Dear Diary

Dear Diary

Share

Aslaam o Alikum �Like my novel page all fb members��
میں آپ کے لیئے بہت اچھ?

26/12/2020

Don't copy paste without my permission!💢💢💢

Junoon_Tere_ishq_Ka
By_Kainat_ijaz
Episode 31

شام ہونے سے کچھ دیر پہلے عبدالجبار صاحب, حمزہ, اور اسپرا دانش کو لےکر ہیلر کے پاس چلے گۓ جسکا گھر ٹاؤن کے آخر میں تھا.... وہاں پہنچ کر حمزہ نے دروازہ کھٹکھٹایا تو ایک بوڑھی عورت خود کے وجود کے گرد چادر لپیٹ کر نمودار ہوئ...
جب اسکی نظر وہیل چیئر پر بیٹھے دانش پر پڑی تو اس نے اپنا دروازہ کھول دیا کیونکہ وہ سمجھ گئ تھی کوئ مریض آیا ہے...

بیٹھ جائیں...
جب وہ لوگ لیوینگ ایریا میں پہنچ گۓ تو اس نے انہیں کاؤچ پر بیٹھنے کا اشارہ کیا...اور خود بھی ایک کرسی گھسیٹ کر اس پر بیٹھ گئ...

مجھے لگتا ہے تم سب لوگ یہاں اس ینگ مین کیلئے آۓ ہو کیونکہ باقی آپ تینوں تو بالکل ٹھیک لگ رہے...
اس عورت نے اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجاتے ہوۓ کہا..

آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں ہم یہاں اسی کو لیکر آۓ ہیں ڈاکٹر نے کہا ہے یہ اب چل نہیں....

کیا میں نے تم سے اسکے پچھلے ٹریٹمنٹس کے بارے میں پوچھا بیٹا؟؟
انہوں نے عبدالجبار کی بات کو کاٹتے ہوۓ پوچھا اور پھر دانش کی جانب دیکھنے لگی اس کے مسلسل دیکھنے پر اسپرا کو لگا جیسے یہ اسے دیکھ کر ہی واپس سے چلنا شروع کروا دے گی...

میں دیکھ رہی ہوں تمہاری ٹانگیں مضبوط ہیں...؟؟
انہوں نے دانش کی ٹانگوں کی جانب دیکھتے ہوئے کہا جو شورٹس پہننے کی وجہ صاف نظر آرہی تھی اور فریکچر ہوئ ٹانگ پر موجود نشانات واضح تھے...

ایک منٹ میں ابھی کچھ لائ...
وہ کہہ کر ساتھ والے کمرے میں چلی گئ اور پھر کچھ دیر بعد ایک چھوٹی سی تیل کی ڈبی لیکر واپس حاضر ہوئ اور وہ ڈبی دانش کو پکڑا دی...

اسے تین دن اپنی ٹانگ پر صبح و شام کو لگانا اور پھر چوتھے دن واپس سے یہاں آکر مجھ سے ملنا...
وہ دانش کو ہدایات دے کر کرسی پر بیٹھ گئی...جب وہ لوگ ویسے ہی سٹیچو کی طرح وہاں بیٹھے رہے تو اس نے آئبرو اچکا کر انکی جانب دیکھا..

کیا ہے اب.. ؟؟ جاؤ اپنے گھر... میں نے جو کہنا تھا کہہ دیا ہے...
وہ ان سب کی جانب دیکھتے ہوۓ بولی..

لیکن آپ نے اسکا معائنہ تک نہیں کیا ہے..
حمزہ نے پریشانی سے کہا..

میں نے کیا ہے.. جب تم بہت مصروف تھے میری جڑی بوٹیوں کا معائنہ کرنے میں...
وہ سائیڈ پر پڑی بوٹیوں کی جانب اشارہ کرتی ہوئ بولی جو حمزہ کافی وقت سے دیکھ رہا تھا..

آپ نے کچھ بھی نہیں کیا... صرف ایک سٹوپڈ سا تیل پکڑا کر ہمیں یہاں سے رفو چکر ہونے کا بولا ہے...
حمزہ نے مشتعل ہوتے ہوۓ کہا...

بیٹا یہ سب میرے لیے نیا نہیں ہے.. تمہارا دوست میرے پہلے آنے والے مریضوں میں سے سب سے بہتر حالت میں ہے.. اسکی ٹانگ بہت جلد ٹھیک ہو جاۓ گی تم بس مجھ پر یقین رکھو...
انہوں نے سکون سے کہہ کر بات ختم کر دی...

بوڑھی آتما....
جب وہ سب گھر سے باہر نکل آۓ تو حمزہ دانت پیستا ہوا بولا...

حمزہ ایسے کسی کو نہیں کہتے اور ہو سکتا ہے جو اس نے کہا ہے وہ ہی ٹھیک ہو...
عبدالجبار صاحب نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالتے ہوۓ کہا...

ہممم چلے دیکھتے ہیں...
وہ ہامی بھرتا ہوا بولا...

سب ٹھیک سے ہو گیا ہے نہ؟؟
اسپرا کی نظر دانش پر پڑی جو اسے بہت خاموش لگا تو وہ اس سے پوچھنے لگی...

ہممم...

ہم تین دن بعد واپس سے یہاں آئیں گے... ؟؟
اسپرا نے اسے یاد دلایا...

ہمممم ضرور...
وہ آہستگی سے بولا اور پھر جلد ہی وہ سب لوگ گھر میں موجود تھے...
💥💥💥💥
دانش نے وہ تیل رات میں اپنی ٹانگ پر لگایا جیسے اس بوڑھی عورت نے بتایا تھا لیکن آدھی رات میں ٹانگ میں اٹھنے والے نا قابل برداشت درد کی وجہ سے وہ اٹھ کر نا چاہتے ہوۓ بھی چیخنے لگا جبکہ دوسری طرف حمزہ اس بوڑھی عورت کو کوسنے لگا جسکی وجہ سے اسکا دوست تکلیف سے پاگل ہورہا تھا.. کچھ ہی لمحوں میں سب کے سب گھر والے اسکے کمرے میں موجود تھے دانش کو ایسے اذیت میں دیکھ کر اسپرا کی آنکھیں نم ہونے لگیں جو اپنے درد کو دبانے کیلئے سختی سے اپنے لب دانتوں کی مدد سے جھکڑے ہوۓ تھا..
کچھ دیر بعد جب درد میں تھوڑی کمی آئ تو اس نے سب کو بار بار کہا کہ وہ لوگ جاکر اب آرام کرکے...اسکی بات مانتے ہوۓ کچھ پل وہاں مزید رک کر وہ سب چلے گۓ...

اگلے دن اسپرا صبح صبح باہر آئ تو پورچ میں اس نے دانش کو بہت خوش دیکھا تو وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اسکی طرف بڑھ گئ...

آج کوئ بہت جلدی اٹھ گیا ہے کوئ سیکریٹ... ؟؟ جہاں تک مجھے پتہ ہے تم صبح صبح اٹھنے والوں میں سے نہیں ہو...
اسپرا نے جاکر اسکے برابر کھڑے ہوتے ہوۓ پوچھا..

میں بہت بہتر محسوس کر رہا ہوں...
دانش نے دل سے مسکراتے ہوۓ کہا تو خوشی سے اسپرا کی آنکھیں چمکنے لگیں..

اب درد کیسا ہے.. ؟؟
اسپرا نے اسکی نیلی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ پوچھا...

"درد اب بالکل ختم ہو چکا ہے..."

تو یہ وجہ ہے اس خوشی کی... ؟؟
اسپرا نے سیڑھیوں پر بیٹھتے ہوۓ پوچھا...

ہاں بھی اور نہیں بھی...
میں خوش ہوں اسپرا تم نے مجھے منایا اس ہیلر کے پاس جانے کیلئے....
اسکی بات پر اسپرا نے پوری توجہ اسکی جانب کی...
جو ہوا اسکی وجہ سے میری ٹانگ بالکل ختم ہوچکی تھی پری... مجھے اپنی ٹانگ محسوس ہی نہیں ہوتی تھی... جسکی وجہ سے دل میں گھٹن اٹھتی تھی اور میں نے ڈاکٹر کی بات پر آسانی سے ہار مان لی تھی مگر آخری رات مختلف تھی...میں نے اپنی ٹانگ میں وہی درد محسوس کیا جو تب اٹھا تھا جب اس نے اس پر کلہاڑی ماری تھی...میں نےکبھی اپنی زندگی میں نہیں سوچا تھا درد بھی خوشی کی وجہ بن سکتا... اس درد کی وجہ سے مجھے اپنی ٹانگ واپس سے محسوس ہوئ ہے.. اور وہ ہیلر جو بھی کہے گی میں اسکی بات ضرور مانوں گا کیونکہ اسکے پاس ہنر ہے...
وہ مسکراتے ہوۓ بولا...
جس پر اسپرا کے چہرے پر مسکراہٹ بکھری مجھے بھی شدت سے انتظار جب تم واپس چلو گے اور فٹبال کھیلو گے...
وہ اسکے چہرے کی جانب دیکھتے ہوۓ سوچنے لگی...

