Pakistan Ulema Council - Offical

Call Website

Pakistan Ulema Council - Offical Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Pakistan Ulema Council - Offical, Lahore.

Pakistan Ulema Council [PUC] is an Organization in Pakistan whose members include Islamic Clerics and Legal Scholars, The reason for establishing PUC was to put an end to the growing sectarian violence and interfaith confrontation in the country,

24/09/2026

متحدہ مدارس کونسل اور قومی پیغام امن کمیٹی: مدارس کے مسائل کے حل کی طرف ایک اہم پیش رفت
مولنا محمد اسلم صديقى
پاکستان میں دینی مدارس کا نظام ایک طویل عرصے سے چند بڑے وفاقوں اور تنظیمات کے گرد گھومتا رہا ہے، لیکن گزشتہ چند برسوں میں مدارس کی رجسٹریشن، نئے دینی تعلیمی بورڈز، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ریلیجس ایجوکیشن (DGRE) اور مدارس سے متعلق قانون سازی نے اس منظرنامے میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ اسی بدلتی ہوئی صورت حال میں متحدہ مدارس کونسل پاکستان ایک ایسے مشترکہ پلیٹ فارم کے طور پر زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آئی ہے جس میں بالخصوص DGRE کے نظام سے وابستہ دینی تعلیمی بورڈز کی نمائندگی موجود ہے۔

اس پوری پیش رفت کا ایک اہم پہلو قومی پیغام امن کمیٹی کا کردار بھی ہے۔ قومی پیغام امن کمیٹی نے حکومت، ریاستی و متعلقہ اداروں، دینی قیادت اور مدارس کے درمیان رابطہ کاری کے عمل میں حصہ لیا ہے، جبکہ DGRE مدارس کے رجسٹریشن، بینک اکاؤنٹس اور دیگر انتظامی معاملات کے حل کے لیے بنیادی سرکاری فورم کے طور پر سامنے آیا ہے۔

یوں حالیہ پیش رفت کو صرف متحدہ مدارس کونسل کی جدوجہد کے طور پر دیکھنا مکمل تصویر نہیں ہوگی۔ متحدہ مدارس کونسل نے مدارس کا موقف اور مسائل منظم انداز میں سامنے رکھے، قومی پیغام امن کمیٹی نے دینی قیادت اور حکومتی و ریاستی اداروں کے درمیان رابطے اور مکالمے میں کردار ادا کیا، جبکہ DGRE نے ان معاملات کو انتظامی اور عملی سطح پر آگے بڑھایا۔

یہ تینوں پہلو ایک دوسرے سے جڑتے ہیں تو مدارس کے مسائل کے حل کے لیے ایک نسبتاً نیا ادارہ جاتی ماڈل سامنے آتا ہے۔

DGRE کا قیام مدارس کی رجسٹریشن اور انہیں قومی تعلیمی نظام سے مربوط کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔ اس کے سرکاری مقاصد میں مدارس کی رجسٹریشن کے ساتھ ان کے بینک اکاؤنٹس کھلوانے میں سہولت فراہم کرنا بھی شامل ہے۔

مدارس کی رجسٹریشن کے معاملے پر گزشتہ عرصے میں ہونے والی قانون سازی نے اس بحث کو مزید اہم بنا دیا۔ مدارس کے لیے مختلف قانونی راستوں اور نئے دینی تعلیمی بورڈز کی موجودگی نے یہ بنیادی سوال بھی پیدا کیا کہ مستقبل میں مدارس کی نمائندگی کا نظام کس شکل میں آگے بڑھے گا۔

اسی ماحول میں متحدہ مدارس کونسل نے اپنی شناخت مضبوط کرنا شروع کی۔ مختلف دینی تعلیمی بورڈز اور جامعات کے نمائندوں نے بینک اکاؤنٹس، رجسٹریشن اور صوبائی سطح پر درپیش قانونی و انتظامی رکاوٹوں پر مشترکہ موقف اختیار کیا۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ملک کے تقریباً 33 ہزار مدارس میں سے قریب 22 ہزار مدارس DGRE کے ساتھ رجسٹرڈ ہوچکے ہیں۔

اس پورے عمل میں حافظ محمد طاہر محمود اشرفی، ڈاکٹر آصف میر، مفتی محمد کریم خان، مولانا زبیر فہیم اور مختلف دینی تعلیمی بورڈز کے دیگر ذمہ داران مسلسل متحرک نظر آئے۔ مختلف مواقع پر دوسرے علماء اور دینی بورڈز کے ذمہ داران بھی اس جدوجہد میں شریک رہے۔

قومی پیغام امن کمیٹی — ایک رابطہ کار پل

یہاں قومی پیغام امن کمیٹی کا ذکر خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔

قومی پیغام امن کمیٹی بنیادی طور پر امن، مذہبی و بین المسالک ہم آہنگی، قومی وحدت اور انتہاپسندی کے خلاف مشترکہ قومی بیانیے کے لیے کام کرتی ہے، لیکن مدارس اور مذہبی قیادت اس پورے عمل کے بنیادی فریق ہیں۔ اسی وجہ سے مدارس کے مسائل، ان کی ریاست کے ساتھ رابطہ کاری اور حکومت و علماء کے درمیان اعتماد سازی بھی اس وسیع تر عمل سے جڑ جاتی ہے۔

