12/10/2023
Sham-e-Sukhan 🥀
at
COMSATS University Lahore
Sham-e-Sukhan | Ali Zaryoon | Azhar Firagh | COMSATS Uni. Lahore | 12 Oct 2023
annual event organised by COMSATS Literary Society Poets include: Ali ZaryoonAzhar FiraghAhmed HammadArslan AbbasAman Shehzadi Tajdeed Qaiser tags : ...
15/07/2023
ترے بغیر بجھا جا رہا ہوں اندر سے
جو ٹھیک ٹھاک ہوں باہر سے تو یہ عادت ہے
ترے بغیر کوئی کیسے زندہ رہتا ہے
مگر میں ہوں کہ یہی عشق کی روایت ہے
ذیشان ساحل
07/07/2023
کوئی رکتا ہی نہیں اس کی تسلی کے لیے
دیکھتا رہتا ہے دل ہر اجنبی مہمان کو
اب تو یہ شاید کسی بھی کام آ سکتا نہیں
آپ ہی لے جائیے میرے دل نادان کو
ذیشان ساحل
21/06/2023
تیری رنجش کی انتہا معلوم
حسرتوں کا مری شمار نہیں
فیض زندہ رہیں وہ ہیں تو سہی
کیا ہوا گر وفا شعار نہیں
فیض
20/06/2023
آنکھوں میں نمی سی ہے چپ چپ سے وہ بیٹھے ہیں
نازک سی نگاہوں میں نازک سا فسانا ہے
یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے
مجھ کو اسی دھن میں ہے ہر لحظہ بسر کرنا
اب آئے وہ اب آئے لازم انہیں آنا ہے
جگرؔ مراد آبادی
19/06/2023
ہو چکا عشق، اب ہوش ہی سہی
کیا کریں فرض ہے ادائے نماز
فیض
18/06/2023
مجھ سے پہلے تجھے جس شخص نے چاہا اس نے
شاید اب بھی ترا غم دل سے لگا رکھا ہو
ایک بے نام سی امید پہ اب بھی شاید
اپنے خوابوں کے جزیروں کو سجا رکھا ہو
میں نے مانا کہ وہ بیگانۂ پیمان وفا
کھو چکا ہے جو کسی اور کی رعنائی میں
شاید اب لوٹ کے آئے نہ تری محفل میں
اور کوئی دکھ نہ رلائے تجھے تنہائی میں
میں نے مانا کہ شب و روز کے ہنگاموں میں
وقت ہر غم کو بھلا دیتا ہے رفتہ رفتہ
چاہے امید کی شمعیں ہوں کہ یادوں کے چراغ
مستقل بعد بجھا دیتا ہے رفتہ رفتہ
پھر بھی ماضی کا خیال آتا ہے گاہے گاہے
مدتیں درد کی لو کم تو نہیں کر سکتیں
زخم بھر جائیں مگر داغ تو رہ جاتا ہے
دوریوں سے کبھی یادیں تو نہیں مر سکتیں
یہ بھی ممکن ہے کہ اک دن وہ پشیماں ہو کر
تیرے پاس آئے زمانے سے کنارا کر لے
تو کہ معصوم بھی ہے زود فراموش بھی ہے
اس کی پیماں شکنی کو بھی گوارا کر لے
اور میں جس نے تجھے اپنا مسیحا سمجھا
ایک زخم اور بھی پہلے کی طرح سہ جاؤں
جس پہ پہلے بھی کئی عہد وفا ٹوٹے ہیں
اسی دوراہے پہ چپ چاپ کھڑا رہ جاؤں
احمد فراز
17/06/2023
تغافل کے آغوش میں سو رہے ہیں
تمہارے ستم اور میری وفائیں
فیض
23/07/2022
اب گناہ و ثواب بِکتے ہیں
مان لیجے جناب بِکتے ہیں
میری آنکھوں سے آ کے لے جاؤ
ان دکانوں پہ خواب بِکتے ہیں
پہلے پہلے غَریب بِکتے تھے
اب تو عِزت مآب بِکتے ہیں
بے ضَمیروں کی راج نِیتی میں
جاہ و منصب خطاب بِکتے ہیں
شیخ،واعظ ،وزیر اور شاعر
سب یہاں پر جَناب بِکتے ہیں
دَور تھا اِنقلاب آتے تھے
آج کل انقلاب بِکتے ہیں
دِل کی باتیں حبیب جُھوٹی ہیں
دِل بھی خانہ خراب بِکتے ہیں
04/06/2022
اک عشق کا غم آفت اور اس پہ یہ دل آفت
یا غم نہ دیا ہوتا یا دل نہ دیا ہوتا
ناکام تمنا دل اس سوچ میں رہتا ہے
یوں ہوتا تو کیا ہوتا یوں ہوتا تو کیا ہوتا
امید تو بندھ جاتی تسکین تو ہو جاتی
وعدہ نہ وفا کرتے وعدہ تو کیا ہوتا
غیروں سے کہا تم نے غیروں سے سنا تم نے
کچھ ہم سے کہا ہوتا کچھ ہم سے سنا ہوتا
چراغ حسن حسرت 🥀
01/06/2022
جس کو اس فصل میں ہونا ہے برابر کا شریک
میرے احساس میں تنہائیاں کیوں بوتا ہے
یہ بھی اک رنگ ہے شاید مری محرومی کا
کوئی ہنس دے تو محبت کا گماں ہوتا ہے
غلام محمد قاصر