باقی کا سارا دن بھی بہت اچھا گزرا عبدالجبار صاحب نے حمزہ کے ساتھ ملکر درختوں کی کٹائ کی اور نۓ پودے لگاۓ جبکہ ملیحہ بیگم نے رانیہ اور اسپرا کے ساتھ ملکر کھانا بنایا اور دوسری طرف دانش نے فٹبال میچز ٹی وی پر دیکھے اور ساتھ میگزین پڑا, اور بیلا سب کو جاکر ڈسٹرب کرتی اور انکا کام کم کرنے کی بجاۓ بڑھا دیتی.. اور رہی رابیعہ بیگم وہ لان میں بیٹھ کر سویٹر بنتی رہیں...

شام میں جب عبدالجبار صاحب نے گارڈن کو پوری طرح نکھار دیا تو اسپرا سراہتی نظروں سے حمزہ اور اپنے پاپا کی کارکردگی دیکھنے لگی تبھی اسکے کان ملیحہ بیگم کے چلا کر عبدالجبار صاحب کو پکارنے کی آواز آئ جس پر سب بھاگ کر انکے پاس گۓ جو ٹی وی کو حیرت سے دیکھ رہی تھیں..

"زرائع کا کہنا ہے کہ اس آدمی کا بری طرح قتل کرکے آدھی رات کو سڑک کے درمیان میں پھینک دیا گیا.. "

اسپرا کی نظر جب ڈیڈ باڈی پر پڑی تو اس نے رپورٹر کو چھوڑ کر اسکی جانب گہری نظروں سے دیکھا...

یہ تو مائشہ کے آدمیوں میں سے ایک ہے...
اسپرا نے وہ رات یاد کرتے ہوۓ کہا جب مائشہ اچانک سے اپنے آدمیوں کے ساتھ نمودار ہو گئ تھی...

ہاں اسی کا ہے...
دانش نے اس آدمی کی ڈید باڈی کی جانب دیکھتے ہوۓ کہا جس کے دل کے مقام پر تین گولیاں لگی ہوئی تھیں..

یہ سنان آخر کیا کر رہا ہے..؟؟ کیا وہ یہ سب ایسے ہینڈل کرے گا... ؟؟
عبدالجبار صاحب غصے سے بولے..

آفیسر نے رات اس حادثے کے بعد مجھے کال کی تھی پوچھ رہا تھا کہ ہم سب ٹھیک ہیں اور ساتھ میں یہ بھی بتایا کہ ارحم کا دیہان ہم لوگوں سے ہٹ کر آجکل مائشہ اور اسکے پاپا کو ڈھونڈنے پر ہے جو اس سے چھپے ہوۓ ہیں..
دانش نے پریشانی سے بتایا..

آفیسر کو مکمل طور پر یقین نہیں ہے... کیا اگر وہ ہمارے ٹاؤن گیا ہو؟؟ تمہارے پیرنٹس اور دوستوں کا کیا... ؟؟
عبدالجبار صاحب کے الفاظ پر دانش اپنی سیٹ پر انکمفرٹیبلی شفٹ ہونے لگا...

وہاں موجود ہر شخص ٹھیک ہو گا...
حمزہ نے سلگتے ہوۓ لہجے میں کہا مگر وہ اپنی آنکھوں میں اپنے ہیرنٹس اور فائقہ کو کچھ ہو جانے کا خوف نہیں چھپا پایا...

ہم کچھ نہیں کر سکتے عبدالجبار ...سوچ کر دیکھو وہ ایک کرمنل ہے...کوئ چانس نہیں ہے کہ ہم اس سے الجھے... آفیسر کو اپنی ڈیوٹی کرنے دو... وہ خود ہی دیکھ لے گا..
ملیحہ بیگم نے کاؤچ پر بیٹھتے ہوۓ کہا.

اس سے پہلے عبدالجبار صاحب کچھ کہتے رابیعہ بیگم نے ٹی وی ریمورٹ کی مدد سے بند کر دیا جو سویٹر بن رہی تھیں... جس کی وجہ سے سب ہی خاموش ہوگۓ جبکہ عبدالجبار صاحب غصے سے وہاں سے نکل گۓ جنکے پیچھےدانش بھی چلا گیا.. ملیحہ بیگم اپنے کام میں مصروف ہو گئیں اور دانش بھی میگزین اٹھا کر ریڈ کرنے لگا...

ماما کی بات ٹھیک ہے مگر ارحم چپ رہنے والوں میں سے نہیں ہے ایسا نہیں ہو سکتا کہ وہ مجھے نہ ڈھونڈ رہا ہو...
آخر ارحم تمہارا کیا پلین ہے... ؟؟
تم کیا سوچ رہے ہو... ؟؟
اسپرا خود سے بڑبڑاتی کب ایٹک میں پہنچ گئ اسے احساس بھی نہیں ہوا...یہ جگہ بیلا کی پسندیدہ تھی وہ اکثر یہاں آکر اپنا وقت گزارتی.. اس نے نظر اٹھا کر سامنے دیکھا تو بیلا کرسی پر بیٹھی ہاتھ میں ڈول پکڑے کھڑکی سے باہر دیکھنے میں مصروف تھی جسکی پشت اسکی جانب تھی...

بیلا...
اسپرا کی پکار پر اس نے پلٹ کر اسکی جانب دیکھا..

تم ٹھیک ہو؟؟
وہ جب کچھ نہیں بولی تو وہ اسکے قریب جاکر پوچھنے لگی کیونکہ بیلا کا چپ رہنا کسی اچھی بات کی علامت نہیں تھی...

ہممم میں ٹھیک ہوں...
بیلا نے اپنا سر نیچے جھکا کر نرمی سے کہا تو اسپرا گھٹنوں کے بل کرسی کے سامنے بیٹھ گئ اور بیلا کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیے...

میں جانتی ہوں تمہیں کوئی چیز پریشان کر رہی ہے چلو جلدی سے بتاؤ وہ کیا ہے... ؟؟اسپرا نے اسکی براؤن آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ پوچھا

کیا وہ ہمیں واپس سے کڈنیپ کر کے لے جائیں گے؟؟
اگر اسپرا اسکے بالکل قریب نہ بیٹھی ہوتی تو وہ بیلا کی آواز میں کپکپاہٹ محسوس نہیں کر پاتی...اسکے سوال پر اسکا دل تیزی سے دھڑکا...

نہیں میری جان.... کوئ بھی تمہیں یا باقی گھر کے کسی بھی میمبر کو اٹھا کر نہیں لے کر جاۓ گا...
اسپرا نے پیار سے اسکے گال سہلاتے ہوۓ کہا..

میں جانتی ہوں... اس ٹیٹو مونسٹر نے تمہیں بہت ہرٹ کیا ہوگا...
بیلا نم آنکھوں سے بولی تو اسپرا نے جلدی سے آگے بڑھ کر اسے اپنے سینے سے لگا لیا..

کیا میں تمہیں آج ایک سیکریٹ بتاؤں.. ؟؟
اسپرا نے اسکی آنکھوں سے آنسو صاف کرکے سرگوشی نما کہا جس پر بیلا کی آنکھیں چمکیں..

ہاں, ہاں پلیز...
وہ بھی اسکے کان میں سرگوشی نما بولی...

تھوڑا اور قریب آؤ...
اسپرا کی بات پر وہ اسکے گلے لگ گئ...

اس نے مجھے کبھی ہرٹ نہیں کیا تھا بلکہ وہ تو میرے ساتھ بہت ذیادہ اچھا تھا...
اس کے الفاظ پر بیلا کی آنکھیں حیرت سے پھیلیں...

سیریسلی... ؟؟؟؟
بیلا نے بےیقینی سے پوچھا...

جی سویٹ ہارٹ..یہاں تک کہ اس نے مجھے چاکلیٹس بھی لاکر دیں...
اسپرا نے مسکراتی آنکھوں سے کہا...

