Labaik ya Hussain as

Labaik ya Hussain as

Share

This page for understanding the ambition of imam Hussain as

14/11/2025

اور تم سب اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔

سورہ آل عمران آیت نمبر 103

حدیث:

امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: ہم اللہ کی رسی ہیں جس کو مضبوطی سے پکڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔


#احاديث...فضائل القرآن الكريم

01/10/2025

🌹✨ مَعصُومین کے بارے میں ✨🌹

📖 اچھے اچھے سوالوں کے جوابات
🤲 خود بھی یاد کریں
👨‍👩‍👧‍👦 اور اپنے بچوں کو بھی ضرور یاد کروائیں

💠💎💠

1️⃣ پنجتن آل عبا کون ہیں؟ 🌹
حضرت محمد، امام علی، حضرت فاطمہ، امام حسن اور امام حسین کو پنجتن آل عبا کہا جاتا ہے۔ ✨

---

2️⃣ 12 امام کون سے ہیں؟ 📖
1: امام علی 2: امام حسن 3: امام حسین 4: امام سجاد 5: امام محمد باقر 6: امام جعفر صادق 7: امام موسیٰ کاظم 8: امام علی رضا 9: امام محمد تقی (جواد) 10: امام علی نقی (ہادی) 11: امام حسن عسکری 12: امام مہدی (عج)

---

3️⃣ ہفتے کے دن کس معصوم سے منسوب ہیں؟ ⏳
امام ہادی کے فرمان کے مطابق:
ہفت — نبی اکرم
اتوار — علی
پیر — حسن، حسین
منگل — سجاد، باقر، صادق
بدھ — کاظم، رضا، جواد، ہادی
جمعرات — حسن عسکری
جمعہ — امام مہدی (عج)

---

4️⃣ ماہ رجب میں کون سے امام پیدا ہوئے؟ 🌙
1: امام باقر (1 رجب)
2: امام تقی (10 رجب)
3: امام علی (13 رجب)

---

5️⃣ بچپن میں کن کو امامت ملی؟ 🌸
امام محمد تقی (جواد) اور امام مہدی (عج)

---

6️⃣ ماہ شعبان میں کون سے امام پیدا ہوئے؟ 🌼
1: امام حسین (3 شعبان)
2: امام سجاد (5 شعبان)
3: امام مہدی (عج) (15 شعبان)

---

7️⃣ کن ائمہ کی ماؤں کا نام فاطمہ تھا؟ 👩
امام علی، امام حسن، امام حسین، امام باقر

---

8️⃣ چار محمد کون ہیں؟
1: نبی اکرم
2: امام باقر
3: امام جواد
4: امام مہدی (عج)

---

9️⃣ بقیع میں دفن ائمہ کون ہیں؟ 🕋
امام حسن مجتبی، امام سجاد، امام باقر، امام صادق

---

🔟 کاظمین میں دفن ائمہ کون ہیں؟ 📿
امام موسیٰ کاظم اور امام محمد تقی (جواد)

---

1️⃣1️⃣ سامرا میں دفن ائمہ کون ہیں؟ 🕌
امام علی نقی (ہادی) اور امام حسن عسکری

---

1️⃣2️⃣ عاشورا کے دن کربلا میں کون سے ائمہ موجود تھے؟ ⚔️
امام حسین، امام سجاد، امام باقر

---

1️⃣3️⃣ کن ائمہ کے والدین دونوں معصوم تھے؟ 🌹
امام حسن اور امام حسین

---

1️⃣4️⃣ کن ائمہ کی کنیت ابوالحسن تھی؟ 📛
امام علی، امام کاظم، امام رضا، امام ہادی

---

1️⃣5️⃣ کن ائمہ کی کنیت ابو عبداللہ تھی؟ 📛
امام حسین اور امام جعفر صادق

---

1️⃣6️⃣ کن ائمہ کی بیویوں کا نام فاطمہ تھا؟ 🕊️
امام علی اور امام سجاد

---

1️⃣7️⃣ کن ائمہ کے والد کا نام علی تھا؟ 👑
امام حسن، امام حسین، امام محمد تقی (جواد)

---

1️⃣8️⃣ قبر امام علی کس نے کھودی؟ ⛏️
حضرت نوح نے، ان کی شہادت سے 700 سال پہلے

---

1️⃣9️⃣ پیغمبر نے کن کو گوشوارہ عرش کہا؟ ✨
امام حسن اور امام حسین

---

2️⃣0️⃣ جنت کو تقسیم کرنے والے کون ہیں؟ 🌿
امام علی

---

2️⃣1️⃣ مشہور القاب کس کے ہیں؟ 🌹
امیرالمؤمنین — علی
یوسف آل محمد — حسن
خامس آل عبا — حسین
کریم اہل بیت — حسن
سیدالشہداء — حسین
صادق آل محمد — امام صادق
شیخ الائمہ — امام صادق
عالم آل محمد — امام رضا
غریب الغربا — امام رضا
ضامن آهو — امام رضا
طاووس اہل جنۃ — امام مہدی (عج)
جواد الائمہ — امام جواد
باقر العلوم — امام باقر
سید الساجدین — امام سجاد
اُم ابیہا — حضرت زہرا سلام اللہ علیہا
اُم الائمہ — حضرت زہرا سلام اللہ علیہا
ابوالائمہ — حضرت علی

03/09/2025

عیدِ زھراء ع مبارک 🌺💐🌻🌹🌷
Eid e Zehra SA Mubarak
🌺💐🌻🌹🌷
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ وعَجِّلْ فَرَجَهُمْ 🌺💐🌻🌹🌷

