آیت اللہ مرعشی نجفی فرماتے ہیں : ایک رات میں نے خواب میں دیکھا میں مسجد کوفہ کے کونے میں بیٹھا ہوا ہوں اور مولا امیر المومنین علیؑ ایک جماعت کے ساتھ حاضر ہوئے حضرت نے فرمایا : ہمارے اہل بیتؑ کی مدح بیان کریں والے شاعروں کو لاوٴ عرب شاعروں کو لایا گیا پھر فرمایا : فارسی زبان کے شعر بھی لے آؤ پھر محتشم اور کئی فارسی شاعر آئے پھر فرمایا ہمارا شہریار کہاں ہے ؟ شہریار آیا حضرت نے شہریار کو مخاطب کر کے فرمایا : نظم پڑھو ! شہریار نے یہ شعر سنایا :
" علیؑ ای همای رحمت تو چه آیتی خدارا که به ما سوا فکندی همه سایه ی هما را "
" اے علیؑ اے ہمائے رحمت تو خدا کی کیسی نشانی ہے کہ تیرے ہما کے سائے نے پوری کائنات کو ڈھکا ہوا ہے "
" اگلے دن میں نے پوچھا شہریار شاعر کون ہے ؟ پتا چلا تبریز میں ایک شاعر ہے میں نے شہریار کو قم آنے کی دعوت دی "
کچھ دنوں بعد جب شہریار آیا میں نے وہی شخص دیکھا جو میں نے خواب میں دیکھا تھا میں نے پوچھا : یہ نظم آپ نے کب لکھی ؟ شہریار نے حیرانگی سے پوچھا : آپ کو کیسے پتا ؟ میں نے یہ نظم کسی کو نہیں دی اور نہ ہی کسی سے اس پر بحث کی ہے "
شہریار نے جب آیت اللہ مرعشی کا خواب سنا تو وہ پریشان ہو گیا اور جب شہریار نے نظم لکھنے کی تاریخ اور وقت بتایا تو پتہ چلا کہ خواب اسی وقت آیا تھا جب آخری بند کی تکمیل ہو رہی تھی "
آیت اللہ مرعشی نے فرمایا : یقیناٙٙ شہریار کو اس غزل کی تالیف کی ترغیب ملی جو ان عظیم موضوعات کے ساتھ ایسی غزل لکھنے پر قادر ہے بلاشبہ وہ حضرت فاطمہ زہراؑ کی اولاد میں سے بھی ہیں "
" حوالہ : مجتهدی، مهدی/ امام علی (ع) در نگاه شهریار.- مشهد:کتابخانه تخصصی امیرالمومنین علی (ع)، 1380.ص 9و10.
" محمد حسین شہریار کی غزل
علی اے ہمائے رحمت تو چہ آیتی خدا را
کہ بہ ماسوا فکندی ہمہ سایۂ ہما را
اے علیؑ اے ہمائے رحمت تو خدا کی کیسی نشانی ہے کہ تیرے ہما کے سائے نے پوری کائنات کو ڈھکا ہوا ہے
دل اگر خدا شناسی ہمہ در رخِ علی بیں
بہ علی شناختم من بہ خدا قسم خدا را
اے دل اگر تو خدا شناس ہے تو ہر چیز کا رخِ علیؑ میں مشاہدہ کر کیونکہ خدا کی قسم میں نے خدا کو بھی علیؑ سے ہی پہچانا ہے
بہ خدا کہ در دو عالم اثر از فنا نمانَد
چو علی گرفتہ باشد سرچشمۂ بقا را
خدا کی قسم ! اگر علیؑ سرچشمۂ بقا کو ہاتھوں میں تھام لے تو دونوں جہانوں میں فنا کا ذرہ بھی باقی نہ رہے
مگر اے سحابِ رحمت تو بباری ارنہ دوزخ
بہ شرارِ قہر سوزد ہمہ جانِ ماسوا را
اے سحاب رحمت ! امید ہے کہ تو اپنی رحمت کو ہم پر برساتا رہے گا کیونکہ اگر تو نے ایسا نہ کیا تو دوزخ اپنے قہر کی چنگاری سے ماسوا کو جلا کر خاکستر کر دے گی
برو اے گدائے مسکیں درِ خانۂ علی زن
کہ نگینِ پادشاہی دہد از کرم گدا را
اے گدائے مسکیں ! جاؤ اور علیؑ کا گھر کا دروازہ کھٹکٹاؤ کیونکہ وہ اپنے کرم سے گدا کو بادشاہی انگوٹھی سونپ دیتا ہے یہاں شاید اس روایت کی طرف تلمیح ہے جس میں حضرت علیؑ نے رکوع کے بیچ اپنی انگوٹھی اتار کر سائل کو سونپ دی تھی
