Khanqahh Hashimia

Khanqahh Hashimia

Share

Ap akelay nahi, Ap ka Allah ap k sath hai. Apkay masail ka hal Deen e Islam ki Roshni mein.

زندگی میں پیش آنیوالی تمام تکالیف، پریشانیوں، الجھنوں، نقصانات اور دکھ درد میں نجات کا حصول صرف اللہ کی یاد ہے۔۔ اور اللہ کی یاد کا مرکز ہے خانقاہ

22/11/2025

‎زندگی میں بار بار رکاوٹیں: روحانی اور دنیاوی اسباب
‎پیر شاہ محمد قادری
‎انسان کی زندگی ہمیشہ ہموار نہیں رہتی۔ کبھی خوش حالی اور کامیابی کے دروازے کھل جاتے ہیں، تو کبھی معمولی سی بات بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے۔ اکثر لوگ شکایت کرتے ہیں کہ "ہم ہر کام میں محنت کرتے ہیں، مگر نتیجہ نہیں نکلتا۔" سوال یہ ہے کہ آخر یہ بار بار کی رکاوٹیں کیوں آتی ہیں؟ اس کے اسباب کو اگر دنیاوی اور روحانی زاویے سے سمجھا جائے تو انسان اپنے حال کو بہتر بنا سکتا ہ
‎دنیاوی اسبابِ
‎دنیاوی اعتبار سے رکاوٹوں کی ایک بڑی وجہ غلط منصوبہ بندی اور غفلت ہے۔ بہت سے لوگ بغیر مشاورت اور تدبیر کے کام شروع کر دیتے ہیں، جس کا نتیجہ ناکامی کی صورت میں نکلتا ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
‎> "وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ" (آل عمران: 159)
‎"اور ہر کام میں ان سے مشورہ کرو۔"
‎یعنی مشورہ کرنا اور عقل و تدبیر سے کام لینا کامیابی کا ذریعہ ہے۔ اسی طرح ناانصافی، دھوکہ، اور دوسروں کا حق مارنا بھی ایسے اعمال ہیں جن سے برکت اٹھ جاتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
‎ "جس نے دھوکہ دیا، وہ ہم میں سے نہیں۔" (مسلم)
‎رزق، تعلقات، یا منصوبوں میں بار بار رکاوٹ کبھی منفی رویوں کا نتیجہ بھی ہوتی ہے، جیسے حسد، غصہ، بدگمانی، یا دل آزاری۔ جب انسان اپنے اندر منفی توانائی جمع کر لیتا ہے تو وہ خود اپنے راستے بند کرتا ہے۔
‎روحانی اسباب

‎روحانی لحاظ سے دیکھا جائے تو رکاوٹوں کا ایک اہم سبب گناہوں کا تسلسل ہے۔ گناہ دل پر زنگ لگا دیتے ہیں اور خیر کے دروازے بند کر دیتے ہیں۔ قرآن میں فرمایا گیا:
‎ "کَلَّا بَلْ رَانَ عَلٰی قُلُوبِهِم مَّا كَانُوا يَكْسِبُونَ" (المطففین: 14)
‎"بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے۔"
‎اسی طرح نظرِ بد، حسد، اور جادو بھی روحانی اسباب میں شامل ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
‎ "العینُ حقٌّ" — "نظر بد حق ہے۔" (بخاری)
‎کبھی رکاوٹیں دراصل آزمائش ہوتی ہیں، جن سے بندہ مضبوط بنتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
‎"وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الأَمْوَالِ وَالأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ" (البقرہ: 155)
‎"اور ہم ضرور تمہیں آزمائیں گے خوف، بھوک، مال، جان اور پھلوں کی کمی سے۔"
‎یہ آیت واضح کرتی ہے کہ زندگی میں مشکلات صرف سزا نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کا ایک امتحان بھی ہیں۔