20/08/2025

بی بی زینب سلام اللہ علیہا کی فضیلت و شہادت 🌹
I. بی بی زینب سلام اللہ علیہا کا تعارف
1. ولادت
بی بی زینب سلام اللہ علیہا کی ولادت 5 جمادی الاول، سنہ 5 ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوئی۔
آپ کے والد امیرالمؤمنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام اور والدہ سیدہ کائنات حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا ہیں۔
آپ کے نانا رسول خدا حضرت محمد مصطفیٰ ہیں اور آپ کے بھائی امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام ہیں۔
یوں کہا جاسکتا ہے کہ آپ کا گھرانہ "خاندانِ عصمت و طہارت" ہے، جسے قرآن نے "اہلِ بیت" کہا اور آیت تطہیر میں ان کی پاکیزگی کی گواہی دی۔
2. نام گزاری اور لقب
روایت کے مطابق جب آپ کی ولادت ہوئی تو نبی اکرم سفر پر تھے۔ آپ کی والدہ حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا نے حضرت علی علیہ السلام سے کہا کہ آپ بچی کا نام رکھیں۔
امام علی علیہ السلام نے فرمایا کہ میں اس کام کو رسول خدا پر چھوڑتا ہوں۔ جب رسول اللہ واپس آئے تو فرمایا:
“یہ بچی زینب ہے” یعنی زین (زینت) + اب (باپ) = "باپ کی زینت"۔
اس کے علاوہ آپ کے مشہور القاب ہیں:
عقیلۃ بنی ہاشم (بنی ہاشم کی دانشمند خاتون)
نائبت الحسین (امام حسین علیہ السلام کی نائب)
شریکۃ الحسین (امام حسین علیہ السلام کی شریک)
ام المصائب (مصیبتوں کی ماں)
3. بچپن کی پرورش
آپ نے اپنا بچپن اپنے نانا رسول خدا کے سایہ رحمت میں گزارا۔
آپ کو قرآن و حدیث کی تعلیم براہِ راست اپنے والد علی علیہ السلام اور والدہ فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا سے ملی۔
آپ اپنے بھائی امام حسن اور امام حسین علیہم السلام کے ساتھ رہیں اور ان کے کردار و تربیت میں شراکت دار رہیں۔
بی بی زینب سلام اللہ علیہا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آپ اپنے نانا نبی کریم کے اخلاق، اپنی ماں فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی حیا، اور اپنے والد علی علیہ السلام کے علم و شجاعت کی پرچھائیں تھیں۔
4. علم و عبادت
بی بی زینب سلام اللہ علیہا کی عبادت اور تقویٰ اتنی بلند تھی کہ آپ کی زندگی کا ہر لمحہ اللہ کی یاد میں گزرا۔
روایت ہے کہ کربلا کے سفر میں اور قید و بند کی مصیبتوں کے دوران بھی آپ نے تہجد کی نماز ترک نہیں کی۔
آپ قرآن کی حافظہ تھیں، خطابت میں بے مثال تھیں اور مشکلات میں بھی اللہ کی حمد و ثنا کرتی تھیں۔
5. نکاح اور اولاد
آپ کا نکاح اپنے چچا زاد بھائی عبداللہ بن جعفر طیار سے ہوا۔
عبداللہ بن جعفر، جعفر طیار علیہ السلام کے فرزند تھے، وہی جعفر طیار جو جنگ موتہ میں شہید ہوئے اور جنہیں رسول اللہ نے "دو پر والا شہید" کہا۔
بی بی زینب سلام اللہ علیہا کی اولاد میں:
عون بن عبداللہ (شہیدِ کربلا)
محمد بن عبداللہ (شہیدِ کربلا)
شامل ہیں۔
6. مقام و مرتبہ
آپ کی شخصیت ایسی ہے کہ علماء اور مورخین نے لکھا ہے:
"زینب سلام اللہ علیہا، علی علیہ السلام کی بیٹی ہیں، حسین علیہ السلام کی بہن ہیں، فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی پرورش یافتہ ہیں اور رسول خدا کی نواسی ہیں۔"
یہ رشتہ نسب ہی آپ کے بلند مقام کے لیے کافی ہے، لیکن آپ کی اپنی صبر و استقامت، خطابت اور قربانی نے آپ کو دنیا میں ایک منفرد مقام عطا کیا۔
II. بی بی زینب سلام اللہ علیہا کی فضیلت
بی بی زینب سلام اللہ علیہا کی فضیلت کا اندازہ صرف اس بات سے نہیں ہوتا کہ آپ کس گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں، بلکہ آپ کی اپنی علمی، روحانی، اخلاقی اور عملی زندگی اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ آپ اسلام کے لیے ایک عظیم ستون ہیں۔
1. نسب کی فضیلت
آپ رسول خدا کی نواسی، سیدہ فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی بیٹی، اور امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی دختر ہیں۔
آپ کے بھائی امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام ہیں۔
یوں آپ اہلِ بیت عصمت و طہارت میں شامل ہیں، جن کے بارے میں آیت تطہیر (احزاب: 33) نازل ہوئی:
"إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا"
(اللہ چاہتا ہے کہ اے اہل بیت! تم سے ہر رجس کو دور کر دے اور تمہیں بالکل پاک کر دے۔)
یہ آیت براہِ راست بی بی زینب سلام اللہ علیہا کے مقام کو بھی بیان کرتی ہے۔
2. علم و حکمت
بی بی زینب کو "عقیلۃ بنی ہاشم" کہا جاتا ہے، یعنی بنی ہاشم کی عقل و دانش کی مالک۔
آپ کا علم صرف گھرانے تک محدود نہ تھا بلکہ آپ قرآن اور دین کے مسائل میں اتنی کامل تھیں کہ لوگ آپ سے دینی مسائل پوچھتے تھے۔
روایت ہے کہ کربلا کے سفر میں امام حسین علیہ السلام نے کئی مواقع پر بی بی زینب سے مشورہ فرمایا، جو آپ کی بصیرت اور حکمت کا ثبوت ہے۔
امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا:
"اَنتِ بِحَمدِ اللهِ عالِمَةٌ غَيرُ مُعَلَّمَةٍ، فَهِمَةٌ غَيرُ مُفَهَّمَةٍ"
(اے پھوپھی جان! آپ بحمداللہ ایسی عالمہ ہیں جنہیں کسی نے تعلیم نہیں دی، اور ایسی فہم رکھنے والی ہیں جنہیں کسی نے سمجھایا نہیں۔)
یہ امام معصوم کی زبان سے آپ کی علمی عظمت کا واضح اعلان ہے۔
3. عبادت و تقویٰ
آپ کی عبادت کا یہ حال تھا کہ کربلا کی رات، یعنی شب عاشور، آپ نے ساری رات عبادت میں گزاری۔
امام حسین علیہ السلام نے بھی فرمایا: “میری بہن زینب کی دعا اور عبادت ہی میری طاقت ہے۔”
قید و بند کی مصیبتوں کے باوجود بھی آپ نے تہجد کی نماز ترک نہ کی۔
آپ کا روزہ اور نماز خوف اور بھوک کے حالات میں بھی کبھی فوت نہ ہوا۔
4. صبر و استقامت
بی بی زینب کی سب سے بڑی فضیلت آپ کا صبر ہے۔
آپ نے اپنے بھائیوں، بھتیجوں اور بیٹوں کو کربلا میں شہید ہوتے دیکھا لیکن زبان پر شکوہ نہ لائیں بلکہ فرمایا:
“اے میرے پروردگار! ہم نے تیرے دین کے لیے اپنی قربانی پیش کر دی ہے۔”
جب ابن زیاد نے کوفہ میں طعنے دیے تو آپ نے فرمایا:
“میں نے سوائے خیر کے کچھ نہیں دیکھا۔”
