وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ویژن کے تحت دھی رانی پروگرام کے ذریعے نارووال میں 101 جوڑوں کی اجتماعی شادی
PMLN Lahore
Exclusive Updates...
A moment of pride for every punjabi Basant makes global headlines
لاہور نے تین دنوں میں جو خوشیاں منائیں، انہیں دیکھ کر میں بہت خوش ہوئی۔ 25 سال بعد چھتوں پر لوگ اپنے بچوں اور فیملیز کے ساتھ خوشیاں منا رہے تھے۔ جین زی کے بچے بھی اندرون لاہور کے کلچر اور ٹریڈیشنز کو محسوس کر سکے، جو انہیں پہلے معلوم نہیں تھا۔
وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف
اہور اور پنجاب کی کھوئی ہوئی شان، بسنت، نہ صرف دوبارہ زندہ ہوئی بلکہ محفوظ بھی رہی۔ سہرا جاتا ہے عوام کے سر، لاہور کے رہائشی اور مہمانوں کو، جنہوں نے ایس او پیز کی پابندی کر کے اعتماد اور بھروسے کی لاج رکھی۔
وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے عالمی بینک کے صدر اجے بنگا کی وفد کے ہمراہ ملاقات
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے عالمی بینک کے صدر اور وفد کا پرجوش استقبال کیا
صحت، تعلیم،اپنی چھت،اپنا گھر،ستھرا پنجاب اور کلائمیٹ کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال
دونوں رہنماؤں کی ورلڈ بینک اور پنجاب کے درمیان شراکت داری پر بات چیت
جس طرح اس ایونٹ کو نہ صرف بھرپور انداز میں کور کیا گیا بلکہ بہت سالوں بعد پہلی بار مجھے یہ دیکھ کر دلی خوشی ہوئی کہ پنجاب اور پاکستان سے جڑی جو ہیڈلائنز بنیں وہ سب مثبت تھیں۔ ان ہیڈلائنز کے ذریعے پنجاب اور پاکستان کا ایک مثبت امیج اجاگر ہوا اور دنیا کو یہ پیغام ملا کہ پنجاب اور پاکستان نہ صرف امن اور خوشیوں کا گہوارہ ہیں بلکہ ان کی ایک شاندار ہسٹری، مضبوط کلچر اور قیمتی ہیریٹیج بھی ہے۔ یوں ایک بہت مثبت اینگل کے ساتھ پاکستان کا تاثر فارن میڈیا تک پہنچا۔
میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے بعد، پنجاب کے عوام کو سلوٹ کرنے اور لاہور کے عوام کو شاباش دینے کے بعد، نواز شریف صاحب کا خصوصی شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں جنہوں نے مجھے یاد دلایا کہ بسنت ایک بہت بڑا اور تقریباً 800 سال پرانا تہوار ہے
ان تین دنوں کے دوران میں یہ سب دیکھ کر بے حد خوش ہوتی رہی، خاص طور پر لاہوریوں کی خوشی دیکھ کر۔ وہ مناظر جو میں نے شاید کئی دہائیوں بعد، تقریباً پچیس سال یعنی کوارٹر آف اے سینچری کے بعد دیکھے ہر چھت پر لوگ موجود تھے، عوام نے اپنی فیملیز اور بچوں کے ساتھ مل کر خوشیاں منائیں اور لاہور ایک بار پھر زندگی اور رنگوں سے بھر گیا
اور خاص طور پر آج کی (Gen Z) کے لیے میں بہت خوش ہوں کہ انہوں نے نہ صرف اندرونِ لاہور کا رخ کیا بلکہ اُن میں سے بہت سے بچے ایسے تھے جنہیں شاید بسنت کے بارے میں صرف سنا ہی تھا، یہ معلوم نہیں تھا کہ بسنت اصل میں کیا ہوتی ہے۔ انہیں یہ بھی اندازہ نہیں تھا کہ اندرونِ شہر لاہور کا اپنا ایک منفرد کلچر اور روایات ہیں۔ مجھے اس بات کی بے حد خوشی ہے کہ ان بچوں نے اپنے گیجٹس اور کمپیوٹر اسکرینز چھوڑ کر اپنی فیملیز کے ساتھ وقت گزارا اور ان لمحوں کو بھرپور انداز میں انجوائے کیا
میں سمجھتی ہوں کہ میں نے پنجاب اور لاہور کے عوام پر جو اعتماد کیا تھا، انہوں نے اُس اعتماد کی پوری لاج رکھی۔ میں نے اُن پر جو ٹرسٹ کیا، انہوں نے اسے ذمہ داری اور شعور کے ساتھ ثابت کر دکھایا۔ آج اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ تین دن کی بسنت کے بعد ہم خوش ہیں اور فخر کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ خوشیاں ایک بار پھر لاہور اور پورے پنجاب میں لوٹ آئی ہیں
اس بسنت کو کامیاب اور محفوظ بنانے کا اصل سہرا پنجاب کے عوام کے سر ہے، بالخصوص لاہور کے رہائشیوں کے، اور اُن تمام مہمانوں کے بھی جو دیگر صوبوں یا بیرونِ ملک سے آئے۔ سب نے جس ذمہ داری اور نظم و ضبط کے ساتھ ایس او پیز کی پابندی کی، وہ قابلِ تحسین ہے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