‎روحانی تدارک
‎جب رکاوٹیں بار بار سامنے آئیں تو سب سے پہلے اپنے باطن کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ کیا کہیں ہم نے کسی کا دل تو نہیں دکھایا؟ کیا ہمارے معاملات میں حرام یا ناپاک رزق شامل تو نہیں؟ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
‎ "جسم کا وہ ٹکڑا درست ہو جائے تو سارا جسم درست ہو جاتا ہے، اور وہ ہے دل۔" (بخاری)
‎لہٰذا سب سے پہلا علاج توبہ، استغفار، اور درود شریف کی کثرت ہے۔ استغفار دل کو نرم کرتا اور نصیب کو کھولتا ہے۔ قرآن کہتا ہے:
‎"فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا، يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًا" (نوح: 10-11)
‎"اپنے رب سے مغفرت مانگو، وہ ضرور بارشیں نازل کرے گا۔"
‎ساتھ ہی سورۂ فلق اور سورۂ ناس کی روزانہ تلاوت، سورۂ بقرہ کی تلاوت، یا کسی مجرب روحانی عمل کو اجازت کے ساتھ اختیار کرنا بھی مفید ہے۔
‎دنیاوی توازن

‎روحانی اسباب کے ساتھ ساتھ عملی اور مثبت طرزِ فکر اپنانا بھی لازم ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے:
‎ "إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ" (الرعد: 11)
‎"اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے۔"
‎اس آیت کا مفہوم ہے کہ دعا اور عمل، دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ اگر ہم دعا کے ساتھ کوشش بھی جاری رکھیں تو کامیابی یقینی ہے-
‎نتیجہ:
‎زندگی میں بار بار آنے والی رکاوٹیں صرف بدقسمتی یا اتفاق نہیں ہوتیں۔ ان کے پیچھے کہیں ہماری کوتاہیاں، کہیں روحانی اثرات، اور کہیں ربّانی آزمائش ہوتی ہے۔ علاج یہی ہے کہ انسان اپنے اعمال درست کرے، دل کو صاف رکھے، رزقِ حلال اختیار کرے، اور اپنے رب سے سچی توبہ کرے۔ جب نیت خالص اور دل مطمئن ہو جائے تو اللہ کے فضل سے تمام دروازے کھلنے لگتے ہیں۔
‎---
‎نوٹ: اگر آپ محسوس کریں کہ ہر تدبیر کے باوجود معاملات بگڑ رہے ہیں، تو کسی صاحبِ علم و باصفا بزرگ سے روحانی رہنمائی ضرور حاصل کیجیے۔
‎خانقاہ ہاشمیہ سے اس سلسلے میں راہنمائی سکتے ہیں۔
‎🔗 خانقاہ ہاشمیہ یوٹیوب چینل

08/11/2025

‎بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
‎🌿 تسخیرِ قلوب: افسران کے دلوں میں نرمی پیدا کرنے والی قرآنی آیاث
‎---
‎🌸 تمہید
‎زندگی میں بعض اوقات ایسے مواقع آتے ہیں جب کسی افسر، عہدیدار یا صاحبِ اختیار کے فیصلے پر ہمارے جائز کام کا دار و مدار ہوتا ہے۔ کبھی وہ انسان نرم دل ثابت ہوتا ہے، اور کبھی بنا سبب سخت رویہ اختیار کر لیتا ہے۔ ایسے میں بہت سے لوگ دنیاوی تدبیریں کرتے ہیں، تعلقات یا سفارشات ڈھونڈتے ہیں، مگر قرآن کریم ہمیں ایک اور دروازہ دکھاتا ہے — “دلوں کا ربّ”۔
‎دلوں پر اثر ڈالنے والا کوئی انسان نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ خود ہے جو قلوب کو پھیر دیتا ہے۔
‎اس لیے "تسخیرِ افسران" کا مطلب کسی پر غلبہ نہیں، بلکہ اللہ کے حضور یہ دعا ہے کہ:

‎ "اے رب! میرے جائز کام کے لیے ان کے دلوں میں نرمی، قبولیت اور انصاف پیدا فرما۔"
‎یہی حقیقی تسخیرِ قلوب ہے — نور، یقین اور عاجزی کے ساتھ مانگی جانے والی تسخیر۔
‎---
‎📖 قرآنی آیات برائے تسخیرِ قلوب و افسران

‎۱. سورۃ طٰہٰ – آیت ۲۵ تا ۲۸

‎> رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ (۲۵)
‎وَیَسِّرْ لِیْ أَمْرِیْ (۲۶)
‎وَاحْلُلْ عُقْدَۃً مِّن لِّسَانِیْ (۲۷)
‎یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ (۲۸)

