Mashaikh Ittihad Council Pakistan

Call

Mashaikh Ittihad Council Pakistan ملک بھر کے مشائخ عظام کی سب سے بڑی نمائندہ جماعت �

380واں سالانہ عرس مبارک حضرت عبدالرزاق شاہ چراغ لاہوری رح 17ربیع الثانی 1448ہجری 30ستمبر 2026بروز بدھ دن 10بجے آمد جماعت...
03/10/2026

380واں سالانہ عرس مبارک حضرت عبدالرزاق شاہ چراغ لاہوری رح 17ربیع الثانی 1448ہجری 30ستمبر 2026بروز بدھ دن 10بجے آمد جماعتیں رسم چادر پوشی بدست سجادہ نشین ۔
احباب عقیدت و سیاسی و سماجی شخصیات نے بھرپور شرکت فرمائی ۔میاں معظم جہاں زیب وٹو صاحب سید سلیم حسن گیلانی ۔شہزاد روشن گیلانی ۔سید فرخ گیلانی سردار علی حمزہ خلصانہ ایڈوکیٹ
میاں ناصر وٹو ایڈوکیٹ معززین علاقہ۔
دعاگو مخدوم سید قاسم علی شاہ گیلانی الحسنی الحسینی الجعفری الجیلانی القادری سجادہ نشین دربار وخانقاہ حضرت بالا پیر رح وشاہ چراغ لاہوری رح و بابا شاہ نور محمد قادری قلندری لاہوری رح و مخدوم سید مجتبی شاہ گیلانی القادری لاہوری رح و سخی سیدن سائیں دیپالپوری و مخدوم سید مہر علی شاہ گیلانی القادری دیپالپوری رح نمبر دار موضع سیدن سائیں و دیپالپوروصدر وزیر اہتمام جامع مسجد وعید گاہ وجنازگاہ ودربار وخانقاہ حضرت سخی سیدن سائیں دیپالپوری و جوائنٹ سیکرٹری مشائخ اتحاد کونسل پاکستان

02/10/2026

380واں سالانہ عرس مبارک حضرت عبدالرزاق شاہ چراغ لاہوری رح 17ربیع الثانی 1448ہجری 30ستمبر 2026بروز بدھ دن 10بجے آمد جماعتیں رسم چادر پوشی بدست سجادہ نشین ۔
احباب عقیدت و سیاسی و سماجی شخصیات نے بھرپور شرکت فرمائی ۔میاں معظم جہاں زیب وٹو صاحب سید سلیم حسن گیلانی ۔شہزاد روشن گیلانی ۔سید فرخ گیلانی سردار علی حمزہ خلصانہ ایڈوکیٹ
میاں ناصر وٹو ایڈوکیٹ معززین علاقہ۔
دعاگو مخدوم سید قاسم علی شاہ گیلانی الحسنی الحسینی الجعفری الجیلانی القادری سجادہ نشین دربار وخانقاہ حضرت بالا پیر رح وشاہ چراغ لاہوری رح و بابا شاہ نور محمد قادری قلندری لاہوری رح و مخدوم سید مجتبی شاہ گیلانی القادری لاہوری رح و سخی سیدن سائیں دیپالپوری و مخدوم سید مہر علی شاہ گیلانی القادری دیپالپوری رح نمبر دار موضع سیدن سائیں و دیپالپوروصدر وزیر اہتمام جامع مسجد وعید گاہ وجنازگاہ ودربار وخانقاہ حضرت سخی سیدن سائیں دیپالپوری و جوائنٹ سیکرٹری مشائخ اتحاد کونسل پاکستان

بھرچونڈی شریف کے وفد کی آستانہ عالیہ چشتی عرفانیہ سندر شریف حاضریپیر میاں عبد الخالق القادری، سجادہ نشین درگاہ بھرچونڈی ...
01/10/2026

بھرچونڈی شریف کے وفد کی آستانہ عالیہ چشتی عرفانیہ سندر شریف حاضری

پیر میاں عبد الخالق القادری، سجادہ نشین درگاہ بھرچونڈی شریف، ڈہرکی، ضلع گھوٹکی، سندھ کی قیادت میں وفد نے آستانہ عالیہ چشتی عرفانیہ سندر شریف میں حاضری دی۔ وفد میں معروف صحافی سید احسان گیلانی بھی شامل تھے۔

