PML-N Tehsil Ghazni Khel LM

PML-N Tehsil Ghazni Khel LM Ex General councler.political activist...
proud to be pakistani.

04/10/2026

جیوے سی ایم صاحبہ۔۔اصلی اور نسلی سیاستدان میں یہی تو فرق ھوتا۔۔نیازی جیسے بد نسل اور کم ظرف سے اور کیا توقع کر سکتے ھیں۔۔پاکستان پائندہ اباد ۔۔۔پاکستان مسلم لیگ ن ۔زندہ اباد۔۔۔




29/09/2026

پرانی یادیں جب پنکی اور گنڈہ پور بھاگنے میں کامیاب ھوئے تھے۔,,,😝😝😋😋😋🤣🤣




19/09/2026

this real or fake..somebody explain.plzz

السلام علیکم ۔۔دوستوں کیسے ھیں امید ھے خیریت سے ھوں گے۔۔خداوند کریم ھم سب کا حامی وناصر ھو امین ثم امین
15/09/2026

السلام علیکم ۔۔دوستوں کیسے ھیں امید ھے خیریت سے ھوں گے۔۔خداوند کریم ھم سب کا حامی وناصر ھو
امین ثم امین

‏سب سے زیادہ بےحیا قوم لوط علیہ سلام کی قوم تھی یہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں میں دلچسپی رکھتے تھے خاص کر مسافروں میں سے کو...
07/09/2026

‏سب سے زیادہ بےحیا قوم لوط علیہ سلام کی قوم تھی یہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں میں دلچسپی رکھتے تھے
خاص کر مسافروں میں سے کوئی خوبصورت لڑکا ہوتا تو یہ لوگ اسے اپنا شکار بنا لیتے طلموت میں لکھا ہے
کہ اہل سدوم اپنی روز مرہ کی زندگی میں سخت ظالم دھوکہ باز اور بد معاملہ تھے
کوئی مسافر ان کے علاقے سے بخیریت نہیں گزر سکتا تھا
کوئی غریب ان کی بستیوں سے روٹی کا ایک ٹکڑا نہ پا سکتا تھا۔
کئی مرتبہ ایسا ہوتا تھا کہ باہر کا آدمی ان کے علاقے میں پہنچ کر فاقوں سے مر جاتا تھا اور یہ لوگ اس کے کپڑے اتار کر اس کی لاش کو برہنہ دفن کر دیتے۔ اپنی وادی کو انہوں نے ایک باغ بنا رکھا تھا
۔ جس کا سلسلہ میلوں تک پھیلا ہوا تھا اس باغ میں وہ انتہائی بے حیائی کے ساتھ اعلانیہ بد کاریاں کرتے تھے۔

