21/02/2026
سید سلمان گیلانی کی رحلت کی خبر سے دل رنجیدہ وافسردہ ہے،آپ ہمارے خانوادے کے ایک فرد کی حیثیت رکہتے تھے.
مرحوم کو اللہ کریم نے سوز و گداز سے بھرپور آواز اور دلنشین طرزِ بیان عطا کیا تھا،وہ بلند پایہ شاعر،باکمال نعت خواں اور عمدہ نثرنگار ہونے کے ساتھ سچے عاشق رسول تھے، ان کے نعتیہ کلام سے لاکھوں لوگ مستفید ہوئے،رمضان المبارک کے مقدس ساعات میں ان کا سفر آخرت مرحوم کی بلندی درجات کا سبب بنے گا،اللہ کریم مرحوم کی خدمات کو قبول فرمائے۔
اہل خانہ سے اظہار تعزیت کے ساتھ ساتھ خود اور اپنی جماعت کو تعزیت کا مستحق سمجھتا ہوں،اللہ کریم اہل خانہ ،متعلقین اور ہم سب کو صبر جمیل عطاء فرمائے،آمین۔
16/02/2026
قائدِ جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب سعودی حکومت کی دعوت پر عمرہ کے لیے سعودی عرب روانہ۔
07/02/2026
اہم خبر !!
جےیوآئی صوبہ پنجاب نے مرکزی جماعت کی ہدایت پر 8 فروری کے یوم سیاہ کا پروگرام منسوخ کردیا.
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن صاحب نے اپوزیشن پہیہ جام ہڑتال کی مکمل حمایت کا اعلان کردیا ۔
06/02/2026
بی مریم کی بسنتی گورننس اور مسائل کی پتنگیں
نوفل ربانی
مرکز اور پنجاب میں مسلم لیگ کی حکومت مہنگائی کی ماری عوام پر بیرونی ایجنڈا مسلط کرنے کے لئے عقل وخرد کو حیران کررہی ہے چند دن پہلے اچانک ٹریفک قوانین کی آڑ میں بھاری چالانوں اور ملکہ عالیہ کی منشاء کے مطابق گاڑی نا چلانے پر مقدمات کے اندراج نے عوام کو تگنی کا ناچ نچادیا تھا اس سے قبل پیرا فورس لانچ کرکے ریڑھی بانوں چھوٹے کاروباری لوگوں کے منہ سے نوالہ چھینا گیا ۔ ۔
ابھی یہ جھٹکے پنجاب کی عوام سہہ رہی تھی کہ مزاج عالیہ میں بسنت منانے کی امنگ جاگی ۔اچانک سے بی مریم کو پنجابی تہوار بارے حساسیت جاگ گئی ۔۔
بسنت پر پابندی 25 سال قبل پرویز مشرف دور میں گورنر پنجاب جنرل خالد مقبول نے لگائی تھی اس پابندی کی وجہ ڈور پھرنے سے اور چھتوں سے گرنے کے واقعات میں ہوشربا اضافے کے بعد بسنت کا تہوار پنجاب م یں ممنوع قراردیا گیا تھا اعدادوشمار جو سرکاری اداروں یا پولیس انفارمیشن پر مبنی ہیں تقریبا 100 کے قریب ہلاکتیں قاتل ڈور پھرنے کی وجہ سے ہوئیں چونکہ ڈور پر مانجھا شیشہ کیمیکل کا استعمال کیا جاتا تھا کچھ اموات چھتوں سے گرنے کی وجہ سے بھی ہوئی تھیں اس بنا پر اس خونی کھیل پر پورے پچیس سال پابندی رہی یہ خونخوار تہوار کتنے ہی گھرانے ویران کرگیا سہاگ اجڑے بچے یتیم کرگیا ۔
ایسے تہوار کو بی مریم کی ٹک ٹاکر گورنمنٹ میں پھر سے منانے کے لئے ملک وقوم کا پیسہ شاہانہ انداز سے اڑایا جانے کا حکم نامہ جاری ہوچکا ہے اسمبلی تو جیسے فرمان شاہی کو قانونی حیثیت دینے کا ایک ٹول بن گئی ہے ۔" پنجاب ریگولیشن آف کائیٹ فلائینگ آرڈیننس "یہ گورنر سلیم حیدر خان نے جاری کیا جسے 24 دسمبر 2025 کو صوبائی اسمبلی میں پیش کیا گیا اور جسپر اپوزیشن نے سخت تنقید کی اور اس بل کو عوامی آزادیوں پر پابندی اور پولیس کو بے حد اختیارات دینا قراردیا ۔ اپوزیشن رکن پی ٹی آئی کے شیخ امتیاز محمود نے ہائی کورٹ میں اس قانون کے خلاف پٹیشن بھی دائر کی ہے ۔