وفد کی حاضری کے بعد سجادہ نشین آستانہ عالیہ چشتیہ عرفانیہ، مخدوم سید محمد حبیب عرفانی، مرکزی صدر مشائخ اتحاد کونسل پاکستان، سے ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر دونوں پیر صاحبان نے خانقاہی نظام کے احیاء اور اس کی موجودہ دور میں اہمیت و کردار کے حوالے سے تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔

مخدوم سید محمد حبیب عرفانئ صاحب کی جانب سے معزز وفد کے اعزاز میں ظہرانے کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر پیر صاحب بھیرچونڈی شریف نے جامعہ عرفانیہ مسجد کی عظمت، وسعت اور طرزِ تعمیر کو سراہتے ہوئے اسے دیکھ کر خوشگوار حیرت کا اظہار کیا اور اسے لاہور اور دہلی کی تاریخی بادشاہی مساجد سے مشابہ قرار دیا۔

مخدوم سید محمد حبیب عرفانی صاحب نے پیر صاحب بھرچونڈی شریف کو عرفان القرآن اور مکتبہ عرفانیہ کی دیگر مطبوعات بھی بطورِ تحفہ پیش کیں۔

29 ستمبر 2026ء

28/09/2026
مذمت
28/09/2026

مذمت

انا للہ وانا الیہ راجعون😭
26/09/2026

انا للہ وانا الیہ راجعون😭

🕍محبوبِ سبحانی، قطبِ ربانی، غوثِ صمدانی سرکار  #غوثِ_اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کی حیاتِ مبارکہ، آپ کا ان...
25/09/2026