حضرت لوط علیہ السلام نے انہیں توحید کی دعوت دی اور بدکاری کے اس گھناونے عمل سے توبہ کرنے کا حکم دیا۔
حضرت لوط نے کہا تم یہ کیوں کرتے ہو کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر لذت حاصل کرنے کے لیے مرد کی طرف مائل ہوتے ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ تم احمق لوگ ہو۔ تو پھر حضرت لوط اہل سدوم کو دن رات وعظ و نصیحت کیا کرتے تھے۔ لیکن اس قوم پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا۔
بلکہ وہ بدنصیب بہت فخریہ انداز میں یہ کام کرتے تھے انہیں حضرت لوط کا سمجھانا بھی برا لگتا تھا
لہذا انہوں نے صاف صاف کہہ دیا کہ اگر تم ہمیں اسی طرح بھلا کہتے رہے اور ہمارے کاموں میں مداخلت کرتے رہے
تو ہم تمہیں اپنے شہر سے نکال دیں گے۔ حضرت لوط نے نصیحت و تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا۔
لہذا ایک دن اہل سدوم نے خود ہی عذاب الہی کا مطالبہ کر دیا۔
اللہ تعالی نے اب تک ان کے اس بدترین عمل فحاشی اور بدکاری کے باوجود ڈھیل دے رکھی تھی۔
لیکن جب انہوں نے حضرت لوط علیہ السلام سے ایک دن کہا
کہ اگر تم سچے ہو تو ہم پر عذاب لے آؤ۔
لہذا ان پر عذاب الہی کا فیصلہ ہوگیا۔
اللہ نے اپنے خاص فرشتوں کو دنیا کی طرف روانہ کر دیا۔ یہ فرشتے دراصل حضرت میکائیل، اور جبرائل علیہ السلام تھے
پھر یہ فرشتے حضرت لوط علیہ السلام کے گھر تشریف لے آئے۔
حضرت لوط نے جب ان خوبصورت نوعمر لڑکوں کو دیکھا تو سخت گھبراہٹ اور پریشانی میں مبتلا ہوگئے۔
انہیں یہ خطرہ محسوس ہونے لگا کہ اگر ان کی قوم کے لوگوں نے انہیں دیکھ لیا۔
تو نہ جانے وہ انکے ساتھ کیا سلوک کریں گے۔ حضرت لوط کی بیوی کا نام وائلہ تھا
اس نے آپ پر ایمان نہیں لایا تھا
اور وہ دراصل منافقہ تھی۔ وہ کافروں کے ساتھ تھی لہذا اس نے جاکر اہل سدوم کو یہ خبر دے دی۔
کہ لوط کے گھر دو نوجوان لڑکے مہمان ٹھہرے ہوئے ہیں
یہ سن کر بستی والے دوڑتے ہوئے۔ حضرت لوط کے گھر پہنچے
حضرت لوط نے کہا کہ یہ جو میری قوم کی لڑکیاں ہیں
یہ تمہارے لیے جائز اور پاک ہیں اللہ سے ڈرو مجھے میرے مہمانوں کے سامنے رسوا نہ کرو۔
کیا تم میں سے کوئی بھی شائستہ آدمی نہیں،؟
حضرت لوط علیہ السلام کی بات سن کر وہ لوگ بولے
تم بخوبی واقف ہو کہ ہمیں تمہاری بیٹیوں سے کوئی حاجت نہیں
اور جو ہماری اصل چاہت ہے اس سے تم بخوبی واقف ہو۔
قوم لوط کے اس شرم سار جواب سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے
کہ وہ فعل بد میں کس حد تک مبتلا ہو چکے تھے
جب حضرت لوط علیہ السلام کی قوم ان کے گھر کی طرف دوڑتی ہوئی آئی تو حضرت لوط نے گھر کے دروازے بند کر دیے اور ان نوجوانوں کو ایک کمرے میں چھپا دیا۔
ان بدکار لوگوں نے آپ کے گھر کا گھیراؤ کیا ہوا تھا
اور ان میں سے کچھ گھر کے دیوار پر بھی چڑھنے کی کوشش کر رہے تھے
حضرت لوط علیہ السلام اپنے مہمانوں کی عزت کے خیال سے بہت زیادہ گھبرائے ہوئے تھے فرشتے یہ سب منظر دیکھ رہے تھے جب انہوں نے حضرت لوط علیہ السلام کی بے بسی اور پریشانی کا یہ عالم دیکھا۔ تو حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے یوں فرمایا۔
اے لوط ہم تمہارے رب کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں
یہ لوگ ہرگز تم تک نہیں پہنچ سکیں گے
۔ ابھی کچھ رات باقی ہے تو آپ اپنے گھر والوں کو لے کر چل دو
اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔
اہل سدوم حضرت لوط علیہ السلام کے گھر کا دروازہ توڑنے پر بضد تھے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے گھر سے باہر نکل کر اپنے پر کا ایک کونا انہیں مارا۔
جس سے ان کی آنکھوں کے ڈھیلے باہر نکل آئے
اور بصارت ظاہر ہوگئی
یہ خاص عذاب ان لوگوں کو پہنچا۔ جو حضرت لوط کے پاس بدنیتی سے آئے تھے۔ حضرت لوط علیہ السلام حقیقت حال جان کر مطمئن ہو گئے
اور اپنے گھر والوں کے ساتھ رات کو ہی نکل کھڑے ہوئے۔
لیکن پھر بھی ان کی بیوی ان کے ساتھ تھی لیکن کچھ دور جا کر وہ واپس اپنے قوم کی طرف پلٹ گئی اور قوم کے ساتھ جہنم واصل ہو گئی۔
صبح کا آغاز ہوا تو اللہ کے حکم سے حضرت جبرئیل نے بستی کو اوپر سے اکھاڑ دیا اور پھر اپنے بازو پر رکھ کر آسمان پر چڑھ گئے یہاں تک کہ آسمان والوں نے بستی۔۔۔
‏کے کتے کے بھونکنے اور مرغوں کے بولنے کی آوازیں سنیں
۔ پھر اس بستی کو زمین پر دے مارا جس کے بعد ان پر پتھروں کی بارش ہوئی۔
ہر پتھر پر مرنے والے کا نام لکھا ہوا تھا۔
جب یہ پتھر ان کو لگتے تو ان کے سر پاش پاش ہوجاتے۔
صبح سویرے شروع ہونے والا
یہ عذاب اشراک تک پوری بستی کو نیست و نابود کر چکا تھا
قوم لوط کی ان خوبصورت بستیوں کو اللہ نے ایک انتہائی بد بو دار
اور سیاہ جیل میں تبدیل کردیا۔ جس کے پانی سے رہتی دنیا تک کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا۔
سمندر کے اس حصے میں کوئی جاندار مچھلی، مینڈک وغیرہ زندہ نہیں رہ سکتے۔ اس لیے اسے ڈیڈ سی یعنی بحرے مردار کہا جاتا ہے
جو اسرائیل اور اردن کے درمیان واقع ہے۔ ماہرین آثار نے دس سالوں کی تحقیق و جستجو کے بعد اس تباہ شدہ شہر کو دریافت کیا تھا۔
تحقیقات سے پتہ چلا تھا کہ اس شہر میں زندگی بالکل ختم ہو چکی ہے۔
شہر کے راستے اور کھنڈرات کو دیکھ کر ارکلوجسٹ نے یہ اندازہ لگایا
کہ جب یہ شہر تباہ ہوا تو اس وقت لوگ روزمرہ کے معاملات اور کاموں میں مشغول تھے
اور یہاں زندگی اچانک ختم ہو گئی تھی