بجز از علی کہ گوید بہ پسر کہ قاتلِ من
چو اسیرِ تست اکنوں، بہ اسیر کن مدارا
اس عالم میں علیؑ کے سوا ایسا کون گزرا ہے کہ جو اپنے بیٹے کو یہ کہے کہ چونکہ میرا قاتل اب تمہارا اسیر ہے اُس سے نیک برتاؤ کرو حضرت علیؑ نے امام حسن کو اپنے آخری وقت وصیتؑ کی تھی کہ ابنِ ملجم کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے
بجز از علی کہ آرد پسرے ابوالعجائب
کہ عَلَم کند بہ عالم شہدائے کربلا را
علیؑ کے علاوہ کس نے ایسا بیٹا جنا ہے کہ جو دنیا کے سامنے شہدائے کربلا جیسوں کا نام درخشاں کرے ؟
چو بہ دوست عہد بندد زِ میانِ پاکبازاں
چو علی کہ می تواند کہ بسر بُرَد وفا را
جملہ پاکبازوں میں ایسا کون علیؑ کی طرح ہے کہ جب اپنے دوست سے وہ عہد باندھے تو اُس کو انتہا تک لے جا کر وفا کرے ؟ یہ شبِ ہجرت کی طرف تلمیح ہے جب رسول اللہؐ نے حضرت علیؑ کو اپنے بستر پر سونے کا حکم دیا تھا بہ سر بُردن کا محاورتاً مطلب تو وعدہ پورا کرنا انتہا تک لے جانا ہے لیکن اس کے لفظی مطلب یعنی سر تک لے جانا سے بھی ایک لطیف اشارہ ملتا ہے کیونکہ حضرت علیؑ کو ابنِ ملجم نے پیشانی پر ضرب ماری تھی
نہ خدا توانمش خواند، نہ بشر توانمش گفت
متحیرم چہ نامم شہِ ملکِ لافتیٰ را
نہ انہیں خدا پکار سکتا ہوں نہ ہی بشر کہہ سکتا ہوں میں حیراں ہوں کہ پھر میں ملکِ لافتیٰ کے بادشاہ حضرت علیؑ کو کیا نام دوں ؟
بدو چشمِ خوں فشانم، ہلہ اے نسیمِ رحمت
کہ زِ کوئے او غبارے بہ من آر توتیا را
ہاں اے نسیم رحمت میری دو خوں فشاں آنکھوں کی جانب توجہ کرو اور اُس کی گلی کی خاک سے میری اِن آنکھوں کے لیے بھی سرما لے آؤ
بہ امیدِ آں کہ شاید برسد بہ خاکِ پایت
چہ پیامہا سپردم ہمہ سوزِ دل صبا را
میں نے کتنے ہی اپنے جلتے دل سے کہے پیغامات صرف اس امید پر صبا کے سپرد کر دیے ہیں کہ شاید وہ کسی روز آپ کے قدموں کی خاک پر پہنچ کر پذیرائی کا شرف پا جائیں
چو توئی قضاے گرداں، بہ دعائے مستمنداں
کہ زِ جانِ ما بگرداں رہِ آفتِ قضا را
اے علیؑ چونکہ تو ہی قضا کو پلٹانے والا ہے اس لیے تجھے دردمندوں کی دعا کا واسطہ دیتا ہوں کہ میری جان پر سے بھی قضا کی آفت کو پلٹا دے
چہ زنم چو نائے ہر دم زِ نوائے شوقِ او دم
کہ لسانِ غیب خوشتر بنوازد ایں نوا را
میں ہر وقت بجنے والی بانسری کی طرح کیسے اُس کے اشتیاق میں حرف زنی کروں؟ کہ لسان الغیب حافظ شیرازی اس نغمہ سرائی میں مجھے سے بڑھ کر قادر ہے یعنی اس طرح کے مطالب کی حافظ شیرازی زیادہ بہتر ادائیگی کر سکتے ہیں
"ہمہ شب در ایں امیدم کہ نسیمِ صبحگاہی
بہ پیامِ آشناے بنوازد آشنا را "
میں پوری رات اسی امید میں گزارتا ہوں کہ شاید صبح کی ہوا مجھ آشنا شاعر کو محبوب حضرت علیؑ کے پیام سے نواز دے یہ شعر حافظ شیرازی کا ہے
زِ نوائے مرغِ یا حق بشنو کہ در دلِ شب
غمِ دل بہ دوست گفتن چہ خوشست شہریارا
اے شہریار ! خدا کا ذکر کرنے والے مرغ کی نوا سنو اور توجہ کرو کہ محبوبِ ازلی کو رات کی تاریکی میں غمِ دل سنانا کتنا مسرور کن ہوتا ہے.