🕍محبوبِ سبحانی، قطبِ ربانی، غوثِ صمدانی سرکار #غوثِ_اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کی حیاتِ مبارکہ، آپ کا اندازِ تبلیغ، خدمتِ خلق اور فلاحِ انسانیت کے کارنامے تاریخِ اسلام کا ایک روشن باب ہیں۔ تقریباً ایک ہزار سال بعد بھی آپ کی تعلیمات اتنی ہی زندہ اور مؤثر ہیں جتنا کہ اپنے دور میں تھیں۔
🪔 اپنے دور میں سرکار غوثِ اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا معاشرتی کردار کیا تھا اور آج اس جدید سائنسی اور تکنیکی دور میں ہم ان سے کس طرح رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں ❔
🪔تاجدارِ بغداد شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کا دورِ تبلیغ اور معاشرتی کردار 🌍
✴️آپ کا دور فکری انتشار، سیاسی طوائف الملوکی اور اخلاقی زوال کا دور تھا۔ ایسے میں آپ نے تلوار یا زور زبردستی کے بجائے اخلاقِ حسنہ، حکمت، عاجزی اور محبت کے ذریعے لوگوں کے دلوں کو فتح کیا۔ آپ کی مجلس میں ہر مکتبہ فکر، ہر طبقے اور ہر مذہب کے لوگ بغیر کسی تفریق کے آتے تھے۔ آپ نے بغداد میں درس و تدریس کے ساتھ ساتھ لنگر خانے جاری کیے، مسکینوں، محتاجوں اور یتیموں کی دستگیری فرمائی۔ آپ کا اندازِ تبلیغ یہ نہیں تھا کہ دوسروں کو گمراہ قرار دیا جائے بلکہ آپ کا مقصد بھٹکے ہوئے انسانوں کو اللہ کے قریب کرنا، ان کے اندر اخلاقی اقدار بیدار کرنا اور معاشرے سے نفرتوں کا خاتمہ کرنا تھا۔
⁉️جدید سائنسی دور میں غوثِ اعظم کی تعلیمات کی افادیت
✳️آج کی دنیا آرٹیفیشل انٹیلی جنس، سائنس اور ٹیکنالوجی کی دوڑ میں بہت آگے نکل چکی ہے، مگر اس مادہ پرستانہ ترقی کے باوجود انسانیت اندرونی سکون، اخلاقی زوال اور روحانی تنہائی کا شکار ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک ہزار سال پرانی تعلیمات آج کے اس سائنسی دور میں ہمارے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہیں؟ اس کا جواب بالکل اثبات میں ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی نے انسان کو بہترین مشینی اور مادی وسائل تو دیے ہیں لیکن دل کا سکون، اخلاقی تربیت، کردار کی بلندی اور باہمی رواداری صرف اور صرف صوفیانہ تعلیمات ہی دے سکتی ہیں۔
✳️سائنس ہمیں مادی ترقی اور وسائل کا استعمال سکھاتی ہے، جبکہ غوثِ اعظم کی تعلیمات ہمیں ان وسائل کا مثبت استعمال اور انسانیت کی فلاح سکھاتی ہیں۔ اگر سائنس جسم کا علاج کرتی ہے یا سہولیات فراہم کرتی ہے، تو اولیاء کی تعلیمات روح کی شفا اور کردار کی تعمیر کرتی ہیں۔ آج جب دنیا میں سائنس کی وجہ سے فاصلے کم ہوئے ہیں لیکن دلوں کے فاصلے بڑھ گئے ہیں، تو غوثِ اعظم کا درسِ محبت اور اخوت ہمیں ایک دوسرے کے قریب لانے کا سب سے بہترین ذریعہ فراہم کرتا ہے۔
💁‍♂️کیا ہمیں آج کی دنیا میں کوئی "نیا کردار" ادا کرنا چاہیے یا غوثِ اعظم کی تعلیمات پر چلنا چاہیے؟
✳️آج امتِ مسلمہ جس فرقہ واریت، افرا تفری اور انتشار کا شکار ہے، اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہم نے اپنے اکابرین کے حقیقی منہج کو چھوڑ کر اپنی الگ دکانیں سجا لی ہیں۔ غوثِ اعظم رحمتہ اللہ علیہ کی تعلیمات ابدی اور آفاقی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں کسی نئے فلسفے یا روایت کو گھڑنے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے اس اصول کو اپنائیں جو قرآن و سنت کی روح پر مبنی ہے یعنی سب سے محبت، کسی کی دل آزاری نہیں، علم و عمل کا امتزاج، اور اخلاصِ نیت۔
✳️جب غوثِ اعظم کے دور میں مختلف فرقے اور فکری اختلافات عروج پر تھے، تو آپ نے کسی کی تکفیر کرنے یا گالم گلوچ کرنے کے بجائے اپنے کردار، علم، زہد اور تقویٰ سے امت کو جوڑا۔ آپ کی تعلیمات میں تنگ نظری کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔ لہٰذا، آج کے اس انتشار زدہ دور میں بھی اگر ہم فرقہ وارانہ تعصبات کو پسِ پشت ڈال کر غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے بتائے ہوئے اصولوں پر عمل کریں، تو ہم جدید دنیا کے چیلنجز کا مقابلہ بھی کر سکتے ہیں اور اپنے معاشرے کو امن کا گہوارہ بھی بنا سکتے ہیں۔
✳️جدید دور میں عملی طور پر ہم کیسے استفادہ کر سکتے ہیں؟
1. اخلاقی اور ڈیجیٹل اخلاقیات: سوشل میڈیا پر جو طعنہ زنی، الزام تراشی اور ایک دوسرے کو کافر یا برا کہنے کا طوفان برپا ہے، اس کا بہترین علاج غوثِ اعظم کا وہ شیوہ ہے جو نرمی، رواداری اور اصلاحِ نفس کا درس دیتا ہے۔
2. خدمتِ خلق اور فلاحی کام: جس طرح آپ نے اپنے دور میں بلا تفریقِ مذہب و ملت انسانیت کی خدمت کی، آج کے نوجوانوں کو بھی سائنس اور ٹیکنالوجی کے ٹولز استعمال کرتے ہوئے فلاحی نیٹ ورکس قائم کرنے چاہئیں۔
3. علم اور جدید تحقیق کے ساتھ روحانیت کا امتزاج: غوثِ اعظم خود اپنے وقت کے عظیم محدث، فقیہ اور عالمِ باعمل تھے۔ آپ نے کبھی علمِ دین اور دنیاوی معاملات کو الگ نہیں سمجھا۔ آج کے دور میں ہمیں سائنس، ٹیکنالوجی اور جدید علوم کے حصول کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور روحانی تربیت کو لازم و ملزوم بنانا ہوگا۔
✳️نتیجہ🫂
غوثِ اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کی تعلیمات پچھلے ایک ہزار سال سے امت کے لیے مینارِ نور ہیں اور اگلے ہزار سال تک رہیں گی۔ ہمیں اپنی اصلاح کے لیے کسی نئے راستے کی تلاش کی ہرگز ضرورت نہیں ہے، بلکہ ضرورت اس عزم کی ہے کہ ہم غوثِ پاک کے اسوۂ حسنہ کو اپنا کر موجودہ دور کے سائنسی اور مادہ پرستانہ فتنوں کا مقابلہ کریں، اپنے اندر اخلاقی قوت پیدا کریں، اور امتِ مسلمہ کو انتشار سے نکال کر اتحاد اور محبت کے دھاگے میں پرو دیں۔
#توحید #تصوف #صوفیا




