Jannat Pakistan Party (Official)

Jannat Pakistan Party (Official)

Share

Mission is SABEEL ALLAH--MASAWAAT for PEACE, Allah Promises to give ALL CITIZENS EQUAL SHARES IN THE WEALTH OF PAKISTAN.

Political Party launched on March 23, 2011 to fulfill the Mission of Rasul Allah ﷺ for a Government that guarantees to give Security and Peace of Mind to its Citizens. ---DEEN ISLAM
Jannat Pakistan Manifesto is based on The Quran. 'QURAN IS THE SOVEREIGN OF THE ISLAMIC STATE'. Our Manifesto shall fulfill God’s promise to man. Quran promises equality and equal opportunity.

26/04/2026

ستیزہ کار رہا ہے ابد سے تا امروز، چراغِ مصطفوی سے شرارِ بولہبی

انسانی تاریخ کے طویل سفر میں ایک موضوع بار بار سامنے آتا ہے: خیر اور شر کی قوتوں کے درمیان کشمکش۔ مختلف تہذیبوں، مذاہب اور فکری روایتوں نے اس جدوجہد کو اپنے اپنے انداز میں بیان کیا ہے، مگر بنیادی خیال ایک ہی رہتا ہے—انسان عدل، نظم اور معنی کی تلاش میں رہتا ہے، جبکہ اسے انتشار، ظلم اور اخلاقی کمزوریوں کا سامنا بھی ہوتا ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد ﷺ جیسے رہنماؤں کو عموماً ایسے اخلاقی پیشوا کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے اپنی اپنی اقوام کو بلند تر اقدار کی طرف بلایا—رحم، انصاف، ضبط اور ذمہ داری۔ خواہ انہیں روحانی، تاریخی یا فکری زاویے سے دیکھا جائے، ان کی اصل تاثیر اس بات میں تھی کہ انہوں نے لوگوں کو ایک بہتر اور زیادہ منصفانہ نظام کی طرف متحرک کیا۔ مختلف ادوار اور خطوں میں کئی دیگر رہنما بھی ایسے گزرے ہیں جنہوں نے معاشروں کو سنوارنے اور بلند کرنے کی کوشش کی۔

یہ تصور کہ “خیر غالب آتی ہے” محض ایک پیش گوئی نہیں بلکہ انسانی آرزو کی عکاسی ہے۔ تاریخ ہمیشہ سیدھی لکیر میں انصاف کی طرف نہیں بڑھتی؛ اس میں تنزلی، سانحات اور تاریکی کے ادوار بھی آتے ہیں۔ لیکن وہ معاشرے جو قائم رہتے ہیں، عموماً وہ ہوتے ہیں جو ایسے ادارے، اقدار اور نظام قائم کرتے ہیں جو وقت کے ساتھ خود کو درست کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اسی تناظر میں اقوام کی بقا صرف طاقت پر نہیں بلکہ ان کی لچک، اندرونی مکالمے اور ان اصولوں سے وابستگی پر بھی منحصر ہوتی ہے جنہیں وہ—خواہ مکمل نہ سہی—اپنانے کی کوشش کرتی ہیں۔

امریکہ اور اسرائیل جیسے ممالک کے حامی اکثر یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ یہ ریاستیں استقامت اور بعض بنیادی اقدار—آزادی، سلامتی، اختراع اور قومی شناخت—کی نمائندگی کرتی ہیں۔ کسی بھی مخصوص پالیسی سے اتفاق یا اختلاف اپنی جگہ، عالمی سطح پر ان کا تسلسل پیچیدہ تاریخی، سیاسی اور سماجی عوامل کا نتیجہ ہے، نہ کہ محض خیر و شر کی سادہ تقسیم۔

جہاں تک قیادت کا تعلق ہے، تاریخ میں لوگ اکثر اپنے رہنماؤں میں امید، تسلسل اور نیا آغاز دیکھتے آئے ہیں—خصوصاً مشکل اوقات میں۔ کسی رہنما کے لیے حمایت، وفاداری اور اس کی خیریت کے لیے دعا کرنا انسانی روایت کا حصہ ہے، جس میں اقتدار کو اخلاقی یا علامتی اہمیت دی جاتی ہے۔

آخرکار، خیر کی کامیابی کوئی خودکار امر نہیں بلکہ ایک مسلسل عہد ہے۔ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ افراد اور معاشرے بار بار دیانت، انصاف اور اصلاح کا راستہ اختیار کریں۔ خیر کی “فتح” یقینی نہیں—یہ مسلسل کوشش، احتساب اور اپنے ہی اعمال کا جائزہ لینے کے جذبے سے قائم رہتی ہے۔

