05/04/2026
#سابقہ حل شدہ پرچہ جات
#اردو لیکچرار
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ? ppsc
05/04/2026
#سابقہ حل شدہ پرچہ جات
#اردو لیکچرار
29/03/2026
#اردو کی ابتدا اور مختلف نام
#اردو لیکچرار
کیا آپ جانتے ہیں؟ "منشی پریم چند" کے نام کے ساتھ منشی کیوں لگتا ہے؟
اردو ادب کے عظیم افسانہ نگار دھنپت رائے (جو نواب رائے اور پھر پریم چند کے نام سے مشہور ہوئے) کے نام کا حصہ "منشی" کیسے بنا؟ اس کے پیچھے دو دلچسپ حقائق ہیں:
1️⃣ علمی و تعلیمی پس منظر: 🎓
قدیم نظامِ تعلیم میں اردو اور فارسی کے اعلیٰ امتحانات پاس کرنے والے عالم و فاضل شخص کو "منشی" یا "منشی فاضل" کی سند دی جاتی تھی۔ پریم چند چونکہ ان زبانوں کے ماہر تھے اور معلمی (ٹیچنگ) کے پیشے سے وابستہ تھے اس لیے اس دور کے رواج کے مطابق انہیں احتراماً "منشی جی" کہا جانے لگا۔
2️⃣ ایک تاریخی اتفاق اور ہنس رسالہ:
ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ جب پریم چند نے مشہور ادبی رسالہ "ہنس" جاری کیا تو ان کے ساتھ شریکِ مدیر گجرات کے مشہور ادیب کنہیا لال منشی تھے۔ رسالے کے سرورق پر دونوں کے نام کچھ یوں چھپتے تھے: "منشی اور پریم چند"۔
وقت گزرنے کے ساتھ قارئین نے ان دونوں ناموں کو ایک ہی شخصیت کا نام سمجھ لیا اور یوں "منشی پریم چند" کی وہ خوبصورت ترکیب وجود میں آئی جو آج عالمی ادب میں ایک معتبر پہچان بن چکی ہے۔
منشی یہاں صرف ایک پیشہ ورانہ لقب نہیں بلکہ زبان دانی، استادی اور ایک تاریخی ادبی اشتراک کی علامت ہے۔
غلامی کی زندگی سے م و ت اچھی۔
علی تمہاری شجاعت پہ جھومتے ہوں گے۔
05/02/2026
مرکب
فجر کا وقت رب العالمین کی جانب سے ایک نعمت ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب زمین پر سکون چھا جاتا ہے اور آسمان سے رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔ جو شخص فجر کی نماز ادا کرتا ہے، اس کے لیے دن کی ابتداء برکت اور سکون سے ہوتی ہے۔ نمازِ فجر چھوڑنے والے اللہ کی بے شمار رحمتوں سے محروم ہو جاتے ہیں۔ ❤️
..
”وہ ہم سفر تھا مگر اس سے ہم نوائی نہ تھی،
کہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا جدائی نہ تھی،
نہ اپنا رنج نہ اوروں کا دکھ نہ تیرا ملال،
شب فراق کبھی ہم نے یوں گنوائی نہ تھی،
محبتوں کا سفر اس طرح بھی گزرا تھا،
شکستہ دل تھے مسافر شکستہ پائی نہ تھی،
عداوتیں تھیں، تغافل تھا، رنجشیں تھیں بہت،
بچھڑنے والے میں سب کچھ تھا، بے وفائی نہ تھی،
بچھڑتے وقت ان آنکھوں میں تھی ہماری غزل،
غزل بھی وہ جو کسی کو ابھی سنائی نہ تھی،
کسے پکار رہا تھا وہ ڈوبتا ہوا دن،
صدا تو آئی تھی لیکن کوئی دہائی نہ تھی،
کبھی یہ حال کہ دونوں میں یک دلی تھی بہت،
کبھی یہ مرحلہ جیسے کہ آشنائی نہ تھی،
عجیب ہوتی ہے راہ سخن بھی دیکھ نصیرؔ،
وہاں بھی آ گئے آخر، جہاں رسائی نہ تھی...!!!“
*`نصیر ترابی`*❤️
24/01/2026
ن
ہم کو دیکھ زمانے! ہم نے
پتھر کھائے پھول بکھیرے
23/01/2026
اردو
18/01/2026
Ppsc urdu