DiL-e-Nadaan
سرِراہ حال پوچھنے والو
حال دل اتنا مختصر بھی نہیں
عشق سے عقل کا فُقدان خریدا ہم نے
وو بھی علی الاعلان خریدا ہم نے
ہم نے پتھر بھی خریدا تو وہ آئینہ تھا
کبھی یاقوت نا مرجان خریدا ہم نے
کتنے لمحات کو اپنے لئے دشوار کیا
تب کوئی لمحہء آسان خریدا ہم نے
منتخب اپنے کے لئے ہم نے کیا خود کو
خود ہی یہ چاک غریبان خریدا ہم نے
کیا ستم ہے ہمیں جس کی ضرورت بھی نہ تھی
بچ کر خود کو وہ سامان خریدا ہم نے
بھولنے کے لئے وہ ساعتِ پیمانِ الست
وقت سے اک نیا پیمان خریدا ہم نے
بند ہونے کو دوکاں ہے تو خیال آیا ہے
فائدہ چھوڑ کے نقصان خریدا ہم نے
فیس بھرنے کو جیب میں پیسے بھی نہ تھے
جن دنوں "میر " کا دیوان خریدا ہم نے
اجمل سراج
30/12/2024
یہ محلوں یہ تختوں یہ تاجوں کی دنیا
یہ انساں کے دشمن سماجوں کی دنیا
یہ دولت کے بھوکے رواجوں کی دنیا
یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
ہر اِک جسم گھائل ہر اِک روح پیاسی
نگاہوں میں اُلجھن دلوں میں اداسی
یہ دنیا ہے یا عالمِ بد حواسی
یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
یہاں اِک کھلونا ہے انساں کی ہستی
یہ بستی ہے مردہ پرستوں کی بستی
یہاں پر تو ہے جیون سے موت سستی
یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
جوانی بھٹکتی ہے بدکار بن کر
جواں جسم سجتے ہیں بازار بن کر
یہاں پیار ہوتا ہے بیوپار بن کر
یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
یہ دنیا جہاں آدمی کچھ نہیں ہے
وفا کچھ نہیں دوستی کچھ نہیں ہے
جہاں پیار کی قدر ہی کچھ نہیں ہے
یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
جلا دو اِسے پھونک ڈالو یہ دنیا
میرے سامنے سے ہٹا لو یہ دنیا
تمھاری ہے تم ہی سنبھالو یہ دنیا
یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
ساحر لدھیانوی
21/10/2024
تکلیف کی آخری حد
چیخنا چلانا یا ہارٹ اٹیک نہیں ہے آخری حد وہ ہے جہاں خاموش ہو جائیں جہاں جیتے جی مر جائیں خواہشوں کو خوابوں کو دل کے قبرستان میں دفنا دیں جہاں بس تھک جائیں بیزار ہو جائیں ہر انسان سے لا تعلقی اختیار کر لیں یہ تکلیف کی وہ حد ہے جسے بس ہم جانتے ہیں کہ سامنے سے خاموش اپنے اندر ہم کتنی جنگیں اکیلے لڑ رہے ہوتے ہیں... 👣
12/06/2024
دشمنی پالنے والے بہتر زندگی جینے سے محروم رہتے ہیں.
دشمنی انسان کا سکون چھین لیتی ھے.
شوق سے بندوق اٹھانے والو جب یہ پکا کندھوں کا بوجھ بن جاتی ہے گلے پڑ جاتی ھے پھر انسان بھاگتا ھے یہ بوجھ برداشت نہیں ہوتا پھر قسمت والے ہی اس سے بچتے پاتے ہیں.
