24/12/2025
کیا واقعی پی آئی اے کی ڈیل میں حکومت کو صرف 10 ارب ملیں گے اور باقی سارا پیسہ کمپنی میں جائے گا؟
اصل حقیقت کیا ہے اور یہ ڈیل عوام کے لیے فائدہ مند ہے یا نقصان دہ؟
تفصیل سے جاننے کے لیے یہاں پڑھیں👇
https://nihon.com.pk/pia-sale-deal-explained/
25/03/2024
میں اس بات کو نہیں مان سکتا کہ جس خدا نے ہمیں حواس، عقل اور ذہانت عطا کیے ہیں، وہ یہ چاہتا ہوگا کہ ہم ان کا استعمال نہ کریں۔ — گیلیلیو گلیلئی
Galileo Galilei Quotes About philosophy in urdu
25/05/2023
جمہوریت اپنے ساتھ جمہوری اقدار لاتی ہے۔ سب سے اہم جمہوری قدر برداشت ہوتی ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں چونکہ جمہوریت اور جمہوری اقدار پنپ نہیں سکیں اسی لیے برداشت اور صبر کی کمی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے بھارت کی طرح جب ایک حکومت آجاتی ہے تو پھر اپوزیشن اگلے انتخابات تک سکون سے بیٹھ جاتی ہے۔ اور الیکشن کا انتظار کرتی ہے۔ 90 کی دہائی میں بھی یہی کچھ ہو رہا تھا جب ن لیگ اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں مصروف رہتے تھے۔ اپوزیشن گروہ فوج کے ساتھ مل کر برسر اقتدار جماعت کے خلاف محلاتی سازشیں کرتا اور دو تین سال بعد حکومت کی چھٹی ہوجاتی۔۔۔
سیاستدانوں کے اسی غیر جمہوری طرزِ عمل کی وجہ سے 1999 میں دونوں کی چھٹی ہوگئی اور پاور براہ راست فوج کے پاس چلی گئی۔ پھر 2005 میں نواز شریف اور بے نظیر دونوں کو اپنی غلطیوں کا احساس ہوا اور انھوں نے میثاق جمہوریت میں آئیندہ ایک دوسرے کے خلاف فوج کا آلہِ کار نہ بننے کا عہد کیا۔ اگرچہ معاہدے کے دو سال بعد ہی بے نظیر نے مشرف کے ساتھ این آر او کرکے معاہدے کی خلاف ورزی کی تاہم پھر بھی جب جمہوریت بحال ہوئی تو پی پی پی اور ن لیگ نے ایک دوسرے کو ایک حد تک برداشت کیا یوں دو اسمبلیاں مسلسل پہلی دفعہ اپنی مدت پوری کرنے میں کامیاب ہوئیں۔
2010 میں خان صاحب کو فوج نے نواز شریف کو پاور میں آنے سے روکنے کے لیے لانچ کیا۔ تو سیاست میں نو وارد کرکٹر ٹرنڈ سیاستدان عمران خان نے وہی 90 کی سیاست پھر شروع کردی۔ وہی عدم برداشت وہی سیاسی افراتفری وہی جرنیلوں کے ساتھ مل کر حکومت کی ٹانگیں کھینچنا۔ انھوں نے 2013 سے لیکر 18 تک مسلسل فوج کے ساتھ مل کر حکومت کے خلاف سازشیں کیں۔ اس دوران انھوں نے تشدد اور پاپولر بیانئیے کا خوب استعمال کیا۔ لیکن چونکہ فوج ساتھ تھی اس لیے 2014, 15 اور 2017 کے پرتشدد ہنگاموں اور جلاؤ گھیراؤ کے باوجود وہ قانون کی گرفت سے بچے رہے۔
