تیری راہ پہ چلتا ہوں میں،تو منزل ہے میری
تیرے فیصلے پہ سرخم کرتا ہوں میں،تو عدالت ہے میری
تجھ سے محبت کرتا ہوں میں،تو محبت ہے میری
سانس لیتا ہوں میں ،تو دھڑکن ہے میری
تجھ سے عشق کرنے لگا ہوں،اب تجھ سے ڈرنے لگا ہوں
تجھ کو دل میں رکھنے لگا ہوں،اب اپنے دل سے ڈرنے لگا ہوں
اس دنیا میں مہمان بن کر آیا ہوں،اب میزبان بننے لگا ہوں
اس دنیا میں رو کر آیا ہوں،اب ہنس کر جانے لگا ہوں
اب تو میزبان ہے میرا،میں مہمان ہوں تیرا
بخش دینا مجھے یا رب ،بندہ اے گہنگار ہوں تیرا
Raza's poetry
Just poetry my name hamid raza and i use this page for public my own poetry
تو روبرو آ میرے خدا، کرا دیدار مجھے
تھک گئیں ہیں آنکھیں اب اس دنیا کو دیکھ کر
صبر ایوب تو ہے مگر طلب موسیٰ و یعقوب بھی ہے
میں آدم زات ہوں مگر میرے اندر نور بھی تو ہے
تیرے عشق سے اب اس دنیا میں میرا دل لگتا نہیں
اب تجھے صرف دل میں رکھ کر میرا دل بھرتا نہیں
تیرے خلیفہ اب تجھ سے ملواتے نہیں مجھے
تیرے در پہ بیٹھے اب میری عمر ہوگئ ہے
تجھے دیکھے بنا اب میرا جی نہیں لگتا رضا
ہماری ملاقات کو ہوے اب عمر ہو گئی ہے
رمضان کی بات جب میں اعتکاف میں داتا دربار بیٹھا تھا تو میرا موبائل میری سستی یا اس سے بیزار ہونے کی وجہ سے چوری ہوگیا۔شاید مجھ سے زیادہ کسی غریب کو اسکی زیادہ ضرورت تھی ۔بہرحال اس نے اسکو بیچ کر اپنی حاجت پوری کی ہوگی یا کسی نشی نے نشے میں اس کے پیسے اڑا دیئے ہونگے۔ کہتے ہیں کہ جب آپ کو کسی چیز کی ضرورت ہوں تو وہ آپ کو زیادہ شدت سے تلاش کرتی ہے بانسبت جتنا اپکو اس کی تلاش ہوتی ہے۔ آخر کار اس تلاش کا وقت آخر آپہنچا اور اس نے مجھے پا لیا جیسے کسی مجنوں نے مجھ تپتی ریت سے اونچی اونچی عمارتوں سے، سمندروں سے گزر کر پایا ہوں۔البتہ اس نے اپنی لیلا یعنی مجھے پالیا اور میری جھولی میں اگرا ۔ میں بھی اسے پاکر اتنا ہی خوش ہوا جتنا لیلہ اپنے مجنوں کو پاکر ہوتی۔
پتہ ہے اسے میں اسے دیکھے بنا رہ نہیں سکتا
پھر بھی وہ اپنے چہرے پر پردہ ڈالے رکھتی ہے
میں اسے دیکھتا رہوں تو خوش رہتا ہوں
پھر بھی وہ مجھے مایوس کیے رکھتی ہے
پتہ نہیں اسے مجھ پہ رحم کیوں نہیں آتا
وہ لگاتار مجھے رنج و غم دیے رکھتی ہے
لگتا ہے کبھی مر جاؤ گا اسکی یاد میں رضا
وہ روپوش ہو کر میری دھڑکنیں روکے رکھتی ہے
کہتے ہیں آپ ُبری ہے سوچ ہماری
سوچتے ہیں اپ کو یہی ہے سوچ ہماری
رضا
کتنی ُبری سوچ ہے ہماری
اپ کو اچھا سمجھتے ہیں
رضا
بڑا کرم کیا رب نے دل ٹوٹا رکھا ہمارا
ورنہ ہم خوش مذاج نے کہا اشک بہانے تھے
رضا
انصاف بھی خوب بانٹ رہے ہیں وہ رضا
بہانے کے لیے آنسو بھی نہ دیے اور غم بھی دے دیا
ہمارے حصہ کی یہ چیز بھی نہ بخشی انہوں نے
دلاسے انہوں نے لے لیے، غمگین ہم تھے
رضا
اس نے بھی تعلق توڑنے کے نت نئے بہانے بنا رکھے تھے
پہلے ہمیں ناراض کیا گیا
پھر ہمیں منایا ہی نہ گیا
سکون صرف اسے ملتا ہے
جو مشکلوں سے گزرا ہو
جو مشکلوں سے نہ گزرا ہو
اسے سکون کا احساس کبھی نہیں ہوسکتا "رضا"
کبھی طوفان برپا تھا تو کبھی اکیلا پن پایا
یہ زندگی کیا تھی اس نے کیا کیا نہ پایا
آخر سب پا لیا اے رضا
پر کبھی سکون نہ پایا
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the business
Telephone
Address
Lahore
