01/04/2026
آمریکی و اسرائیلی جارحیت کے خلاف خیبرپختونخوا کے شہر مردان میں ایک عظیم الشان "امریکہ و اسرائیل مردہ باد" کانفرنس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
خصوصی خطاب: قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن
تاریخ: 12 اپریل 2026
بمقام: مردان
01/04/2026
*عمرہ کی سعادت پر حضرت مولانا مفتی عبد الجلیل کو جے یو آئی ضلع لاہور کے وفد کی مبارکباد*
*وفد میں جنرل سیکٹری لاھور مولانا عبد الرحمن، مولانا عبد الشکور یوسف اور مولانا ظہیر احمد قمر شامل تھے*
*مفتی عبدالجلیل سے ان کے عزیز عبدالقدیر مرحوم کے انتقال پر اظہار تعزیت، مرحوم کی مغفرت اور پسماندگان کے لئے صبر کی دعا*
*تنظیمی و سیاسی امور پر تبادلہ خیال، سید سلمان گیلانی شاہ رح سیمینار کو کامیاب کرنے کے عزم کا اعادہ*
سبزہ زار:
جمعیۃ علماء اسلام ضلع لاہور کے وفد نے *شیر لاہور مولانا عبدالرحمن (ضلعی جنرل سیکرٹری)* کی قیادت میں جے یو آئی یو سی 103 سبزہ زار لاھور کے امیر کے *حضرت مولانا مفتی عبدالجلیل مدظلہ* کے ساتھ خصوصی ملاقات کی اور انہیں عمرہ کی سعادت حاصل ہونے پر دلی مبارکباد پیش کی۔
وفد میں *رئیس المبلغین مولانا عبدالشکور یوسف، مولانا ظہیر احمد قمر* شامل تھے۔
وفد نے حضرت مولانا مفتی عبد الجلیل مدظلہ کو عمرہ کی بابرکت سعادت حاصل کرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ عمرہ ایک عظیم روحانی عبادت ہے جو انسان کے ایمان کو تازگی بخشتی اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کو مضبوط بناتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو اپنے گھر کی حاضری نصیب فرماتا ہے، اور یہ سعادت اللہ کی خصوصی رحمت اور فضل کا مظہر ہے۔
اس موقع پر وفد کے اراکین نے مفتی عبدالجلیل کے ساتھ ان ہم زلف محترم عبد الکبیر کے والد محترم عبد القدیر مرحوم کی وفات پر ان کے ساتھ اظہار تعزیت کرتے ھوئے مرحوم کے لئے مغفرت اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعا کی۔
اس موقع پر تنظیمی و سیاسی امور پر تبادلہ خیال کرتے ھوئے جے یو آئی پنجاب کے زیر اہتمام منعقد ھونے والے لاھور میں شاعر ختم نبوت سید سلمان گیلانی شاہ رح سیمینار کو کامیاب کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
جاری کردہ:
شعبہ نشرواشاعت
جمعیۃ علماء اسلام ضلع لاھور
31/03/2026
*لاہور: قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کی میڈیا سے اہم گفتگو*
13 مارچ 2026
:صحافی اس وقت ا یران، فلس طین، بیت المقدس اور اسلامی دنیا کے مسائل کے بارے میں آپ کیا سمجھتے ہیں؟ کیا یہ کسی ایک ملک یا پارٹی کا مسئلہ ہے؟
مولانا صاحب: میرا خیال ہے کہ یہ کسی ایک شخصیت یا کسی ایک پارٹی سے پوچھنا شائد یہ مقصد پورا نہ کر سکے۔ اس وقت پوری امتِ اسلامیہ کو سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا اور از سر نو اپنے مستقبل کو طے کرنا ہے۔
تاریخ نے ہمیں بہت کچھ سکھایا ہے۔ امریکہ اور مغربی دنیا کی دوستیوں کے جو نتائج نکلے ہیں وہ آج پوری امتِ اسلامیہ پر ظاہر ہو رہے ہیں۔ جو کام گزشتہ چار پانچ دہائیوں میں اسلامی دنیا کے تحفظ کے نظریے پر کیے گئے، آج وہی فیصلے وہی اقدامات عدم تحفظ کا سبب بن رہے ہیں۔ فلس طین صرف ا یران کا مسئلہ نہیں ہے اور بیت المقدس بھی صرف ا یران کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کا مسئلہ ہے۔ اس لیے امت کی سطح پر ایک متحد اور مضبوط موقف کی ضرورت ہے۔