2022 میں عمران خان کے فوج کے ساتھ تعلقات خراب ہو گئے تو اس کے مخالفین کو اسے حکومت سے نکالنے کا موقع مل گیا۔ خان صاحب کو لگا فوج نے ان کی حکومت نہ بچا کر ان سے غداری کی۔ کیونکہ بارہ سالہ فوجی حمایت کے بعد وہ خود کو حکمرانی کے قابل پاکستان کی اکلوتی شخصیت سمجھنے لگ گئے تھے۔ حکومت سے نکلنے کے بعد انھوں نے فوج پر دباؤ بڑھانا شروع کر دیا کہ انھیں پھر سے گود لیا جائے۔ لیکن اس دفعہ فوج خان کے ہاتھوں ڈسی جا چکی تھی اس لیے انھوں نے مزید ساتھ دینے سے معذرت کرلی۔
یہی رنج تھا جس نے خان صاحب کو شدید غصیلا بنا دیا وہ سمجھنے لگے جس طرح نواز شریف نے اعلیٰ قیادت پر تنقید کرکے انھیں نیوٹرل ہونے پر مجبور کر دیا تھا وہ بھی ایسا کر سکتے ہیں۔ چونکہ خان صاحب فطرتاً جمہوری شخصیت نہیں ہیں اس لیے انھوں محض ایک سال اپوزیشن میں بیٹھنے اور اگلے الیکشن کا انتظار کرنے کی بجائے دباؤ بڑھانے کے لیے مسلسل غیر جمہوری راستے اختیار کیے جیسے کہ صوبائی حکومتیں اور اسمبلیاں توڑ دینا۔
حالانکہ جیل سیاستدانوں کا سسرال ہوتی ہے مگر غیر جمہوری پس منظر ہونے کی وجہ سے خان صاحب نے جیل جانے سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ جب بالا آخر انھیں کرپشن کیس میں نیب نے گرفتار کیا تو انھوں نے مزاحمت کی کوشش کی اسی چکر میں انکے ورکرز نے فوجی تنصیبات پر توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کیا۔ خان صاحب سمجھتے تھے جس طرح وہ 2014 اور 2017 میں کارروائی سے بچ گئے تھے اس بار بھی بچ جائیں گے لیکن وہ بھول گئے تھے اس دفعہ طاقتور حلقے ان کے ساتھ نہیں ہیں۔۔۔
31/03/2023
مردم شماری کی اہمیت (Mardam Shumari k Faiday)
زیادہ تر ممالک کی طرح پاکستان میں پیدائش کا سرٹیفکیٹ، شناختی کارڈ، ڈرائیورنگ لائسنس، شادی کا سرٹیفکیٹ، اور موت کے سرٹیفکیٹ جیسے سرکاری دستاویزات نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) ایک سرکاری ادارہ ہے جو اس طرح کے ریکارڈ کو جمع کرنے اور اسے برقرار رکھنے کا ذمہ دار ہے۔
مردم شماری کیوں ضروری ہے؟ نادرہ سے ڈیٹا نہ لینے کی وجوہات
کچھ لوگ مردم شماری کی ضرورت پر سوال کرتے ہیں جب نادرا پہلے سے ہی اس طرح کے ڈیٹا کو اکٹھا کر رہا ہے۔تو مردم شماری کیوں کی جاتی ہے
26/03/2023
پاکستانی فروٹ مافیا کے بائیکاٹ کی مہم میں شامل ہوں:
ہمارا مقصد اخلاقی اور منصفانہ تجارتی طریقوں کو فروغ دینا
پیارے دوستو اور ساتھی صارفین،
ہمیں یقین ہے کہ ہم جو بھی خریداری کرتے ہیں اس میں دنیا میں تبدیلی پیدا کرنے کی طاقت ہوتی ہے۔ اپنے انتخاب کے ساتھ، ہم اخلاقی اور منصفانہ تجارتی طریقوں کی حمایت کر سکتے ہیں اور اپنے علاقوں اور اس سے باہر مثبت تبدیلی کو فروغ دے سکتے ہیں۔
boycott pakistan fruit mafia
بدقسمتی سے پاکستان فروٹ مافیا ان اقدار سے ہم آہنگ نہیں ہےاور انہوں نے پاکستان میں لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ پھلوں کےبڑے بڑے تاجروں کے اس گروپ پر غیر اخلاقی اور استحصالی طریقوں میں ملوث ہونے کا الزام بھی لگایا گیا ہے، جیسے کہ مزدوروں کو کم تنخواہ دینا اور قیمتوں کے تعین میں ملوث ہونا۔