یعنی کربلا کے خونچکاں منظر کو بھی اللہ کی رضا اور قربانی کا حسن قرار دیا۔
5. خطابت و فصاحت
بی بی زینب کی خطابت وہ عظیم ہتھیار تھی جس نے یزید و ابن زیاد کے دربار کو ہلا کر رکھ دیا۔
کوفہ میں جب لوگ قیدیوں کو دیکھ کر روئے تو بی بی نے ایسا خطبہ دیا کہ سب کو ان کی بے وفائی یاد آ گئی۔
شام میں یزید کے دربار میں آپ نے فرمایا:
“اے یزید! تو سمجھتا ہے کہ تُو نے ہم کو ذلیل کر دیا ہے؟ ہرگز نہیں، بلکہ عزت و کرامت اللہ کے پاس ہے اور رسوائی تیرے حصے میں آئی ہے۔”
یہ خطبہ اسلام کی تاریخ میں ظلم کے خلاف سب سے بڑی گواہی ہے۔
6. شریکۃ الحسین (ع)
بی بی زینب کو "شریکۃ الحسین" کہا جاتا ہے یعنی امام حسین علیہ السلام کی شریک۔
امام حسین علیہ السلام نے اپنی جان قربان کی اور بی بی زینب سلام اللہ علیہا نے اس قربانی کے پیغام کو زندہ رکھا۔
اگر امام حسین علیہ السلام کربلا کے "شہید" ہیں تو بی بی زینب سلام اللہ علیہا کربلا کی "شہیدۂ صبر" ہیں۔
7. ام المصائب
آپ کو "ام المصائب" کہا جاتا ہے یعنی مصیبتوں کی ماں۔
آپ نے اپنے نانا رسول اللہ کی رحلت، اپنی ماں فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی شہادت، اپنے والد امام علی علیہ السلام کی شہادت، اپنے بھائی امام حسن علیہ السلام کی شہادت اور کربلا میں بھائی حسین علیہ السلام سمیت پورے خاندان کی شہادت دیکھی۔
اتنی مصیبتوں کے باوجود آپ اللہ کی رضا پر راضی رہیں۔
III. کربلا میں بی بی زینب سلام اللہ علیہا کا کردار
1. کربلا کے سفر میں ساتھ
جب امام حسین علیہ السلام مکہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہوئے تو بی بی زینب سلام اللہ علیہا نے اپنے بھائی کا ساتھ نہ چھوڑا۔
آپ جانتی تھیں کہ یہ سفر شہادت اور قربانی کا سفر ہے لیکن آپ نے فرمایا:
"بھائی جان! جہاں آپ کا ساتھ ہے وہاں موت بھی میرے لیے زندگی ہے۔"
بی بی زینب نے اپنے بیٹوں (عون و محمد) کو بھی امام حسین علیہ السلام کی راہ میں قربان کرنے کے لیے تیار کیا۔
2. خیموں کی نگران اور یتیم بچوں کی ماں
کربلا میں جب امام حسین علیہ السلام اور بنی ہاشم کے جوان میدانِ جنگ میں گئے تو خیموں کی نگرانی بی بی زینب سلام اللہ علیہا پر تھی۔
آپ بچوں کو حوصلہ دیتی تھیں، انہیں صبر سکھاتی تھیں اور ہر لمحہ امام حسین علیہ السلام کے حکم کی منتظر رہتی تھیں۔
آپ چھوٹے بچوں، خصوصاً حضرت سکینہ سلام اللہ علیہا، حضرت علی اصغر علیہ السلام اور امام زین العابدین علیہ السلام کی ماں جیسی تھیں۔
3. بھائیوں اور بیٹوں کی قربانی
آپ کے دونوں بیٹے، عون و محمد، کربلا میں شہید ہوئے۔
بی بی زینب نے ان کی شہادت پر کوئی فریاد نہ کی بلکہ شکر کیا کہ وہ اپنے بھائی حسین علیہ السلام پر قربان ہوئے۔
جب بھائی حضرت عباس علیہ السلام شہید ہوئے تو بی بی زینب خیمے سے باہر دوڑیں، لیکن فوراً صبر کا دامن تھام لیا۔
4. امام حسین علیہ السلام کے ساتھ آخری لمحے
جب امام حسین علیہ السلام تنہا رہ گئے تو آپ خیمے کے دروازے پر کھڑی رو رہی تھیں۔
آپ نے آخری بار اپنے بھائی کو رخصت کیا اور فرمایا:
"بھائی حسین! اپنی بہن کو یتیم چھوڑ کر جا رہے ہو۔"
امام حسین علیہ السلام نے بہن کو تسلی دی اور فرمایا:
"میری بہن! صبر کرنا، اللہ سے شکوہ نہ کرنا، یہ سب دین کے تحفظ کے لیے ہے۔"
5. کربلا کے بعد قیادت
امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد قافلۂ اہل بیت یتیموں اور بیواؤں کا قافلہ بن گیا۔
امام زین العابدین علیہ السلام شدید بیمار تھے، لہٰذا عملی طور پر قافلے کی قیادت بی بی زینب سلام اللہ علیہا نے کی۔
آپ نے قیدیوں کی حفاظت، بچوں کی دیکھ بھال اور پیغامِ حسین علیہ السلام کو عام کرنے کی ذمہ داری سنبھالی۔
6. کوفہ میں خطبہ
جب قیدیوں کو کوفہ لایا گیا تو لوگ تماشہ دیکھنے جمع ہوئے۔
بی بی زینب نے ایسا خطبہ دیا کہ کوفہ کے بازار ماتم کدہ بن گئے۔ آپ نے فرمایا:
"اے کوفیو! تمہارے آنسو اب بہہ رہے ہیں لیکن تم نے میرے بھائی کو بلایا، پھر ان کے خلاف تلواریں اٹھائیں۔ تمہارے دل سخت ہیں، تمہاری مثال اس عورت کی ہے جو دھاگا باندھتی ہے اور پھر خود ہی توڑ دیتی ہے۔"
یہ خطبہ کوفیوں کی غداری اور نفاق کو ہمیشہ کے لیے تاریخ میں بے نقاب کر گیا۔
7. شام میں یزید کے دربار میں خطبہ
جب قیدیوں کو شام لے جایا گیا اور یزید کے دربار میں پیش کیا گیا تو یزید تخت پر بیٹھا فخر کر رہا تھا۔
بی بی زینب نے کھڑے ہو کر ایسا جلالی خطبہ دیا جس نے یزید کو خاموش کر دیا:
"اے یزید! تُو سمجھتا ہے کہ تُو نے ہمیں ذلیل کر دیا ہے؟ ہرگز نہیں! عزت و کرامت اللہ کے پاس ہے اور ذلت تیرے حصے میں آئی ہے۔"
"اے یزید! جو کچھ تُو نے کیا ہے، کل قیامت کے دن اس کا جواب دے گا۔"
یہ خطبہ تاریخ کے ان چند لمحوں میں سے ہے جہاں ایک قیدی عورت ظالم بادشاہ کے سامنے کھڑے ہو کر حق کی آواز بلند کرتی ہے۔
8. امام حسین علیہ السلام کے مشن کی حفاظت
بی بی زینب سلام اللہ علیہا نے کربلا کے بعد وہ کردار ادا کیا کہ آج 1400 سال بعد بھی حسین علیہ السلام کا نام زندہ ہے۔
اگر زینب نہ ہوتیں تو کربلا کے شہداء کی قربانی وقت کی گرد میں دب جاتی۔
اسی لیے علماء نے کہا ہے:
"کربلا نصف حسین علیہ السلام کی قربانی ہے اور نصف زینب سلام اللہ علیہا کی تبلیغ ہے۔"
9. صبر کی مثال
کربلا میں اتنی مصیبتیں دیکھنے کے بعد بھی آپ نے فرمایا:
"ما رأيتُ إلّا جميلا"
(میں نے کربلا میں سوائے حسن و جمال کے کچھ نہیں دیکھا۔)
یعنی آپ نے اللہ کی رضا کو اپنی رضا پر مقدم رکھا۔
IV. شام و کوفہ میں بی بی زینب کے خطبات
1. پس منظر
کربلا کے بعد جب امام حسین علیہ السلام اور بنی ہاشم کے شہداء کی لاشیں خاک و خون میں تڑپ رہی تھیں، اس وقت قافلۂ اہلِ بیت کو قیدی بنا کر کوفہ اور پھر شام لے جایا گیا۔
یہ قافلہ دراصل اسلام کی سب سے بڑی تبلیغی کاروان ثابت ہوا۔
قافلے کی قیادت امام زین العابدین علیہ السلام کے ساتھ ساتھ عملی طور پر بی بی زینب سلام اللہ علیہا نے کی۔
2. کوفہ میں بی بی زینب سلام اللہ علیہا کا خطبہ
حالات
جب قافلۂ اسیران کو کوفہ میں داخل کیا گیا تو لوگ تماشائی بن کر جمع ہوئے، کچھ روتے اور کچھ خوشیاں مناتے۔