اہل سدوم جنہیں پتھر بنا دیا گیا تھا۔ ان کے بت ابھی تک بحیرہ مردار کے پاس موجود ہیں جو لوگوں کے لیے ایک عبرت ہے
آج یورپی ممالک میں انسانی آزادی کے نام پر اس بدکاری کی اجازت دی جاتی ہے
اور اس فحش عمل کو باعث فخر سمجھا جاتا ہے
روایتوں کے مطابق ایک مرتبہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے شیطان سے پوچھا کہ اللہ کے نزدیک سب سے بدترین عمل کیا ہے ابلیس بولا جب مرد مرد سے بدفعلی کرے اور عورت عورت سے خواہش پوری کرے!
اور مجھے شرم آتی ھے یہ کہتے ھوئے کہ
آج ھمارے معاشرے میں یہی سب چل رہا ہے بلکہ اس قبیح کام کو قانون کی سر پرستی حاصل ہے ۔۔۔
اللہ ھماری دنیاوی اور اخروی زندگی کو بہتر بنانے کی عقل و عمل عطاء فرمائے ۔۔۔امین ثم امین

04/09/2026

مہاتما کہ پیرو کاروں زرا غور سے سن لیں ۔۔یہ مولانا صاحب کیا فرما رہے ہیں ۔۔ابھی بھی وقت ہے اس فتنہ سے اپنے اور اپنے اھل و عیال کو محفوظ رکھیں ۔