14/04/2026

رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ

13/04/2026

https://www.youtube.com/live/qDA7109BfRE?si=iyHa-RMT0tjyYRjN

TODAY IN HISTORY

On this day, 10 April 1959, Pakistan Air Force etched its first aerial victory into history; an early testament to its resolve, precision and unyielding vigilance in defending the nation’s skies. In a bold interception, two F-86F Sabres of No 15 Squadron scrambled to confront and decisively neutralize an intruding Indian Canberra PR57 that had violated Pakistani airspace near Rawalpindi. Flying at an altitude of 50,000 feet, the high-flying reconnaissance aircraft, Serial -988 from No 106 Squadron of the Indian Air Force, was engaged with remarkable skill by Flt Lt Muhammad Yunis. Despite the operational complexity of a high-altitude intercept, Yunis demonstrated exceptional professionalism, successfully shooting down the intruder. Notably, the intrusion occurred on the day of Eid-ul-Fitr, an occasion the adversary had deliberately chosen, presuming that PAF pilots would be pre-occupied with religious observances. However, in a powerful display of operational readiness and unwavering commitment, Sqn Ldr Naseer Butt and Flt Lt Yunis scrambled without hesitation, turning a moment of assumed vulnerability into one of decisive dominance.

Following the engagement, the IAF aircrew, Sqn Ldr Jagdish Chandra Sengupta and Flt Lt Satendra Nath Rampal, ejected over Pakistani territory and were taken into custody. Subsequent interrogation revealed the calculated timing of the mission, underscoring the adversary’s misjudgment of PAF’s preparedness and resolve. For his conspicuous gallantry, precision under pressure and exemplary professionalism, Flt Lt Muhammad Yunis was awarded the Sitara-e-Jurat, cementing his place among the pioneers of PAF’s combat legacy. This defining moment not only marked PAF’s first aerial kill but also set the tone for a doctrine rooted in vigilance, rapid response and technological competence; principles that continue to underpin its operational ethos.

13/04/2026

The Flame of Liberty
In Honor of Mishal Khan

There are lives that pass quietly into history, and there are lives that awaken the conscience of a nation. Mishal Khan belongs to the latter. He did not command armies, nor did he hold power in any formal sense. He was a young student—thoughtful, inquisitive, and unafraid. Yet within him burned something far greater than authority: the flame of liberty.

Mishal Khan stood for the right to think, to question, and to speak without fear. In a world where silence is often rewarded and conformity mistaken for virtue, he chose the more difficult path—the path of intellectual courage. He believed that truth does not shrink from scrutiny, and that a society progresses not by suppressing voices, but by engaging them with reason and dignity.

On April 13, 2017, that voice was brutally silenced. A mob, stirred by falsehood and frenzy, extinguished a young life. But in that tragic moment, something deeper was ignited. The man was taken, but the message endured. What was meant to silence him instead gave his voice an everlasting echo.

Mishal Khan lives on—not merely in memory, but in meaning.
He lives as a symbol of the questioning mind.
He lives as a reminder that freedom demands courage.
He lives as a flame that cannot be extinguished by violence.

History bears witness to a timeless truth: ideas do not die. Those who fall in defense of liberty do not vanish; they become guiding lights for generations yet to come. Mishal Khan is one such light. His name now stands as a testament to the enduring power of truth over fear.

To honor him is not simply to mourn, but to continue what he stood for. It is to defend the right to think freely, to speak honestly, and to challenge injustice wherever it appears. It is to ensure that no voice is ever silenced by the weight of ignorance or the fury of the crowd.

Mishal Khan did not die in vain.
He lives wherever courage confronts fear.
He lives wherever truth resists oppression.
He lives wherever the flame of liberty continues to burn.

Mishal Khan lives forever. Asarulislam Syed, California USA . April 13, 2026

13/04/2026

Talks Fail Islamabad Rises as America’s

.