لیکن بدقسمتی سے ہم اپنی داخلی لڑائیوں میں الجھ گئے ہیں۔ یقیناً ہمارے سامنے القدس کا مسئلہ بھی ہے، فلس طین کی آزادی کا مسئلہ بھی ہے۔ عرب دنیا کے لیے ہمارے خیرسگالی کے جذبات بھی ہیں۔ ان کی دوستی اور ان کی ترقی ہمارا مقصود ہے، لیکن پاکستان میں آج ہم جن حالات سے دوچار ہیں ا نڈیا کی طرف ہماری پوری سرحد اس وقت حالت جنگ میں ہے، ا فغانستان کی طرف ہماری مغربی سرحد پر بھی کشیدگی ہے، چین پاکستان میں پہلے جیسی دلچسپی نہیں لے رہا اور اس کے اپنے تحفظات ہیں۔ اور ا یران کے اپنے مشکلات ہیں۔
ایسے حالات میں ہم کسی کی پالیسیوں پر بحث کرنے یا ان پر تنقید کرنے کہ تم غلط ہو، میں صحیح ہوں شائد یہ کافی نہ ہو، ہم من حیث القوم اس بات کو سوچیں کہ پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ پاکستان بمقابلہ ا نڈیا، پاکستان بمقابلہ ا فغانستان، پاکستان ا یران تعلقات، پاکستان سعودی عرب تعلقات، پاکستان خلیجی تعلقات، پاکستان ا سرائیل، پاکستان امریکہ پاکستان بیت المقدس، اس تمام تر حصار میں پاکستان کی پوزیشن کیا ہے؟
ہم نے یہ تجویز یہی دی ہے کہ اس پر پارلیمنٹ کا مشترکہ ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے تاکہ عوامی نمائندے کھل کر اپنے وطن عزیز کے لیے رائے دے سکیں، اپنے تحفظات کا اظہار کریں، اور اسٹیبلشمنٹ اور حکومت قوم کے نمائندوں کو مطمئن کریں۔ اس کو گلی کوچوں میں زیر بحث لانا، جلسوں اور اجتماعات میں زیر بحث لانا اور تنقید و تائید کے دائروں میں اسے محصور کرنا یہ شائد ان کے حالات کا تقاضا نہ ہو۔
ہم نے پاکستان کے لیے سوچنا ہے، اس کے مستقبل کے بارے میں سوچنا ہے اور اچھے اور پُرامن ہمسایوں کی تلاش کرنی ہوگی۔ اس کے لیے سیاسی اور سفارتی راستہ اختیار کرنا چاہیے، تحمل اور برداشت کا راستہ اپنانا چاہیے۔ جنگ سے جنگ ہی پیدا ہوتی ہے، امن نہیں پیدا ہوتا۔ اور اس کھیتی میں جہاں جنگ ہوگی وہاں آگ ہی اگے گی اور آگ ہم سب کو لپیٹ میں لے لے گی۔
ان حالات سے ہم کیسے نکلیں، جمعیت علماء اسلام نے پارلیمنٹ کے فلور پر یہ تجویز دی کہ ایک ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے تاکہ نمائندگان قوم ان حالات پر کھل کر بحث کر سکیں۔
صحافی: مولانا صاحب پاکستان کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے کیا کہیں گے؟ جیسے گورنر سندھ کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔
مولانا صاحب: یہ تو معمول کا مسئلہ ہے، میں اس پر کیوں ردعمل دوں، اس پر حکومتی اتحادی ردعمل دیں، کیونکہ وہ تو حکومت اتحادیوں کا نمائندہ تھا، بعد میں اسے تبدیل کر دیا گیا۔ بہرحال یہ ان کا معاملہ ہے، ہم کسی دوسرے کے گھر میں جھانکنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
مہربانی، شکریہ۔
ضبط تحریر:
ممبر ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز
https://www.teamjuiswat.com/2026/03/Maulana-important-conversation-with-the-media-at-Lahore.html
31/03/2026