کوفی عوام وہی لوگ تھے جنہوں نے امام حسین علیہ السلام کو خطوط لکھ کر بلایا، پھر بیعت توڑ کر دشمن کے ساتھ ہو گئے۔
اثر
کوفہ کا بازار جو پہلے شور و غل سے بھرا ہوا تھا، ماتم کدہ بن گیا۔
ہر زبان پر یہ جملہ تھا:
"ہائے ہماری بدنصیبی! ہم نے آلِ رسول کو قتل کیا۔"
3. کوفہ کے دربارِ ابن زیاد میں خطبہ
حالات
اسیرانِ کربلا کو ابن زیاد کے دربار میں لایا گیا۔ ابن زیاد غرور سے پوچھتا ہے:
"اے زینب! تم نے کربلا میں اپنے بھائی اور عزیزوں کے انجام کو کیسا پایا؟"
بی بی زینب سلام اللہ علیہا کا جواب
آپ نے بغیر خوف و لرز کے فرمایا:
"ما رَأيتُ إلّا جَميلاً"
(میں نے کربلا میں سوائے حسن و جمال کے کچھ نہیں دیکھا۔)
پھر فرمایا:
"یہ سب لوگ اللہ کی راہ میں شہید ہوئے اور کل قیامت کے دن تم اپنے ظلم کا جواب دو گے۔"
اثر
دربار میں سناٹا چھا گیا۔ ابن زیاد لاجواب ہو گیا۔
4. شام کے دربارِ یزید میں خطبہ
حالات
جب قیدیوں کو یزید کے دربار میں پیش کیا گیا تو یزید تخت پر بیٹھا اپنے کفر و غرور کے اشعار پڑھ رہا تھا، نعوذباللہ کہہ رہا تھا:
"بنی ہاشم نے سلطنت کے لیے جھوٹا کھیل کھیلا، ورنہ کوئی وحی نہیں آئی۔"
بی بی زینب سلام اللہ علیہا کا خطبہ
بی بی زینب کھڑی ہوئیں، دربار کو اپنی جلالت سے لرزا دیا اور فرمایا:
"الحمدُ لله ربّ العالمين، وصلّى الله على جدّي سيّد المرسلين…
اے یزید! تُو سمجھتا ہے کہ تُو نے ہمیں ذلیل کر دیا ہے؟ ہرگز نہیں! عزت و کرامت اللہ کے پاس ہے۔ ذلت تیرے حصے میں آئی ہے۔
اے یزید! کیا تُو یہ سمجھتا ہے کہ تُو نے زمین کے کنارے ہم پر تنگ کر دیے ہیں اور ہم قیدی بن گئے ہیں تو ہم ذلیل ہیں؟ نہیں! ہم اللہ کے ولی ہیں اور اللہ ہمیں آزماتا ہے۔"
پھر فرمایا:
"اے یزید! تجھے جلد ہی معلوم ہو گا کہ کس پر اللہ کا عذاب نازل ہوتا ہے۔ تیرا انجام جہنم ہے۔"
اثر
یہ خطبہ یزید کے تخت پر زلزلہ بن کر گرا۔
دربار میں موجود لوگوں کے دل بدل گئے۔
کئی لوگ یزید کے خلاف بولنے لگے اور یزید کو اپنی حکومت پر خطرہ محسوس ہونے لگا۔
5. خطبات کا نتیجہ
کربلا کا پیغام اگر شہیدوں کے خون سے لکھا گیا تھا تو بی بی زینب سلام اللہ علیہا کے خطبات نے اس پیغام کو دنیا تک پہنچایا۔
ان خطبات نے ظالموں کو رسوا کیا اور مظلوموں کے خون کو کامیاب کیا۔
اسی لیے کہا جاتا ہے:
"اگر حسین علیہ السلام کربلا میں قربانی نہ دیتے تو اسلام بچتا نہیں، اور اگر زینب سلام اللہ علیہا یہ خطبات نہ دیتیں تو قربانی باقی نہ رہتی۔"
V. بی بی زینب سلام اللہ علیہا کی شہادت
بی بی زینب سلام اللہ علیہا کی شہادت پر لکھنا دراصل کربلا کی اُس داستان کو دہرانا ہے جو آج تک ہر مؤمن کے دل کو خون کے آنسو رُلاتی ہے۔ جب کربلا کا معرکہ ختم ہوا، امام حسین علیہ السلام اور اُن کے باوفا اصحاب کو شہید کردیا گیا، تو اس وقت حیاتِ کربلا کی اصل ذمہ داری بی بی زینب سلام اللہ علیہا کے کاندھوں پر آگئی۔ اُن کی حیات کا باقی حصہ اسی پیغامِ کربلا کو دنیا تک پہنچانے اور ظلم و جبر کو بے نقاب کرنے میں گزرا۔
بی بی زینب سلام اللہ علیہا کا کربلا کے بعد کا سفر
شہادتِ امام حسین علیہ السلام کے بعد، یزیدی فوج نے اہلِ حرم کو قیدی بنا کر کوفہ اور پھر شام لے جانا شروع کیا۔ یہ وہ مقام تھا جہاں بی بی زینب سلام اللہ علیہا نے اپنے خطبات کے ذریعے یزیدیت کے ایوانوں میں لرزہ برپا کردیا۔ لیکن یہ مسلسل غم، صدمات، کرب و اذیت اور قید و بند کی سختیاں ان کی صحت پر گہرا اثر ڈالتی رہیں۔
مدینہ واپسی اور زخموں کا بوجھ
روایات کے مطابق جب اہلِ حرم کو آخرکار آزاد کیا گیا اور وہ مدینہ واپس لوٹے، تو بی بی زینب سلام اللہ علیہا نے اپنے بھائی کی جدائی، قید کے دکھ، اپنے عزیزوں کی شہادت، اور اہلِ مدینہ کے سوالات کا سامنا کیا۔ ہر لمحہ کربلا کے مناظر اُن کے سامنے تازہ ہوتے۔ روایت ہے کہ وہ اکثر راتوں کو قبرِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جا کر فریاد کرتیں اور اپنے دکھوں کو رسول اللہ کے حضور پیش کرتیں۔
شہادت کی کیفیت
بی بی زینب سلام اللہ علیہا نے اپنے آخری ایام مدینہ میں گزارے، مگر بعض معتبر روایات کے مطابق (جیسا کہ "کامل الزیارات" اور بعض مقاتل کی کتب میں ذکر ہے) اہلِ مدینہ کی حالت دیکھ کر اور یزید کے جاسوسوں کی سختیوں کو برداشت نہ کرتے ہوئے امام زین العابدین علیہ السلام نے اُنہیں مدینہ سے باہر، "دمشق کے قریب" یا بعض کے مطابق "مصر" کی طرف بھیجا۔ وہیں آپ نے اپنے آخری ایام گزارے۔
ایک معتبر روایت (شیعہ مآخذ سے)
📖 علامہ مجلسی (رح) نے بحار الانوار جلد 45 میں نقل کیا ہے کہ بی بی زینب سلام اللہ علیہا نے امام سجاد علیہ السلام کے سامنے اپنی زندگی کے اختتامی لمحوں میں کہا:
"اے میرے بھتیجے! میرا وقت قریب آگیا ہے، کربلا کے داغ اور شہادتوں کی یاد میرے دل کو جلا رہی ہے۔ میں نے ہر صدمہ برداشت کیا مگر حسین (ع) کی جدائی کے بعد یہ دل اب مزید بوجھ نہیں سہہ سکتا۔"
اسی کیفیت میں آپ نے اپنے بھائی کی یاد میں گریہ کیا اور اللہ کو اپنے جان کے سپرد کیا۔
مزارِ بی بی زینب سلام اللہ علیہا
اہلِ تشیع کے نزدیک بی بی زینب سلام اللہ علیہا کا مزار دمشق (شام) میں موجود ہے، جہاں آج بھی لاکھوں عزادار اور زائرین حاضری دیتے ہیں۔ کچھ روایات میں ان کا مزار مصر میں بھی بتایا گیا ہے، لیکن زیادہ معتبر اور مشہور روایت دمشق ہی کی ہے، جہاں آج بھی "سیدہ زینب (س)" کے نام سے حرم موجود ہے۔
قلم رُکنے کو نہیں مانتا جب ہم سوچتے ہیں کہ وہ زینب جو کربلا کے خیموں میں بھائیوں اور بچوں کے لاشے دیکھ کر بھی صبر و ثبات کی پہاڑ بنی رہیں، آخر کار اسی غم کے بوجھ میں دنیا سے رخصت ہوگئیں۔ شام و کوفہ کے درباروں میں جو شیرنی کی طرح کلام کرتی رہیں، اُن کا دل اندر سے حسین کے فراق میں ٹوٹ چکا تھا۔ آخرکار یہی ٹوٹا ہوا دل اُن کی شہادت کا سبب بنا۔
💔 سوچو، وہ بہن جس نے بھائی حسین کا سرِ اقدس نیزوں پر دیکھا، وہ بہن جو علی اکبر، قاسم، عباس اور علی اصغر کی شہادت کے بعد بھی قیدی بن کر درباروں میں گئی... وہ کیسے زندہ رہتی؟ اسی غم نے اُن کی جان لے لی۔
التماس دعا، العبد الفقیر