‎ترجمہ:
‎"اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے، میرا کام میرے لیے آسان کر دے،
‎اور میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ وہ میری بات سمجھ سکیں۔"
‎📖 (سورۃ طٰہٰ 25–28)

‎🕊️ عمل:
‎جب کسی افسر یا بڑے کے سامنے پیش ہونا ہو تو یہ آیات سات مرتبہ درود شریف کے ساتھ پڑھیں۔
‎ان شاءاللہ گفتار میں نرمی، رعب اور قبولیت پیدا ہوگی۔
‎---
‎۲. سورۃ یوسف – آیت ۲۱

‎> وَکَذٰلِکَ مَکَّنَّا لِیُوسُفَ فِی الْأَرْضِ

‎ترجمہ:
‎"اور اسی طرح ہم نے یوسفؑ کو زمین میں اقتدار بخشا۔"
‎📖 (سورۃ یوسف 21)
‎🕊️ عمل:
‎روزانہ صبح و شام ۱۱ مرتبہ درود شریف کے ساتھ یہ آیت پڑھیں،
‎اور دعا کریں:

‎> "یا اللہ! جیسے تو نے یوسفؑ کو عزت و مقام دیا، ویسے ہی مجھے بھی اپنے فضل سے قبولیت عطا فرما۔"

‎یہ آیت روحانی عزت، وجاہت اور مقبولیتِ کے لیے نہایت مؤثر ہے۔
‎---
‎۳. سورۃ الزخرف – آیت ۸۴

‎ وَهُوَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ إِلَـٰهٌ وَفِي الْأَرْضِ إِلَـٰهٌ
‎ترجمہ:
‎"اور وہی ہے جو آسمان میں بھی معبود ہے اور زمین میں بھی معبود ہے۔"
‎📖 (سورۃ الزخرف 84
‎🕊️ عمل:
‎روزانہ ۳۰۰ مرتبہ یہ آیت درود شریف کے ساتھ پڑھیں،
‎اور دعا کریں:
‎"اے ربّ العالمین! تو ہی زمین و آسمان کا حاکم ہے، اپنے فضل سے میرے حق میں افسران کے دل نرم کر دے اور میرے لیے آسانی پیدا فرما۔

‎یہ آیت روحانی جلال اور تسخیرِ قلوب کے لیے خاص ہے

‎۴. سورۃ الشوریٰ – آیت ۱۹
‎ اللّٰهُ لَطِيفٌ بِعِبَادِهِ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ
‎ترجمہ:
‎"اللہ اپنے بندوں پر نہایت لطیف (مہربان) ہے، جسے چاہتا ہے رزق عطا فرماتا ہے۔"
‎📖 (سورۃ الشوریٰ 19)
‎🕊️ عمل:
‎روزانہ ۱۱۱ مرتبہ یہ آیت پڑھ کر دعا کریں:
‎> "اے لطیف و رحیم رب! اپنے لطف سے میرا معاملہ آسان فرما، اور جن کے ہاتھ میں میرا کام ہے ان کے دل میں میرے لیے نرمی پیدا کر دے۔
‎یہ آیت نرمی، برکت اور رزق کے دروازے کھولنے والی ہے۔

‎🌿 جامع طریقۂ عمل (21 دن کا وظیفہ)
‎1. باوضو ہو کر کسی پاک جگہ بیٹھیں۔

‎2. اول و آخر 11 مرتبہ درودِ ابراہیمی۔

‎3. درمیان میں یہ چاروں آیات بالترتیب تلاوت کریں۔

‎4. آخر میں درج ذیل دعا مانگیں:

‎ دعا:
‎"اے اللہ! تو ہی دلوں کو پھیرنے والا ہے، اپنے فضل سے میرے افسران کے دل میرے حق میں نرم فرما، ان کے فیصلے میرے لیے آسان بنا، اور میرے ہر جائز کام کو قبولیت عطا کر۔ مجھے عزت و دیانت کے ساتھ رزق عطا فرما۔ آمین۔"
‎پابندی سے اکیس دن تک یہ عمل جاری رکھیں۔
‎اگر مقصد جائز، نیت پاک اور دل مطمئن ہو تو اللہ دلوں کے دروازے خود کھول دیتا ہے۔
‎🌸 روحانی نوٹ:

