16/01/2026
تاریخ کی بڑی جنگیں ہمیشہ اُن ریاستوں کو بے نقاب کرتی ہیں جو صرف طاقت کے زعم پر چلتی ہیں، اور اُن ریاستوں کو مضبوط بناتی ہیں جو وقت، جغرافیہ اور توازن کو سمجھتی ہیں۔ پہلی عالمی جنگ سے لے کر آج تک اگر عالمی طاقت کے سفر کو دیکھا جائے تو ایک حقیقت بار بار سامنے آتی ہے: جنگیں نقشے بدل دیتی ہیں، مگر صرف وہی ممالک زندہ رہتے ہیں جو جنگ کے بعد کی دنیا کے لیے خود کو تیار رکھتے ہیں۔
پہلی عالمی جنگ سے پہلے دنیا سلطنتوں کی دنیا تھی۔ طاقت کا مطلب فوج کی تعداد، نوآبادیات اور بحری بیڑوں کی وسعت تھا۔ برطانیہ سمندروں پر حکومت کرتا تھا، جرمنی صنعت اور عسکری نظم کا ابھرتا چہرہ تھا، فرانس نوآبادیاتی طاقت، روس انسانی وسائل کا انبار، اور عثمانی سلطنت زوال کے باوجود جغرافیائی طور پر فیصلہ کن حیثیت رکھتی تھی کیونکہ تین براعظموں کو جوڑنے والی چابی اس کے ہاتھ میں تھی۔ یہ دنیا ایک کثیر قطبی دنیا تھی جہاں طاقت بکھری ہوئی مگر غیر مستحکم تھی۔
پہلی عالمی جنگ نے اس نظام کو توڑ دیا۔ سلطنتیں گریں، مگر امن پیدا نہ ہوا۔ عثمانی خلافت کے خاتمے نے مشرقِ وسطیٰ کو مستقل بحران دیا، جرمنی کی تذلیل نے انتقام کو جنم دیا، اور یورپ معاشی طور پر اتنا کمزور ہو گیا کہ وہ عالمی قیادت سے باہر ہو گیا۔ اسی خلا میں امریکہ پہلی بار حقیقی عالمی طاقت کے طور پر سامنے آیا، جبکہ روس ایک نئے نظریے کے ساتھ سوویت یونین کی صورت میں ابھرا۔
دوسری عالمی جنگ نے طاقت کو مکمل طور پر دو حصوں میں بانٹ دیا۔ امریکہ اور سوویت یونین، دو نظریات، دو بلاکس، اور ایٹمی خوف پر قائم ایک نیا عالمی نظام (نیو ورلڈ آرڈر) قائم ہوا۔ برطانیہ اور فرانس تاریخ کے بڑے نام رہ گئے، جرمنی اور جاپان عسکری طور پر غیر مؤثر کر دیے گئے۔ طاقت کا معیار اب ایٹم بم، اتحاد اور صنعتی صلاحیت بن چکا تھا۔
اسی عالمی ترتیب کے بیچ برصغیر تقسیم ہوا۔ پاکستان ایک نظریاتی ریاست کے طور پر وجود میں آیا، محدود وسائل مگر واضح خطرات کے ساتھ۔ بھارت آبادی، جغرافیائی تسلسل اور نوآبادیاتی ڈھانچے کے وارث کے طور پر سامنے آیا۔ یہی فرق بعد کی دہائیوں میں دونوں کی اسٹریٹجک سوچ میں نمایاں رہا۔ پاکستان نے بقا کی جنگ لڑی، بھارت نے برتری کے خواب دیکھے۔
سرد جنگ کے دوران پاکستان نے اپنی جغرافیائی اہمیت کا فائدہ اٹھایا، فوجی اداروں کو مضبوط کیا، اور آخرکار ایٹمی صلاحیت حاصل کر کے اپنے وجود کو ناقابلِ نظرانداز بنا دیا۔ دوسری طرف بھارت غیرجانبداری کے دعوے کے باوجود سوویت بلاک کے قریب رہا، مگر داخلی تضادات اس کی طاقت کے نیچے پلتے رہے۔
سوویت یونین کے خاتمے کے بعد دنیا وقتی طور پر یک قطبی ہو گئی۔ امریکہ نے خود کو واحد سپر پاور سمجھا، مگر یہ مرحلہ زیادہ دیر نہ چل سکا۔ چین خاموشی سے معاشی اور تکنیکی طاقت بن گیا، روس نے عسکری وزن دوبارہ حاصل کیا، اور علاقائی طاقتیں فیصلہ کن کردار میں آ گئیں۔ آج دنیا ایک پیچیدہ کثیر قطبی نظام میں داخل ہو چکی ہے جہاں طاقت شور سے نہیں بلکہ اثر سے ناپی جاتی ہے۔
،اسی ماحول میں پاکستان کی اہمیت کم نہیں بلکہ بڑھتی ہے۔ پاکستان آج ایک جوہری طاقت ہے، ایک تجربہ کار طاقتور، مضبوط اور منظم فوج رکھتا ہے، اور ایک ایسے جغرافیے پر واقع ہے جو چین کو خلیج، وسط ایشیا اور بحیرۂ عرب سے جوڑتا ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو پاکستان کو محض ایک علاقائی ریاست نہیں بلکہ اسٹریٹجک بیلنسر بناتی ہے۔