19/08/2025

بسمہِ تعالیٰ

24 صفر المظفر روزِ شہادت (بمطابق روایت)

عالمہ غیر معلمہ، نائبۃ الزھراء، عقیلہ بنی ہاشم، نائبۃ الحسین، صدیقہ صغری، محدثہ، زاہدہ، فاضلہ، شریکۃ الحسین، راضیہ بالقدر والقضاء عارفہ، موثّقہ، كاملہ، عابدہ آل علی، معصومۂ صغری، امینۃ اللہ، نائبۃ الزہرا، نائبۃ الحسین، عقیلۃ النساء، شریكۃ الشہداء، بلیغہ، فصیحہ بنتِ رسول بنتِ علی و بتول حضرت سیدہ زینب بنتِ امیرالمومنین علی ابنِ ابیطالب (سلامُ اللہ علیہٰا)

مراجعین عظام علماءِ حقہ تمام مومنین و مومنات اور بلخصوص ولیُ العصر حجةِ خدا سرکارِ امام زمانہ (عج) کی خدمت اقدس میں ہدیہِ تعزیت و پرسہ پیش کرتے ہیں۔۔۔!!!

بعد از ولادت باسعادت جب حضرت سیدہ زینب (سلامُ اللہ علیہٰا) حضرت رسول اللہ (صلیٰ اللہُ علیہِ و آلہِ وَ سَلم) کے مقدس ہاتھوں پر لائیں گئیں تو آپ (صلیٰ اللہُ علیہِ و آلہِ وَ سَلم) نے سیدہ زینب (سلامُ اللہ علیہٰا) کا منہ مبارک چوما اور ارشاد فرمایا:

میں اس بچی کے بارے میں حاضرین و غائبین کو وصیت کرتا ہوں کہ اس کا میری وجہ سے احترام کریں، کیونکہ یہ خدیجةُ الکبریٰ (سلامُ اللہ علیہٰا) کی مانند ہے۔۔۔!!!

📚ریاحین الشریعہ ص٣٨

اُمت نے وصیتِ رسول (صلیٰ اللہُ علیہِ و آلہِ وَ سَلم) پر عمل کرتے ہوۓ کچھ اس طرح احترامِ زینب (سلامُ اللہ علیہٰا) کیا کہ اس بی بی پر اتنے ظلم ڈھاۓ کہ نام ہی اُم المصائب پڑ گیا۔ 😭😭💔💔😭😭

اَلسَّلامُ عَلَى الْحُسَیْنِ وَ عَلى عَلِىِّ بْنِ الْحُسَیْنِ وَ عَلى اَوْلادِ الْحُسَیْنِ وَ عَلى اَصْحٰابِ الْحُسَیْنِ

اَلَلٌھُم العَن قَتَلَتِ الحُسَین (ع) وَ اُولَادِ الحُسَین (ع) وَ اَصحَابہِ الحُسَین (ع)

اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحمَّــدٍ ﻭَّآل مُحمَّــدٍ ﻭَّﻋَﺠِّﻞْ ﻓَﺮَجَھُم وَ سَھِّلْ مَخْرَجَھُم

پیامِ مہدویت

08/08/2025

Bibi Fatima sa masooma hy

27/07/2025

1 صفر: شام کی طرف سفر کا آغاز – اسارت کا طویل ترین زخم
🕸 سرزمین کوفہ کے بعد:
یکم صفر وہ دن ہے جب کوفہ میں ذلت آمیز دربار اور بازار کے بعد یزیدِ ملعون کا حکم آیا کہ اہل بیت کے قافلے کو شام بھیجا جائے۔ جنہیں کل تک نبی کا گھرانہ سمجھ کر عزت دی جاتی تھی، آج ان کے ہاتھ رسیوں سے بندھے ہوئے تھے، گلے میں طوق، پاؤں میں بیڑیاں، جسموں پر زخم، اور دلوں پر کربلا کا داغ۔

🌑 قافلہ روانہ ہوا...
یزیدی سپاہیوں نے اہل بیت کے قافلے کو ایک لشکر کے ساتھ سختی کے عالم میں کوفہ سے روانہ کیا۔ راستے میں کبھی جلتی دھوپ، کبھی کانٹے دار زمین، اور کبھی دشمنوں کی آوازیں زخموں پر نمک چھڑکنے لگتی تھیں۔

👣 راستے کی اذیتیں:
بیبیوں کے چہرے نقاب میں نہ تھے:
راستے میں دشمنوں کے مجمعے، گالیاں، آوازے کسے جا رہے تھے۔ ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کے سروں پر چادر نہ تھی۔ زینب بنت علی کا دل پاش پاش ہو رہا تھا۔ رسول کی بیٹیاں، بے پردہ قافلے میں لائی جا رہی تھیں، لوگ تماشا کر رہے تھے، ہنس رہے تھے، انگلیاں اٹھا رہے تھے۔

بچوں کا حال:
بچیوں کی ایڑیاں جلتی زمین پر تھیں، پیاس، بھوک، دھوپ، سب اکٹھے تھے۔ بی بی سکینہ تھکی تھکی اپنی پھوپھی کے دامن سے لپٹتی تھیں، کبھی بابا حسین کو پکارتی تھیں۔

