Rahman Alam Welfare Foundation
پڑھے گا پاکستانی تو آگے بڑھے گا پاکستان تو پھر سے پا سکیں گے کھویا ہوا مقام تدبر /غور و خوض
07/05/2026
لکھنؤ کا تاریخی الیکشن: جب ایک طوائف نے شرفاء کی سیاست کو چیلنج کیا
برصغیر پاک و ہند کی تاریخ محض جنگوں، تحریکوں اور بادشاہوں کی داستانوں تک محدود نہیں، بلکہ اس میں ایسے سماجی اور سیاسی واقعات بھی پوشیدہ ہیں جو ہمیں اپنے معاشرتی ڈھانچے اور جمہوری نظام پر غور کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ ایسا ہی ایک دلچسپ، سبق آموز اور کسی حد تک متنازع واقعہ 1920 میں لکھنؤ میں پیش آیا، جب لکھنؤ میونسپل کمیٹی کے انتخابات نے پورے شہر میں ایک ہلچل پیدا کر دی۔
واقعے کا پس منظر
1920 کا دور برصغیر میں سیاسی بیداری کا دور تھا۔ ایک طرف تحریک خلافت اور تحریک ترکِ موالات عروج پر تھیں، تو دوسری طرف مقامی سطح پر میونسپل کمیٹیوں کے انتخابات کے ذریعے جمہوری عمل جڑیں پکڑ رہا تھا۔ لکھنؤ، جو اپنی تہذیب، شائستگی اور "نفاست" کے لیے مشہور تھا، وہاں کے ایک حلقے سے حکیم شمس الدین الیکشن کے لیے کھڑے ہوئے۔ حکیم صاحب نہ صرف ایک ماہر طبیب تھے بلکہ اپنی شرافت، علمیت اور سماجی خدمات کی وجہ سے پورے شہر میں انتہائی عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ ان کا انتخاب لڑنا ایک فطری بات سمجھی جا رہی تھی اور ان کی جیت یقینی دکھائی دیتی تھی۔
دلرُبا بائی کی انٹری اور انتخابی نعرے
اس الیکشن میں موڑ تب آیا جب حکیم شمس الدین کے مقابلے میں دلرُبا بائی نامی ایک طوائف نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروا دیے۔ یہ اس دور کے لکھنوی معاشرے کے لیے کسی دھماکے سے کم نہ تھا۔ ایک طرف شہر کی ایک معزز اور باعزت شخصیت تھی اور دوسری طرف ایک ایسی عورت جس کا پیشہ سماجی طور پر معیوب سمجھا جاتا تھا۔
اس الیکشن نے لکھنؤ کی گلیوں میں ایک عجیب سی فضا پیدا کر دی۔حکیم صاحب نے الیکشن سے علیحدگی کے بارے میں سوچا اور علیحدگی کرنے والے ہی تھے کے حامیوں نے اشتہار چھپوا کے لگا دیئے اور حامیوں نے اپنے اپنے علاقہ میں مہم شروع کی، لیکن جو بات تاریخ کا حصہ بن گئی وہ اس وقت کے عوامی نعرے تھے۔ دلرُبا بائی کے چاہنے والوں اور حکیم صاحب کے مخالفین نے ایک بڑا ہی دلچسپ اور معنی خیز نعرہ بلند کیا
"دل دو دلرُبا کو، ووٹ دو شمس الدین کو!"
یہ نعرہ اس وقت کی عوامی نفسیات اور طنزیہ مزاج کا عکاس تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ دل تو دلرُبا بائی کے پاس ہے، لیکن سیاسی ووٹ حکیم صاحب کا حق ہے۔ تاہم، اس مزاح کے پیچھے ایک بہت بڑی تلخی چھپی تھی جس نے شرفاء کے طبقے کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
جمہوری نظام کا تضاد ہے ایک ہی ترازو میں دو پلڑے
یہ واقعہ محض ایک انتخابی معرکہ نہیں تھا، بلکہ اس نے مغربی جمہوری نظام کے اس بنیادی تصور پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا جس میں "ایک فرد، ایک ووٹ" کا اصول کارفرما ہے۔ اس الیکشن نے یہ بحث چھیڑ دی کہ کیا ایک عالم، دین دار، سماجی خادم اور معزز شہری کے ووٹ کی قیمت وہی ہونی چاہیے جو ایک طوائف یا کسی جرائم پیشہ فرد کے ووٹ کی ہے؟
معاشرتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ انتہائی تکلیف دہ اور شرمناک پہلو ہے کہ جمہوری ترازو میں فضیلت، تقویٰ، علم اور خاندانی شرافت کا کوئی الگ وزن نہیں ہوتا۔ جب پولنگ باکس میں پرچی ڈالی جاتی ہے، تو حکیم شمس الدین جیسے نیک نام انسان کا ووٹ اور دلرُبا بائی جیسی عورت کا ووٹ برابر شمار ہوتا ہے۔ یہ نظام کی وہ خامی ہے جہاں معیار (Quality) پر مقدار (Quantity) کو فوقیت دی جاتی ہے۔
اخلاقی اور سماجی اثرات
اس واقعے نے اس وقت کے دانشوروں کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ اگر جمہوریت اسی طرح چلتی رہی تو کل کو کوئی بھی شخص، چاہے اس کا کردار کتنا ہی داغدار کیوں نہ ہو، محض سروں کی گنتی کے بل بوتے پر معززین پر حکمرانی کر سکے گا۔ لکھنؤ کے اس الیکشن نے ثابت کیا کہ جمہوری نظام میں اخلاقی برتری کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔
حکیم شمس الدین کے لیے یہ صورتحال ایک بڑی آزمائش تھی کہ انہیں ایک ایسی خاتون سے مقابلہ کرنا پڑ رہا تھا جس کے ساتھ ان کا موازنہ ہی توہین آمیز تھا۔ یہ واقعہ آج بھی ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ جب معاشرہ اپنی اقدار کو ووٹ کی گنتی کے تابع کر دیتا ہے، تو شرافت اور رذالت کے درمیان تمیز ختم ہونے لگتی ہے۔ایک تقریب میں جب دلرُبا بائی حکیم صاحب کو مبارکباد دینے گئ تو دلربا نے کہا کے حکیم صاحب لگتا ہے لکھنؤ میں مرد کم اور مریض زیادہ ہیں یہ بات بھی اس عورت کی تیز دماغی کو ٹمثابت کرتی تھی۔
حاصلِ کلام
1920 کا لکھنؤ کا یہ میونسپل الیکشن تاریخ کا ایک ایسا آئینہ ہے جس میں جمہوری نظام کے تضادات صاف نظر آتے ہیں۔ حکیم شمس الدین اور دلرُبا بائی کا یہ مقابلہ صرف دو امیدواروں کی جنگ نہیں تھی، بلکہ یہ اقدار اور مغربی جمہوریت کے درمیان ایک ٹکراؤ تھا۔ یہ واقعہ اس تلخ حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ اگر نظام میں علم اور کردار کی تمیز نہ رکھی جائے، تو ایک باعزت شخصیت کی قدر و قیمت بھی بھیڑ کے برابر رہ جاتی ہے، جو کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
انور علی آف وہاڑی
01/05/2026
الحمد للّٰہ
اپنی مدد آپ کے تحت چند دوستوں کی مشترکہ کوشش ہے
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Lahore