‎یہ عمل صرف جائز مقصد کے لیے کیا جائے —
‎کسی کے حق تلفی یا دنیاوی ضد کے لیے نہیں۔
‎اللہ تعالیٰ نیتوں کو دیکھتا ہے، الفاظ کو نہیں۔

‎🔗 خانقاہ ہاشمیہ یوٹیوب چینل:
https://www.youtube.com/

01/11/2025

‎زندگی میں بار بار رکاوٹیں: روحانی اور دنیاوی اسباب
‎پیر شاہ محمد قادری
‎انسان کی زندگی ہمیشہ ہموار نہیں رہتی۔ کبھی خوش حالی اور کامیابی کے دروازے کھل جاتے ہیں، تو کبھی معمولی سی بات بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے۔ اکثر لوگ شکایت کرتے ہیں کہ "ہم ہر کام میں محنت کرتے ہیں، مگر نتیجہ نہیں نکلتا۔" سوال یہ ہے کہ آخر یہ بار بار کی رکاوٹیں کیوں آتی ہیں؟ اس کے اسباب کو اگر دنیاوی اور روحانی زاویے سے سمجھا جائے تو انسان اپنے حال کو بہتر بنا سکتا ہے

‎دنیاوی اسبابِ
‎دنیاوی اعتبار سے رکاوٹوں کی ایک بڑی وجہ غلط منصوبہ بندی اور غفلت ہے۔ بہت سے لوگ بغیر مشاورت اور تدبیر کے کام شروع کر دیتے ہیں، جس کا نتیجہ ناکامی کی صورت میں نکلتا ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

‎> "وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ" (آل عمران: 159)
‎"اور ہر کام میں ان سے مشورہ کرو۔"
‎یعنی مشورہ کرنا اور عقل و تدبیر سے کام لینا کامیابی کا ذریعہ ہے۔ اسی طرح ناانصافی، دھوکہ، اور دوسروں کا حق مارنا بھی ایسے اعمال ہیں جن سے برکت اٹھ جاتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
‎ "جس نے دھوکہ دیا، وہ ہم میں سے نہیں۔" (مسلم)

‎رزق، تعلقات، یا منصوبوں میں بار بار رکاوٹ کبھی منفی رویوں کا نتیجہ بھی ہوتی ہے، جیسے حسد، غصہ، بدگمانی، یا دل آزاری۔ جب انسان اپنے اندر منفی توانائی جمع کر لیتا ہے تو وہ خود اپنے راستے بند کرتا ہے۔
‎روحانی اسباب

‎روحانی لحاظ سے دیکھا جائے تو رکاوٹوں کا ایک اہم سبب گناہوں کا تسلسل ہے۔ گناہ دل پر زنگ لگا دیتے ہیں اور خیر کے دروازے بند کر دیتے ہیں۔ قرآن میں فرمایا گیا:
‎ "کَلَّا بَلْ رَانَ عَلٰی قُلُوبِهِم مَّا كَانُوا يَكْسِبُونَ" (المطففین: 14)
‎"بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے۔"

‎اسی طرح نظرِ بد، حسد، اور جادو بھی روحانی اسباب میں شامل ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
‎ "العینُ حقٌّ" — "نظر بد حق ہے۔" (بخاری)

‎کبھی رکاوٹیں دراصل آزمائش ہوتی ہیں، جن سے بندہ مضبوط بنتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

‎"وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الأَمْوَالِ وَالأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ" (البقرہ: 155)
‎"اور ہم ضرور تمہیں آزمائیں گے خوف، بھوک، مال، جان اور پھلوں کی کمی سے۔"
‎یہ آیت واضح کرتی ہے کہ زندگی میں مشکلات صرف سزا نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کا ایک امتحان بھی ہیں۔

‎روحانی تدارک
‎جب رکاوٹیں بار بار سامنے آئیں تو سب سے پہلے اپنے باطن کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ کیا کہیں ہم نے کسی کا دل تو نہیں دکھایا؟ کیا ہمارے معاملات میں حرام یا ناپاک رزق شامل تو نہیں؟ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

‎ "جسم کا وہ ٹکڑا درست ہو جائے تو سارا جسم درست ہو جاتا ہے، اور وہ ہے دل۔" (بخاری)

‎لہٰذا سب سے پہلا علاج توبہ، استغفار، اور درود شریف کی کثرت ہے۔ استغفار دل کو نرم کرتا اور نصیب کو کھولتا ہے۔ قرآن کہتا ہے:

