13/03/2024
“صادق و امین (حضر مُحمّد) کی خبر پر دُنیا اور اخرت کو ماننا، دین نام ہے خُدا اور آخرت کا۔ تو ہم نے صادق اور امین کو ماننا ہے، اور وہ صادق اور امین بھی سلسلائے صداقت اور امانت کی آخری کڑھی ہیں۔ یعنی ایسا نہیں کہ حضرت مُحمّد اچانک بیچ میں سے کھڑے ہوگئے۔ وہ صداقت اور امانت کی ایک پوری روایت چلی آرہی ہے، اور وہ ایک پورا discourse بن چُکا ہے، اُس صداقت اور امانت کی کی آخری کڑھی صادق اور امین ہیں، جو History کی daylight میں ہیں۔ یعنی اللّٰہ نے صداقت اور امانت کی Chain کو جہاں ختم کیا ہے، وہ نُکتاے اختتام تاریخ کے روزِروشن میں ہے۔ اور اُسمے کوئی mythology نہیں ہے، ورنہ ہر نبی کے گِرد mythology لکھی ہوی ہے، صرف رَسُول اُللّہ ہیں جو Historical شخصیت ہیں اپنے ہر مفہوم میں— تو اب شخصیت بھی historical ہیں، اُسکی صداقت اور امانت بھی challengable نہیں ہے، اور نا ہونگے— تو اُسکی خبر پر یقین نا لانا، یہ خلافِ عقل ہے۔اور جدید علم اگر خُدا کے ہونے کو چیلنج کرتی ہے، تو سب سے پہلے اُس علم کے direction اور goal کو چیلنج کرنا ہے کہ کیا واقعی یہ parameters پوری عقلی دلیل کے ساتھ خدا کا اِنکار کر رہی ہے، یا پھر یہ biasness یا partiality دکھا رہی ہے۔ کیونکہ اگر یہی لوگ دوسری theories کو— جو کہ یہ لوگ empirically ٹیسٹ نہیں کر سکتے، مانتے ہیں— تو خدا اور اُسکا دین جو ہر لحاظ سے پورا ہے— اِسکو نا ماننا عقلی طور پور عقل کے خِلاف ہے”
احمد جاوید صاحب: یوٹیوب ویڈیو لیکچر ( ۴۴- ۵۰ منٹ)
لنک:
Intellect and the Lack of It عقل اور بے عقلی - Ahmad Javaid | Aqal Aur Bai Aqli | احمد جاوید
𝐓𝐚𝐛𝐥𝐞 𝐨𝐟 𝐂𝐨𝐧𝐭𝐞𝐧𝐭𝐬 *** فہرست ***00:00 (آغاز)01:20 (عقل ارادے کے تابع ہوتی ہے)02:54 (project of enlightenment-Kant موجودہ عقل اور اس کا پس...
10/03/2024
دِل خون کے آنسو روتا ہے!!
احمد جاوید صاحب— اللّٰہ اِنکو لمبی زِندگی دے۔ ایک دِن بیان میں انہوں نے فرمایا کہ پاکستان ایک colonial مُلک ہونے کے ناطے اِسکے لئے بُہت ہی بڑی بدقسمتی ہے کہ یہ سامراج کے ماہ تحت رہا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ postcolonial mentality، یعنی سامراجیت یا نو آبادیاتی والی دِماغ کبھی بھی اب اچھی سوچ یا لوگ پیدا نہیں کر سکتا۔ انگریز سامراج نے ایسا بیج بویا، جو آج ہم مُختلِف شکلوں میں اِسکا نتیجہ دیکھ رہے ہیں۔ احمد جاوید صاحب کے مُطابق postcolonial دِماغ اب کبھی بھی وہ معاشرہ پیدا نہیں کر سکتا جو تہذیب کے دائرے میں رہ کر زِندگی گزار سکھے۔ جب میں نے احمد جاوید صاحب کے یہ الفاظ سُنّے اور تھوڑا غور او فِکر کیا، تو واقعی ایسا ہی ہے۔ اب جب سوشیل میڈیا کا زمانہ ہے، تو آپ بڑی آسانی سے اِس چیز کو ملاحظہ کر سکتے ہیں، اگر کوئی دیکھنے والی آنکھ ہو تو۔
میں آپ کو چند مثالیں دینا پسند کرونگا، آپ خُود سوچیں۔