بھارت اس بدلتی دنیا میں خود کو امریکہ کے قریب لا کر چین کے خلاف ایک بڑے کردار کی امید رکھتا ہے۔ کواڈ، انڈو پیسیفک اور مغربی سفارت کاری اسی سوچ کا تسلسل ہیں۔ مگر یہ حکمتِ عملی بظاہر جتنی مضبوط دکھائی دیتی ہے، اندر سے اتنی ہی نازک ہے۔ بھارت بیک وقت چین، پاکستان اور اندرونی عدم استحکام کے دباؤ میں ہے۔ اس کی سب سے بڑی کمزوری اس کا سائز نہیں بلکہ اس کا تضاد ہے، عالمی طاقت بننے کی خواہش اور داخلی تقسیم کا بوجھ۔
پاکستان کے لیے بھارت سے خطرہ آج بھی مکمل جنگ نہیں بلکہ محدود مہم جوئی کی صورت میں ہے۔ 2019 بالاکوٹ اور مئی 2025 جیسے واقعات اسی سوچ کی مثال ہیں: داخلی سیاست کے لیے بیرونی محاذ پر خطرہ پیدا کرنا۔ مگر پاکستان کی جوابی صلاحیت اب صرف دفاعی نہیں بلکہ فوری، متوازن اور کثیر سطحی ہے۔ فضائی توازن، میزائل ڈیٹرنس، الیکٹرانک وارفیئر اور کمانڈ اینڈ کنٹرول کی مضبوطی کسی بھی بھارتی ایڈونچر کو بھارت کے لئیے غیر معمولی طور پر مہنگا بنا دیتی ہے۔
بھارت کی کمزور نبضیں واضح ہیں، چین کے ساتھ حقیقی سرحدی تنازع، طویل اور غیر محفوظ سرحدیں، داخلی علیحدگی پسند تحریکیں، مذہبی تقسیم، اور سول ملٹری ہم آہنگی کے مسائل۔ کسی بھی بڑے عالمی بحران یا ممکنہ تیسری عالمی جنگ کے ماحول میں یہ دباؤ کئی گنا بڑھ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتیں بھارت کو کھلی چھوٹ دینے سے پہلے رک کر سوچتی ہیں۔
پاکستان کی طاقت صرف اس کی فوج میں نہیں بلکہ اس کے اتحادوں میں بھی ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ دہائیوں پر محیط دفاعی اعتماد، ترکی کے ساتھ بڑھتا ہوا عسکری و تکنیکی تعاون، چین کے ساتھ اسٹریٹجک ہم آہنگی، ایران کے ساتھ محتاط ہمسائیگی، آذربائیجان کے ساتھ غیر مشروط حمایت، خلیجی ممالک، وسط ایشیا اور انڈونیشیا کے ساتھ بڑھتے روابط، یہ سب پاکستان کے اسٹریٹجک دائرے کو وسیع کرتے ہیں۔ ممکنہ پاکستان–سعودی–ترکی دفاعی محور مسلم دنیا میں ایک ایسا توازن پیدا کر سکتا ہے جو نہ کسی کے خلاف ہو گا اور نہ کسی کا محتاج۔
اگر دنیا کسی تیسری عالمی جنگ یا طویل سرد جنگ کی طرف بڑھتی ہے تو یہ جنگ ٹینکوں سے کم، معیشت، ٹیکنالوجی، سائبر اسپیس، مصنوعی ذہانت اور پراکسی محاذوں پر زیادہ لڑی جائے گی۔ اس منظرنامے میں پاکستان کا کردار فرنٹ لائن سپاہی کا نہیں بلکہ ایک کنٹرولڈ، ذمہ دار اور فیصلہ کن بیلنسر کا ہو گا۔ ایک ایسی ریاست جو مختلف طاقتوں کے لیے قابلِ قبول ہے اور خطے میں عدم استحکام کو محدود کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
تاریخ یہ سکھاتی ہے کہ جو ریاستیں وقت سے پہلے شور مچاتی ہیں، وہ جلدی تھک جاتی ہیں۔ اور جو ریاستیں خاموشی سے تیاری کرتی ہیں، وہ جنگوں کے بعد بھی نقشے پر موجود رہتی ہیں۔
پاکستان آج اسی راستے پر ہے، جنگ کے نعروں میں نہیں، بلکہ ممکنہ جنگ کے بعد کی دنیا میں اپنا مقام محفوظ بناتے ہوئے۔

12/01/2026
10/05/2025
08/04/2024
03/01/2024
04/09/2023
10/02/2023
25/12/2022
26/09/2022
15/09/2022