Nida Chughtai
Nida Chughtai Women Rights
I am Advocate High Court Lahore
The Advocate newspaper
29/12/2025
طلاق کی صورت میں حقِ مہر غیر معجل (Deferred Dower) عورت کا شرعی اور قانونی حق ہوتا ہے۔ اگر شوہر طلاق دیتا ہے یا عدالت سے ڈگری طلاق/خلع جاری ہوتی ہے تو بیوی حقِ مہر غیر معجل کا مطالبہ کر سکتی ہے، بشرطیکہ وہ نکاح نامہ میں درج ہو۔ اس کے لیے بیوی فیملی کورٹ میں دعویٰ برائے وصولی حقِ مہر دائر کرتی ہے، نکاح نامہ، طلاق کے ثبوت اور دیگر متعلقہ دستاویزات پیش کی جاتی ہیں۔ عدالت شوہر کو نوٹس جاری کرتی ہے، شواہد ریکارڈ ہوتے ہیں، اور اگر حقِ مہر ثابت ہو جائے تو عدالت شوہر کے خلاف ڈگری برائے ادائیگی حقِ مہر جاری کر دیتی ہے۔ عدم ادائیگی کی صورت میں بیوی ایگزیکیوشن پٹیشن کے ذریعے شوہر کی تنخواہ، بینک اکاؤنٹ یا جائیداد سے ریکوری کروا سکتی ہے۔ عدالت کی ڈگری حتمی قانونی دستاویز ہوتی ہے اور اس پر عملدرآمد لازم ہوتا ہے، چاہے طلاق رجوعی ہو یا بائن، حقِ مہر غیر معجل بیوی کا قابلِ وصول حق برقرار رہتا ہے۔
Deferred Dower, Haq Mehr Law Pakistan, Divorce and Dower Rights, Family Court Procedure, Recovery of Haq Mehr, Nikah Nama Legal Value, Women Rights in Divorce, Family Laws Pakistan
Advocate Faheem Khokhar
باپ کا نافرمان بیٹے کو وراثت سے
محروم کرنے کی غرض سے جائیداد
کسی اور کو تحفہ کر دینا ایک غیر
قانونی اور غیر شرعی فعل ہے اور ایسے
تحفہ کی کوئی قانونی اہمیت نہ ہے ۔
2018 CLC 1535
2005 SCMR 135
دفعہ 7 مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کے تحت اگر کوئی شخص بیوی کو طلاق دیگا تو وہ اس کا نوٹس متعلقہ یونین کونسل کو دیگا جو 30 دن میں مصالحتی کونسل تشکیل دیگی ۔جو دونو ں کے درمیان راضی نامہ کی کوشش کرے گی .
ناکامی کی صورت میں 90 دن کے بعد طلاق موثر سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا ۔
جبکے ویسٹ پاکستان فیملی کورٹس ایکٹ 1964 کی دفعہ 21 (b) تنسیخ نکاح کی ڈگری کی صورت میں فیملی کورٹ ڈگری کی اطلا ع یونین کونسل کو دیگی ۔جو 90 دن بعد طلاق موثر سرٹیفیکٹ جاری کریگی
ہائی کورٹ ملتان بینچ نے ایک حالیہ فیصلہ میں قرار دیا ہے که محض تنسیخ ڈگری کی صورت میں طلاق نہ ہوگی ۔جب تک سرٹیفیکٹ نا ہو ۔اس کیس میں خاتون نے یکطرفہ تنسیخ ڈگری کے بعد شادی کر لی تھی ۔جس پر ایف ای آر درج ہوئی اور ہائی کورٹ نے طلاق سرٹیفیکٹ نہ ہونے کی بنا پر دوسرے نکاح کو غلط قرار دیا اور اس کے شوہر کی ضمانت خارج کردی
۔
ہماری نظر میں مذکورہ قانون کا مقصد طلاق کے باوجود میاں بیوی کا راضی نامہ کروانے کو کوشش کرنا ہے نہ کہ کسی کو سزا دینا ۔ویسے بھی مذکورہ قانون انگلش میں تحریر ہے جس کے بارے مے عام عوام کو آگاہی نہ ہونے کے برابر ہے ۔اگر سزائیں ہی دینا ہے تو پھر پہلے اس قانون کی اردو میں اخبارات و دیگر چینلز پر تشہیر کے جانا ضروری ہے ۔
طلاق سرٹیفیکٹ خاتون کسی بھی عارضی رہائش سے حاصل کرسکتی ہے ۔۔
Advocate Faheem Khokhar The Advocate The Advocate newspaper Advocate Nida Chughtai
Advocate Faheem Khokhar Advocate Nida Chughtai bin
12/12/2025
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Address
Lahore
54000