ذمہ دار صارفین کے طور پر، ہمارے پاس بہت کچھ کرنے کی طاقت ہے۔ پاکستان فروٹ مافیا سے وابستہ مصنوعات کا بائیکاٹ کرکے ہم یہ واضح پیغام دے سکتے ہیں کہ ہم غیر اخلاقی طریقوں کی حمایت نہیں کریں گے۔ اس کے بجائے ہم مقامی، خود مختار کسانوں کی حمایت کا انتخاب کر سکتے ہیں جو منصفانہ تجارت اور پائیدار زراعت کے لیے پرعزم ہیں۔
ہم آپ سے گزارش کرتے ہیں کہ اس مہم میں ہمارا ساتھ دیں اور اپنی کمیونٹی کے دوسروں تک یہ بات پھیلائیں۔ ایک ساتھ، ہم مثبت تبدیلی کو فروغ دینے اور اخلاقی اور منصفانہ تجارتی طریقوں کی حمایت کے لیے اپنی قوت خرید کا استعمال کر سکتے ہیں۔
یہاں کچھ اقدامات ہیں جو آپ اس مہم کو سپورٹ کرنے کے لیے کر سکتے ہیں:
پاکستان فروٹ مافیا سے وابستہ مصنوعات خریدنے سے گریز کریں۔ آزاد کسانوں اور منصفانہ تجارتی تنظیموں سے متبادل مصنوعات تلاش کریں۔
اس مہم کو اپنے دوستوں اور خاندان کے ساتھ سوشل میڈیا، ای میل، یا میل جول کے ذریعے شیئر کریں۔ انہیں تحریک میں شامل ہونے اور تبدیلی لانےکی ترغیب دیں۔
اخلاقی اور منصفانہ تجارتی طریقوں کی حمایت کے لیے اپنی آواز کا استعمال کریں۔ اپنے مقامی نمائندوں سے رابطہ کریں اور ان پر زور دیں کہ وہ ان پالیسیوں کی حمایت کریں جو محنت کے انصاف پسند طریقوں اور پائیداری کو فروغ دیتی ہیں۔
https://www.kisanspot.com/2023/03/boycott-pakistan-fruit-mafia.html
25/03/2023
پاکستان میں گھروں میں لگاۓ جانے والے درخت
پاکستان متنوع نباتات اور حیوانات کا گھر ہے، پنجاب ملک کا سب سے زیادہ آبادی والا صوبہ ہے۔ اس خطے کو مختلف ماحولیاتی چیلنجوں کا سامنا ہے جیسے جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی، اور مٹی کا کٹاؤ، جس کی وجہ سے ایسے درخت لگانا ضروری ہو جاتا ہے جو خطے کے لیے اچھی طرح سے مطابقت رکھتے ہوں اور اس کی تخلیق نو میں حصہ ڈال سکیں۔
کونسے درخت ماحول دوست ہیں | Best Trees For Environment
کونسے درخت ماحول دوست ہیں | Best Trees For Environment نیم آم شہتوت املی برگد امرود Peepal جامن لیموں شیشم بیر بیکین کچنار جامن ماحول دوست درخت ہیں
28/01/2023
Core problem with our Economy is that We have been highly Aid and loan dependant country
پاکستانی معیشت کا سب سے بڑا مسلہ یہ ہے کہ سنتالیس سے پاکستان کی معیشت کا تمام تر انحصار اور دارومدار امریکہ کی طرف سے ملنے والی امداد پر قائم ہے۔ جب یہاں فوجی ڈکٹیٹروں کا قبضہ ہوتا ہے امریکہ کی خدمت کی وجہ سے وہ ڈالرز کی بارش شروع کر دیتے ہیں ہمارے بھولے بھالے لوگ اسے ترقی کہتے ہیں جیسے ہی کوئی نیم جمہوری حکومت آتی ہے یا یوں کہئے امریکہ کو ہمارے میں دلچسپی نہیں رہتی (جبکہ اس دفعہ 2015 میں سی پیک شروع کرنا پاکستان کا جرم تھا) تو ڈالرز آنے بند ہو جاتے ہیں اسے ہم معیشت کا تباہ ہونا کہتے ہیں۔۔۔وقاص صارم