゚viralシ




#ایڈمن

     #مسجد: محض عبادت گاہ یا فلاحِ امت کا مرکز؟ (نبوی منہج کی روشنی میں ایک جامع جائزہ)🙏🏻آج کے دور میں ہم نے مساجد کا دا...
25/09/2026


#مسجد: محض عبادت گاہ یا فلاحِ امت کا مرکز؟ (نبوی منہج کی روشنی میں ایک جامع جائزہ)
🙏🏻آج کے دور میں ہم نے مساجد کا دائرہ کار صرف چند منٹ کی نماز اور دعا تک محدود کر دیا ہے۔ حالانکہ آج جب امتِ مسلمہ باہمی انتشار، فرقہ واریت، معاشرتی بحران، فکری زوال اور مادہ پرستی کی دلدل میں پھنسی ہوئی ہے، تو اس کا سب سے بڑا اور بنیادی علاج اسی نظام کی طرف واپسی ہے جو چودہ سو سال پہلے مدینہ طیبہ کی بنیاد بناتا تھا۔
🪔آئیے قرآن و سنت، اسوۂ حسنہ اور خلفائے راشدین کے طرزِ عمل کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ مسجد کا اصل دینی، فکری اور معاشرتی کردار کیا تھا اور آج اس سے کیسے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔
#مسجد: نبوی دور میں عبادت، سیاست اور معاشرت کا مرکز
🕍چودہ سو سال پہلے مسجدِ نبوی صرف پانچ وقت کی نماز کی جگہ نہیں تھی، بلکہ وہ ریاستِ مدینہ کا مرکزی اور فعال ترین ادارہ تھی۔
📿عبادت اور تزکیۂ نفس: سب سے پہلے مسجد کا بنیادی مقصد اللہ کی یاد، ذکر، تلاوتِ قرآن اور خشوع و خضوع کے ساتھ عبادت کا قیام تھا۔
🕍تعلیم و تربیت اور فکری مرکز: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد ہی میں صحابہ کرام کی تربیت فرماتے تھے۔ "اصحابِ صفہ" کا پورا نظام مسجد کے ایک گوشے میں قائم تھا جہاں فقراء اور طلباء دین اور دنیا کے علوم سیکھتے تھے۔
🕍معاشرتی مسائل کا حل اور جرگہ سسٹم: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد ہی میں بیٹھ کر قبائل کے تنازعات طے فرماتے، فریقین کے مابین صلح کرواتے اور معاشرتی ناانصافیوں کا ازالہ فرماتے تھے۔
🕍عدل و انصاف اور سفارتی امور: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں بیٹھے ہوئے بیرونی وفود کا استقبال کرتے، سفارتی خطوط کے جوابات تیار کرتے اور ریاست کے اہم امور پر مشاورت کرتے تھے۔
🕍فلاحِ انسانیت اور مہمان خانے کا کردار: مسجد میں آنے والے مسافروں، ناداروں اور مہمانوں کے قیام و طعام کا بندوبست کیا جاتا تھا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں تو باقاعدہ مساجد کے ساتھ مہمان خانوں اور مسافر خانوں کا انتظام ہوتا تھا۔
✴️الخلفاء الراشدین اور آلِ پاک کا اسوۂ حسنہ
✅خلفائے راشدین اور اہل بیتِ عظام نے مسجد کے اس جامع تصور کو زندہ رکھا:
🪔حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضوان اللہ علیہما نے مسجد کو عوام کے دکھ درد سننے، بیت المال کے امور چلانے، اور معاشرتی شکوک و شبہات دور کرنے کا پلیٹ فارم بنایا۔ حضرت عمر تو مسجد کے منبر سے ہی پوری امت کو جوابدہ ہوتے تھے۔
🪔مولانا کائنات حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا طرزِ عمل بھی یہی تھا کہ مسجد عدل و انصاف کی فراہمی، عدالتی فیصلے صادر کرنے اور فکری و علمی درس کا سب سے بڑا مرکز تھی۔
🕍مساجد کے ذریعے معاشرے کے غریبوں، یتیموں اور بیواؤں کی کفالت کے فیصلے ہوتے تھے، تاکہ معاشرے میں کوئی شخص بھوکا نہ سوئے۔
🕍آج کے مسائل اور مسجد کا کردار (ہم کیا غلطی کر رہے ہیں؟)