‎"فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا، يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًا" (نوح: 10-11)
‎"اپنے رب سے مغفرت مانگو، وہ ضرور بارشیں نازل کرے گا۔"
‎ساتھ ہی سورۂ فلق اور سورۂ ناس کی روزانہ تلاوت، سورۂ بقرہ کی تلاوت، یا کسی مجرب روحانی عمل کو اجازت کے ساتھ اختیار کرنا بھی مفید ہے۔

‎دنیاوی توازن

‎روحانی اسباب کے ساتھ ساتھ عملی اور مثبت طرزِ فکر اپنانا بھی لازم ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے:

‎ "إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ" (الرعد:
‎"اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے۔"
‎اس آیت کا مفہوم ہے کہ دعا اور عمل، دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ اگر ہم دعا کے ساتھ کوشش بھی جاری رکھیں تو کامیابی یقینی ہے-

‎نتیجہ:
‎زندگی میں بار بار آنے والی رکاوٹیں صرف بدقسمتی یا اتفاق نہیں ہوتیں۔ ان کے پیچھے کہیں ہماری کوتاہیاں، کہیں روحانی اثرات، اور کہیں ربّانی آزمائش ہوتی ہے۔ علاج یہی ہے کہ انسان اپنے اعمال درست کرے، دل کو صاف رکھے، رزقِ حلال اختیار کرے، اور اپنے رب سے سچی توبہ کرے۔ جب نیت خالص اور دل مطمئن ہو جائے تو اللہ کے فضل سے تمام دروازے کھلنے لگتے ہیں۔
‎---
‎نوٹ: اگر آپ محسوس کریں کہ ہر تدبیر کے باوجود معاملات بگڑ رہے ہیں، تو کسی صاحبِ علم و باصفا بزرگ سے روحانی رہنمائی ضرور حاصل کیجیے۔
‎خانقاہ ہاشمیہ سے اس سلسلے میں راہنمائی سکتے ہیں۔
‎🔗 خانقاہ ہاشمیہ یوٹیوب چینل

16/10/2025

جو سرکار دو جہاں رحمت عالم کریم آقا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہِ عالیہ میں حاضری کا دل 💓 میں شوق رکھتا ہے وہ خلوصِ دل 💓 سے کمنٹ میں لکھے
آمین ثم آمین یا رب العالمین