⛓ امام سجاد کی حالت:
امام زین العابدین بیماری کے عالم میں، زنجیروں میں جکڑے ہوئے، کسی اونٹ پر تھے یا ننگے پاؤں پیدل، قدم قدم پر گرتے تھے۔ بی بی زینب کبھی اپنے بھتیجے کو سنبھالتیں، کبھی کسی بچے کو اٹھاتیں۔

💔 منزلوں پر ظلم کی شدت:

جہاں قافلہ پہنچتا، لوگ جمع ہو جاتے۔ یزیدی سپاہی اعلان کرتے: "یہی لوگ ہیں جو حکومت کے خلاف گئے تھے، ان کا سردار حسین تھا، یزید کے خلاف بغاوت کی، قتل ہو گئے۔"

کچھ نادان ان باتوں کو مان لیتے، قافلے پر تھوکتے، ہنستے، اور کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے جب زینب کا خطبہ سنا، تو تڑپ اٹھے، رونے لگے، گناہ سے پچھتائے۔

🌕 کبھی کسی گاؤں کے بچے ہنستے، تو سکینہ کا کلیجہ لرز جاتا، کہ وہ کل بابا کے سینے پر سر رکھ کر سوتی تھیں، آج طعنوں میں آنکھ کھلتی ہے۔

🗣 بی بی زینب کے خطبے:
جہاں موقع ملتا، زینب بنت علی رکتی تھیں، لوگوں کے مجمع میں نبی کی اولاد کا تعارف کرواتی تھیں۔
کہتی تھیں:

"ہم محمد مصطفیٰ کی اولاد ہیں، ہم علی کے درخت کی شاخیں ہیں، ہم زہرا کی نور ہیں، ہم وہ ہیں جن کے لیے قرآن نازل ہوا، ہم وہ ہیں جن کی دعائیں تم مانگتے ہو، اور آج ہم قیدی بنا دیے گئے؟"

اور جب زینب کی آواز کانپتی، تو سارا مجمع کانپ جاتا۔

🧎 عبادت کا سفر:
راستے میں بھی نماز قائم ہوتی تھی۔ امام سجاد قید میں بھی سجدے کرتے تھے۔ بیبیاں قیام کرتی تھیں، دعائیں پڑھتی تھیں۔ وہ دعائیں جو آج صحیفہ کاملہ کا حصہ ہیں، وہ راستے کی اذیتوں میں وجود میں آئیں۔

🩸 1 صفر کی شام:
راستے میں ایک جگہ قافلہ رکا، ایک چھوٹا سا قافلہ آیا، جس نے پانی پیش کیا، ایک عورت آگے آئی، کہنے لگی:

"کیا تم حسین کے گھرانے سے ہو؟"

زینب نے سر ہلایا، عورت نے کانپتے ہوئے ہاتھ سے چادر پیش کی، کہنے لگی:

"میری ماں کہتی تھی کہ ایک دن نبی کی بیٹیوں پر وقت آئے گا، اگر دیکھو تو ان کی مدد کرنا…"

یہ وہ لمحہ تھا جب سب رو پڑے، بچوں کے گلے لگ کر رونے لگیں، بیبیاں اللہ کا شکر ادا کرنے لگیں کہ ابھی بھی دنیا میں کچھ غیرت مند باقی ہیں۔

🥀 دل پر نقوش چھوڑ جانے والی حقیقت:
1 صفر کو کوئی جنگ نہیں ہوئی، لیکن یہ وہ دن تھا جب کربلا کا درد پورے عالمِ اسلام میں لے جایا گیا، جب اہل بیت کے زخم دیکھ کر امت کے ضمیر کو جگایا گیا، جب زینب نے نبی کا پیغام بازاروں میں، گلیوں میں، درباروں میں سنایا۔ یہ وہ دن تھا جب جبر کے خلاف صدائے حق بلند ہونے لگی۔

🌙 اختتامیہ:
اے اللہ!
1 صفر کے دن کی وہ خاک، وہ راستے، وہ پتھر، وہ زنجیریں، وہ تماچے، وہ آوازیں، وہ رونے کی صدائیں، وہ زینب کی آہیں، سکینہ کی پکاریں، سجاد کے آنسو — سب گواہی دے رہے ہیں کہ تیرے محبوبوں نے کیسا امتحان جھیلا۔

💔 یہ کوئی عام قافلہ نہ تھا — یہ محمد کے دین کا علمبردار قافلہ تھا جو زندانوں سے گزر کر قیامت تک حق و باطل کی پہچان دے گیا۔

التماس دعا، العبد الفقیر

26/07/2025

30 محرم — ایک اور دن، ایک اور زخم، ایک اور آہِ مظلومیت

کربلا ختم نہ ہوا، کربلا کا ماتم 10 محرم کے بعد ہر دن کے ساتھ گہرا ہوتا گیا۔ آج 30 محرم ہے، اور قافلۂ اسیرانِ کربلا اب بھی ذلت و ستم کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ زخم تازہ ہیں، آنکھیں اشکبار ہیں، اور دل وہی صدیاں جھیلتا دکھ۔

🩸 راستے کے زخم
آج کا سورج بھی اسی بےحسی کے ساتھ طلوع ہوا۔ زینب بنت علیؑ کا چہرہ آج بھی گرد و غبار سے اٹا ہوا ہے۔ امام زین العابدینؑ کے جسم پر زنجیروں کے نشان مزید گہرے ہو چکے ہیں۔ بیبیاں ننگے سر، بے چادر، اور معصوم بچیاں پیاس، بھوک اور تھکن سے نڈھال۔ راستے کے ہر قدم پر دشمن ہنستے، آوازیں کستے، اور طعنوں کے تیر چلاتے۔

⛓ زنجیروں کی کراہت
30 محرم کو جب قافلہ کسی بستی سے گزرتا، تو لوگ ہنستے، سنگ برساتے۔ امام سجادؑ کے پاؤں میں بیڑیاں تھیں، چلنا مشکل، تھکن حد سے سوا، مگر زبان سے شکایت نہیں۔ بایاں ہاتھ زخم خوردہ، گردن پر طوقِ آہن، اور جسم پر خون کی لکیریں۔ کوئی پوچھنے والا نہیں، کوئی ہمدرد نہیں۔

🕊 بچیاں جن کی کل زندگی قید بن چکی
چھوٹی چھوٹی بچیاں — جنہوں نے ابھی کھیلا بھی نہ تھا — بےیارو مددگار، خوف کے مارے اپنی پھوپھی زینبؑ سے لپٹی ہوئی۔ بی بی سکینہؑ کے چہرے پر وہ ویرانی، جو یتیمی کے ہر رنگ کو شرمندہ کر دے۔ آج 30 محرم کو بھی اس بچی کی آنکھیں اپنے بابا کو ڈھونڈتی رہیں۔

📢 بستیوں کے بازاروں میں طعنوں کی گونج
جہاں قافلہ جاتا، وہاں تماشا بنتا۔ یزیدی بھیڑ جمع ہوتی، طعنہ دیتی:
“یہ وہی لوگ ہیں جو یزید کے خلاف اٹھے تھے، انجام دیکھو!”
بی بی زینبؑ کی خاموشی میں طوفان چھپا تھا، مگر وقت آنے پر وہی زبان گرجے گی جیسے زلزلہ آئے گا۔

