Haan Hum SUNNI Hein

Haan Hum SUNNI Hein

Share

very very good and thanks for Facebook

17/10/2019
03/02/2019

حج 2019 کے اخراجات کے بارے میں چند باتیں۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے حج 2019 پہ سبسڈی نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔اس پہ چند باتیں بطور پاکستانی عرض کرتا ہوں۔

1۔۔۔حج صاحب استطاعت پہ فرض ہے لیکن پہلے زمانے میں ہر شخص خود فیصلہ کرتا تھا کہ وہ حج پہ جا سکتا ہے یا نہیں۔سارے اخراجات اس کے اپنے ہاتھ میں ہوتے تھے۔اس نے کس معیار کی سواری پہ جانا ہے۔کہاں ٹھہرنا ہے۔کیسے جانور کی قربانی کرنی ہے۔اس سب کا حساب کتاب اس کے اپنے ہاتھ میں ہوتا تھا لیکن اب بات بدل گئی ہے۔

2۔۔۔موجودہ دور میں حج کے اخراجات یا تو حکومت طے کرتی ہے یا پرائیویٹ ٹریولر ایجنسی اپنے مختلف پیکیج دیتی ہے۔جس میں آپ کے آنے جانے۔قیام ۔طعام ۔زیارات۔سعودیہ میں حج کی فیس شامل ہے۔

3۔۔۔گذشتہ چند سالوں کے حج اخراجات کی تفصیل جان لیں۔

حج اخراجات تفصیل کچھ یوں ہے
2013 میں 2 لاکھ 92 ہزار
2014 میں 2 لاکھ 72 ہزار
2015 میں 2 لاکھ 64 ہزار
2016 میں 2 لاکھ 78 ہزار
2017 میں 2 لاکھ 80 ہزار
2018 میں 2 لاکھ 80 ہزار
2019 میں 4 لاکھ 36 ہزار
قربانی کی رقم شامل نہیں اور 2 ہزار ریال حاجی کو لے کر جانا ہیں۔ فل پیکج
2019 میں 5 لاکھ 30 ہزار

4۔۔۔آپ اس تفصیل کو چیک کریں تو پتہ چلتا ہے کہ جو حج 2013 میں 2 لاکھ 92 ہزار کا تھا وہ 2015 میں 2 لاکھ 64 ہزار روپے کا ہو گیا تھا۔اس کی وجہ بلاشبہ وزارت حج و عمرہ کی بہترین کارکردگی تھی جس نے پہلے سے اچھی پالیسی بنائی اور حجاج کرام کو بہترین سہولیات فراہم کی۔

5۔۔۔2016 اور 2017 میں حج اخراجات میں معمولی اضافہ ہوا تھا لیکن بنا کسی سبسڈی کے بہتر پیکیج ملا تھا۔لیکن 2018 میں حج کے اصل اخراجات 3 لاکھ 25 ہزار روپے تھے لیکن پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت نے فی حاجی 45 ہزار روپے سبسڈی دے کر حج اخراجات کو 2 لاکھ 80 ہزار روپے پہ برقرار رکھا۔

6۔۔2019 میں حج اخراجات غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ڈالر کی قیمت اضافہ۔سعودیہ میں مقامی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ۔عمارتوں کے کرائے میں اضافہ۔گاڑیوں کے کرائے میں اضافہ(اس مہنگائی کی تصدیق سعودیہ میں مقیم پاکستانیوں سے کی جاسکتی ہے) جس کی وجہ سے 2019 میں حج اخراجات 4 لاکھ 36 ہزار روپے پہ پہنچ گئے ہیں۔

7۔۔۔۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو ان حج اخراجات پہ 45 ہزار روپے سبسڈی دینے کی تجویز دی گئی جو اگر منظور ہو بھی جاتی تو بھی حج 2019 کے اخراجات 3 لاکھ 91 ہزار روپے ہوتے۔جس میں قربانی اور 2 ہزار ریال نقد شامل نہ ہوتے۔

8۔۔۔اب حج اخراجات پہ سبسڈی کا مسئلہ سمجھ لیں۔حکومت پاکستان کا فرض ہے کہ آئین کے تحت تمام حجاج کو حج کے لیے بہترین سہولیات فراہم کرے۔اس کے لیے سبسڈی دینے یا نہ دینے کا فیصلہ انتظامی ہے۔شریعت کی طرف سے اس پہ نہ کوئی پابندی ہے اور نہ یہ لازمی ہے۔

9۔۔۔۔اگر کوئی حاجی سبسڈی کے ساتھ حج کرے یا بنا سبسڈی کے حج کرے۔دونوں صورتوں میں حج پہ کوئی فرق نہیں پڑتا۔حج بلکل درست ہے۔

10۔۔۔۔عوام کے پیسوں سے حج پہ سبسڈی دینے کا مسئلہ چونکہ صرف انتظامی ہے تو یہ حکومت کی مرضی پہ ہے کہ وہ سبسڈی دے یا نہ دے۔آپ کی مرضی آپ اس فیصلے پہ تنقید کریں یا تعریف لیکن یہ یاد رکھیں شریعت کی طرف سے کوئی اعتراض نہیں ہے۔یہ بلکل ویسے ہی ہے جیسے میٹرو بس سروس میں عوام کو سبسڈی دی جاتی ہے۔کسانوں کو بعض جگہ بجلی میں سبسڈی ملتی ہے۔فوج کے ملازمین کو ریل کے کرایوں میں رعایت دی جاتی ہے۔

