اردو شاعری غزل آرٹیکل

اردو شاعری غزل آرٹیکل

Share

Blog and writing page to enlighten the thoughts and ideas of followers.
#MZ

22/06/2023

........ کھڑکیاں .........

ایک گھر کی کھڑکی ہے
جس میں پڑے دو گملے دھوپ میں جل رہے ہیں
جن میں گلو کی چند بیلوں کا المیہ دفن ہے
گملوں کی سوکھی مٹی میں چیونٹیاں بِلیں نکال چکی ہیں ....

ایک ڈی ایچ کیو کی کھڑکی ہے
جس کی سلاخیں جھاڑو اٹکانے کی جگہ بن چکی ہے
اور قریب ایک بڑا نیلا ڈبہ جسکا ڈھکن ٹوٹ چکا ہے
اُس پر تحریر ہے " ہسپتال کا خطرناک کوڑا " .....

ایک کھڑکی پرانی حویلی میں بھی ہے
جس پر ایک بڑی اور وزنی چِخ ڈال دی گئی
جو ایک زمانے میں دستکاری کے فن کا شہکار تھی
اب اُس کے پیچے چھپلکیاں انڈے دیتی ہیں ...

ایک پرائیویٹ سکول کی کھڑکی ہے
جسے بناوٹ اور سجاوٹ سے مزین کیا گیا ہے
بچے اُسے بس دور سے دیکھ سکتے ہیں
مگر اُس میں سے نہیں دیکھ سکتے .....

دو بھائیوں کے گھر کی درمیانی دیوار میں بھی کھڑکی ہے
جسے اب تالا ڈال کر مستقل بند کر دیا گیا ہے
بالکل ان کے درمیان کے محبت اور پیار کی طرح
جہاں اب بدگمانیاں تالا ڈال چکی ہیں....

ہم نے ہمیشہ یہی کیا چیزوں اور انسانوں کو جنم دیا
اور پھر ان کو محرومی کے احساس میں گُھلنے کو چھوڑ دیا
ہم نے چیزوں کو اُن کے اصل استعمال کے حق سے محروم رکھا
تخلیق کار ذہن کو ڈاکٹری کی پڑھائی کرنے پر مجبور کیا....

میں سوچتی ہوں کھڑکی کی افادیت پر کتاب لکھوں
اور اُس کتاب کا نام " روشن خیالی " رکھوں
زندگی کے سب حسین نظارے بھی کھڑکی کی مرہونِ منت ہیں
تعلقات میں کھڑکی نہ رکھی جائے تو نتیجہ گھٹن اور حبس ہے

تو مجھے اختصار سے کام لینا پڑے گا
اپنے تخیل کی کھڑکی سے جھانک کر جنت کو دیکھتی ہوں
تو لگتا ہے فرشتے بھی کھڑکیوں سے جھانک کر انہیں پکارتے ہیں جنہوں نے دوسروں کو کُھل کر سانس لینے کا حق دیا
اور اس میں پہلا حق " کھڑکی " ہے .......

مرجان زاہرہ.

14/06/2023

"ڈیمینشیا"
(مرجان زاہرہ)

میں ڈھونڈنا چاہتا ہوں
میں اُسے تلاش کر کے رہوں گا
ہاں وہ صحیح کہتی ہے کہ میں نے کچھ کھو دیا ہے
جس کے کھونے سے وہ ناراض ہے, وہ جاچکی
مگر کھویا کیا تھا؟

اس کے بتانے سے لگا تھا کچھ بہت قیمتی ہے
میں ہر اُس جگہ جاؤں گا اور ڈھونڈوں گا
ہر اُس جگہ جہاں میں پچھلے دو ماہ سے گیا ہوں
چیزیں رکھی, اٹھائی, بیٹھا, لیٹا اور سویا ہوں
چیزیں رکھنے سے یاد آیا۔۔۔

ڈھونڈنے کے لیے میرا اپنا کمرہ سب سے مناسب جگہ ہے
الماریاں، کتابیں، دراز، گلدان، بیگ
پرانے اخباروں کا ڈھیر، تکیے، کپڑے، جیبیں
ہر چیز جھاڑی، جھٹکی، پھیلائی
مگر میں ناکام رہا۔۔۔

پر اُس نے کہا تھا میں نے کچھ کھو دیا
جو بہت قیمتی تھا
وہ کیا چیز تھی؟ میں نام یاد نہیں کر پا رہا
ہاں مگر، مجھے یقین ہے میں دیکھتے ہی پہچان لوں گا
تو مجھے اپنی تلاش جاری رکھنی چاہئے
اس بار میں نے گھر کا کونا کونا چھان مارا
تیسری چھت پہ لگی نیلی ٹنکی کے اندر
حبس چھوڑتے پانی تک کو جھانک کر دیکھ لیا
مگر کھوئی ہوئی چیز نہیں ملی۔۔۔