بی مریم اور انکی نمودونمائشی ٹیم اس ڈریکولا تہوار کے جواز کے لئے جو دلیل دے رہی ہے وہ بھی بہت مضحکہ خیز ہے فرماتے ہیں کہ وزیراعلیٰ اور اطلاعات و ثقافت کے وزیر نے کہا ہے کہ بسنت پنجاب کی قدیم ثقافتی روایت ہے اور عوام کو موسمِ بہار کے جشن سے لطف اندوز ہونے کا موقع دینا چاہیے۔ وزیر اعلیٰ نے روشنی ڈالی کہ بسنت صدیوں سے موسم بہار کی آمد کے موقع پر منائی جاتی رہی ہے۔
قارئین کرام یہاں ہم آپکو بتاتے ہیں کہ بسنت کا یہ تہوار صدیوں پرانا ہو یا ہزاروں سال پرانا لیکن یہ ہمارا تہوار نہیں یہ ہندومت کا یا ہندووں کا تہوار ہے جسکا ہماری ثقافت یا تمدن سے کچھ بھی تو لینا دینا نہیں اگر ہندوانہ ڈریکولا تہواریں ہی منانا ضروری ہیں تو دوقومی نظریہ کہاں گیا ؟ کیا مسلمانوں نے صدیوں پورے برصغیر پر حکومت نہیں کی تو پھر ہندوستان کی تقسیم کیوں کی پاکستان کیوں بنایا سب اسی لئے تو کیا کہ ہماری اور ہندو تہذیب الگ الگ ہے اب بی مریم کو کیونکر ہندوانہ تہواروں کے احیا کی سوجھی ہے ؟
یہاں یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ بسنت منانے کے لئے جامع پلان بنایا گیا ہے اسکے مطابق تین دن کی چھٹی دی گئی ہے 6،7،8
موٹر سائیکلوں پر “سیفٹی وائر/اینٹینا” لازمی ہوگا، ورنہ حرکت کی اجازت نہیں۔ حکومت دس لاکھ حفاظتی تاریں مفت فراہم کرے گی تاکہ موٹر سائیکل سوار محفوظ رہیں۔ اسکے علاوہ اورنج لائن ٹرین میٹرو بسیں اور 500 دوسری بسیں شہر بھر میں مفت کردی جائیں گی دس ہزار کے قریب رکشے بطور شٹل سروسز چلائے گے اسکے علاوہ حیرت انگیز طور پر حکومتی پلان کی مخالفت کرنے والوں پر بھاری جرمانے اور قید کی سزائیں رکھی ہیں ۔
یہ جامع پلان پر جو کروڑوں کا سرمایہ لگ رہا ہے اور پولیس گردی کی جو راہیں کھول رہے ہیں کیا یہ سراسر عوام کے اصل مسائل تعلیم صحت روزگار سے توجہ ہٹانے کی کوشش نہیں آخر ایسی کیا آفت آن پڑی ہے کہ ایک ہندوانہ مہلک قاتل تہوار کے لئے اتنا تام جھام کیا جارہا ہے قرضوں میں جکڑی معیشت والی حکومتوں کا کیا یہی لچن ہوتے ہیں ؟
نوفل ربانی
06/02/2026
ہم اس حملے کی بھرپور مذمت کرتے ہیں ۔
جمعیت علماء اسلام یوسی 01 بیگم کوٹ لاہور
05/02/2026
درس قران
جمعیت علماء اسلام یوسی 01 بیگم کوٹ لاہور کے زیر اہتمام ۔
جامع مسجد طیبہ شمع کالونی بیگم کوٹ لاہور ۔
05/02/2026
8 فروری یوم سیاہ
جعل سازی کے خلاف جمعیت علماء اسلام میدان میں ۔
#فروری
JUI UC 01 Begumkot Lahore city
05/02/2026
کشمیر کمیٹی سے عالمی فورمز تک، مولانا فضل الرحمن کی سفارتی کاوشیں
تحریر: سہیل سہراب