15/10/2025

‎ پسند کی شادی
‎سماجی و معاشرتی مسائل اور طبقاتی تضادات
‎از۔ پیر شاہ محمد قادری
‎برصغیر کے معاشرتی تناظر میں "پسند کی شادی" محض ایک شخصی فیصلہ نہیں بلکہ ایک روحانی اور سماجی امتحان بن چکی ہے۔ لڑکی جب اپنی پسند کا اظہار کرتی ہے تو اکثر اسے خاندان، روایت اور معاشرتی دباؤ کے مقابل کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ اس کی خواہش کو محبت یا عقل کے بجائے "بغاوت" اور "شرمناک حرکت" سمجھ لیا جاتا ہے۔ یوں ایک فطری جذبہ، جو شریعت کے مطابق جائز اور انسانی حق کے طور پر تسلیم شدہ ہے، ہمارے معاشرتی رویّوں کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے۔
‎ہمارے سماجی نظام میں طبقاتی تضادات بھی اس مسئلے کو پیچیدہ بناتے ہیں۔ اگر لڑکی متوسط یا نچلے طبقے سے ہو اور پسند کا رشتہ کسی ایسے شخص سے ہو جو مالی یا خاندانی لحاظ سے مختلف ہو، تو خاندان فوراً "عزت" اور "برادری" کے نام پر مخالفت شروع کر دیتا ہے۔ دوسری طرف بالائی طبقے میں بھی "حسب و نسب" اور "خاندان کی ساکھ" کو بنیاد بنا کر اسی فطری حق کو روکا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ لڑکیاں اپنی پسند کو جرم سمجھنے لگتی ہیں، اور کئی بار یہ دباؤ نفسیاتی مسائل یا افسوسناک انجام کا سبب بن جاتا ہے۔
‎سماجی تضادات میں ایک اہم پہلو مذہب کے فہم کی کمی بھی ہے۔ اسلام نے نکاح کو دو بالغ افراد کی باہمی رضامندی پر مبنی عقد قرار دیا ہے، مگر ہم نے اس اصول کو رسومات، جہیز، خاندان کے فیصلے اور برادری کے مفاد کے نیچے دفن کر دیا ہے۔ والدین کا کردار مشورہ دینے کا ہونا چاہیے، مگر ہمارے معاشرے میں وہ فیصلہ مسلط کرنے والا اختیار بن جاتا ہے۔
‎دوسری بڑی رکاوٹ خاندانی سیاست اور سماجی تاثر کا خوف ہے۔ لوگ اس بات سے زیادہ پریشان رہتے ہیں کہ "لوگ کیا کہیں گے" بجائے اس کے کہ لڑکی کی خوشی اور زندگی کے استحکام پر غور کریں۔ یہ سوچ نہ صرف شخصی آزادی سلب کرتی ہے بلکہ خاندانوں میں نفرت اور اعتماد کی دیوار بھی کھڑی کر دیتی ہے۔ نتیجتاً، معاشرے میں بے اطمینانی، خفیہ تعلقات، جھوٹ، اور دوہرا معیار بڑھتا جا رہا ہے۔
‎اسلامی اور روحانی زاویے سے دیکھا جائے تو محبت اگر حدودِ شریعت میں رہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے، جیسا کہ قرآنِ کریم میں فرمایا گیا:
‎“وَمِنْ آیَاتِہٖ أَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِّنْ أَنْفُسِکُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْکُنُوْا إِلَیْہَا وَجَعَلَ بَیْنَکُمْ مَوَدَّةً وَّرَحْمَةً”
‎(الروم: 21)
‎یعنی "اور اُس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اُس نے تمہارے لیے تمہاری جنس سے جوڑے بنائے تاکہ تم اُن سے سکون حاصل کرو، اور تمہارے درمیان محبت و رحمت پیدا کر دی۔”
‎پسند کی شادی اسی محبت اور رحمت کے بندھن کو شرعی بنیادوں پر استوار کرنے کا عمل ہے۔ اگر نیت پاک ہو، طریقہ درست ہو، اور دونوں خاندانوں میں خیر و دعا کی فضا قائم ہو تو یہ نکاح نہ صرف محبت کو دوام دیتا ہے بلکہ خاندانوں میں الفت اور برکت کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔
‎روحانی پہلو سے دیکھا جائے تو محبت اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی فطری قوت ہے، مگر جب یہ جذبہ خودی، انا یا معاشرتی دکھاوے سے آزاد ہو کر خلوصِ نیت کے ساتھ نکاح کی شکل اختیار کرے تو یہی محبت روحانیت کی بلندیوں تک لے جاتی ہے۔ ایسے نکاح میں سکون، رزق میں وسعت اور قلبی اطمینان کی کیفیت پیدا ہوتی ہے، کیونکہ وہ محبت جس کی بنیاد اللہ کے حکم پر ہو، وہی قائم رہتی ہے۔,,
‎خلاصہ یہ کہ ہمیں اپنے سماجی رویّوں کو بدلنا ہوگا۔ لڑکی کی پسند کو بغاوت نہیں بلکہ ایک باشعور فیصلہ سمجھا جائے۔ والدین اور اولاد اگر اخلاصِ نیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے خیر کی دعا کریں، تو راہیں خود بخود ہموار ہو جاتی ہیں۔ پسند کی شادی جب شریعت کے اصولوں، والدین کی دعا اور روحانی توازن کے ساتھ کی جائے تو وہ صرف ایک رشتہ نہیں بلکہ رحمتِ الٰہی کا مظہر بن جاتی ہے۔
‎نوٹ: اگر کسی معاملے میں ذہنی یا روحانی الجھن ہو تو بہتر ہے کہ کسی صاحبِ نظر بزرگ یا مستند روحانی رہنما سے رہنمائی حاصل کی جائے تاکہ فیصلہ خیر و برکت کے ساتھ ہو۔

‎خانقاہ ہاشمیہ کی روحانی رہنمائی، وظائف اور اصلاحِ باطن کے لیے ملاحظہ فرمائیں:
‎🔗 Khanqah Hashmia YouTube Channel