*عمرہ کی سعادت پر حضرت مولانا عبد الرحمن کو جے یو آئی ضلع لاہور کے وفد کی مبارکباد*
*دینی خدمات کو خراج تحسین، وفد کا نیک تمناؤں کا اظہار*
*عمرہ روحانی تجدید اور قربِ الٰہی کا عظیم ذریعہ ہے: جے یو آئی ضلع لاھور*
مرغزار:
جمعیۃ علماء اسلام ضلع لاہور کے وفد نے * مولانا عبدالرحمن (ضلعی جنرل سیکرٹری)* کی قیادت میں جے یو آئی ضلع لاہور کے سرپرست نمونہ اسلاف *حضرت مولانا عبد الرحمن مدظلہ* سے خصوصی ملاقات کی اور انہیں عمرہ کی سعادت حاصل ہونے پر دلی مبارکباد پیش کی۔
وفد میں * مولانا عبدالشکور یوسف، مولانا ظہیر احمد قمر* شامل تھے۔ اس موقع پر جے یو آئی تحصیل سٹی کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری *مولانا نظام الدین* بھی موجود تھے۔
وفد نے حضرت مولانا عبد الرحمن مدظلہ مدظلہ کو عمرہ کی بابرکت سعادت حاصل کرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ عمرہ ایک عظیم روحانی عبادت ہے جو انسان کے ایمان کو تازگی بخشتی اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کو مضبوط بناتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو اپنے گھر کی حاضری نصیب فرماتا ہے، اور یہ سعادت اللہ کی خصوصی رحمت اور فضل کا مظہر ہے۔
وفد کے اراکین نے اس موقع پر حضرت مولانا عبد الرحمن مدظلہ کی دینی، تبلیغی اور تنظیمی خدمات کو بھی سراہا اور کہا کہ وہ ہمیشہ دین اسلام کی خدمت اور جمعیۃ علماء اسلام کے مشن کے فروغ میں مصروف عمل رہے ہیں، جو قابل تحسین ہے۔
ملاقات کے دوران دینی و تنظیمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور جماعتی فعالیت کو مزید مؤثر بنانے کے حوالے سے مختلف تجاویز پر گفتگو ہوئی۔
جاری کردہ:
شعبہ نشرواشاعت
جمعیۃ علماء اسلام ضلع لاھور
31/03/2026
*چلو چلو چلوایوان اقبال لاھور چلو*
اپنے محبوب شاعر، شاعر ختم نبوت، شاعر جمعیۃ *حضرت سید سلمان گیلانی شاہ رحمۃ اللہ علیہ* کی ادبی، دینی و تحریکی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے
*جمعیۃ علماء اسلام پنجاب کے*
*زیر اہتمام*
*"سید سلمان گیلانی رح سیمینار"*
*مہمان خصوصی:*
*قائد ملت اسلامیہ قائد جمعیۃ حضرت مولانا فضل الرحمن مدظلہ امیر مرکزیہ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان*
*بتاریخ: 19 اپریل بروز اتوار*
*بمقام: ایوان اقبال لاہور*
*بوقت: دوپہر بارہ بجے تا عصر*
منجانب:
*جمعیۃ علماء اسلام ضلع لاھور*
31/03/2026
*تحقیق کے پردے میں تخریب*
(تحریر: مولانا محمد یوسف حنفی ترجمان جے یو آئی ضلع لاھور)
مسلم معاشرے میں اس وقت ایک تشویشناک رجحان سامنے آ رہا ہے جہاں “تحقیق” کے نام پر تخریب، انتشار اور فرقہ واریت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ بظاہر یہ افراد خود کو محقق ظاہر کرتے ہیں، لیکن ان کا اسلوب، نتائج اور اثرات امت کے اتحاد کے بجائے اس کے شیرازے کو بکھیرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ اس صورتحال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ قرآن و سنت اور اسلافِ امت کی تعلیمات کی روشنی میں “حقیقی تحقیق” اور “تخریبی رویّے” میں واضح فرق کو سمجھا جائے۔
قرآن مجید تحقیق کے حوالے سے واضح ہدایت دیتا ہے کہ ہر بات کو بغیر جانچ پڑتال کے قبول نہ کیا جائے:
"اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کر لیا کرو۔" (سورۃ الحجرات: 6)
یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ تحقیق کا مقصد حق تک پہنچنا اور فتنہ سے بچنا ہے، نہ کہ اختلافات کو ہوا دینا۔ اسی طرح قرآن اتحاد کی تاکید کرتے ہوئے فرماتا ہے:
"اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو." (آل عمران: 103)
چنانچہ وہ تحقیق جو امت میں تفرقہ پیدا کرے، اپنے مقصد کے اعتبار سے مشکوک ہو جاتی ہے۔
سنتِ نبوی ﷺ بھی اس حوالے سے رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده" (بخاری و مسلم) ترجمہ: "مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔"
ایک اور موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا: "لا ترجعوا بعدي كفارًا يضرب بعضكم رقاب بعض" (بخاری) ترجمہ: "میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔"
یہ تعلیمات واضح کرتی ہیں کہ ایسا طرز بیان جو مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرے، اسلامی اصولوں کے منافی ہے، چاہے اسے “تحقیق” کا نام ہی کیوں نہ دیا جائے۔
سلف صالحین کے طرز عمل میں بھی احتیاط، اخلاص اور اتحاد کو بنیادی حیثیت حاصل رہی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرمایا کرتے تھے:
“جماعت کے ساتھ رہنا حق ہے، اگرچہ تم اکیلے کیوں نہ ہو، اور تفرقہ باطل ہے چاہے لوگ زیادہ ہوں۔”
امام مالکؒ کا اصول تھا:
“جو بات سلف کے طریقے پر نہ ہو، وہ دین میں خیر نہیں لا سکتی۔”
امام شافعیؒ فرماتے ہیں:
“میری رائے درست ہے مگر احتمالِ خطا رکھتی ہے، اور دوسرے کی رائے غلط ہے مگر احتمال صواب رکھتی ہے۔”
یہ اقوال اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حقیقی محقق ہمیشہ انکسار، وسعت نظر اور امت کی خیر خواہی کو مقدم رکھتا ہے، نہ کہ اپنی رائے کو حرف آخر بنا کر دوسروں کی تحقیر کرے۔
ماہرین کے مطابق تخریب نما تحقیق کی چند نمایاں علامات ہیں: اختلافی مسائل کو غیر ضروری طور پر اچھالنا، اکابر اور ائمہ کی تنقیص، سخت اور اشتعال انگیز زبان کا استعمال، امت کے اتحاد کے بجائے گروہ بندی کو فروغ دینا، اور جزوی حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا۔ یہ تمام رویے درحقیقت تحقیق نہیں بلکہ تخریب کے زمرے میں آتے ہیں۔
موجودہ حالات میں ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم علمی دیانت کو اختیار کریں، ہر بات کو دلیل اور اعتدال کے ساتھ پیش کریں، اتحاد امت کو ترجیح دیں، اکابر کی رہنمائی کو اپنائیں اور اپنی زبان کی حفاظت کریں، کیونکہ فساد اکثر الفاظ سے ہی جنم لیتا ہے۔
آج امت مسلمہ کو سب سے زیادہ ضرورت حکمت پر مبنی تحقیق اور اخلاص پر مبنی دعوت کی ہے۔ اگر تحقیق کے نام پر دلوں میں نفرت اور صفوں میں دراڑیں پیدا کی جائیں تو یہ علم نہیں بلکہ جہالت کی ایک نئی شکل ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ایسے متخرب نما محققین سے ہوشیار رہتے ہوئے قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق اتحاد، اعتدال اور خیر خواہی کو فروغ دیا جائے تاکہ امت مسلمہ ایک مضبوط اور متحد قوت بن سکے۔
31/03/2026
🌿 *تعزیتی بیان* 🌿