� New to streaming or looking to level up? Check out StreamYard and get $10 discount! �

12/04/2026

‎تُو نہ مِٹ جائے گا ایران کے مِٹ جانے سے
‎نشّۂ مے کو تعلّق نہیں پیمانے سے
‎ہے عیاں یورشِ تاتار کے افسانے سے
‎پاسباں مِل گئے کعبے کو صنَم خانے سے
‎کشتیِ حق کا زمانے میں سہارا تُو ہے
‎عصرِ نَو رات ہے، دھُندلا سا ستارا تُو ہے

07/04/2026

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَابِ الْفِيلِ
أَلَمْ يَجْعَلْ كَيْدَهُمْ فِي تَضْلِيلٍ
وَأَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا أَبَابِيلَ
تَرْمِيهِمْ بِحِجَارَةٍ مِّن سِجِّيلٍ
فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّأْكُولٍ

05/04/2026

‎معجزۂ قانونِ خدائی

‎۵ اپریل ۲۰۲۶

‎از: ڈاکٹر اثراُلاسلام سید

‎اقوام کی اصل پہچان ان کے نعروں سے نہیں، بلکہ ان کے عمل سے ہوتی ہے۔

‎ایک نہایت نازک اور غیر یقینی لمحے میں، ریاستہائے متحدۂ امریکہ نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ اپنے لوگوں کو تنہا نہیں چھوڑتی۔

‎ایک امریکی جنگی طیارہ، F-15E اسٹرائیک ایگل، ایران کے جنوب مغربی علاقے میں مار گرایا گیا۔ اس میں سوار دو افسران نے دشمن کی سرزمین پر ایجیکٹ کیا—ایک ایسی جگہ جہاں زندہ رہنا ہی ایک چیلنج ہوتا ہے، اور واپسی تقریباً ناممکن دکھائی دیتی ہے۔

‎لیکن جو کچھ اس کے بعد ہوا، وہ معمول نہ تھا۔

‎امریکی افواج نے ایک ایسا سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کیا جسے تاریخ کے جری ترین آپریشنز میں شمار کیا جائے گا۔ ہر لمحہ خطرے سے بھرا ہوا تھا—دشمن کی نظر، مداخلت، اور ممکنہ تصادم—مگر مشن جاری رہا، نظم، مہارت اور عزم کے ساتھ۔

‎پھر وہ الفاظ سنائی دیے جنہوں نے بے چینی کو سکون میں بدل دیا:

‎“ہم اسے واپس لے آئے!”

‎یہ صرف ایک اعلان نہ تھا—یہ ایک عہد کی تکمیل تھی۔

‎✨ یہ معجزہ کیوں؟

‎یہ واقعہ کسی مذہبی داستان کا حصہ نہیں، بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے—
‎ایک انسان، دشمن کے بیچ تنہا، جس کی واپسی غیر یقینی تھی—
‎مگر وہ واپس آیا۔

‎یہ معجزہ ہے—لیکن جذبات کا نہیں،
‎یہ قانون، نظم، اور ریاستی عزم کا معجزہ ہے۔

🇺🇸 ریاست کا حقیقی چہرہ

‎یہ واقعہ صرف ایک فرد کی نجات نہیں۔

‎یہ اس اصول کی تصدیق ہے کہ:
‎ • ایک مضبوط ریاست اپنے ہر فرد کی قدر کرتی ہے
‎ • وہ خطرے میں بھی پیچھے نہیں ہٹتی
‎ • اور اپنے وعدوں کو عملی شکل دیتی ہے

‎ریسکیو آپریشنز جنگ سے بھی زیادہ خطرناک ہوتے ہیں—
‎کیونکہ ان کا مقصد تباہی نہیں، بلکہ زندگی کا تحفظ ہوتا ہے۔

‎اور یہی تہذیب کی پہچان ہے۔

‎🕊️ دنیا کے نام پیغام

‎طاقت کو اکثر غلط سمجھا جاتا ہے۔

‎حقیقی طاقت وہ نہیں جو تباہ کرے،
‎بلکہ وہ ہے جو خطرے کے عین درمیان زندگی کو بچا لے۔

‎یہ اقدام بے قابو ردِعمل نہیں تھا،
‎بلکہ ایک منظم، باوقار، اور مقصدی عمل تھا۔

‎تاریخ میں جنگیں لکھی جائیں گی، تنازعات بیان ہوں گے،
‎مگر کچھ لمحے ان سب سے بلند ہو جاتے ہیں۔

‎ایک زندگی کی واپسی۔
‎ایک ریاست کا وعدہ۔
‎اور ایک نظام کی کامیابی۔

‎اسی لیے یہ واقعہ صرف ایک خبر نہیں—
‎یہ ایک تصور ہے۔

‎یہ ہے: معجزۂ قانونِ خدائی

مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ ۚ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ

23/03/2026

Future of Israel

23/03/2026

Join me Live . Tonight at 9 pm Pakistan Time March 23

21/02/2026

A law that governs the land but not the heart breeds rebellion.
A law that governs the heart but not the land dissolves into idealism.
Durable order appears when the two horizons align.

Want your business to be the top-listed Government Service in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Address


Jannat Manzil, King Edward Housing Society, Defence Road
Lahore