اس نے کہا تھا میں جا رہی ہوں
تا کہ تم اکیلے میں اچھی طرح سوچو
اور اُسے تلاش کرو۔۔۔
مجھے اپنی ذاتی ڈائری پڑھنی چاہیے
جس میں ہر ضروری بات درج ہے
تا کہ سراغ لگا سکوں اور ہر اس جگہ کا نام ٹوٹ کر لوں
جہاں میں نے پچھلے دو ماہ سے سفر کیا
میری گلی، بس سٹاپ، گاڑیاں، شہر تک کا رستہ
سڑک سے چل کر ہسپتال کا گیٹ, اندرونی احاطہ
ہسپتال کی دوسری منزل پر وہ کمرہ جہاں میں نے
تکلیف میں کئی دن گزارے۔۔۔

مجھے ملنے آنے والے دوست اور تیماردار رشتہ دار
میں ہر جگہ گیا اور ہر ایک سے پوچھ لیا
مجھے سخت مایوسی ہوئی
مگر وہ جھوٹ نہیں بولتی
تو میں نے کیا کھو دیا ہے پھر؟

مجھے نام یاد کرنا ہوگا, اوررر زیادہ سوچنا ہو گا
نہیں، میں تھک چکا ہوں اور میرا سر چکرا رہا ہے
میرا سارا جسم کسی پھوڑے کی طرح دُکھ رہا ہے
اور اب مجھے سکون کی اشد ضرورت ہے
اب مجھے اپنی گولیوں کی شیشی تلاشنی چاہئے
تا کہ دیر تک گہری نیند سو سکوں

میں شاید دوا کو مقدار سے زیادہ کھا چکا ہوں
میری آنکھوں کے پپوٹے بھاری ہو رہے ہیں
میں کیوں بیٹھ رہا ہوں اب مجھے لیٹ جانا چاہئے
مگر۔۔۔ آہ ہ ہ۔۔۔ یہ میری دُکھتی ہوئی ٹانگیں
اب میرے جسم کا بوجھ اٹھا کر
مجھے بیڈ تک نہیں لے جا سکتی
یہ میرے کمرے میں دوسرا شخص کون ہے ؟؟

میرے بالکل سامنے، میرا ہی لباس پہنے
میں نے آئینے میں غور سے دیکھا، مگر بول نہیں سکا
پوچھ نہیں سکا وہ کون ہے؟
میں نے جانے کیا کھو دیا۔۔۔
ہاں، ہاں مجھے اُس کا نام یاد آ رہا ہے
میرے اعصاب ڈھیلے پر رہے ہیں
اسکے کہے جملے میرے سامنے ڈوب اور ابھر رہے ہیں

ہاں، مجھے یاد آ رہا ہے
نہیں، میری آنکھوں کو بند ہونے مت دو
مجھے یاد ہے، ہاں مجھے یاد آ چکا ہے
اس نے کہا تھا وہ بہار کے آغاز پر چکر لگایا کرے گی
تاکہ اپنے ہاتھوں سے لگائے پودوں پر پھول کھلتے دیکھ سکے
پر اب وہ ایسے شخص کے ساتھ رہنے کی اذیت نہیں جھیل سکتی
جو اسے مخاطب کرتے ہوئے انجانے نام پکارے
اور اسکا نام بھول چکا ہو۔۔۔

وہ دکھ میں تھی
نجانے وہ شخص کون تھا ؟
جو اسکا نام بھی یاد نہ رکھ سکا
مگر اب اسکے لگائے ہوئے پودوں کو پانی کون دے گا ؟؟

میں نے دوا کی پوری شیشی کھا لی ہے
تا کہ میں اسکے لوٹ آنے تک سویا رہوں
سب جانتے ہیں انتظار کا کرب موت ہے
آدھی موت ہو یاں پوری موت ؟ اب کیا فرق پڑتا ہے
مگر وہ کیوں گئی ؟؟؟

او ہو، میں پھر سے بھول گیا
نہیں، مجھے سب یاد ہے، اس نے کوئی وجہ نہیں بتائی
کیا یہ میں۔۔۔ ہوں ں ں۔۔۔ جو بڑبڑا رہا ہے؟؟

نہیں یہ وہ دوسرا شخص ہے, جس نے میرے کپڑے پہن رکھے تھے
دیوار پہ یہ روشن آنکھوں والی تصویر کس عورت کی ہے
بہت دھندلی ہے۔۔۔ سب کچھ دھندلا ہے
ہاں، اس نے کچھ کہا تھا۔۔۔ کیا کہا تھا ؟؟
محبت، فکر، قدر، انتظار، تڑپ