27/01/2023
نئے سیاسی نظام کے خدوخال
صوبائی خودمختاری، نئے صوبوں کے قیام اور لسانی و شناختی تشریحات کا مسلہ حل کرنے کی فوری ضرورت ہے اس مقصد کے لیے ریاست کو ذمےداری ادا کرنی ہوگی ریاستی رضامندی اور سرپرستی کے بغیر نہ تو ہماری مادری زبانوں کو ان کا جائز مقام مل سکتا ہے نہ ہمارے صوبائی حقوق اور نہ ہی ہماری رہتل اور زبان محفوظ ہو سکتی ہے۔ یہ سب تبھی ممکن ہو گا جب یہ سب ریاستی سرپرستی میں ہوگا۔ اسی لیے میرا ماننا ہے کہ ہم سب قوموں کو اپنے اپنے لسانی، ثقافتی اور معاشی و معاشرتی حقوق کی سلبی کے خلاف ایک بھرپور جدوجہد شروع کرنی ہوگی اس کے بغیر یہ ریاست اسی گھسے پٹے دوقمیائی بیانیے میں الجھی ہوئی ہمارے حقوق اداکرنے سے گریزاں رہے گی۔
اس مسلے کا میرے خیال میں پائیدار حل وہی ہے جو 23 مارچ 1940 کی قرارداد لاہور میں پیش کیا گیا تھا یعنی صوبائی خودمختاری پر مبنی وفاقی ریاست یا ریاستیں۔ سناج میں موجود نطریاتی سیاست کی کمی کے باعث لوگوں نے نئی شناختی بنیادیں بنانے میں خود کو کو الجھا دیا ہے۔ ریاستی پالیسی لوگوں کو صرف مذہبی بنانے اور مزہبی بحثوں میں الجھائے رکھنا ہے تاکہ وہ اپنے سماجی و معاشی حقوق سے نظریں بچائے رکھیں اور ریاست کے ظلم و نا انصاف نظام کے خلاف بات نہ کریں۔
اسی لیے اس مسلے کے حل کے لیے وسیع تر قومی مفاہمت اور معہدے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں میری تجویز یہ ہے کہ پاکستان کو 23 مارچ کی قرارداد کی روشنی میں ایک وفاق بنایا جائے۔ موجودہ چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان کو پانچ نیم خودمختار اکائیوں میں تقسیم کیا جائے جنھیں Republics یا جمہوریہ یا دیس کہا جا سکتا ہے۔ ہر ریپبلک کو اختیار دیا جائے وہ اپنی انتظامی، لسانی یا جغرافیائی بنیاد پر اپنے اندر ایک یا ایک سے زائد صوبے بنا سکیں۔ وفاق کے پاس صرف، دفاع، خارجہ ،مالیات، پاپولیشن کنٹرول، شماریات، اور انکم ٹیکس و کسٹمز و ڈیوٹی کی وصولی کے اختیارات ہوں باقی تمام Revenues ریپبلکس کے حوالے کردیے جائیں۔ ہر ریپبلک کی قانون ساز اسمبلی دو ایوانوں پر مشتمل ہو۔ ایوان زیریں ریپبلک کے انتظامی سربراہ وزیر اعظم کا انتخاب کرے۔ ہر ریپبلک کی ایک یا ایک سے زائد سرکاری زبانیں ہوں۔ آٹھویں جماعت تک تعلیم ہر ریپبلک کی اپنی یعنی ہر ضلعے اور صوبے کی مقامی زبان/ لہجے میں ہوگی۔ نویں سے ذریعہ تعلیم انگریزی ہو جائے۔ بارھویں تک ریپبلک کی زبان بطور لازمی مضمون پڑھائی جائے۔