ممبر ٹیم جے یو آئی | ممبر مرکزی کنٹینٹ جنریٹر رائٹرز گروپ
قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے کشمیر کا قیام 1993ء میں عمل میں آیا، جس کا مقصد مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا اور اس کے حل کے لیے سفارشات پیش کرنا تھا۔ اس کمیٹی کے پہلے چیئرمین نوابزادہ نصراللہ خان مقرر ہوئے، جبکہ بعد ازاں مختلف ادوار میں مختلف شخصیات نے یہ ذمہ داری نبھائی۔ 2008ء کے انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت نے مولانا فضل الرحمن کو 36 اراکین پر مشتمل اس کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا۔
2013ء کے انتخابات کے بعد وزیراعظم نواز شریف نے سات ماہ کے انتظار کے بعد مولانا فضل الرحمن کو دوبارہ کشمیر کمیٹی کا چیئرمین نامزد کیا اور اس عہدے کو وفاقی وزیر کے برابر درجہ دیا گیا۔
پارلیمانی کشمیر کمیٹی کی قیادت
مولانا فضل الرحمن نے کشمیر کمیٹی کو محض ایک رسمی ادارہ بنانے کے بجائے اسے ایک فعال پلیٹ فارم میں تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ ان کے دور میں کمیٹی کے اجلاس باقاعدگی سے منعقد ہوئے، کشمیری قیادت (حریت رہنما اور مہاجر کشمیری) کو سنا گیا، رپورٹس پارلیمنٹ میں پیش کی گئیں اور حکومتِ وقت پر دباؤ ڈالا گیا کہ کشمیر پالیسی کو متحرک بنایا جائے۔ یہ وہ وقت تھا جب عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر پس منظر میں جا رہا تھا۔
مولانا فضل الرحمن کی سربراہی میں ہونے والی میٹنگز کی تفصیل درج ذیل ہے:
2009: 17 میٹنگز
2010: 22 میٹنگز
2011: 13 میٹنگز
2012: 15 سے زائد میٹنگز
2013: 5 میٹنگز
2014: تقریباً 11 میٹنگز
2015: 8 میٹنگز
2016: 8 میٹنگز
2017: 5 میٹنگز
عالمی سطح پر سفارتی جدوجہد
مولانا فضل الرحمن کی جدوجہد کا ایک نمایاں پہلو بین الاقوامی سفارت کاری رہا۔ انہوں نے یورپی یونین، برطانیہ، ترکی، ا یران، سعودی عرب اور افغا نستان سمیت متعدد ممالک کے دورے کیے اور وہاں پارلیمنٹیرینز، مذہبی رہنماؤں اور تھنک ٹینکس سے ملاقاتیں کر کے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کیا۔ خصوصاً او آئی سی کے پلیٹ فارم پر انہوں نے مسلسل اس بات پر زور دیا کہ کشمیر کو مسلم دنیا کا اجتماعی مسئلہ سمجھا جائے، نہ کہ محض پاکستان اور بھارت کا دوطرفہ تنازع۔
مولانا فضل الرحمن نے کشمیر کے حوالے سے درج ذیل ممالک کی شخصیات سے ملاقاتیں کیں:
فرانس (5 نومبر 2008)
ا یران (12 جنوری 2009)
برطانیہ (2010 / 20 ستمبر 2012 بذریعہ خط)
بھا رت (19 اکتوبر 2011)
آسٹریلیا (20 اکتوبر 2011)
سعودی عرب (17 جنوری 2015)
5 اگست 2019ء کے بعد کا کردار