حافظ محمد طاہر محمود اشرفی بیک وقت قومی پیغام امن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر اور پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین ہونے کی وجہ سے اس رابطہ کاری میں نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ ایک طرف وہ علماء اور مدارس کے مسائل حکومت اور متعلقہ اداروں تک پہنچاتے رہے، جبکہ دوسری طرف ریاستی اداروں اور دینی قیادت کے درمیان مسلسل مکالمے پر زور دیتے رہے۔

اسی طرح DGRE نے انتظامی سطح پر مدارس اور حکومت کے درمیان institutional mechanism فراہم کیا۔

اس لیے مدارس کے بینک اکاؤنٹس کے معاملے میں حالیہ پیش رفت کو دیکھا جائے تو متحدہ مدارس کونسل، قومی پیغام امن کمیٹی اور DGRE کے درمیان رابطہ کاری اس پورے عمل کا ایک اہم پہلو نظر آتی ہے۔

بینک اکاؤنٹس — مطالبے سے عملی اقدام تک

متحدہ مدارس کونسل کے لیے اب تک کی سب سے نمایاں عملی پیش رفت مدارس کے بینک اکاؤنٹس کا معاملہ ہے۔

یہ محض علامتی مسئلہ نہیں تھا۔ کسی بھی جدید تعلیمی ادارے کے لیے قانونی بینک اکاؤنٹ مالی شفافیت، عطیات کے ریکارڈ، تنخواہوں اور انتظامی اخراجات کے باقاعدہ نظام کے لیے بنیادی ضرورت ہے۔

متحدہ مدارس کونسل مسلسل یہ سوال اٹھاتی رہی کہ جب مدارس قانونی طور پر رجسٹرڈ ہیں تو انہیں بینک اکاؤنٹس کھولنے میں عملی مشکلات کیوں پیش آتی ہیں۔

اس معاملے پر DGRE، بینکنگ اداروں، مدارس کے نمائندوں اور حکومتی ذمہ داران کے درمیان رابطے ہوئے اور اب یہ معاملہ مطالبے سے نکل کر عملی مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔

23 ستمبر کو اسلام آباد میں حافظ محمد طاہر محمود اشرفی اور متحدہ مدارس کونسل سے وابستہ علماء نے ایک بینک برانچ کا دورہ کرکے مدارس کے اکاؤنٹس کھولنے کے عمل کا جائزہ لیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلام آباد میں 24 مدارس کے بینک اکاؤنٹس کھل چکے تھے اور مزید اکاؤنٹس کھولنے کا عمل جاری تھا۔

یہی وجہ ہے کہ اسے متحدہ مدارس کونسل کی پہلی بڑی عملی کامیابیوں میں سے ایک کہا جاسکتا ہے۔

لیکن اس کامیابی کا کریڈٹ کسی ایک شخصیت یا ادارے تک محدود کرنا درست نہیں ہوگا۔

حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے خود اس پیش رفت پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کی دلچسپی اور کوششوں کا شکریہ ادا کیا اور DGRE کے کردار کو بھی سراہا۔

دوسری جانب متحدہ مدارس کونسل کے علماء نے مسئلے کو مسلسل اٹھایا اور قومی پیغام امن کمیٹی نے دینی قیادت اور ریاستی و حکومتی اداروں کے درمیان رابطے کے وسیع تر عمل میں اپنا کردار ادا کیا۔

اس اعتبار سے یہ کامیابی ایک دلچسپ مثال ہے کہ ریاست، حکومت، DGRE، قومی پیغام امن کمیٹی اور مدارس کی نمائندہ قیادت اگر ایک میز پر بیٹھ کر مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کریں تو برسوں سے زیر التوا معاملات بھی عملی حل کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔

کیا مدارس کی روایتی نمائندگی کا منظرنامہ بدل رہا ہے؟

اصل سوال یہاں سے شروع ہوتا ہے۔

پاکستان میں مدارس کی نمائندگی طویل عرصے تک چند روایتی وفاقوں کے گرد مرکوز رہی ہے۔ نئے دینی تعلیمی بورڈز کے قیام کے بعد نمائندگی کا دائرہ وسیع ہوا ہے۔ مولانا فضل الرحمن اور جے یو آئی (ف) سمیت بعض روایتی حلقوں نے نئے بورڈز اور DGRE کے نظام پر تحفظات ظاہر کیے ہیں، جبکہ نئے بورڈز سے وابستہ حلقوں کا موقف ہے کہ تمام مدارس اور دینی تعلیمی بورڈز کو مساوی قانونی حیثیت اور اپنی پسند کے رجسٹریشن نظام کے انتخاب کا حق ملنا چاہیے۔