ہر ریپبلک کو اپنا جھنڈا، ترانا اور قومی نشان بنانے کی اجازت ہو۔ ریپبلک اپنے اختیارات نیچلی سطح تک منتقل کرے۔ پرائمری تک تعلیم، تحصیل سطح تک کی مقامی حکومت، ہسپتال سڑکیں ، زراعت اور کچھ دیگر محکمے صوبوں کے پاس ہوں باقی یا تو ریپبلکس کے پاس یا صوبوں اور ریپبلکس کے درمیان مشترکہ ہوں۔
ہر ریپبلک میں بہترین طاقتور مقامی حکومتوں کا نظام بنایا جائے ۔ اپنے ماضی سے تعلق جوڑنے کے لیے ہر گاوں، یونین کونسل تحصیل اور ضلعی سطح کی پنچائیتیں بنائی جائیں۔ جن کے اراکین اور سربراہ (ناظم یا میئر یا پردھان) کا انتخاب براہ راست عوام کے ووٹوں سے ہو۔ ان مقامی حکومتوں کو تمام بلدیاتی انتظامیہ حوالے کی جائے اور مالی خودمختاری اور انتظامی اختیارات دیے جائیں۔ ہر ضلعے میں ایک فری انڈسٹریل اسٹیٹ بنائی جائے جہاں ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے اور انویسٹر کو ہر طرح کی سہولیات دی جائیں۔ ہر ریپبلک کو اپنی ریلوے، انرجی پراجیکٹس، بجلی و گیس کی تقسیم ،ٹرانسمشن و ڈسٹریبیوشن بنانے کی اجازت دی جائے۔ زراعی اصلاحات نافذ کی جائیں جن کے تحت زیادہ سے زیادہ زمین فی خاندان رکھنے کی اجازت 10 مربعے ہو۔ اس سے زیادہ جس خاندان کے پاس بھی زمین ہو وہ ریاست ضبط کرکے بے زمین ہاریوں، راہکوں میں تقسیم کرے۔ حکومت اپنی ملکی ضروریات کے مطابق طے کرے کہ کونسی فصل کتنی کاشت کی جائے۔ اور یہ عملدرآمد گاؤں پنچائیت کے ذریعے کروایا جائے۔
ہر گاؤں کی پنڈ پنچائیت کی مدت چھ سال ہو ہر پنڈ کا ایک سرپنچ ہو اور کم از کم 12 افراد پہ مشتمل منتخب پنچائیت ہو۔ ہر پنڈ پنچائیت کے پاس گاؤں کی سڑکوں،سیوریج، مشترکہ گاؤں ک فارم، مشترکہ کاشتکاری وغیرہ کے انتظامات ہوں۔ اسی طرح یونین کونسل کو موضع پنچائیت بنایا جا سکتا ہے جسکا سربراہ براہراست منتخب ہو اور وہ ساتھ ضلعی پنچائیت کا رکن بھی ہو جہاں وہ اپنے موضعے کے حقوق کی بات کرے۔ ہر ضلعے میں ضلعی پنچائیت بنائی جائے جسکا سربراہ ضلعی ناظم/ میئر/ پردھان کہلائے جسکا براہراست عوام انتخاب کریں۔ ضلعی پنچائیت کو زیادہ سے زیادہ اختیارات حاصل ہوں جیسے سڑکوں، پلوں، نالیوں کی تعمیر و بلدیات کے دیگر امور۔ ان تمام پنچایتوں کی مدت چار سال تک ہونی چاہیے۔۔۔
وقاص صارم
27/01/2023
دو قومی نظرئیے نے برصغیر کے مسلمانوں کو سوائے مِزری مایوسی دکھ اور معاشی و معاشرتی تباہی کے اور کچھ نہیں دیا۔ مسلمانوں کی حالت تو کیا سنورتی الٹا دو قومی نظرئیے نے ہندوستانی مسلمانوں کو تین ملکوں میں تقسیم کر کے اور بھی زیادہ لاچار کر دیا۔ ان کی ایکتا اور اتحاد ختم ہو جانے سے ایک طرف وہ بھارت کی واضح ہندو اکثریت کے ماتحت آگئے اور دوسرے دو ملکوں میں انھیں اس طبقے کے حوالے کردیا گیا جو شمالی ہندوستان کے رہنے والے مغلوں کی باقیات سے تھے۔ جنھوں نے انگریزوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرلئے تھے اور انگریزوں کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے والے تھے۔ تقسیم کے حامی یہی لوگ تھے جو اپنے صوبے یعنی اتر پردیش یوپی میں اقلیت میں تھے اور مغل عہد کے خاتمے سے پہلے یہاں کے ہندو لوگوں پر کافی زیادہ طاقت رکھتے تھے جو کہ اب صورتحال الٹ ہو چکی تھی۔ پنجاب کے لوگ کبھی بھی دو قومی نظرئیے کے حامی نہیں رہے نہ ہی مسلم لیگ میں کوئی قابل ذکر بڑا پنجابی رہنما تھا جو دو قومی نظریے کا بھی کھلا پرچارک ہو۔ پنجاب پر تقسیم مسلط کی گئی تھی۔ پنجاب کے لوگوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق ہی نہیں دیا گیا تھا سنتالیس میں مسلم لیگ اور انگریزوں نے بدترین ہارس ٹریڈنگ کرکے یہاں کی یونینسٹ کانگریس اتحادی حکومت گرائی گئی جب پنجاب میں فسادات پھوٹے تو حکومت نہ ہونے کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان ہوا۔ پاکستان کا بالعموم اور پنجاب کے لوگوں کے لیے بالخصوص دوقومی نظریے کو ترک کردینے میں ہی بھلائی ہے پنجاب میں ہندو مسلم سکھ صدیوں سے دیہاتوں میں اکٹھے رہتے کھیتی باڑی کرتے اکٹھے ثقافتی میلوں ٹھیلوں اور تہواروں میں شرکت کرتے چلے آئے ہیں ہزار سالہ تاریخ میں پنجاب میں ایک بھی ہندو مسلم سکھ فرقہ ورانہ کلیش کا واقعہ تاریخ میں نہیں ملے گا۔ مگر افسوس پنجاب دشمن دوقومی نظریے کو سب سے زیادہ پذیرائی بھی پنجاب میں ملی۔ فسادات کے بعد ریاست نے دوقومی نظریے کو جوز فراہم کرنے کے لیے فسادات کو ایک جواز بنا کر پیش کیا جو کہ سیاسی چالوں سے ناواقف سیدے سادھے دیہاتی پنجابیوں نے اپنی کم علمی کے باعث تسلیم کر لیا۔
وقاص صارم
27/12/2022
پنجاب دا گیت
ہسدا وسدا روے سدا میرا سوهنا ديس پنجاب
جُگ جُگ وگن ستلج جهلم راوي بياس چناب
سندھو ما دی سِگ اُتوں میں سو سو واری جاواں
سُکے ہوۓ ہاکڑ نوں ویداں چوں لبھ کے لیاواں
سرسوں دے پُھلاں ہاسا پایا وچ ایدے کھلیان
سارے جگ توں وکھو وکھری میرے دیس دی شان
میرے پُرکھاں ایس دھرتی دی صدیاں راکھی کیتی
ستلج ناں ٹپڻ چور لٹیرے لہو ناں سرحد سیتی
مِٹھڑی بولی لیہندے دی میڈے دیس پنجاب دا ماڻ
اُچے پربت راکھے اتروں، دَکھنوں چولستان
چاندی چمکے بوٹیاں اتے وچ تیرے کھليان
امباں دی خوشبو پاگل کرکے کھچے دل ملتان
آپس وچ بھڑوا کے تینوں ورتیا سب سلطاناں
انکھ دا گُھن مکا کے تینوں دیندے رئے فرماناں
ہُن پا لے کھسہ، چاءلا کَسّی، پَگ دا لاواں مار
اوپر بوٹی دی ہو گئی وچ تیرے کھتاں دےبھرمار
گُر انکھ وفا دا سِکھ پُرکھاں کوں لمی نِند توں جاگ
کوئی ونڈدا ایویں ماں نوں جیویں توں ونڈیں پنجاب
وقاص صارم
21/12/2022