5 اگست 2019ء کو بھا رت کی جانب سے آرٹیکل 370 اور 35-A کے خاتمے کے بعد مولانا فضل الرحمن کا کردار مزید نمایاں ہوا۔ انہوں نے اس اقدام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا، آل پارٹیز کانفرنسز میں کشمیر کو مرکزی ایجنڈا بنایا، حکومت پر زور دیا کہ محض بیانات کے بجائے عملی سفارتی مہم چلائی جائے، اور کشمیری عوام سے یکجہتی کے لیے مارچز اور اجتماعات کی قیادت کی۔ ان کا واضح مؤقف تھا کہ کشمیر کا مسئلہ اب صرف علاقائی نہیں بلکہ انسانی حقوق کا عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کی کشمیر کمیٹی کی سربراہی پر تنقید ہوتی رہی۔ بعض حلقوں نے اسے علامتی قرار دیا اور کچھ نے عملی پیش رفت کو محدود کہا۔ تاہم تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ تنقید زیادہ تر ریاستی سطح کی مجموعی کمزوریوں کا عکس تھی، نہ کہ صرف چیئرمین کی ذاتی کوتاہی۔
تاریخ کی روشنی میں مولانا فضل الرحمن کی کشمیر کے لیے جدوجہد کو یوں سمیٹا جا سکتا ہے کہ انہوں نے کشمیر کو پارلیمانی اور عوامی بیانیے میں زندہ رکھا، عالمی فورمز پر مسئلہ اٹھانے میں تسلسل دکھایا اور مذہبی، سیاسی و سفارتی تینوں محاذوں پر آواز بلند کی۔ محدود اختیارات کے باوجود انہوں نے کشمیر کمیٹی کو غیر فعال نہیں ہونے دیا۔
اگر اس جدوجہد کو مکمل کامیابی یا ناکامی کے پیمانے پر پرکھا جائے تو یہ انصاف نہیں ہوگا۔ درست تجزیہ یہی ہے کہ انہوں نے اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے کشمیر کاز کو زندہ، متحرک اور عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش جاری رکھی۔ تاریخ انہیں ان رہنماؤں میں شمار کرے گی جنہوں نے مشکل عالمی حالات کے باوجود کشمیر کے حق خودارادیت کی آواز دبنے نہیں دی۔
05/02/2026
جمعیت علماء اسلام کے کارکنان قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمان صاحب کے حکم پر ملک بھر میں 8 فروری کو یومِ سیاہ منائیں۔
ہر شہر میں جلسے منعقد کیے جائیں، ریلیاں نکالی جائیں اور پریس کلبوں کے سامنے بھرپور اور پُرامن احتجاج ریکارڈ کرایا جائے۔ یومِ سیاہ کو منظم اور مؤثر انداز میں کامیاب بنا کر اس بات کا عملی ثبوت دیا جائے کہ 8 فروری کو الیکشن کے نام پر جو ڈرامہ رچایا گیا وہ قوم کے لیے ناقابل قبول ہے۔
فارم سینتالیس کے ذریعے الیکشن کمیشن اور مقتدر قوتوں کی ملی بھگت سے کامیاب امیدواروں کو ہرایا گیا اور ناکام امیدواروں کو کامیاب قرار دیا گیا، جو عوامی مینڈیٹ پر کھلا ڈاکا ہے۔
8 فروری کا دن پاکستان کی انتخابی تاریخ میں الیکشن کمیشن کے چہرے پر ایک بدنما داغ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
قائد جمعیت کی اپیل پر تمام کارکنان اللہ پر توکل کرتے ہوئے، پُرامن، منظم اور پرجوش انداز میں یومِ سیاہ کو بھرپور کامیاب بنائیں اور حق، آئین اور جمہوریت کے لیے اپنی آواز بلند کریں۔
مولانا عبدالغفورحیدری
مرکزی سیکرٹری جنرل جمعیت علمائے اسلام پاکستان
05/02/2026
8 فروری یوم سیاہ ۔
جعل سازی کے خلاف
جمعیت علماء اسلام میدان میں۔