💔 آج بھی کوئی نہ بھوکا سمجھا، نہ پیاسا
نہ کسی نے پانی دیا، نہ کوئی بچے کے لیے روٹی لایا۔ بھوک میں بلکتے جسم، پیاس میں خشک ہوتیں زبانیں، اور سروں پر آگ کی دھوپ۔ امامؑ کے لبوں پر پھر بھی حمدِ خدا، شکرِ الٰہی، اور صبر کا جلال۔

🕊 زینبؑ کا سجدہ، زین العابدینؑ کا آنسو
رات کو جب سب سو جاتے، بی بی زینبؑ گوشۂ قید میں تنہا سجدہ کرتی، خاموشی سے اپنی غربت کا ذکر پروردگار سے کرتی۔ امام سجادؑ، جنہوں نے کربلا میں بھائیوں، چچاؤں، اور بابا کا لاشہ دیکھا، ان کی آنکھوں سے آج بھی وہی آنسو ٹپکتے جو قید کی دیواروں سے بھی ٹکرا کر سسکیوں میں بدل جاتے۔

🔗 ظلم کا بوجھ، صبر کا کوہِ ہمالیہ
30 محرم کو یزید کے قاصد، نئے نئے حکم لاتے۔ "ان عورتوں کو اور رسوا کرو، امام کو اور دکھ دو۔" مگر یہ کون سا قافلہ ہے؟ جنہیں جلتے سورج، بھوکی زمین، اور یزید کی فوج بھی جھکا نہ سکی۔ زنجیروں میں لپٹے مگر سچائی کے علمبردار۔

🕯 کربلا سے کوفہ، کوفہ سے شام، اور اب۔۔؟
راستہ لمبا ہے، دشمن درندہ صفت، مگر صبر علیؑ کے گھرانے کا زیور ہے۔ بی بیوں کے چہروں پر ستم کی دھول ہے، مگر عزت کا جلال باقی ہے۔
30 محرم کا دن بھی اس دکھ کا گواہ بن گیا، جو قیامت تک دلوں کو چیرتا رہے گا۔

😭 آخر میں ایک فریاد
اے میرے مولا حسینؑ، اے مظلومِ کربلا،
ہم نے آپ کو میدان میں اکیلا چھوڑا،
ہم نے آپ کے بچوں کے چہرے خاک آلود ہوتے دیکھے،
ہم آپ کی بہنوں کی چادر نہ بچا سکے،
ہم آپ کے بیٹے زین العابدینؑ کے زخم نہ دھو سکے۔۔۔
کاش ہم اُس قافلے کے ساتھ ہوتے۔۔۔
کاش ہمیں وہ قید، وہ زنجیر، وہ طعنہ ملتا۔۔۔
مگر آج صرف ماتم ہے، آنکھ ہے، آنسو ہے، اور شرمندگی ہے۔۔۔
بس اتنی دعاء ہے:
"یا حسینؑ ہمیں اپنے غم کا نوحہ گر بنا لے۔۔۔

التماس دعا، العبد الفقیر

24/07/2025

28 محرم – قافلہ اسیرانِ کربلا کا طویل، اذیت ناک سفر جاری

🌑 شام کا سفر... وہ سفر جس میں آفتابِ رسالت کے چراغ بجھ چکے تھے۔ کربلا میں خاک و خون کی داستان تحریر ہو چکی تھی۔ اب رہ گئی تھی اُن ہستیوں کی قید و بند کی کہانی، جنہوں نے ظلم سہہ کر بھی سر نہ جھکایا۔

🩸 28 محرم... وہ دن ہے جب شام کا سفر مزید گہرا، مزید کٹھن اور مزید بے رحم ہو گیا۔ یہ وہ دن ہے جب قافلہ اسیران، خستہ حالی، بھوک، پیاس، اور زنجیروں میں جکڑی گردنوں کے ساتھ، دھوپ زدہ راستوں سے گزارا جا رہا تھا۔

💔 قافلہ میں کون تھے؟

امام زین العابدین: جن کی کمر پر زنجیریں تھیں، اور جسم بخار میں تپ رہا تھا۔

بی بی زینب: جو ہر مقام پر حوصلے کا پہاڑ تھیں، مگر آنکھوں میں کربلا کا مقتل تھا۔

بی بی ام کلثوم، سکینہ، رباب، فاطمہ صغریٰ، عاتکہ... اور چھوٹے چھوٹے یتیم بچے — جو باپوں کی لاشیں پیچھے چھوڑ چکے تھے، اب زنجیروں کی چھاؤں میں روتے، بلکتے، پیاسے چل رہے تھے۔

😢 مظالم کا سلسلہ رُکا نہیں...

28 محرم کے دن بھی شام کے سپاہی راستے میں قافلے کو دکھ دینے کے نئے نئے طریقے اپناتے رہے۔

راستوں میں لوگ قافلے پر پتھر برساتے، طعنہ دیتے: "یہی ہیں وہ لوگ جنہوں نے سلطنت کے خلاف بغاوت کی۔"

کچھ لوگ روتے بھی تھے، مگر ان کی زبانیں بند تھیں۔ کوئی ہمدردی کرتا، تو گرفتار کر لیا جاتا۔

🥀 بی بی زینب کا حال...

بی بی کی آنکھیں کربلا کی طرف دیکھتی تھیں... ہر قدم پر اُن کے دل پر نیزے کی چبھن محسوس ہوتی۔
"اے عباس! اے علی اکبر! اے حسین! دیکھو تمہاری بہن کیسے بے کجاوہ اونٹ پر ہے... زین کے بغیر، پردہ کے بغیر، سرِبازار...!"

بی بی زینب قافلے کے ہر فرد کو دیکھتیں، زخمی بدن، ننگے سر، اور آنکھوں میں وہ کرب — جو کسی تاریخ نے مکمل لکھا ہی نہیں۔

🔥 ایک لمحہ ایسا بھی آیا...

راستے میں ایک جگہ اونٹ بیٹھ گیا۔

چھوٹی سکینہ نے پوچھا: "چچا! کیا ہم اب مدینے آ گئے؟"

امام سجاد کی آنکھیں بھر آئیں... سکینہ! ابھی شام کا بازار باقی ہے... ابھی یزید کا دربار باقی ہے...

🪢 زنجیروں کے زخم...

امام سجاد کی گردن پر جو طوق تھا، اُس کے نیچے سے خون رس رہا تھا۔

بیبیوں کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔

بچوں کے پاؤں زخمی تھے... اور وہ ننگے پاؤں، گرم زمین پر چلتے جا رہے تھے۔

📿 دعا کا لمحہ...

رات کا وقت... قافلہ کہیں جنگل میں رُکا۔
بخار میں تپتے امام سجاد نے زمین پر سجدہ کیا — زنجیریں چھنکیں، آنکھوں سے خون بہا، زبان پر تھا:

"اے میرے رب! اگر تُو راضی ہے، تو ہمیں کوئی غم نہیں...!"

