwise, the concession of bail ought not to be withheld by way of premature punishment.
Before parting with this judgment, we find it extremely necessary to state here that the prisons in Pakistan are facing extreme overcrowding with most prison facilities operating beyond their official capacity. According to the prison data report? for the year 2024 regarding prison population, on average, prisons are at 152.2% overcapacity. More concerning is that the under-trial prisoners account for almost a quarter of the prisoners i.e. 73.41% of the total prison population. In such courts must adjudicate the bail applications with circumstances, heightened sensitivity to these figures and prioritize the swift disposal of trials. Such measures are imperative to overcome unprecedented overcrowding in prisons and uphold the fundamental sanctity of the criminal justice system in Pakistan.
Crl.P.L.A.10-L/2026
Liaqat Ali v. The State thr P G Punjab Lahore and another
Mr. Justice Malik Shahzad Ahmad Khan
28-01-2026
It is by now well settled that suspension is not = removal, dismissal or termination from service. Rather, it is an interim measure, which merely suspends _ the performance of duties while the order of appointment or contract continues to subsist, and the relationship of employer and employee remains intact. Consequently, the civil servant continues to hold the post, albeit without performing duties. Once the contract of service continues to operate, all rights flowing therefrom, including entitlement to full salary, remain enforceable during the suspension period. The suspension does not extinguish the contract; therefore,an employee cannot be deprived of lawful remuneration without express legal sanction. In this regard, Allah, the Almighty, says in the Holy Quran:
“O you who believe, fulfil your contracts” (5:1).
When the Government issues an appointment order, it enters into a binding contract of service with the employee. Any unilateral withholding of salary, without the authority of law, is inconsistent with the terms and conditions of such appointment. Depriving a suspended employee of full pay or salary and service benefits is not only unjust and oppressive, but also contrary to the express mandate of Fundamental Rule 53 (b).
Allah, the Almighty, commands justice and forbids oppression, Similarly, the as ordained in the Holy Quran (16:90). Holy Quran unequivocally prohibits the unlawful deprivation of property and lawful earnings, declaring that people should not devour one another’s wealth (2:188) and should not withhold from others that which is rightfully theirs (11:85). In the same vein, the Holy Prophet Muhammad (PBUH) emphasized the sanctity of timely remuneration by commanding that the labourer be paid his wages before his sweat dries (Ibne Majah).
Islam mandates the fulfilment of contracts, protection of lawful earnings, and prohibition of exploitation and unjust deprivation. Suspension is merely an interim arrangement Imposition and does not amount to a finding of guilt. of financial deprivation before adjudication amounts to punishment without proof, which is repugnant to Islamic principles of justice. The verses of the Holy Quran and the Hadith quoted above clearly establish the obligation of timely and full payment of wages.
Civil Petition No. 4753 of 2025.
Federal Board of Revenue, through its Chairman/ Secretary, Revenue Versus Irshad Hussain Qaisrani & another
Click here to claim your Sponsored Listing.