واؤ پھر تو وہ سچ میں بہت اچھا ہے...
بیلا نے تالی بجا کر چہکتے ہوۓ کہا جس پر اسپرا اسکے گال چوم کر ہنسنے لگی..

ہاں بہت اچھا ہے...
اسپرا نے اسکے بال بگاڑتے ہوۓ کہا...

تم دونوں یہاں ہو...
رابیعہ بیگم کے الفاظ پر دونوں نے پلٹ کر انکی جانب دیکھا..

میں کب سے تمہیں ڈھونڈ رہی تھی بیلا... تمہاری ماما تمہیں بلا رہی ہیں جاؤ انکی بات سنو....
ان کے کہنے پر بیلا جلدی سے کرسی سے اتر کر نیچے کی طرف بھاگی جبکہ اسپرا نے اٹھ کر اپنی دادی کو سمائل پاس کی جو اسے تجسس سے دیکھ رہی تھیں..

دادی ماں کیا میرے چہرے پر کچھ لگا ہے؟؟
اسپرا نے اپنے چہرے پر ہاتھ لگاتے ہوۓ پوچھا..

کیا تمہیں آج بھی دانش سے محبت ہے کیا لٹل پرنسس؟؟؟
ان کے اچانک سے اس سوال پر اسپرا نے شاک سے انکی جانب دیکھا...

ظ ظاہری سی ب بات ہے دادی ماں... یہ بھی کوئ سوال ہے پوچھنے والا.
وہ ان سے زیادہ خود کے کانوں کو اپنی بات کا یقین دلانے لگی مگر وہ مزیدکچھ کہےسیڑھیاں اترکر چلی گئیں جبکہ اسپرا حیرت و پریشانی سے وہاں کھڑی رہی...مگر جلد ہی خود کو کمپوز کر کے نیچے چلی گئ لیکن دادی ماں کا سوال ساری شام اسے پریشان کرتا رہا....

کیا مجھے اب بھی محبت ہے دانش سے...؟؟
اوہ مائ گاڈ میں مانتی ہوں میری فیلنگز کچھ دیر کیلئے چھپ گئیں وہ بھی اس وجہ سے کیونکہ میں اس سے بہت دور رہی ہوں... ایک دفعہ ہم واپس سے ساتھ وقت گزاریں گے سب ٹھیک ہو جاۓ گا... مجھے اس بارے میں دانش سے بات کرنی چاہیے وہ خود سے بڑبڑانے لگی...

ڈنر کرنے کے بعد وہ اسکے کمرے میں چلی گئ تاکہ کچھ بات ہو سکے..

کیا ہوا ہے پری... ؟؟
اسپرا کو اچانک سے اپنے کمرے میں دیکھ کر دانش پوچھنے لگا جو اپنی ٹانگ پر تیل لگا رہا تھا...

کچھ نہیں بس ایسے ہی...
اسپرا نے اس کے ہاتھ سے تیل پکڑ کر اسکے زخموں پر لگاتے ہوۓ کہا...

i think you don't need to baby sit me... i can do it by myself...
وہ تیل پکڑتے ہوۓ بولا...

ویری فنی میں بس ہیلپ کر رہی ہوں..
وہ آئبرو اچکاتے ہوۓ بولی اور واپس سے تیل پکڑ کر لگانے لگی...

دانش.. ؟؟
اسپرا نے اسکی جانب دیکھتے ہوۓ پوچھا...

بولو جانم...
دانش کے الفاظ پر اسکے ہاتھ پل بھر کو رکے..

اب آگے کیا ہو گا... ؟؟

کیا مطلب؟؟
دانش نے حیرت سے اسکی جانب دیکھا..

مطلب میں واپس آگئ ہوں...کیا سب کچھ بدل گیا ہے... ؟؟
اسپرا نے پوچھا..

کچھ بھی نہیں بدلا... سب ویسا ہی ہے...بس کچھ وقت کی بات ہے سب اپنے پرانے وقت پر آجاۓ گا...
وہ مسکراتے ہوۓ بولا...

تمہاری اس بات کا کیا مطلب ہے...
اسپرا نے ناسمجھی سے اسکی جانب دیکھا..

میں جانتا ہوں جو کچھ بھی ہوا تم ابھی تک اس سب سے باہر نہیں آ پائ ہو... تمہیں وقت کی ضرورت ہے واپس سے اسی لائیف میں آنے کیلئے...اور میں تمہیں وہ وقت دوں گا... ہم دونوں اپنے ریلیشن کی جانب چھوٹے چھوٹے قدم اٹھائیں گے...جب ہم مکمل اس سب سے باہر آ جائیں گے مجھے یقین ہے ہم اسے ایک برا خواب سمجھ کر بھول جائیں گے....
دانش نے ہیڈ بورڈ سے پشت لگاتے ہوۓ کہا..

اسپرا نے اس سے اس جواب کی توقع نہیں کی تھی اسے سمجھ ہی نہیں آرہا تھا اب آگے کیا بولے....
مطلب ابھی بھی اسے امید ہے ہم واپس سے ایک ساتھ ہو جائیں گے
وہ لب چباتے ہوۓ خود سے بڑبڑائ...

ابھی بھی ہرٹ ہوتا ہے...؟؟
اسپرا نے مساج ختم کرتے ہوۓ زخموں کی جانب اشارہ کرتے ہوۓ پوچھا

نہیں...
دانش نے سکون سے آنکھیں بند کرتے ہوۓ کہا..

پتہ نہیں یہ آئل کیا ہے.. ؟؟ یہاں تک کہ مجھے اسکی خوشبو بھی سمجھ میں نہیں آ رہی ہے.
وہ اٹھ کر آئل سائیڈ پر رکھتے ہوۓ بولی...

it smells like goldenseal to me..
دانش نے بتایا...

ہمم چلو جب تک یہ ورک کرتا ہے مجھے اس سے کوئ ایشو نہیں ہے..

اممم اوکے سویٹ ہارٹ شکریہ اس مساج کیلئے...
وہ آنکھیں کھولتے ہوۓ بولا...

ٹھیک ہے پھر تم سو جاؤ... میں بھی جاتی ہوں... گڈ نائیٹ...
وہ کہہ کر کمرے سے باہر نکل آئ...
💥💥💥💥
نیند تو اس سے مکمل طور پر روٹھی ہوئ تھی اس نے ٹیبلٹ پکڑا اور گیم کھیلنے لگی... جب گیم بھی کھیل کھیل کر تھک گئ تو ٹیبلٹ پکڑے ہوۓ ہی گارڈن میں آگئ...
اس نے ایک نظر گھر کے اندر دیکھا جہاں انتہائ خاموشی تھی اور ہر کوئ سویا ہوا تھا... جب اس کے دل پر قابو نہیں رہا تو اسنے گوگل پر ارحم کا نام سرچ کیا تاکہ ایک نظر اسکا چہرہ دیکھ سکے...
بہت سی تصویریں گوگل پر نظر آنے لگی مگر اس نے وہ تصویر کھول لی جہاں وہ اسکے سر پر پسٹل رکھے کھڑا تھا...اسکی نظر میں ہاٹل والا منظر گھوما جب ان لوگوں پر اچانک سے حملہ ہوگیا تھا...

وہ تصویر زوم کرکے اسکا چہرہ دیکھنے لگی جہاں اسکی آنکھوں میں جنون اور سرمہری تھی...
مجھے حیرت ہے میں نے تم جیسے مونسٹر کے ساتھ ایک سال کیسے گزار لیا اور مجھے احساس بھی نہیں ہوا.....
میں تمہاری مسکراہٹ, باتوں, اور پرسنلٹی میں اس قدر کھو جاتی کہ اپنی فیملی کو ہی بھول جاتی....

ڈیم تم کتنی محنت کر رہے تھے ہم دونوں ایک ہو جائیں... اور دوسری جانب میں اتنی ہی محنت کر رہی تھی ہم علیحدہ ہو جائیں...
وہ نم آنکھوں سے اسکے چہرے کو اپنے ہاتھوں سے چھوتے ہوۓ بولی...
اگر میں وہاں سے بھاگ کر نہیں آتی تو کیا پتہ تم خود مجھے میری فیملی سے ملوا دیتے...
تم تو جانتے بھی نہیں تھے زین نے مجھے میری فیملی کا بتا دیا ہے کیا پتہ تم مجھے اچانک ان سے ملوا کر سرپرائز دیتے...
وہ سوچتے ہوۓ کب رونے لگی اسے احساس بھی نہیں ہوا...