14/10/2025

‎لڑکیوں کی منگنی بار بار ٹوٹنے کی وجوہات
‎پیر شاہ محمد قادری
‎یہ ایک نہایت تکلیف دہ حقیقت ہے کہ بعض گھروں میں لڑکیوں کی منگنی بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ ایک دو بار نہیں بلکہ مسلسل ایسے واقعات پیش آتے ہیں کہ رشتے طے ہوتے ہیں، خاندان خوشی مناتے ہیں، مگر اچانک کسی نہ کسی وجہ سے یہ بندھن ٹوٹ جاتا ہے۔ یہ صورتِ حال نہ صرف لڑکی بلکہ پورے خاندان کے لیے باعثِ پریشانی اور ذہنی اذیت بن جاتی ہے۔ اس مسئلے کے مختلف پہلو ہیں جنہیں سمجھنا اور ان کا تدارک کرنا ضروری ہے۔
‎سب سے پہلے سماجی و معاشرتی پہلو پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آج کے دور میں رشتے کا معیار دین و اخلاق کے بجائے دولت، مقام، تعلیم اور خاندانی حیثیت پر قائم ہوچکا ہے۔ اکثر والدین غیر ضروری تقاضے اور توقعات رکھتے ہیں۔ معمولی باتوں پر انا یا برتری کا احساس آڑے آجاتا ہے۔ نتیجتاً رشتے ٹوٹ جاتے ہیں۔ بعض اوقات خاندانوں کے درمیان پرانی رقابتیں، یا رشتہ داروں کی مداخلت بھی تعلقات میں زہر گھول دیتی ہے۔
‎دوسرا پہلو نفسیاتی و معاشرتی دباؤ ہے۔ بعض لڑکیاں یا ان کے والدین پہلی منگنی ٹوٹنے کے بعد اتنے حساس یا محتاط ہوجاتے ہیں کہ ہر نئے رشتے پر شک و خوف کے سائے رہتے ہیں۔ معمولی بات بھی بڑے اختلاف میں بدل جاتی ہے۔ خاندان کے بڑوں کو چاہیے کہ ایسے موقع پر صبر و حکمت سے کام لیں، اور جذبات کے بجائے عقل سے فیصلہ کریں۔

‎تیسرا اور اکثر نظرانداز کیا جانے والا پہلو روحانی و غیبی اثرات کا ہے۔ کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ ظاہری طور پر سب کچھ درست نظر آتا ہےـ لڑکی نیک سیرت، خاندان شریف، بات پکی بھی ہو جاتی ہے ـ مگر اچانک کوئی انجانی رکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے۔ ایسے موقع پر نظرِ بد، حسد یا جادو کے اثرات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بعض لوگ کسی کی خوشی یا کامیابی برداشت نہیں کر پاتے اور منفی عملیات کر دیتے ہیں۔
‎اس لیے اگر تمام ظاہری اسباب درست ہوں، مگر پھر بھی رشتہ یا منگنی بار بار ٹوٹ جائے، تو بہتر ہے کہ کسی قابلِ اعتماد روحانی بزرگ یا صاحبِ اجازت مرشد سے رجوع کیا جائے۔ وہ استخارہ یا باطنی توجہ کے ذریعے اصل سبب واضح کرسکتے ہیں، اور مناسب روحانی تدبیر بتا سکتے ہیں۔
‎آخر میں یاد رکھنا چاہیے کہ ہر تاخیر، ہر رکاوٹ اللہ تعالیٰ کے علم و حکمت میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ کبھی دیر خیر کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ مایوسی کے بجائے دعا، صبر اور اعتماد سے کام لیں، اپنی بیٹیوں کے لیے نیک گمان رکھیں، صدقہ و خیرات جاری رکھیں، اور قرآن مجید کی تلاوت خصوصاً سورۂ یٰس، سورۂ طٰہٰ اور آیت الکرسی کی کثرت سے تلاوت معمول بنائیں۔ یقین رکھیں، اللہ تعالیٰ جب چاہے گا تو سب رکاوٹیں خود بخود دور ہوجائیں گی۔
‎نوٹ: اگر آپ اس طرح کی رکاوٹ یا روحانی پریشانی سے دوچار ہیں تو بہتر ہے کہ کسی مستند بزرگ سے مشورہ لیں۔
‎📺 خانقاہ ہاشمیہ یوٹیوب چینل