بی بی زینب رات بھر جاگتی رہیں، چھوٹے بچوں کو تھپک تھپک کر سلایا... خود اُن کے چہرے پر سکون نہیں، صرف صبر کا رنگ تھا۔

🗣 لوگوں کے ردعمل:

کچھ لوگ آ کر بیبیوں سے پانی مانگتے، یہ سمجھے بغیر کہ یہ وہ ہیں جنہیں خود کئی دنوں سے پانی نہیں ملا۔

کچھ بچے قافلے کو دیکھ کر اپنے کھلونے چھپاتے... کیونکہ سکینہ جیسے بچے صرف زنجیروں سے کھیلتے تھے۔

📌 خلاصہ:

28 محرم... ایک اور دن ظلم کا۔
ایک اور دن زخموں کا۔
ایک اور دن جس نے قیامت کے مناظر کو زندہ کر دیا۔

یہ وہ دن ہے جس پر ہر ماتمی کو نوحہ پڑھنا چاہیے، ہر عاشق کو آنکھیں نم کرنی چاہئیں، اور ہر زبان پر صدائے مظلومیت ہونی چاہیے:

"السلام علیک یا زینبِ صبر، السلام علیک یا سجادِ زنجیر...!

التماس دعا، العبد الفقیر

23/07/2025

27 محرم الحرام — قافلۂ اہلِ بیت کا ایک اور ماتمِ دل خراش دن 🖤
(شیعہ تاریخی مصادر جیسے لُہوف، نفسِ المهموم، بحارالانوار وغیرہ کی بنیاد پر انتہائی تفصیلی، جذباتی اور نوحہ نما بیان)
🌄 صبحِ 27 محرم — ظلم کی ایک اور صُبح
صبح سویرے، کوفہ کی گلیوں میں قافلہ اب بھی سفر کر رہا تھا۔
بیبیاں زخمی، بے پردہ، خون بہا چکیں تھیں — اب فطرت تک نے سناٹا سجا لیا تھا۔
امام کا چہرہ سوختہ، آنکھوں میں سوجن، دل میں شہداء کا غم — یہ آنکھیں آج بھی داستان کہہ رہی تھیں۔
نہ سکینہ کی آہ، نہ رباب کا سرگوشی بھرا پیغام — صرف چپ اور بے بسی گر رہی تھی۔
🛤️ سفرِ ذلت — ایک اور ظلم بھرا راستہ
قافلہ ریگزاروں سے گزرتا رہا — پہلا راز وہاں بن گیا: ریت کی بوندوں پر خون کے قطرے۔
پاؤں زنجیروں میں جکڑے، بدن سلاخوں میں پھنسے، گھوڑوں کی ٹھوکر میں قدم ٹوٹتے رہے۔
امام ایک قدم پیچھے، ام المصائب بی بی زینب ایک قدم آگے — بچے پیچھے رہ گئے، سر جھکے، آنکھیں نم تھیں۔
لوگ دور سے ہاتھ دکھا کر بلاتے:
"یہ ساداتِ پیغمبر ہیں!"
مگر قربت آئی تو طعنہ اور پتھر Úڑا دیا گیا۔
💔 ایک معتبر روایت میں آتا ہے کہ:
"سکینہ ایک لاٹھی پر سر رکھ کر تھک گئی تھی… اُس نے پوچھا — ابو، ہمیں کہاں لے جایا جا رہا ہے؟ جواب نہ آیا۔"
🏘️ دوپہر کا بازار — خفت و رسوائی کا ایک اور المیہ
بازار میں لائے گئے:
امام کا علیل جسم
بی بی زینب کا سر بے پردہ
اسیر سکینہ
ام المصائب، رباب، ام کلثوم اور یتیم بچوں کا ہجوم
تماشائی ناراض نہیں، بلکہ خوش:
"یہ ہیں وہ قیدی؟ یہ ہیں ان کے وارث؟"
پتھر پڑے، کوڑے پھٹے — ایک عورت نے مجمع میں آ کر کہا:
"ان کا باپ کون؟ یزید نے اُن کے نصب العین کو مجبور کر دیا؟"
بی بی زینب کی آواز بلند ہوئی:
"لو دیکھو! ہم وہ ہیں جنہوں نے دین کی بقا کے لیے سب کچھ لٹا دیا—ہم شہداء کے وارث ہیں!"
شور گونجا، لوگ سسک اٹھے، چند نے قافلے کے سامنے ہاتھ جوڑے— مگر اکثر نے تنکے کی طرح نظر انداز کیا۔
🕌 شام کا دربارِ ابن زیاد — ظلم کی انتہا
قافلہ کو امام سمیت شامی دربار سے واپس کوفہ لایا گیا۔
یہ سفر قید و عذاب کا آخری مرحلہ تھا —
امام بیہوشی کے قریب تھے، لیکن ماتھے پر سجدے کے داغ نمایاں تھے۔
ام المصائب سہمی ہوئی، سکینہ بے ہوش،
بی بی زینب نے بچوں کو سینے سے لگایا — آنسووں بھری نظروں سے فضا کو سرخ کیا۔
👁️ روایت میں ہے:
**"جب امام نے سکینہ کو اٹھایا اور پوچھا 'کیا زینب قافلے میں ہے؟' تو سکینہ نے جواب دیا: 'ہاں ابو، مگر..."
یہ الفاظ مکمل نہ ہو پائے کیونکہ قافلے نے رستہ بدل لیا، اور خوف کی لہر نے سب کو گھیر لیا۔**
🌌 راتِ 27 — قید خانہ میں ماتمِ خاموش
بارہ شب بلکہ سیاہ رات…
بی بی نے ماتمی نالے جاری کیے۔
امام نے سکینہ کو سلاتے ہوئے دعا کی:
"یا حسین! ان شہید بچوں کا بھی آج ناصر تو ہے..."
رباب کا بیٹا، طفل نزار، ماں کی گود میں سو گیا — وہ مرنا نہیں جانتا تھا، مگر آنکھوں میں غم کی لہر تھی۔
بی بی زینب نے بچوں کو اللہ کا ذکر سکھایا—یعنی اس ایمانی درس کو زندہ رکھا جسے امام سجاد نے کوفہ و شام میں دیا۔
🔚 رات گزر گئی، مگر کانپتی خاموشی تھی — ایک مکبر نوحہ خانہ بن چکی تھی قید خانہ، جس میں صرف ذکرِ حسین سنائی دیتا تھا۔
🎯 27 محرم کا درس
عزت تب بھی زندہ رہتی ہے جب مقام سے محروم ہوں — اہلِ بیت نے ثابت کیا۔
ساجد اللیل قید میں بھی سجدوں سے نہ خشک ہوئے — عبادت کا راستہ ظلم سے مضبوط ہوتا ہے۔
جب ظلم حد سے تجاوز کر جائے، تب سچ کی آواز اٹھتی ہے — جیسے بی بی زینب نے 27 کوفہ میں دیا۔
🖤 ماتمِ 27 — پیغام اور سلام
السلام علیک یا زینب... سلام ہو آپ کی صبر کی چادر پر!
السلام علیک یا سکینہ... تمہاری بے بسی کو تاریخ سمیٹ لے گی!
السلام علیک یا امام زین العابدین... آپ کی خاموش صدا ظلم کی گرد کو ہلائے گی!
تمام مومنین و مومنات کو 27 محرم الحرام پر اہلِ بیت کے اہلِ مصائب سے تعزیت پیش کرتا ہوں۔
التماس دعا، العبد الفقیر


















Want your business to be the top-listed Government Service in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

The purpose of this page is to get Cognition Imam Hussian as

Cognition of Imam Hussian as, there is a survival of generations.

Location

Category

Address


Lahore
54850