"Simple you caught my eyes..
so i realized you must be in my arms.. "

اس کے ذہن میں ارحم کے الفاظ آ سماۓ جب وہ اسے لینے ان کے گھر آیا تھا...

"مکمل لباس میں تم اور بھی حسین اور دلکش لگتی ہو... "
پھر اسکے الفاظ اسکے ذہن میں گونجے تو اس نے نم آنکھوں سے اپنے کپڑوں کی جانب دیکھا جہاں وہ کیپری اور شارٹ فراک میں ملبوس تھی...
وہ نم آنکھوں سے مسکرادی... کیونکہ یہاں واپس آکر جینز اور شارٹ شرٹس میں وہ خود کو مطمئن محسوس نہیں کر رہی تھی تو اس نے رانیہ سے بول کر ایمرجنسی کچھ سوٹ سلواۓ تھے...

"اور ہاں اگر کوئ تم سے پوچھے تم میری کون ہو تو بول دینا...
You are my wife..
My feisty woman..
جو شدید قسم کی ضدی اور پاگل ہے...
سوال اور باتیں اس قدر کرتی ہے کہ میرے کانوں سے خون بہنے لگتا ہے...
یقین کرو لوگوں کو تم پر نہیں بلکہ مجھ پر ترس آۓ گا..."

اس کی باتیں اسکے ذہن میں ہتھوڑی کی مانند لگنے لگی... جب اسے خود کو سنبھالنا مشکل ہوگیا تو وہ بےبسی سے شدت سے رونے لگی

م میں جانتی ہوں مجھے تمہیں نہیں چھوڑنا چاہیے تھا... لیکن میری فیملی کا کیا... میں انہیں بہت مس کرتی تھی...مجھے یہ سکون, تحفظ اور خوشیوں بھری زندگی واپس سے جینی تھی...
وہ اسکی تصویر خود کے سینے سے لگاکر روتے ہوۓ خود سے بڑبڑانے لگی...

یہ کوئ کہانیوں والی زندگی نہیں ہے کہ جہاں ایک شخص سب تباہ کردے پھر بھی اسکے ساتھ خوشی خوشی رہا جاۓ... یہ نارمل زندگی ہے جہاں ہم ایسے شخص کے ساتھ ساری زندگی نہیں گزار سکتے جس نے آپکو زبردستی خود کے ساتھ رکھا ہو اور جو مافیہ کی دنیا کا بادشاہ ہو....

یہ تمہاری نہیں میری غلطی ہے جو میں تمہارے ساتھ اتنا اٹیچ ہو گئ کہ تمہارا ہنسنا, بولنا, مسکرانا مجھ پر اپنے تاثرات چھوڑنے لگا... مجھے تمہارے لیے یہ فیلنگز نہیں رکھنی چاہئے جو ایک کرمنل ہے اور جس سے آس پاس کی ساری دنیا ڈرتی ہے...

"خوبصورت رات, اور اس حسین رات میں بہتے پیارے سے آنسو..."
وہ جو خود کی ذات سے الجھ رہی تھی اچانک سے اپنے پیچھے دادی ماں کی آواز سن کر وہ جلدی سے سیدھی ہو کر اپنے آنسو صاف کرنے لگی..

تم رک کیوں گئ ہو... ؟؟ تم بیٹھ کر رو سکتی ہو... آئ پرامس میں تمہیں ڈسٹرب نہیں کروں گی...
وہ چیئر پر بیٹھ کر سکون سے بولیں... جس پر اسپرا خاموشی سے اپنے آنسو صاف کرنے لگی...

You miss him... Don't you..??
انہوں نے نرمی سے پوچھا..

yes, yes, yes very much...
اسپرا نے بےبسی سے واپس سے روتے ہوۓ سچائ کا مظاہرہ کیا...

تو پھر تم اس کے پاس واپس کیوں نہیں چلی جاتی... ؟؟
انہوں نے آسمان کی جانب دیکھتے ہوۓ پوچھا...

آپ نہیں سمجھتی ہیں دادی ماں... آپ بالکل نہیں سمجھتی...
وہ اپنے ہاتھ کی پشت سے آنسو صاف کرتے ہوۓ بولی.. جس پر وہ مسکرائیں اور سکون سے اسکی جانب دیکھنے لگیں..

ہو سکتا ہے میں تمہیں نہیں سمجھتی...کیا تم خود اپنے آپ کو سمجھتی ہو؟؟
ان کے سوال نے اسپرا کی مکمل توجہ کھینچی جس پر اس نے نم آنکھوں کے ساتھ نہ میں سر ہلایا تو وہ سانس کھینچ کر رہ گئیں...

اپنے دل کی سنو ڈورا, دماغ کی نہیں..
وہ اسکی جانب دیکھتے ہوۓ بولیں...

میں کیسے سنو دل کی دادی ماں... ؟؟ اس نے زبردستی مجھے خود کے پاس رکھا... اس نے میرے پیرنٹس کو کڈنیپ کروایا..اس نے مجھ سے میری نارمل زندگی چھین لی...میں کیسے اس دل کی سن سکتی ہوں دادی ماں جو بس ایک ہی رٹ لگا بیٹھا ہے جاؤ اسکے پاس واپس..
اسپرا نے مشتعل ہوتے ہوۓ کہا...

تم نے کہا اس نے زبردستی تمہیں اپنے پاس رکھا ہوا تھا.....پھر تم کیوں واپس اسی کے پاس جانا چاہتی ہو ..؟؟
انہوں نے پرسکون لہجے میں پوچھا جس پر اسپرا خاموش رہی کیونکہ وجہ تو وہ خود بھی نہیں جانتی تھی..

تمہارے پرینٹس کے ساتھ قیدیوں والا سلوک کبھی روا نہیں رکھا گیا... وہ ایک گھر میں بند ضرور تھے ڈورا... لیکن وہ قید ہوکر بھی قید نہیں تھے....اس گھر میں انہیں آرائش زندگی کی ہر سہولت مہیا تھی... مانتی ہو اس بات کو.. ؟؟

ہاں میں مانتی ہوں... لیکن اس نے جو کیا وہ غیر قانونی ہے...
وہ اپنے پاپا کے الفاظ یاد کرتے ہوۓ بولی...

ہاں میں تمہاری بات سے متفق ہوں... لیکن ڈورا تم دیکھتی ہو نہ لوگ ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں...انکا اپنے احساسات کا اظہار کرنے کا طریقہ بھی مختلف ہوتا ہے... ہمیں کوئ حق نہیں ہے دوسروں کو انکے رہنے کے انداز سے جج کرنے کا....
وہ نرمی سے اسپرا کو سمجھانے لگی...

تو آپ کے کہنے کا مطلب ہے وہ صرف اپنے اموشن واضح کر رہا تھا یہ بالکل بکواس ہے...
وہ چڑتے ہوۓ بولی...

یہاں پر اگر کچھ بکواس ہے تو وہ تمہاری سوچ ہے.... تم سوچتی ہی بکواس طریقے سے ہو....
انہوں نے مسکراتے ہوۓ کہا تو وہ خاموشی سے اپنی کنپٹیوں پر ہاتھ رکھ کر انہیں رگڑنے لگی ساتھ سوچنے لگی آخر دادی ماں کہہ کیا رہی ہیں...

سوچو سوچو... زرا گہرائ میں جا کر سوچو تم نے اس میں صرف مونسٹر کو دیکھا ہے جو لوگ دیکھتے آۓ ہیں... ؟؟ یا تم نے اس کی ذات میں کچھ الگ, کچھ انوکھا اور بہت پیارا بھی دیکھا ہے... ؟؟
ان کے کہنے پر اسپرا اپنا اور ارحم کا ساتھ گزارا گیا وقت سوچنے لگی...

اس دنیا میں بہت زیادہ محبت ہے ڈورا لیکن ہمارے پاس بہت کم وقت ہے اسے دیکھنے کا...
وہ چاہتا تو تمہارے ماں باپ کو اسی دن قتل کرکے پھینک جاتا مگر اس نے ایسا نہیں کیا اور نہ ہی تمہیں بتایا کہ وہ ذندہ ہیں... وہ بس چاہتا تھا تم اس کی ذات کو ویسے ہی اپناؤ جیسا وہ ہے.
انہوں نے درختوں پر اڑتے جگنوؤں کو دیکھتے ہوۓ کہا..