13/10/2025

‎لڑکیوں کی شادی میں رکاوٹ کی وجوہات
‎پیر شاہ محمد قادری
‎شادی انسانی زندگی کا ایک نہایت مقدس اور ضروری فریضہ ہے، جو دو خاندانوں کے درمیان محبت، رحمت اور سکون کا ذریعہ بنتا ہے۔ مگر آج کے زمانے میں بے شمار نیک سیرت، تعلیم یافتہ اور باحیا لڑکیاں ایسی ہیں جن کی شادیاں مختلف وجوہات کی بنا پر تاخیر کا شکار ہیں۔ یہ تاخیر نہ صرف والدین کے لیے فکر و پریشانی کا باعث بنتی ہے بلکہ خود لڑکی کے لیے ذہنی و روحانی اضطراب پیدا کر دیتی ہے۔
‎سب سے نمایاں وجہ معاشرتی معیار اور مادہ پرستی ہے۔ آج والدین اور معاشرہ رشتوں کو ایمان، کردار یا اخلاق کے بجائے دولت، ظاہری حیثیت اور طبقاتی برتری سے تولنے لگے ہیں۔ نتیجتاً کئی مناسب رشتے محض اس لیے رد کر دیے جاتے ہیں کہ وہ مطلوبہ “معیار” پر پورے نہیں اترتے۔ اس غلط سوچ نے نکاح جیسے مقدس بندھن کو دنیاوی پیمانوں میں قید کر دیا ہے۔
‎دوسری بڑی وجہ تعلیم، ملازمت یا کیریئر کے نام پر تاخیر ہے۔ بعض اوقات والدین یا خود لڑکیاں بہتر موقع یا مکمل تعلیم کے انتظار میں نکاح مؤخر کر دیتی ہیں، یہاں تک کہ مناسب عمر گزر جاتی ہے اور موزوں رشتے کم ہونے لگتے ہیں۔
‎تیسری وجہ گھریلو بے برکتی، والدین کے اختلافات یا حسد و بدگمانی ہے۔ بعض اوقات گھر کے ماحول میں تناؤ، قریبی رشتہ داروں کا حسد یا بدگمانیاں ایسی رکاوٹیں پیدا کر دیتی ہیں جو ظاہری آنکھ سے دکھائی نہیں دیتیں۔
‎اگر تمام ظاہری عوامل درست ہونے کے باوجود بھی شادی میں رکاوٹ برقرار رہے تو پھر یہ سمجھنا چاہیے کہ معاملہ محض دنیاوی نہیں بلکہ روحانی پہلو رکھتا ہے۔ ایسے حالات میں نظرِ بد، حسد یا جادو وغیرہ کے امکانات موجود ہوتے ہیں۔ اس لیے بہتر ہے کہ قابلِ اعتماد اور تجربہ کار روحانی بزرگ سے مشورہ کیا جائے، تاکہ مسئلے کی حقیقت واضح ہو اور مناسب روحانی رہنمائی یا عمل کے ذریعے بندش کو دور کیا جا سکے۔
‎چوتھی وجہ غفلتِ عبادت اور بداعمالی بھی ہے۔ جب انسان نماز، استغفار اور ذکرِ الٰہی سے غافل ہوتا ہے تو دل کی صفائی ماند پڑ جاتی ہے، جس سے تقدیر کے دروازے بھی بند ہونے لگتے ہیں۔

‎لہٰذا والدین اور لڑکیاں دونوں اس مسئلے کو صرف دنیاوی نگاہ سے نہ دیکھیں بلکہ روحانی پہلو کو بھی نظر میں رکھیں۔ اللہ تعالیٰ کے ذکر، درودِ پاک، استغفار، اور اسمائے حُسنیٰ کے ورد سے دل منور ہوتا ہے اور نصیب کے دروازے کھلنے لگتے ہیں۔
‎نوٹ: اگر کوئی خاتون یا اہلِ خانہ شادی میں رکاوٹ کے مسئلے پر روحانی رہنمائی حاصل کرنا چاہیں تو براہِ راست رابطہ کریں
‎📿 خانقاہ ہاشمیہ یوٹیوب چینل ملاحظہ کریں

Want your business to be the top-listed Government Service in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


House# 105 Block F1 Wapda Town Near Abu Bakar Roundabout
Lahore
54000

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00