یا جان لے کر یا جان دے کر ہی بندوق ساتھ چھوڑتی ہے.
یہ دکھ کسی دشمنی والے سے پوچھیں ۔
بات بات پہ پستول تان لینے والے چھوٹی باتوں کو بڑھاوا دینے والے زندگی کی قیمت قبرستان والوں اور آزادی کی قیمت جیل والوں سے پوچھو
کیسے دن رات جیل کی سلاخیں دیکھ دیکھ کر مسلسل موت میں اک عمر گزاری جاتی ہے.
زندگی جینے کا نام ہے. اسے جینے کے لیے لوہے کے ہتھیار نہیں پیار و محبت کے ہتھیاروں کی ضرورت ہے.
محبتیں بانٹو، نفرتیں تو پہلے ھی بہت زیادہ ہیں.
اس عید پر صرف جانور کی قربانی نہیں بلکہ
عید پر اپنی ضد, انا, حسد اور بدگمانی کو بھی قربان کیجیئے دل صاف کریں تاکہ قربانیاں قبول ہوجائیں.
دعاگو
شکریہ💞
11/06/2024
کچھ لوگ سوال کرتے ہیں کہ کربلا میں اگر ظلم ہو رہا تھا تو مسلمان کیسے خاموش رہ سکتے تھے...؟
آج غزہ چیخ چیخ کے کہہ رہا ہے ظلم ہو رہا لیکن مسلمان آج بھی ویسے ہی خاموش تماشائی بنے ہوئے.
کربلا میں کچھ کوفی( 20-35) کچھ عیسائی (وہب کلبی.. ) امام کی نصرت کو نکلے تھے.
آج غزہ میں کچھ عجمی (ایران، لبنان، یمن..) اور کچھ عیسائی ممالک عزہ کے مظلوموں کی حمایت میں سامنے ہیں.
باقی خادمین حرمین و اسلام کے نام نہاد قلعے تب بھی خاموش تھے آج بھی خاموش ہیں.
کربلا ایک ایسی درس گاہ ہے جو امت کو قیامت تک یہ پیغام دیتی رہے گی کہ ظالم کے مددگار نہ بنو اور مظلوموں کی حمایت سے پیچھے نہ ہٹو.
💐
22/02/2024
تُم میرے لیے وُہی "یُسر ہو ،
جس کے بارے میں رب فرماتے ہیں،،
( إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا )
( بیشک ہر مشکل کے بعد آسانی ہے )
ہاں تم "يُسر" ہی تو ہو،
آسانی...!!
سكون...!!
دُکھوں کی گہری کھائی سے نِکل کر مِل جانے والی راحت...
Hi everyone! 🌟 You can support me by sending Stars - they help me earn money to keep making content you love.
Whenever you see the Stars icon, you can send me Stars!
13/02/2024
سسکیاں (نظم)
وہ ساری باتیں ،
جو روح کے بے قرار حصوں میں پھر رہی ہیں،
غبار بن کر،
شعور تک لاشعور سے آتی جا رہی ہیں،
نسوں میں جاری لہو کو پانی بنا رہی ہیں ،
ہمارے دل کو دکھا رہی ہیں،
وہ ساری باتیں کسے سناؤں،
کوئی نہیں ہے،
جو میرے دل کی پکار سن لے،
مری اذیت کو مُکت کردے،
اداس طاقوں میں،
ٹمٹماتے ہوئے چراغوں میں نور بھر دے،
ابھی تو میں نے
تمام سسکاریاں وضاحت سے کھولنی تھیں،
تمام زخموں میں،
نرم ہمدردیاں کھل کے گھولنی تھیں،
ہزاروں باتیں جو بولنی تھیں !
کوئی سماعت مرے لیے فرصتیں نکالے،
کوئی مری سسکیوں کو سن لے،
میں اب اکیلا کھڑا ہوا ہوں،
اک ایک کر کے تمام ہمدرد جا چکے ہیں،
ستم تو یہ ہے،
کہ تُو بھی آخر چلا گیا ہے !!!!