11۔۔۔بعض لوگوں کے مطابق چونکہ حج پہ سبسڈی عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے دی جاتی ہے اور ٹیکس دینے والوں میں ہندو۔سکھ۔قادیانی سب شامل ہیں تو ان کے پیسے پہ حج کرنا کیسا ہے۔جواب یہ ہے کہ جب ٹیکس کا پیسہ عوام سے نکل کر حکومت کے پاس چلا گیا تو وہ حکومت پاکستان کی ملک ہے۔اس کا مسلم یا غیر مسلم عوام کی ملکیت سے کوئی تعلق نہیں۔(مفتی حضرات کے لیے فقہ کا قاعدہ پیش خدمت ہے۔تبدل ملک سے تبدل عین ہو جاتا ہے)

12۔۔۔حج اخراجات پہ سبسڈی نہ دینے کا فیصلہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا ہے اور آپ اس پہ دل کھول کر تنقید یا تائید کریں ۔یہ آپ کا جمہوری حق ہے لیکن میری ان باتوں پہ غور کرنے کے بعد۔نیز ایک دوسرے پہ فتوے بازی نہ کریں۔جو لوگ پہلے حج کر چکے ان پہ کوئی اعتراض نہ کریں۔

اللہ ہم سب کو حرمین طیبین کی با ادب حاضری نصیب کرے۔آمین۔ منجانب عدیل الرحمان

18/01/2019

الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یارسول اللہ
وعلی الک واصحابک یا سیدی یا حبیب اللہ

Photos from Haan Hum SUNNI Hein's post 22/11/2018

UK Attari Nalayn Shareef Badge Now Available in Lahore *1200*
AL Hameed Perfume Tipu Center Makkah Bazar Town Ship
AL Madina Road Near Madina Masjid *0324 4004326 *

09/10/2018

جمال دین جمالو کی علوم دینیہ کی سند
بعض لوگوں نے استفسار کیا ہے کہ میرا جمال دین بغدادی سے کیا اختلاف ہے۔ جواب پیش خدمت ہے؛
میری جمال دین بغدادی سے آج تک نہ ہی ملاقات ہوئی، نہ ہی بات ہوئی۔ نہ میرا کوئی ذاتی اختلاف ہے۔ میں حلفا کہتا ہوں کہ میرا مقصد فقط اتنا ہے کہ مذہب اہل سنت و جماعت کے نام پر اس نے جو مکاری، عیاری اور جہالت پھیلانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اسے روکنا ہے۔ کیونکہ عوام ِ اہل سنت گزشتہ کئی دہائیوں سے ایسے ہی جاہلوں کی کرامتیں اور بشارتیں سن کر فکری پستی کا شکار ہو رہے ہیں۔
تو لیجیے دیکھ لیجیے، اس نے حیدر آباد میں جب نوکری حاصل کی تھی تو وہاں اس نے جامعہ محمدیہ نوریہ رضویہ بکھی شریف کی سند پیش کی تھی۔ جس کی بنا پر اسے مسجد میں امامت و خطابت کی ذمہ داری دی گئی۔ حیدر آباد والوں نے جب بکھی شریف سے اس کی تصدیق کرنا چاہی تو انہوں نے واضح انکار و تردید تحریری ارسال کیا۔ زیر نظر تصویر میں بکھی شریف کے خط کی تاریخ دیکھیں اور عبارت پڑھیں۔
میں نے گزشتہ روز جو سوال پوسٹ کیے تھے اس کے جواب ابھی تک نہیں ملے کہ جمال دین کا علومِ دینیہ میں استاد کون ہے؟ اور سلسلہِ طریقت میں شیخ کون ہے؟ اگر یہ بغیر استاد و شیخ اور بغیر سند کے عالمِ دین، شیخِ طریقت اور پیر و خطیب بن سکتا ہے تو پھر ذاکر نائیک اور جاوید غامدی کو بھی تسلیم کر لیں؟ حق وہی ہے جو ہمیشہ حق ہو، یہ نہ ہو کہ ایک شخص کے لیے الگ قانون اور دوسرے کے لیے الگ۔
الحمد للہ عزوجل، میں علمائے اہل سنت کی تائید سے یہ پوسٹ کر رہا ہوں، اور ایسے دو نمبر علماء اور جاہل خطباء کو ایکسپوز کرنے کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ آنے والے دنوں میں کچھ مزید" میڈ ان چائنہ" پیروں اور خطیبوں کے چہروں سے نقاب ہٹایا جائے گا۔ فی الحال آپ جمالو کو جاننے کی کوشش کریں۔
یاد رہے کہ میں جو باتیں لکھ رہا ہوں وہ دلیل اور ثبوت کے ساتھ ہیں۔ مجھے ان کا جواب بھی دلیل اور ثبوت کے ساتھ ہی چاہیے۔ جمال دین بغدادی میرے ساتھ فیس بک لائیو پر آ جائے یا پھر کسی بھی مقام پر آ جائے، اس کے ساتھ گفتگو کی ویڈیو ریکارڈ ہو گی، جو جھوٹا ہو اس کی ناک سر میدان کاٹ دی جائے اور گلے میں چھتروں کا ہار ڈال کر سر بازار دوڑ لگوائی جائے۔
(جاری ہے)

Sunni Defense Media Cell

01/10/2018

میں پی ٹی آئی کا سپورٹر نہیں مگر حق کا ساتھ دینے والا ضرور ہوں

09/09/2018

یکم محرم الحرام یوم شہادت خلیفہ دوم حضرت سیدنا عمر بن خطاب فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ

Want your business to be the top-listed Government Service in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address

Town Ship
Lahore
1226