مجھے دینے کے لیے تمہارے پاس کچھ نہیں رہا
تم نے اپنی سب سے قیمتی چیز کھو دی
تم اپنا اصل بھول چکے
تم نے خود کو کھو دیا

14/06/2023

تمام شائقین کو ایک بار پھر خوش آمدید۔۔۔ 🤝
امید کرتی ہوں تمام لوگ بخیریت و عافیت سے ہوں گے۔ بوجہ مصروفیات اور ذاتی مسائل یہ پیج شائقین کے معیار اور ذوق کو برقرار نہ رکھ سکی۔ مگر اب نئے جذبے اور ولولے سے اس پیج کی مدد سے شائقین کے ادبی ذوق کی تسکین اور اہل سخن کی پیاس بجھانے کے عمل کا آغاز کر دیا جائے گا۔
آپ شائقین کا تعاون اور جذبہ درکار ہے۔

16/12/2021

ایران کا ایک بادشاہ سردیوں کی شام جب اپنے محل میں داخل ہو رہا تھا تو ایک بوڑھے دربان کو دیکھا جو محل کے صدر دروازے پر پُرانی اور باریک وردی میں پہرہ دے رہا تھا۔
بادشاہ نے اُس کے قریب اپنی سواری کو رکوایا اور اُس ضعیف دربان سے پوچھنے لگا:
"سردی نہیں لگ رہی۔۔۔؟؟؟؟"
دربان نے جواب دیا: "بہت لگتی ہے حضور۔۔۔!!!
مگر کیا کروں، گرم وردی ہے نہیں میرے پاس، اِس لئے برداشت کرنا پڑتا ہے۔"
"میں ابھی محل کے اندر جا کر اپنا ہی کوئی گرم جوڑا بھیجتا ہوں تمہیں۔"
دربان نے خوش ہو کر بادشاہ کو فرشی سلام کہے اور بہت تشکّر کا اظہار کیا،
لیکن بادشاہ جیسے ہی گرم محل میں داخل ہوا، دربان کے ساتھ کیا ہوا وعدہ بھول گیا۔
صبح دروازے پر اُس بوڑے دربان کی اکڑی ہوئی لاش ملی اور قریب ہی مٹّی پر اُس کی یخ بستہ انگلیوں سے لکھی گئی یہ تحریر بھی:
"بادشاہ سلامت۔۔۔!!!
میں کئی سالوں سے سردیوں میں اِسی نازک وردی میں دربانی کر رہا تھا
مگر کل رات آپ کے گرم لباس کے وعدے نے میری جان نکال دی۔"
*سہارے انسان کو کھوکھلا کر دیتے ہیں اسی طرح امیدیں کمزور کر دیتی ہیں اپنی طاقت کے بل بوتے جینا شروع کیجئے، خدارا سہاروں کی بساکھیاں پھینک کر اپنی طاقت آزمائیں

28/09/2021

مرد کی سب سے بڑی بدصورتی اس کی خالی جیب ہوتی ہے ۔

ہاشم ندیم
(پری زاد )