لیکن اگر میں اسے ویسے اپنانا نہ چاہوں جیسا وہ ہے... ؟؟؟
اور کیا اگر میں اسے اپنانا ہی نہ چاہوں کبھی بھی...؟؟
تو پھر کیا... ؟؟
اسپرا نے سوالیہ نظروں سے انکی جانب دیکھا...

پھر تم رات کے اس پہر اسکی تصویر سینے سے لگاۓ پاگلوں کی طرح اسے سوچتے ہوۓ کیوں رو رہی تھی... ؟؟
انہوں نے جواب دینے کی بجاۓ الٹا سوال پوچھا...

ڈیم اٹ دادی ماں... پلیز اسے میرے لیے اور مشکل مت بناۓ جب یہ پہلے ہی بہت ذیادہ ہے....
اسپرا نے اپنے بال کھینچتے ہوۓ تکلیف اور غصے کے ملے جلے تاثرات میں کہا جس پر انہوں نے قہقہہ لگایا...

دادی ماں...
اسپرا نے دانت پیستے ہوۓ کہا...

تم اپنے دماغ سے سوچ رہی ہو... اسلیے تمہیں اتنی مشکل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے میری جان... میرا کوئ قصور نہیں...
وہ مسکراتی ہوئ بولیں....

دادی ماں پلیز...
اسپرا نے انکی گود میں سر رکھتے ہوۓ کہا تو وہ اسکے بالوں میں انگلیاں چلانے لگیں..

تمارا دل جو چاہتا ہے ویسا کرو, اس دل کی سنو...
تمہارے پیرنٹس تمہیں صرف خوش دیکھنا چاہتے ہیں چاہے کچھ بھی ہو...
اسلیے آس پاس لوگ کیا کہتے ہیں... کسی کی مت سنو...
بس وہ کرو جس پر تمہارے چہرے پر مسکراہٹ بکھرے نہ کہ یہ آنسو....
وہ اسکی آنکھوں سے آنسو چنتے ہوۓ کہنے لگیں..

وہ ایک کرمنل ہے.. ہر کوئ اس سے ڈرتا ہے...
اسپرا نے بھیگے لہجے میں کہا...

اس کے پاس بھی دل ہے.. یہ کبھی مت بھولنا...
وہ اسکے چہرے پر ہاتھ رکھ کر اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ بولیں...اور پھر اسے خود سے دور کرکے اٹھ گئیں...

دادی ماں وہ زندہ رہنے کیلئے لوگوں کی جانیں لیتا ہے....
اسپرا نے انکو آگے بڑھتے دیکھا تو ایک اور وجہ دی جس پر وہ آہستگی سے پلٹیں...

تم ٹھیک کہہ رہی ہو وہ زندہ رہنے کیلئے لوگوں کی جانیں لیتا ہے...
اسپرا نے سکون بھرا سانس کھینچا دادی ماں کسی بات پر تو متفق ہوئیں...

مگر وہ زندہ رہنے کیلئے لوگوں کی جانیں لیتا ہے , جینے کیلئے نہیں...
اور تم اچھے سے جانتی ہو ڈورا ذندہ رہنے کیلئے وجوہات بدلی جاسکتیں ہیں مگر جینے کیلئے نہیں....
ان کی اتنی گہری بات پر وہ سر تھام کر رہ گئ اور پھر نظر اٹھا کر انکی جانب دیکھا جو تقریبا گھر میں داخل ہونے لگی تھیں...

اور آخری بات.... شوہر سے محبت کرنا گناہ نہیں......
اس پاک ذات نے نکاح کے دو بولو میں میاں بیوی کے رشتے میں محبت رکھی ہے... کیونکہ اس رب کو یہ رشتہ بہت ہی پیارا لگتا ہے....
وہ یہ کہہ کر اسپرا کو اسکی سوچوں کے بھنور میں چھوڑ کر اندر بڑھ گئیں..

Thanks for your love and support 💗💗
agr aj ap log episode parh k like krna bhool gaye to mn b kl post krna hi bhool jao gii.....tc❤

25/12/2020

Don't copy paste without my permission!💢💢💢

Junoon_Tere_ishq_Ka
By_Kainat_ijaz
Episode 30

جو دلی سکون اللہ نے قدرتی چیزوں میں رکھا ہے وہ انسانوں کی بنائ ہوئ چیزوں میں نہیں ہے... کس قدر جان لیوا خوبصورتی اس پیاری ذات نے بنائ ہے...
اسپرا اپنی فیملی کے ساتھ ڈنر کرکے جیسے ہی گارڈن میں آئ تو وہاں درختوں پر اڑتے جگنو, رنگ برنگے پھولوں, پھلوں اور بیلوں کو دیکھتے ہوۓ سوچنے لگی...جن پر گرتی چاند کی روشنی انہیں مزید دلکش بنا رہی تھی...اور جب جب ٹھنڈی ہوا اس کے وجود کو چھو کر گزرتی وہ پر سکون ہوکر آنکھیں بند کر جاتی...

زندگی میں جدید ٹیکنالوجی ضروری ہے مگر اس سکون سے بڑھ کر نہیں...
وہ آنکھیں بند کیے ہوۓ سوچنے لگی تبھی اسے محسوس ہوا جیسے کسی نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا ہے جس پر اسپرا نے جھٹ سے اپنی آنکھیں کھول دیں اور سامنے اپنے پاپا کو دیکھ کر اسکے چہرے پر مسکراہٹ بکھری جن کی آنکھوں کے نیچے ڈارک سرکلز تھے جو گواہ تھے وہ کافی عرصے سے اچھے سے سوۓ نہیں ہیں...

مجھے ہمیشہ یہاں آنا بہت پسند ہے کیونکہ بہت پرسکون جگہ ہے یہ...
انہوں نے سامنے کرسی پر بیٹھ کر ارد گرد دیکھتے ہوۓ کہا..

yeah, cattle, farms, the climate, freshness, it's mesmerizing...
اسپرا نے تازہ ہوا سے لمبا سانس کھینچتے ہوۓ کہا...

تم سوچ بھی نہیں سکتی میں کس قدر سوری ہوں... جو بھی ہوا اسکےلیے...
کچھ پل خاموش رہنے کے بعد عبدالجبار صاحب آہستگی سے بولنے لگے.. .

پاپا اس میں آپکا کوئ قصور نہیں ہے...
اسپرا نے نرمی سے کہا مگر ان کے چہرے پر موجود ایکسپریشن دیکھ کر وہ سمجھ گئ کہ وہ زرا برابر بھی مطمئن نہیں ہوۓ...

ک ک کیا ت تم مجھے ب بتا سکتی ہو تمہارے ساتھ اس ایک س سال میں کیا کیا ہوا ہے...؟؟
انہوں نے ہچکچاتے ہوۓ پریشانی سے نظریں جھکاتے ہوۓ پوچھا..

ضرور پاپا...
وہ فوری بولی جس پر انہوں نے حیرت سے اسکی جانب دیکھا..

اوہ.. اوکے ک کیا تم م مجھے شروع سے بتاؤ گی کہ کیا ہوا تھا اس دن سے جب تمہیں وہاں سے کڈنیپ کیا گیا؟؟
ان کے الفاظ پر اسپرا نے ہاں میں سرہلایا اور پھر دھیرے دھیرے بتانے لگی کیسے ارحم نے اسے ٹارچر کیا لیکن وہ موقع پاتے ہی دانش کے پاس بھاگ گئ جہاں اس نے ارحم کے خلاف کمپلین درج کروانا چاہی مگر آفیسر نے اس پر یقین نہیں کیا اور کیسے وہ پھر سے کڈنیپ ہوگئ اس دوران دانش اسے بچانے آیا اور اپنی ٹانگ تڑوا بیٹھا, اور پھر کیسے ارحم نے اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوۓ اس کے ساتھ زبردستی شادی کر لی...
اسپرا کی بات پر انکی آنکھیں پھیلیں....

مگر وہ اپنی بات کو جاری رکھتے ہوۓ بتانے لگی کہ کیسے وہ اسے لندن اور وہاں سے ویٹیکین لے گیا اور وہاں ہوٹل اور گھر میں حملہ.... اور اس سب کے دوران ارحم نے اسے کیسے گھر کے اندر بند رکھا ہوا ہوا تھا... پھر اسکی دانش کے ساتھ ملاقات اور مائشہ کا اس سے شدید نفرت کرنا..سب کچھ بتا دیا....