🕍آج ہمارے معاشرے میں جو درجنوں فرقے بن چکے ہیں، ہر کوئی دوسرے کو کافر کہہ رہا ہے، اور مسلک کی بنیاد پر نفرتیں پھیلائی جا رہی ہیں، اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے مسجد کو "فرقہ وارانہ اکھاڑہ" بنا دیا ہے جبکہ مسجد کا اصل مقصد 🫂وحدتِ امت🫂 کا قیام تھا۔
🕍جب مسجدیں بند ہو جائیں گی اور صرف تالے لگنے لگیں گے (نماز کے اوقات کے علاوہ)، تو نوجوان نسل آوارگی اور سوشل میڈیا کے فتنوں کا شکار ہوگی۔
🕍اگر ہم مسجد کو صرف چار دیواری تک محدود کر دیں گے تو معاشرتی مسائل، باہمی نااتفاقی اور معاشی بحران کبھی حل نہیں ہوں گے۔
🕍جدید دور میں مساجد کو دوبارہ فعال کیسے بنایا جائے؟ (عمومی لائحہ عمل) کے اہداف
▫️اگر ہم آج چودہ سو سال پرانے نبوی نظام کو زندہ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں مساجد کو درج ذیل امور کا مرکز بنانا ہوگا:
1. مسجد کو یونٹی (وحدتِ امت) کا مرکز بنانا: مساجد میں تمام فرقہ وارانہ تعصبات کو ختم کر کے صرف "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ" کے نام پر مسلمانوں کو جوڑا جائے۔ مساجد کے ممبران کو نفرت کے بجائے محبت، رواداری اور اخوت کا درس دینا چاہیے۔
2. کونسلنگ اور فیملی ڈسپیوٹ سینٹر: جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں گھریلو اور قبائلی جھگڑے ختم کرواتے تھے، آج ہر بڑی مسجد میں ایک کمیٹی ہونی چاہیے جو محلے کے گھریلو اور خاندانی تنازعات (مقدمات میں جانے کے بجائے) مسجد کے اندر ہی باہمی صلح سے حل کرائے۔
3. تعلیمی اور تربیتی حلقے: مسجد میں نوجوانوں کے لیے دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کے مطابق اخلاقی تربیت، کردار سازی اور کونسلنگ کے سیشنز ہونے چاہئیں تاکہ وہ سوشل میڈیا کے منفی اثرات سے بچ سکیں۔
4. فلاحی ڈیسک اور غریبوں کی دستگیری: مساجد کے ساتھ "بیت المال" یا فلاحی فنڈز قائم کیے جائیں جو محلے کے غریب، بیمار، یتیم اور مسکین بچوں کی اسکول فیس، ادویات اور راشن کا انتظام کریں۔
5. مشاورتی پنچایت: معاشرتی مسائل کے حل کے لیے محلے کے معززین، علماء اور پڑھے لکھے لوگ ہفتے میں ایک بار مسجد میں بیٹھ کر علاقے کے مسائل (جیسے صفائی، پانی، امن و امان اور باہمی تعاون) پر بات کریں۔
6. جدید عصری علوم: تصوف، سائنس و ٹیکنالوجی یونیورسٹی کا قیام
❤نتیجہ❤
مساجد صرف اینٹ گارے کی عمارتیں نہیں ہیں بلکہ یہ امتِ مسلمہ کا دل ہیں۔ جب تک دل زندہ اور پاکیزہ رہے گا، پورا جسم (معاشرہ) صحت مند رہے گا۔ ہمیں آج پھر سے مساجد کو وہی مقام دینا ہوگا جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خلفائے راشدین کے دور میں حاصل تھا۔ جب مسجد عبادت کے ساتھ ساتھ محبت، رواداری، علم اور فلاحِ انسانیت کا مرکز بن جائے گی، تو نہ صرف ہمارے معاشرتی مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے بلکہ ہم ایک بار پھر دنیا میں امن اور سکون کا گہوارہ بن سکتے ہیں۔ 🤲🌍
#توحید #تصوف #صوفیا




゚viralシ




#ایڈمن

21/09/2026

Address

Lahore

Telephone

+923009508054

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mashaikh Ittihad Council Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category