یہ اختلاف محض رجسٹریشن تک محدود نہیں۔ اس کے اندر ایک بڑا سوال موجود ہے:

مستقبل میں پاکستان کے مدارس کی نمائندگی کس بنیاد پر ہوگی — تاریخی حیثیت، تعداد، سیاسی قوت یا عملی کارکردگی؟

متحدہ مدارس کونسل کے لیے یہی اصل امتحان ہے۔

اگر یہ پلیٹ فارم مدارس کے بینک اکاؤنٹس کے بعد رجسٹریشن، غیر ملکی طلبہ کے ویزوں، اسناد کی مساوات، تعلیمی سہولتوں اور دیگر انتظامی مسائل میں بھی قابل پیمائش نتائج دیتا ہے تو مدارس کے اندر اس کی اہمیت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

تاہم ابھی یہ نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا کہ اس سے روایتی وفاقوں کا اثر لازماً کم ہوجائے گا۔ اس کا فیصلہ وقت، مدارس کی اپنی ترجیحات اور مختلف پلیٹ فارمز کی عملی کارکردگی کرے گی۔

سیاست سے بالاتر مدارس — اصل امتحان

اس پورے منظرنامے میں حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کا یہ موقف اہم ہے کہ مدارس کے مسائل کو سیاسی وابستگی یا ووٹ کی سیاست سے نہیں جوڑنا چاہیے اور مدارس سب کے ہیں، ان کے مسائل بھی بلاامتیاز حل ہونے چاہئیں۔

یہی موقف اب متحدہ مدارس کونسل اور قومی پیغام امن کمیٹی دونوں کے لیے عملی امتحان بھی ہے۔

پاکستان میں مذہبی سیاست اور مدارس کے تعلق پر طویل عرصے سے مختلف آراء موجود ہیں۔ بعض ناقدین مذہبی سیاسی جماعتوں اور مدارس کے باہمی تعلق پر سوال اٹھاتے ہیں، جبکہ روایتی وفاقوں اور مذہبی سیاسی جماعتوں کا موقف ہے کہ ان کی جدوجہد مدارس کی آزادی، خودمختاری اور دینی تشخص کے تحفظ کے لیے ہے۔

اس بحث کا فیصلہ سیاسی نعروں سے نہیں بلکہ عملی نتائج سے ہوگا۔

اگر متحدہ مدارس کونسل اور قومی پیغام امن کمیٹی واقعی یہ اصول قائم کر دیتے ہیں کہ مدرسہ کسی بھی وفاق، مسلک یا سیاسی وابستگی سے تعلق رکھتا ہو، اس کے جائز قانونی، تعلیمی اور انتظامی مسائل یکساں بنیادوں پر حل ہونے چاہئیں، تو یہ پاکستان کے مدارس کے نظام میں ایک اہم تبدیلی ہوگی۔

اسلام آباد میں کھلنے والے ابتدائی بینک اکاؤنٹس تعداد میں شاید بہت بڑے نہ ہوں، لیکن ان کی علامتی اہمیت کہیں زیادہ ہے۔ ایک دیرینہ مسئلہ پہلی مرتبہ عملی حل کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔

اب اگلا مرحلہ زیادہ اہم ہے: یہی سہولت پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے مدارس تک کیسے پہنچتی ہے؟

اگر یہ عمل پورے ملک تک پھیلتا ہے اور اس کے بعد رجسٹریشن، ویزوں، اسناد اور دوسرے مسائل بھی اسی حکومت–DGRE–قومی پیغام امن کمیٹی–متحدہ مدارس کونسل رابطہ کاری کے ذریعے حل ہوتے ہیں تو پاکستان میں مدارس اور ریاست کے تعلق کا ایک نیا باب شروع ہوسکتا ہے۔

آخرکار آنے والے وقت میں اصل سوال شاید یہ نہیں ہوگا کہ مدارس کی قیادت کا دعویٰ کون کرتا ہے، بلکہ یہ ہوگا کہ مدارس کے حقیقی مسائل عملی طور پر حل کون کراتا ہے۔

22/09/2026

مدارس عربیہ کے لیے اہم خوشخبری

اسلام آباد میں مدارس عربیہ کے بینک اکاؤنٹس کھولنے کا آغاز ہوگیا ہے۔ چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی اور متحدہ مدارس کونسل کے قائدین نے آج مسلم کمرشل بینک (MCB) اسلامک کا دورہ کیا اور مدارس کے بینک اکاؤنٹس کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت پر بریفنگ لی۔

حافظ محمد طاہر محمود اشرفی، سید زاہد الحسن شاہ بخاری، ڈاکٹر عاصم میر، مولانا زبیر رحمانی، مولانا طاہر عقیل اور مولانا قاسم قاسمی نے اس اہم پیش رفت پر تمام مدارس عربیہ کو مبارکباد پیش کی۔

یہ مدارس عربیہ کے لیے ایک اہم اور خوش آئند پیش رفت ہے۔

13/09/2026

Address

Lahore

Telephone

+923007888871

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pakistan Ulema Council - Offical posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share