اور پھر پاپا آخر میں دانش ہیلی کاپٹر میں حمزہ کے ساتھ آیا جہاں ارحم کو پولیس چارو طرف سے گھیرے ہوۓ تھی مجھے آفیسر نے اشارہ کیا کہ دانش کی جانب قدم بڑھاؤں اور میں اسکی طرف بڑھ گئ.. اس دوران پولیس کی وجہ سے ارحم کچھ نہیں کر پایا...
اور پھر ایسے ہی ہم لوگ ایک رات ہوٹل میں گزار کر یہاں آگۓ ہیں بس...
اسپرا نے آخری الفاظ کندھے اچکا کر مسکراتے ہوۓ بولے تبھی اسکی نظر اپنے پاپا کی جانب گئ جنکی آنکھوں میں آنسو تھے اسکے دل میں چبن ہوئ کیونکہ اسکے پاپا بہت بہادر اور دلیر تھے انہیں ایسے تکلیف میں اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا...

مجھے معاف کر دو اسپرا...میری جان مجھے معاف کردو...
انہوں نے اٹھ کر اسے گلے سے لگا کر ماتھا چومتے ہوۓ نم لہجے میں کہا...

میں آپ کی بیٹی ہوں پاپا اور اتنی مضبوط تو ہوں ہی کہ اپنی زندگی کی مشکلات کا بغیر ڈرے سامنا کر سکوں...
اسپرا نے ان کی آنکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوۓ کہا...

ک کیا اس ن نے ک کبھی ت تمہارے س ساتھ زبردستی ک...

نہیں پاپا ایسا کبھی کچھ بھی نہیں ہوا....
اسپرا ان کے الفاظ کی گہرائ کو سمجھتے ہوۓ جلدی سے بولی جس پر انہوں نے سکون کا سانس لے کر اس کے بالوں پر اپنے لب رکھ دیئے...

i love you Aspara, I'm really proud of you...
انہوں نے شفقت سے اسپرا کی کمر تھپتھپاتے ہوۓ کہا تو وہ ان کے سینے سے لگ گئ...

مجھے معاف کر دیں پاپا میں نے ابھی کچھ چیزیں آپکو نہیں بتائیں جیسے کہ میں نے اسکے ساتھ رہنا سیکھ لیا تھا... اس کا بولنا ہنسنا, مسکرانا, اسکی باتیں دل کو سکون دینے لگی تھی..
اور اسکو چھوڑ کر آپ لوگوں کے پاس آنا انتہائ تکلیف دہ مرحلہ تھا...پاپا میں آپکو کیسے بتاؤں جب وہ گھٹنوں کے بل جھکا تھا میرا دل کیا تھا میں ساری دنیا کو ٹھکرا کر اسکے ساتھ ایک الگ گھر بساؤں لیکن میں اسے وہاں ہی چھوڑ آئ کیونکہ میری زندگی میں آپ لوگ بھی بہت ضروری ہو... بہت محبت ہے آپ سب سے...
اور میں جانتی ہوں یہ سچ میں کبھی کسی کو نہیں بتا پاؤں گی یہ حقیقت میرے ساتھ بس میری قبر میں ہی جاۓ گی...
وہ اپنے پاپا کے گلے لگی آنکھوں میں آنسو لیے دل ہی دل میں سوچنے لگی....

تمہاری ماما بہت روتی تھی اسپرا جب بھی کوئ نیوز دیکھتی وہ پاگلوں کی طرح تمہیں سوچ کر روتی رہتی... مجھے بہت تکلیف ہوتی تھی میرا گھر میری آنکھوں کے سامنے ٹوٹ کر بکھر گیا اور میں کچھ نہیں کر پایا...
انہوں نے بھیگے لہجے میں اسپرا کے بالوں کو سہلاتے ہوۓ کہا تو وہ ہوش کی دنیا میں آئ...

پاپا آپ سب لوگوں کو کدھر رکھا گیا تھا؟ کیا ہوا تھا میرے جانے کے بعد... ؟؟
اسپر نے سرخ ہوتی آنکھوں سے انکی جانب دیکھتے ہوۓ پوچھا...

جب تم چلے گئ تو وہ آدمی ہمیں مارنے کیلئے آگے بڑھے مگر ایک کال کی وجہ سے رک گۓ پھر کچھ دیر بعد ایک آدمی وہاں آیا جس کا نام زین تھا وہ ہمیں وہاں سے لے گیا,, کچھ دن ہم لوگ ہوٹل میں رہے میں نے وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی مگر پکڑا گیا جسکی وجہ سے ان گارڈز نے مجھے کافی مار پیٹ کر تمہاری ماما اور بیلا سے الگ ایک کمرے میں بندھ کر دیا جو اندھیرے میں ڈوبا رہتا تھا دو دن کے بعد وہاں زین آیا اس نے مجھ سے نرمی سے بات کی اور کہا اگر میں اچھے سے رہوں گا تو وہ مجھے ملیحہ اور بیلا پاس لے جاۓ گا مجھے اس پر یقین تو نہیں تھا لیکن کوئ اور چارا نہیں تھا میں نے اسکی بات مان لی...پھر وہ ہمیں کسی دوسرے ملک لے گۓ جسکا نام میں نہیں جانتا...

زین کا نام سن کر اسپرا کو خوشی ہوئ کیونکہ وہ جانتی تھی وہ ایک اچھا انسان ہے...

پھر کیا ہوا؟؟
اسپرا نے سوالیہ نظروں سے پوچھا...

اس ملک میں انہوں نے ہمیں کچھ دن ہوٹل میں رکھنے کے بعد گھر میں ٹرانسفر کر دیا جہاں ضرورت زندگی کی ہر چیز تھی.. زین نے جلد ہی بیلا کا دل جیت لیا وہ اکثر اسکے لیے چاکلیٹس لے کر آتا اوع ایسے ہی کچھ مہینوں بعد اس نے ملیحہ کے دل میں بھی جگہ بنا لی... یہاں تک کہ مجھے بھی اسکی موجودگی اچھی لگنے لگی بعد میں پتہ چلا وہ ایک ڈاکٹر ہے ہم لوگوں نے اسے کہا ہمیں جانے دے.. لیکن اس نے ہماری ذات کا پورا خیال رکھا سواۓ وہاں سے بھاگنے میں مدد کرنے کے...

ایڈیٹ انسان نہ ہو تو... میں کیسے پاگلوں کی طرح اس سے پوچھتی تھی مگر کبھی اس نے بتایا ہی نہیں وہ اتنا ماما پاپا لوگوں پاس جاتا ہے...
اسپرا نے مسکراتے ہوۓ سوچا...

اور آخر میں پولیس نے آکر گارڈز پر حملہ کیا اور ہمیں بچا کر یہاں لے آۓ بس
انہوں نے بھی کندھے اچکاتے ہوۓ کہا...

ویسے میں نے زین سے بہت بار پوچھا تھا لیکن اس نے کبھی نہیں بتایا وہ آپ لوگوں ساتھ ملتا ہے...
اسپرا نے لب چباتے ہوۓ کہا..

کیونکہ وہ جانتا تھا اگر تم جان گئ تو اسکا سر کھا کھا کر اسے پاگل کر دو گی...
عبدالجبار صاحب نے مسکراتے ہوۓ کہا تو وہ آسمان پر موجود چاند کو دیکھنے لگی جو ہمیشہ اسکی پریشانیاں ذہن سے دور کر دیتا تھا...
اس وقت ارحم کیا کر رہا ہوگا؟؟
کیا وہ بھی میری طرح اس چاند کو دیکھ رہا ہوگا.. ؟؟
کیا اسے میری یاد آتی ہوگی... ؟؟
ارحم میں ابھی بھی بہت کنفیوز ہوں پتہ نہیں صحیح فیصلہ کیا تھا یا غلط لیکن میں خوش ہوں کیونکہ میری فیملی مجھے واپس سے دیکھ کر مسکرانے لگی ہے...
کاش ایسا ہوجاۓ تم بھی میری فیملی کا حصہ بن جاؤ پھر کتنا مزہ آۓ, ہر طرف خوشیاں ہوں...تم بیٹھ کر میرے ماما پاپا ساتھ گپ شپ لگاؤ, دادی ماں کے ساتھ مزاق کرو ہنسو, بولو, نارمل زندگی ہو... لیکن میں جانتی ہوں یہ میرا صرف خواب ہی رہے گا کیونکہ ایک کرمنل کو میری فیملی کبھی نہیں اپناۓ گی...
وہ آنسو پیتے ہوۓ سوچنے لگی...