--عبدالرحمان واصف
01/02/2024
امرتا پریتم کا “آخری خط ” جو اس نے اپنے محبوب ساحر لدھیانوی کو اس کے مرنے کے بعد لکھا تھا
امرتا کا یہ خط ایک ادبی معراج ہے ،جہاں نصیب والے ہی پہنچتے ہیں
” میرے محبوب ویسے تو جب بھی کوئی نغمہ لکھنے لگتی ہوں ، مجھے محسوس ہوتا ہے میں تم کو خط لکھنے لگی ہوں لوک گیتوں کی گوری کبھی کوؤں کو قاصد بناتی ہے، اور کبھی کبوتروں کے پیروں میں پیغام لپیٹ دیتی ہے ۔پرانے وقت اب گزر گئے ، جب کوئی برہن
سر کے پراندے سے دگاگہ توڑتی تھی اور کسی جاتے راہ گیر کے پلو سے باندھ دیتی تھی ۔
وہ لوگ خوش قسمت ہوتے ہیں جو کسی چٹھی رساں کے قدموں کے سراغ لیتے ہیں ۔مگر جب ۔۔ کسی کو خط ڈالنا ممکن نہ ہو تو اس وقت صرف ہوایئں ہی رہ جاتی ہیں جن کے پلو میں کوئی پیغام باندھ دیں ۔۔ کوئی میگھ جیسے کالی داس کا نامہ بر بن گیا تھا ، میرا ہر نغمہ میرا ایک خط بن گیا ہے ۔۔”
“مجھے یاد پے جب میں نے پہلے تمہیں لکھا تھا ، ایک بیگانہ گاؤں تھا اور میں سوچنے لگی تھی کہ گاؤں بیگانہ ہے مگر تم کیوں بیگانے نہیں ”
ایک دن میرے گھر کی دہلیز کو تمہارے قدموں نے چھوا ۔۔ میں نے تمہاری آواز سنی تو مجھے محسوس ہوا ،، جس ہوا میں تمہاری سانس ملی ہے اس میں ایک مہک آ نے لگی ہے
ایک دن تم آئے ، تمہارے ہاتھ میں کاغذ تھا ، میں نے کہا پڑھ کر سناؤ گے ؟ اور تم نے اپنا نغمہ پڑھ کر سنایا۔۔ مجھے محسوس ہوا کہ تمھاری آواز جیسی میں نے کبھی آواز نہیں سنی ۔۔ تمہارے نغمے جیسا میں نے نغمہ نہیں سنا ۔۔
” میں پھر آ ؤنگا ” یہ زندگی میں تم نے پہلا قول دیا تھا ۔۔
مجھے زندگی میں تمہارا پہلا خط ملا ” میں تیس تاریخ کو آؤنگا ۔۔ مجھے لگا جیسے میرے انتظار میں تمہاری ایک ہی سطر نے رنگ بھر دئے ”
پھر کبھی تمہارا خط نہیں آیا ۔۔
میرے محبوب میں آج تمہیں آخری خط لکھ رہی ہوں ۔۔ اس کے بعد کبھی نہیں لکھونگی ۔۔ اور جب تم میرے جنگلی گیتوں کو پڑھو گے تو یہ نہ سوچنا کہ میں تمہیں خط لکھنا بھول گئی ہوں ۔۔ میں ان ہاتھوں سے صرف جنگلی گیت لکھونگی اور ایک نئی صبح کا انتظار کرونگی جو سیاہ نظام کو بدل دے ۔۔دنیا کے اس نظام کو بدل دے جو شکاریوں اور لیٹروں کو پیدا کرتا ہے اور اگر میری زندگی میں وہ نئی روشن صبح آئی تو میں تمہیں اپنے پیار کا سنہری خط لکھونگی ۔۔ !
(آج جب ساحر دنیا میں نہیں اور " تلخیاں کا ایک نیا ایڈیشن چھپ رہا ہے تو اسکے پبلشر نے چاہا کہ اس کا دیباچہ لکھ دوں۔ نظموں کے بارے میں کچھ نہیں کہونگی کہ ساحر کی شاعری کا مقام لوگوں کی روح اور تاریخ کی رگوں کا حصہ بن چکا ہے۔ مجھ پر ساحر کا قرض تھا ۔ اس دن سے جب اس نے اپنے مجموعہ کلام پر دیباچہ لکھنے کو کہا اور مجھ سے لکھا نہیں گیا۔ آج وہی قرض اتار رہی ہوں ۔ اس کے جانے کے بعد ، دیر ہوگئی ،
خدایا بہت دیر ہوگئی ”
(امرتا پریتم)
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Website
Address
Lahore
966