اقبال مسلمانوں کے زوال کی وجہ جہاد چھوڑ دینے کو سمجھتے تھے۔ اس کا ذمے دار وہ عام مولوی کو قرار دیتے تھے۔ مولویوں سے اقبال کی نفرت کی وجہ دو باتیں تھیں ایک انھوں نے جب نظم شکوہ لکھی تو مولویوں نے حسب روایت ان پہ کفر کا فتویٰ لگا دیا یہ گرج وہ مرتے دم تک نہیں بھولے دوسرا یہی کہ مولوی مسلمانوں کو جہاد کی تبلیغ نہیں کرتے۔ اسی لیے انھوں نے کہا تھا
کہنا ہے یہ شیخ کا کہ زمانہ قلم کا ہے
کہ دنیا میں تلوار اب رہی نہیں کارگر
دستِ مسلماں میں تیغ و تفنگ ہے کہاں
ہو بھی تو دل ہیں موت کی لذت سے بے خبر
انکا مرد مومن جو خودی کے جذبات سے لبریز ہوتا ہے وہ دراصل ایک مجاہد تھا۔ بے خوف، موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کافروں کو قتل کرنے والا مرد حق۔ ان کی شدید خواہش تھی کہ مسلمان پھر سے کافروں کے خلاف جہاد کرنے لگ جائیں۔ شاید اسکی وجہ وہ مایوسی تھی جو اس زمانے میں ہر پڑھے لکھے مسلمان کو لاحق تھی یعنی یہ کہ مسلمانوں کی ایک بھی ریاست آزاد نہیں تھی بلکہ سبھی باقی ایشیا اور افریقہ کی طرح یورپ کی کالونیاں تھیں۔ وہ اسلاف کی کامیابی کو تہذیب و سیاست اور سائینس سے زیادہ جہاد و جنگ کی مرہون منت سمجھتے تھے۔ اس لیے بیسویں صدی کے عالم اسلام کے مسائل کا حل بھی ان کے نزدیک جہاد ہی تھا۔۔۔
دشت تو دشت دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے
بحر ظلمات میں دوڑا دیے گھوڑے ہم نے
یہی وجہ تھی جب غازی علم دین نامی جاہل جذباتی نوجوان نے مولانا محمد علی جوہر کی دہلی کی جامع مسجد میں کی گئی جذباتی تقریر سے متاثر ہو کر لاج پال سنگھ پبلشر کو قتل کیا تو وہ خوشی سے پھولا نہ سمائے بلکہ کہہ ڈالا "ترکھاناں دا منڈا بازی لے گیا تے اسی ویکھدے رہ گئے" اسی طرح لیبیا میں اٹلی کے خلاف جنگ میں فاطمہ نامی نوجوان لڑکی کی شجاعت کا جب انھیں علم ہوا تو اس کی تعریف میں نظم لکھ ڈالی۔
اگر آج اقبال زندہ ہوتے تو یقیناً طالبان مجاہدین کے کسی گروہ میں شامل ہوچکے ہوتے عین ممکن ہے خود کش بمبار بن کے کہیں پھٹ چکے ہوتے۔ چلیں اگر خود جہاد میں عملی حصہ نہ بھی لیتے تو ساری دنیا میں مسلم مجاہدین کے دہشتگردی کے کارناموں پر بڑے خوش ہوتے۔
ممکن ہے اسامہ یا داعش کے لیے شاعری کرتے۔ یا القاعدہ و شباب بوکو حرام وغیرہ کے سرگرم رکن ہوتے۔۔۔ ان کے نظریات نے محض پچاس ساٹھ برسوں کے اندر ہی عالم اسلام میں بے پناہ مقبولیت حاصل کرلی جس کے نتیجے میں ساری مسلم دنیا دہشتگردی کی لپیٹ میں آگئی جس کے نتیجے میں معاشی بدحالی کا شکار امہ مزید انتشار و زبوں حالی کی دلدل میں دھنستی چلی گئی۔ مغرب نے مسلمانوں کو دہشتگرد قرار دیکر باقی دنیا سے بہت حد تک الگ تھلگ کر دیا۔ اقبال کے شاہینوں نے اسے مغرب کی اسلام دشمنی سے تعبیر کرکے جہادی کارروائیاں مزید تیز کردیں۔ یوں اقبال کے فلسفہ جہاد نے مسلمانوں کو اسلاف کی عظمت سے تو بہت دور مگر ذلت و رسوائی میں مزید دھکیل دیا۔۔۔۔
وقاص صارم