- [ ] دُنیا میں وہ اقوام جو colonized نہیں ہوئے، آپ دیکھینگے کہ وہ قومیں اپنی صحت اور نیند پر compromise نہیں کرتے۔ پاکِستان آپ دیکھ لیں : نہ یہاں کے لوگوں میں fitness اور صحتمند زِندگی کا کوئی concept ہے، اور نہ صحت مند زِندگی ہماری فکر ہے۔ سب سے زیادہ میٹھے اور گھی میں تلی ہوئی چیزیں ہماری قوم کاتی ہے، اور اُس سے بڑھ کر، گھی میں تلی ہوی چیزیں کو سوشل میڈیا کے ذریعے اور بھی promote کیا جاتا ہے۔
- [ ] نیند: اِنسانی جسم کے لئے نیند سب سے ضَروری چیز ہے، بدقسمتی سے جب سےسوشل میڈیا عام ہو چکا ہے نوجوانوں کی نیند ختم ہو چُکی ہے۔ نوجوان بڑھے شوق سے رات ۳ بجے کے قریب سوتے ہیں، اور صبح ۸ بجے اُٹ کر university بھی جانا ہوتا ہے۔ معذرت کے ساتھ— اِن نوجوانوں کے چہرے سب سے زیادہ مورجائے ہوتے ہے، نیند نا ہونے کی وجہ سے نہ انکی growth صحیح ہوتی ہے نہ کانا صحیح سے ہضم ہوتا ہے۔ لمحہ فکریہ ہے اِس قوم کے لئے۔
- [ ] قومی لیڈرز: ظاہر سی بات ہے جب قوم ہی intellectually ختم ہو، تو وہ اپنی assemblies میں تھوڑی ہی سلجھے ہوئے لوگوں کو بھیجنگے۔ اِن قومی لیڈرز کو— ادب کے ساتھ— پیسوں سے عورتوں کے ساتھ ہمبستری، شراب اور بڑی بڑی گاڑیوں کے علاوہ کچھ بھی نظر نہیں اتا۔
- [ ] عورت کا تصوُر: ایک غلامانہ ذہن رکھنے والے مُلک جیسے پاکستان میں ایک عام شہری کے لئے عورت کا مقام ایک الگ ہی دُنیا ہے۔ عورت ذات اگر اپنی خوبصورتی کو پاکستان میں بیچنا چاہے، تو ہر طرح کے ads، youtube channels، اور ہر طرح کا commercial دروازہ کھلا ہے اِن عورتوں کے لئے۔ یونیورسٹی کے پروفیسرز سے لے کر سیاستدان تک، فوجی جنریلوں سے لے کر دیہات اور عام شہری تک— سب کے لئے عورت object ہے، اور یہ ایک تلخ حقیقت ہے۔ عین وقت میں، ایسی مظلوم عورتیں بھی بیچاری موجود ہے جو گاؤں اور دیہات میں ہیں، اور چونکہ تعلیم اور اچھے کپڑوں سے محروم ہیں، اور مردوں کے expectations پر نہیں اوترتی، لہٰذا بدقسمتی سے ہر طرح کے ظلم سہتی ہیں۔
- [ ] پاپولزم اور جہالت کا گھڑ: پاکستانی قوم جو کہ colonization کی بدترین شِکار رہی ہے، اور عِلم کا دروازہ اِس قوم کے لئے بند کردیا گیا ہے، تو اب ہر طرح کے ڈرامے اور trendz اِس مُلک میں پائے جاتے ہیں۔ عورت مارچ، یا کشمیر مارچ، یا آزادی مارچ، سیاسی مارچ— ہر طرح کے stages یہاں سجھتے ہیں۔ اوپر سے میڈیا کی موجودگی، آگ پر پیٹرول ڈالنے کے مُترادِف ہیں۔ اِنسانی زِندگی کی چوٹی چوٹی چیزیں پاکستان میں trendz بن جاتی ہیں۔ مثلاً: مریم نواز نے آج یہ کپڑے پہنے ہیں، نواز شریف نے اِتنا کانا کایا، Ducky بھائی نے بیوی کو یہ گفٹ دیا، شیربانو نقوی یہ ہے، وہ ہے، ہیرو ہے، امبانی نے اِتنے پیسے خرچ کیے، یہ فلم سٹار چھٹی منانے یہاں گئے، چھوٹے شیرازی نے نیا Vlogg بنایا، شاہد انور اِتنا امیر ہے، اتنی گاڑیاں ہیں، شعیب مالک نے نئی شادی کی، بابر نے اِتنے چکے مارے اور— اور بھی فضول چیزے آپکو اِس مُلک کے میڈیا ٹرینڈز پر ملیں گی۔