جمعیۃ علماء اسلام تحصیل لاہور سٹی کے وفد نےجے یو آئی لاہور، اسلام پورہ کے مقامی رہنما اور سوشل میڈیا پر متحرک کارکن
*حافظ نعمان قریشی* کے ماموں، معروف سماجی شخصیت *خواجہ فاروق مرحوم* کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔
💐 وفد نے مرحوم کے *صاحبزادگان* اور *حافظ نعمان قریشی* سے دلی تعزیت کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے،مغفرت فرمائے اور درجات بلند فرمائے۔
🤲 پسماندگان و لواحقین کے لیے صبرِ جمیل اور حوصلہ کی دعا کی گئی۔
👥 وفد کی قیادت امیر جے یو آئی تحصیل لاہور سٹی *قاری شبیر احمد عثمانی* نے کی، جبکہ وفد میں *مولانا عبیداللہ چترالی* (جنرل سیکرٹری جے یوآئی تحصیل سٹی)اور *قاری غلام حسین فاروقی* (ناظم مالیات لاہور) شامل تھے۔
🌹 وفد نے مرحوم کی سماجی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ ان کی کمی ہمیشہ محسوس کی جائے گی۔
🤍 *اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین*
━━━━━━━━━━━━━━━
📢 *جاری کردہ:*
فیضان الحق عباسی
کوآرڈینیٹر ڈیجیٹل میڈیا سیل جے یوآئی تحصیل سٹی لاہور
28/03/2026
*پرچم نبوی لہرانے والے، شاعر ختم نبوت، شاعر جمعیۃ الحاج حضرت سید سلمان گیلانی شاہؒ کی یاد میں 19 اپریل 2026ء کو لاھور میں عظیم الشان سیمینار منعقد کرنے کا اعلان*
*قائد ملت اسلامیہ قائد جمعیۃ حضرت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ مہمان خصوصی ھوں گے*
*کارکنان جمعیۃ اور محبان گیلانی شاہؒ اور عوام الناس کی بڑی تعداد شرکت کرے گی*
لاہور:
پرچم نبوی لہرانے والے، شاعر ختم نبوت، شاعر جمعیۃ *الحاج حضرت سید سلمان گیلانی شاہ رحمۃ اللہ علیہ* کی دینی، علمی اور تحریکی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے *بتاریخ 19 اپریل بروز اتوار 2026ء* کو *لاہور* میں ایک *عظیم الشان سیمینار* منعقد کے اعلان کا سنتے ہی جمعیۃ علماء اسلام ضلع لاہور کے کارکنان اور حضرت گیلانی شاہؒ کے عقیدت مند جوش و خروش کے ساتھ پروگرام کی بھرپور کامیابی کےلئے کوشاں ھو گئے ہیں۔
اس اہم سیمینار میں *قائد ملت اسلامیہ قائد جمعیۃ حضرت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ امیر مرکزیہ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان* بطور مہمان خصوصی شرکت کریں گے، جبکہ دیگر جید علماء کرام، مشائخ عظام، سیاسی و سماجی شخصیات بھی شرکت کریں گی۔
یہ سیمینار حضرت سید سلمان گیلانی شاہؒ کی دینی خدمات، ختم نبوت کے لیے ان کی جدوجہد اور جمعیۃ علماء اسلام کے لیے ان کی لازوال خدمات کو اجاگر کرنے کا ایک اہم موقع ہوگا۔ لاہور کے کارکنان جمعیۃ، محبانِ گیلانی شاہؒ اور عوام الناس اپنے اس عظیم، ہر دلعزیز شاعر اور رہنما کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے جوق در جوق سیمینار میں شرکت کریں گے۔ ان شاء اللہ یہ سیمینار حضرت سید سلمان گیلانی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کی شان کے مطابق ایک تاریخی ، عظیم الشان اور کامیاب ترین پروگرام ھو پروگرام ہوگا۔
بالائی جماعت کی طرف سے مقام اور وقت کا تعین ھوتے ہی کارکنان جمعیۃ اور عوام الناس کو مطلع کر دیا جائے گا۔
جاری کردہ:
مولانا محمد یوسف حنفی
ترجمان
جمعیۃ علماء اسلام ضلع لاھور