28/09/2021

اہانتوں کے گھاؤ تھے، گذشتگاں کے داغ تھے
کبھی کے مر چکے ہیں ہم، مگر یہ واقعہ نہیں

وجود کی جڑوں میں گھر بنا لیا تھا خوف نے
ہم اُس کی نذر ہو گئے جو واقعہ ہوا نہیں

جناب شناور اسحاق

25/08/2021

جب لیٹرین نہیں ہوتی تھی ۔۔؟؟
نوٹ : نابالغ اور کچے ذہن ہرگز نہ پڑھیں۔۔!!
😄😄😄😄😄😂😂😂😂😂😂😂😀😀😀😀
جب دیہات میں لیٹرین کا رواج نہیں تھا رفع حاجت کے لیے کھیتوں کا رخ کرنا پڑتا تھا ۔عورتیں رات کو یا صبح منہ اندھیرے یہ کام کرتیں۔ مرد و خواتین کے علاقے بھی مخصوص تھے۔ ہمیں یعنی بچوں کو بھی باہر جانا پڑتا تھا۔ ان دنوں بھوت پریت اور بردہ فروشی 'عام' تھی اسلئے ہمیں دن دہاڑے اور ٹیم کی شکل میں یہ کار سرانجام دینا پڑتا۔۔
فراغت کے بعد "گھسیٹی" ماری جاتی تھی۔ اس عمل کے دوران کانٹا کنکر چبھ جانا عام بات تھی۔ بارش میں بھی بھیگتے، کانپتے، کیچڑ میں لتھڑے وہیں جانا پڑتا اور کپڑے کی ٹاکیاں بطور ٹشو پیپر استعمال ہوتیں۔ رات کو ایمرجنسی پڑ جاتی تو اکیلے ہی ڈرتے ڈرتے کھیت کو دوڑ لگ جاتی۔ جاتے ہوئے دعا مانگی جاتی کہ "یا اللہ تو ہی ہے جو خیریت (شلوار کی) سے پہنچا سکتا ہے" واپسی پر بھی یہی دعا مانگی جاتی "یا اللہ تو ہی ہے جو خیریت (جنات سے) سے پہنچا سکتا ہے"
مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ ایک لڑکا اس حالت میں پکڑا گیا کہ تربوز کے کھیت میں بیٹھا ' کام' بھی کرتا جا رہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ بڑا سا تربوز بھی کھا رہا ہے۔
گاؤں کی اکلوتی مسجد کے ساتھ تین استنجاء خانے تھے جہاں صرف 'چھوٹا' کیا جاسکتا تھا۔کبھی کبھار 'بڑی' واردات بھی ہو جاتی۔ ایک دن ایک بزرگ ظہر کی اذان کے لیے مسجد پہنچے تو دیکھا کہ تینوں استنجاء خانوں میں بڑی واردات ہو چکی ہے اور پانی بھی نہیں ڈالا گیا۔ بابا جی کا قاری حنیف ڈار صاحب والا 'تراہ' نکل گیا۔ بزرگوار نے آؤ دیکھا نہ تاؤ جھٹ سے لاؤڈ اسپیکر آن کیا اور گاؤں کا وہ تاریخ ساز اعلان کھڑکایا جو ابھی تک لفظ بہ لفظ یاد ہے۔ اعلان ٹھیٹ پنجابی میں ہے بمع ترجمہ ملاحظہ فرمائیے۔۔
" اؤے نِریا حرام دیا! تریوے خانے بوڑ گیا ایں؟؟ اؤے کھوتی دیا پُترا! کِلا ڈَکھّن ٹُر جاویں ہا پَدھ تے کوئی نائیا۔ اؤے خنزیر دیا خنزیرا! ایہہ اللہ دی مسیت اے، اللہ دا گھار اے۔ اؤے خاص حرام دیا! توں مِن لبھ گیئوں نا! تیرے کولوں ای دھواواں دا کُتیا بغیرتا! "
ترجمہ : او خالص حرام زادے! تینوں خانے بھر دیے ہیں؟؟ او گدھی کے بچے! ایکڑ جنوب کی طرف چلا جاتا کوئی سفر تو نہیں تھا۔ خنزیر کی اولاد! یہ الله کی مسجد ہے، اللہ کا گھر ہے۔ حرام زادے! اگر تمہیں ڈھونڈ لیا نا! تجھی سے صفائی کراؤں گا کُتے بےغیرت!
ان دنوں اناج چھتوں پر پھیلا کر خشک کیا جاتا تھا اس لیے چھت میں سوراخ رکھا جاتا تاکہ اچانک موسم خراب ہونے کی صورت میں اناج چھت سے براہ راست کمرے میں گرا کر محفوظ کیا جا سکے۔ وہ سوراخ کسی مٹی کے برتن سے ڈھکا رہتا۔۔
ایک لڑکے کے پڑوسی گھر کو تالے ڈال کر ڈیرے پر شفٹ ہوئے تو اس کی موج لگ گئی۔ وہ منہ اندھیرے اٹھتا، ہمسایوں کی چھت پر بذریعہ سوراخ اپنا 'کام' کرتا اور چلتا بنتا۔ ایک دن ہمسایوں کی مائی کسی وجہ سے گھر آئی تو کمرے کی حالت دیکھ کر اس کا بھی 'تراہ' نکل گیا۔ ویسے تو کمرے میں بالن ڈنڈوں سوٹوں جیسا کاٹھ کباڑ ہی پڑا تھا لیکن مائی مجرم کو رنگے ہاتھوں پکڑنا چاہتی تھی۔ مائی سیانی تھی اس نے 'مال' کی نوعیت اور تازگی سے واردات کے وقت کا اندازہ لگا لیا اور چپکے سے واپس چلی گئی کہ کہیں مجرم بدک نہ جائے۔
اگلے دن لڑکا مقررہ وقت پر ہمسایوں کی چھت پر پہنچا۔ مٹی کا برتن اٹھا کر سائیڈ پر کیا۔ جب سوراخ پر براجمان ہو کر نشانہ باندھ رہا تھا، عین اسی وقت مائی بھی نیچے سے لمبا سا بانس پکڑے 'سوراخ' کا نشانہ لے رہی تھی۔
اس کے آگے تاریخ کے پنے غائب ہیں..😂😂

بهرپور كمنٹس كا انتظار .........

05/08/2021

پاتے ہیں کچھ گلاب پہاڑوں میں پرورش
آتی ہے پتھروں سے بھی خوشبو کبھی کبھی

Want your business to be the top-listed Government Service in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

Lahore