پاپا...
اسپرا نے چاند کی جانب ہی دیکھتے ہوۓ پکارا

جی پاپا کی جان...
انہوں نے نرمی سے جواب دیا...

ابھی سب ختم نہیں ہوا.... وہ پھر سے آۓ گا مجھے لینے اور اس دفعہ اسکا آنا پہلے سے زیادہ خطرناک ہوگا...
اس نے چاند سے نظریں ہٹا کر انکی جانب دیکھا جو پریشانی سے اسے دیکھ رہے تھے...

اور میں چاہتی ہوں اس دفعہ جب وہ آۓ آپ مجھ پر یقین کریں کہ میں جو بھی فیصلہ کروں گی اس میں سب کی بہتری ہوگی...

ہمیں دوبارہ چھوڑ کر اسکے پاس مت جانا پری, بےشک ہمیں کچھ بھی ہو تم نہیں جاؤ گی واپس...میں چاہتا ہوں تم بس بھاگ جانا اس سے بہت دور ,بہت بہت زیادہ دور... ہماری فکر مت کرنا..
ان کے الفاظ پر اسپرا نم آنکھوں ساتھ مسکرائ..

آپ کو کوئ آئیڈیا نہیں ہے پاپا وہ کیا ہے اور کیا نہیں... اس سے بھاگنا فضول ہے, اور رہی میری بات مجھے نہیں پتہ میں اسکے پاس واپس جاؤں یا نہیں...مگر اس پل میں جو بھی فیصلہ کروں آپکو میرا ساتھ دینا ہوگا کیونکہ اس دفعہ میں کسی بھی اپنے پیارے کو تکلیف پہنچنے نہیں دوں گی...
انہوں نے محبت سے اسپرا کے سر پر ہاتھ رکھا اور وہاں سے اٹھ گۓ...

سونے کا وقت ہے.. اٹھو تم بھی سو جاؤ...
وہ کہہ کر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گۓ...

اسپرا ساری رات کروٹیں بدلتی رہی مگر وہ مجبوری میں لیٹی رہی کیونکہ بیلا اسکے ساتھ سو رہی تھی...

بہت ہی تم کوئ برے انسان ہو ارحم... اسی وجہ سے خود کے سینے کے ساتھ لگاکر سوتے تھے نہ کہ کہیں اور جاؤں تو نیند ہی نہ آۓ...
وہ نم آنکھوں کے ساتھ پاس پڑا کشن زمین کی جانب اچھالتے ہوۓ تکلیف سے بولی...

آخر کار سورج کی شعائیں اسکی کھڑکی سے روم میں گرنے لگیں تو وہ جلدی سے اٹھ کر فریش ہوئ اور نیچے کیچن میں چلی گئ جہاں اس نے رانیہ کی ناشتہ بنانے میں مدد کی..جب تک ناشتہ تیار ہوا سب فریش ہوکر ڈائننگ ٹیبل پر آگۓ جہاں انہوں نے سکون سے بیٹھ کے ایک ساتھ ناشتہ کیا...

ناشتہ کرنے کے بعد سب گارڈن میں بیٹھ کر باتیں کرنے لگے اور انکے قہقہے چارو طرف گونجنے لگے... پھر حمزہ دانش بیلا اور اسپرا گاؤں گھومنے چلے گۓ جہاں اسپرا نے دانش اور حمزہ کو اپنی پسندیدہ جگہیں دکھائیں...

یہی وجہ تھی جو میں تمہیں ہمیشہ یہاں لانا چاہتی تھی لیکن تم انکار کر دیتے تھے...
اسپرا نے سامنے موجود خوبصورت نظارے کو دیکھتے ہوۓ کہا..

اس میں میری کوئ غلطی نہیں تھی یاد ہے پریکٹس مجھ سے میرا سارا وقت چھین لیتی تھی... ؟؟
دانش کے پوچھنے پر اسپرا نے شرمندگی اپنی نگاہیں دوسری طرف کر لیں..

💥💥💥💥
کیا ایسا اب کبھی نہیں ہوسکتا کہ دانش واپس سے چلے.. ؟؟
اسپرا نے حمزہ کے برابر چلتے ہوۓ اس سے پوچھا...

میں نہیں جانتا پری....اسکی ٹانگ نے اپنی مضبوطی نہیں کھوئ ہے آخر کار وہ ایک کھلاڑی تھا اسکی ہڈیاں مضبوط ہیں لیکن اصل مسئلہ جوائنٹ کا ہے جو اسکے کلہاڑی مارنے کی وجہ سے ٹوٹ گیا ہے..آپریش کامیاب ہوا تھا لیکن ڈاکٹر نے کہا ہے کہ اب وہ کبھی چل نہیں پاۓ گا...
حمزہ نے دانش کی جانب دیکھتے ہوۓ کہا جو بیلا کو گود میں بٹھا کر وہیل چیئر پر جھولے دے رہا تھا جس پر وہ کھلکلا کر ہنستی...

اگر اسکی ہڈیاں مضبوط ہیں تو وہ ضرور چلے گا...
وہ نرمی سے بولی...

جوائٹس کا بھی مضبوط ہونا ضروری ہے کل رات تمہاری دادی ماں بھی یہی بحث کر رہی تھی کہ وہ ابھی بھی چل سکتا ہے.
حمزہ نے اسکی جانب دیکھتے ہوئے کہا..

ہم اسے کل ایک ہیلر کے پاس لے کر جائیں گے جو ٹاؤن میں رہتی ہے وہ کافی بوڑھی عورت ہے مگر کہا جاتا اسکے ہاتھ میں شفاء ہے جتنے بھی مریض اسکے پادس گۓ ہیں لازمی صحت یاب ہوۓ ہیں...

اس وقت تم بوڑھی عورتوں کی طرح بات کر رہی ہو...
حمزہ نے قہقہہ لگاتے ہوۓ کہا جس پر اسپرا نے اسے گھورا..

میں سیریس ہوں حمزہ... ہم ڈاکٹر کے کہنے پر چپ کرکے نہیں بییٹھ سکتے... ہمیں ہر ممکن کوشش کرنے ہوگی تاکہ وہ چل سکے...تم سوچ بھی نہیں سکتے کیسا فیل ہوتا ہے یہ جانتے ہوۓ کہ یہ سب میری غلطی ہے...
حمزہ نے اسکے الفاظ پر پریشانی سے اسکی جانب دیکھا...

ریلیکس پری تمہاری کوئ غلطی نہیں ہے...
اس نے نرمی سے سمجھایا...

پلیز دانش کچھ بھی کرو کل ہم اسے ہیلر کے پاس لے کر جا رہے ہیں...
وہ بھیگے لہجے میں سنجیدگی کے ساتھ بولی...

دانش نہیں مانے گا وہ تھک چکا ہے لوگوں کو خود کی طرف ہمدردی سے دیکھتے ہوۓ...
وہ اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا...

تو پھر مناؤ اسے...
اسپرا نے کہہ کر دانش کی جانب دیکھا جو بیلا کے ساتھ ہنسنے میں مصروف تھا...

تم جانتی ہو فاطمہ اور فائقہ تمہارے لیے بہت پریشان ہیں وہ تم سے ملنے یہاں آنا چاہتی ہیں...
حمزہ نے اسکی طرف دیکھتے ہوۓ کہا...

انہیں یہاں مت آنے دینا... ایسا کرنا محفوظ نہیں ہوگا کیونکہ مجھے یقین ہے ارحم کے آدمی ان پر نظر رکھے ہوۓ ہوں گے
وہ لب کاٹتے ہوۓ بولی...

میں کل ہی بات کروں گا...
دانش نے اسکی بات سمجھتے ہوۓ کہا...

جب اندھیرا چھانے لگا تو ان سب نے اپنے قدم گھر کی جانب بڑھاۓ جہاں آفیسر کی گاڑی گھر کے گیراج میں پارک تھی وہ سب بھی اندر بڑھ گۓ...

I'm sorry you had to wait...
دانش نے آفیسر کے قریب جاکر کہا..

میں ابھی ابھی ہی آیا ہوں...
آفیسر نے بیلا کے بال بگاڑتے ہوۓ محبت سے کہا..

میں کل یہاں سے جارہا ہوں...اور میں چاہتا ہوں اس دوران تم لوگ کم یہاں وہاں نکلو کیونکہ ارحم کے آدمی یہاں ہو سکتے ہیں... میں جیسے ہی ارحم کو ختم کر دوں گا تم لوگوں کو بتا دوں گا پھر آپ سب لوگ جہاں دل کرے وہاں جانا ویسے بھی یہ جگہ جنت سے کم نہیں ہے... بہت خوبصورتی ہے یہاں..
آفیسر نے مسکراتے ہوۓ کہا...