- [ ] سمارٹ فون کا استعمال: پاکِستانی اب ایک ایسی قوم بن چُکی ہے جو دِن بہ دِن سمارٹفون، اور ایک metaverse کے اندھر داخل ہو رہی ہے۔ اِس قوم نے نہ کبھی علمِ اور رسیرچ کو اپنا شیوا بنایا،اور نا ہی توفیق ہوی اِس قوم کو کہ جا کر اپنی تاریخ اور ثقافت کو پڑھے، تا کہ اِنکی وِراثت اور تہذیب زِندہ رہے۔ نہیں!! بلکہ یہ قوم تو اولٹا بچوں کے ہاتھوں میں موبائل فون دے رہی ہے۔ شیراز، Baba che، اور اِس طرح کے دوسرے بچّے جب vlogg بناتے ہیں، تو ایک دن میں لاکھوں views آجاتے ہیں، اور comment سیکشن میں لوگ اولٹا ماشاءاللہ جیسے الفاظ سے اِنکی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ رونے کا مقام ہے اِس قوم کے لئے۔
- [ ] دیسی لبرلز کا گھڑ: پاکستانی یونیورسٹیز اب دو نمبر لیبرلز کا گھڑ بنتے جا رہا ہے۔ قائد عظم یونیورسٹی اور پنجاب یونیورسٹی اِسکی زِندہ مثال ہیں۔ اِن یونیورسٹیز میں چونکہ اُس قسم کی کوالٹی تعلیم نہیں دی جا رہی، تو لہٰذا یہ جگیں دو کام کر رہی ہیں۔ ایک: یہ لوگ کم فہمی اور جہالت کی وجہ سے اِنکے اندھر عجیب و غریب نظریات جنم لے رہے ہے، مثلاً: پروگریسیو، سوشلسٹ، ڈیموکریٹک، نیشنلسٹ، اور فیمینسٹ جیسے القابات۔ اب اسمیں اِن بیچاروں کی غلطی نہیں ہے، کیوں کہ پاکستانی تعلیمی نِظام دوسرے مُمالک سے پیچھے ہے، اور اِسی لیے دیہات سے گیا ہوا بچہ جب جا کر Marx یا Neitchze پڑتا ہے، تو انہی کو نجاد دھند سمجھتے ہیں، جبکہ یہ philosophers اور اِنکی theories اور philosophies اب irrelevant ہو چُکی ہیں، اب نئے اور وقت کی ضرورت کے مطابق نئے چیزے market میں آچُکی ہیں۔ دوسرا: یہ یونیورسٹیز اور اِنکے اندھر جیسا ماحول بنتا جا رہا ہے، وہ traditional family system کے لئے کافی خطرناک ہے، کیونکہ یہاں کے بچے اور بچیاں اصل تعلیمی شعور نا ہونے کی وجہ سے فیملی سسٹم کو reconstruct کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو کہ ہر لحاظ سے صحیح نہیں ہے۔ اِن یونیورسٹیز میں سب سے زیادہ لبرل thought کو promote کرنے والے میڈل کلاس پشتون، بلوچ اور سرائیکی اور کُچھ دوسرے بھی شامِل ہیں۔
آخری بات، قومیں اِس وجہ سے ناکام نہیں ہوتی کہ اِنکی economy صحیح نہیں ہے، یا پھر غُربت ہے، بل کہ قومیں جب اپنی شناخت، تاریخ اور سب سے بڑھ کر مذہب کو صحیح معنو میں نا جانے، اور مذہب سے دُھوری اختیار کریں، تو سمجھ جائیں، تباہی اور بربادی کا وقت شروع ہو چکا ہے۔
اور شائد آپ مجھ سے یہ expect کریں کہ میں مُلک کے لئے نیک تمناؤ کا اِظہار کروں، تو بھائی!! بالکل نہیں۔ اب حالات ہاتھ سے قریباً نکلتے ہی جا رہے ہیں۔ اب صرف خدا کی ذات ہی سب کُچھ کر سکتی ہے۔ اللّٰہ حافظ!