میں تمہارا شکریہ ادا نہیں کر سکتی تمہاری وجہ سے آج میری فیملی ایک ساتھ ہے...
ملیحہ بیگم نے آنکھوں میں آنسو لیے کہا...

کوئ بات نہیں میم یہ میرا فرض تھا...
وہ نرمی سے بولا...اسی پل اسپرا کی نظر اپنی دادی ماں پر پڑی جو دروازے میں چھڑی پکڑ کر کھڑی تھی....

کیا ہوا دادی ماں آپ ٹھیک ہیں.. ؟؟
اسپرا نے مسکراتے ہوۓ پوچھا..

مجھے چھوڑو تم اپنا بتاؤ تم ٹھیک ہو..؟؟
انکے الفاظ پر اسکے چہرے کی مسکراہٹ سمٹی..

ہاں میں ٹھیک ہوں آپ کیوں پوچھ رہی ہیں... ؟؟
جس پر انہوں نے اپنے کندھے اچکاۓ اور باقی سب کی جانب بڑھ گئیں تو وہ حیرت سے انکی جانب دیکھتے ہوئے سوچنے لگی کہ آخر انکے زہن میں چل کیا رہا ہے... ؟؟
💥💥💥💥
اگلے دن آفیسر چلا گیا تو اسپرا دانش بیلا اور حمزہ باغ میں چلے گۓ جہاں حمزہ درخت پر چڑھتا تو بیلا بھی اسکے پیچھے پیچھے چڑھنے کی کوشش کرتی وہ دونوں کبھی درختوں سے پھل توڑتے تو کبھی جامن توڑ کر ایک دوسرے پر پھینکتے...
جبکہ اسپرا اور دانش پاس ہوکر بھی ساتھ نہیں تھے کہاں وہ دونوں مشکل سے ایک دوسرے بغیر وقت گزارتے تھے اور کہاں آج صرف اجنبیوں کی طرح کھڑے تھے...

تم ٹھیک ہو؟؟
اسپرا جو سامنے حمزہ اور بیلا کو شرارتیں کرتے دیکھ رہی تھی چونک کر دانش کی جانب دیکھا..

میں ٹھیک ہوں...
وہ اسکی جانب دیکھ کر مسکراتے ہوۓ بولی...

دانش ہم لوگ آج ہیلر کے پاس جا رہے ہیں...
وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ بولی...

پری مجھے نہیں جانا...

دانش تم ابھی جس حالت میں ہو یہ میرا قصور ہے... پلیز مجھے تمہاری ہیلپ کرنے دو... پلیز...پلیز...
اسپرا نے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا...

اوکے لیکن یہ آخری دفعہ ہے اگر اس نے ورک نہیں کیا تو تم مجھے کبھی بھی فورس نہیں کرو گی..
وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا...

اوکے....
وہ اسکی بات مانتے ہوئے بولی آخر وہ چلے بس
💥💥💥💥💥
وہاں پر سب ٹارچر آلات موجود ہیں نہ خاص کر ناخن... ؟؟
ارحم نے ڈارک روم سے باہر رک کر سوالیہ نظروں سے ذین کی جانب دیکھا...

کیا مطلب ہے تم ان سب کا کیا کرو گے... ؟؟
زین نے حیرت اور پریشانی کے ملے جلے تاثرات میں پوچھا...

جو کہا ہے اسکا جواب دو... پلٹ کر سوال مت کرو...
ارحم نے پلٹ کر ان آنکھوں سے زین کی جانب دیکھتے ہوۓ کہا کہ اسکا وجود لرزا مگر جلد ہی خود کو کمپوز کر گیا...

ہاں موجود ہیں...
وہ سکون سے بولا اور پھر ایک نظر علی اور زبیر کی جانب دیکھا جو نہ میں مایوسی سے سر ہلا رہے تھے...

ہممم یہی ہے نہ جس نے میری پیٹھ پر وار کیا ہے...
وہ سلگتے ہوۓ لہجے میں اس شخص کی جانب دیکھتے ہوۓ بولا جسے الیکٹرک کرسی پر بٹھا کر چین کے ساتھ باندھا ہوا تھا...

پلیز رحم کھاؤ ہمیں یہاں سے جانے دو پلیز سوری...
وہ ارحم کو سامنے دیکھ کر گڑگڑانے لگا..

تمہارے ایک لفظ سوری سے سب ٹھیک ہو جاۓ گا... ؟؟
ارحم نے کہہ کر اپنے ہاتھوں پر دستانے پہنے اور پھر باکس سے ایک بڑا سا ناخن ایسڈ میں ڈبو کر سامنے کرسی پر بیٹھے شخص کے بازو میں ہتھوڑی سے پیوست کرنے لگا...جسکی وجہ سے اس شخص کی چیخیں پورے کمرے میں گونجیں جو ارحم کو کسی میوزک سے کم نہیں لگیں..

ایک گھنٹے کے بعد اس شخص کا سارا وجود ناخنوں سے بھرا پڑا تھا اور وہ چیخ چیخ کر پاگل ہو رہا تھا.. .

سکارپیو رحم.....پلیز رحم کھاؤ...مجھے معاف کر دو.. .مجھے تم پر چھپ کر وار نہیں کروانا چاہئے تھا....
وہ شدت سے روتے ہوۓ درد سے کہنے لگا جبکہ اسکی بیٹی سیل میں الگ معافی کی بھیک مانگنے لگی....

تو پھر یہ غلطی کیوں کی... ؟؟؟
وہ سکون سے اٹھ کر اسکے بازو سے چاوقو کی مدد سے جلد اتارتے ہوۓ پوچھنے لگا جس پر وہ پاگلوں کی طرح تکلیف بےبسی سے چیخنے اور رونے لگا...

ارحم گارڈز آئیں ان کے پاس کچھ خبر ہے...
زبیر نے ڈارک روم میں آکر کہا...

وہ انتظار کر سکتے ابھی میں کچھ مصروف ہوں...
وہ اس شخص کے وجود پر مختلف کٹ لگاتے ہوۓ بولا...

اسپرا کے بارے میں ہے...
زبیر کے الفاظ پر اسکے ہاتھ پل کو تھمے لیکن وہ اپنے کام پر جاری رہا...

انہیں اندر بھیج دو... اسکی بات پر دو آدمی اندر آۓ...

س س سر میم کا کچھ پتہ نہیں چلا وہ....
ابھی اسکے الفاظ مکمل بھی نہیں ہوۓ تھے ارحم نے پلٹ کر اپنی جیب سے پسٹل نکال کر اس کے سر پر گولی مار دی...

ت تم پاگل ہوگۓ ہو... پہلے مونسٹر کم تھے کیا اب بالکل جنگلی ہو گۓ ہو... مجھے اسی لیے وہ لڑکی نہیں پسند تھی... دیکھو کیا حال کر گئ ہے تمہارا... بالکل جانور بن گۓ ہو...
زبیر نے اسکے ہاتھ سے پسٹل کھینچتے ہوۓ غصے سے کہا....

مجھے یوزلیس آدمیوں کی کوئ ضرورت نہیں ہے اس لیے مار دیا..
اور ہاں ان لوگوں کو بند رکھو میں کل پھر آؤں گا... دھیرے دھیرے ماروں گا....
وہ اپنے ہاتھ جاڑھتے ہوۓ سکون سے بولا اور وہاں سے نکل گیا

ارحم مت کرو خود کے ساتھ ایسا... ؟؟
زین نے اسکے برابر چلتے ہوۓ کہا
ہم اسے ڈھونڈ نکالے گے...
اسکے الفاظ پر ارحم نے قہقہہ لگایا...

تمہیں کیا لگتا ہے اسے ڈھونڈنا مشکل ہے... نہیں بالکل بھی نہیں... میں بس اسے وقت دے رہا ہوں کچھ پل خوش رہنے کا...
وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ مسکرایا جس پر زین اسکی جانب دیکھ کر رہ گیا کیونکہ وہ جانتا تھا وہ ٹھیک کہہ رہا ہے,بس وہ تھوڑا پریشان تھا اس کا یہ روپ دیکھ کر کیونکہ یہ والا پہلے والے سے بھی زیادہ بھیانک تھا...
Thanks for your love and support 💗💗
read kr k must like kray....i need 2k likes❤❤

Want your business to be the top-listed Government Service in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Address


Lahore
042