04/09/2026

آزادی سے غلامی تک:
عمران خان کرکٹ کھیل رہا تھا اور پاکستان بالکل آزاد تھا۔ عمران خان شوکت خانم ہسپتال کے لیے میاں نواز شریف سے پچاس کروڑ روپے وصول کر رہا تھا، پاکستان تب بھی آزاد تھا۔ نمل کالج میانوالی کے لیے شہباز شریف سے ایکڑوں کے حساب سے زمین الاٹ کروا رہا تھا، پاکستان مکمل آزاد تھا۔ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سپریم کورٹ کے منصب پر بیٹھ کر اپنے حواریوں سمیت کھلے عام سیاست فرما رہے تھے، اور ملکِ خداداد مکمل آزاد تھا۔
پرویز مشرف کے "تاریخی" ریفرنڈم میں عمران خان چیف پولنگ ایجنٹ کے فرائض سرانجام دے رہے تھے، پاکستان کی آزادی پر کوئی حرف نہیں آیا تھا۔ خان صاحب کی درخواست پر وزیراعظم نواز شریف بنی گالہ کی سڑک بنوانے کاحکم جاری کر رہے تھے، آزادی اپنے عروج پر تھی۔
عمران خان دھرنے دے رہا تھا، پی ٹی وی اور پارلیمنٹ پر حملے کر رہا تھا ، پاکستان آزاد تھا ۔
خان صاحب عائلہ ملک کو پلیژر پوائنٹس پر ہوشربا لیکچر دے رہے تھے، پاکستان آزاد تھا ۔
پھر عمران خان کو کرسیِ اقتدار پر بٹھانے کے لیے جنرل فیض حمید ٹتحریکِ انصاف کےٹکٹ تقسیم کر رہے تھے، پاکستان تب بھی آزاد تھا۔
2018 کے انتخابات میں رات کی تاریکی میں آر ٹی ایس بٹھایا جا رہا تھا، پاکستان آزاد تھا۔ جہانگیر ترین اراکینِ اسمبلی کی "خریداری" کر کے انہیں اپنے ذاتی جہاز میں بھر بھر کر لا رہے تھے، ملک پوری طرح آزاد تھا۔ خان صاحب وزیراعظم بن کر توشہ خانے کے تحائف فروخت کر رہے تھے، پاکستان آزاد تھا۔ حکومت کی باگ ڈور عملی طور پر جنرل باجوہ، فیض حمید اور کرنل لیاقت سنبھالے ہوئے تھے، ملک آزاد تھا۔ وزیراعظم روزانہ سرکاری ہیلی کاپٹر کے جھولے لے رہے تھے، پاکستان پھر بھی آزاد تھا۔
عمران خان کے دورِ حکومت میں فوجی عدالتیں سویلینز کو سزائیں سنا رہی تھیں، پاکستان آزاد تھا۔ عثمان بزدار، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور پنکی پیرنی نے مل کر لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا تھا، لیکن آزادی برقرار تھی۔ خان صاحب تین سال کی توسیع کا پروانہ طشتری میں سجا کر جنرل باجوہ کو پیش کر رہے تھے، پاکستان بالکل آزاد تھا۔
خان صاحب نو مئی کو فوجی تنصیبات اور شہداء کی یادگاروں پر جلاؤ گھیراؤ کرو رہا تھا، پاکستان آزاد تھا ۔
اور جب اپنے ہی خلاف تحریکِ عدم اعتماد آئی تو خان صاحب اسمبلی میں ووٹنگ سے صاف مکر رہے تھے، تب بھی ملک آزاد تھا۔
پھر سپریم کورٹ نے مداخلت کی، عدم اعتماد پر ووٹنگ ہوئی اور خان صاحب اسمبلی کا اعتماد کھو کر اقتدار سے باہر ہو گئے۔ بس عین اسی لمحے... یکایک خان صاحب پر یہ الہام نازل ہوا کہ: "اوہو! پاکستان تو غلام ہے!"😂😂😂😂😂😂😂

04/09/2026

بے شک اللہ تعالیٰ ھر چیز پر قادر ہے اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا اور آخرت کی کامیابی عطاء فرمائے آمین ۔۔

31/08/2026

آپریشن گولڈ سمتھ کیا ہے۔۔اسے سمجھیں۔۔پی ٹی آئی کے جتنے بھی سیاست دان ہیں اور ان کے سہولت کار اسی میں شامل ھیں۔۔دنیا میں برطانیہ واحد ملک ہے جو اسرائیلی لابی کے لیے سب سے زیادہ متحرک نظر آتا ہے۔۔



゚viralシ

Address

Mela Mandra Khel
Lakki

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when PML-N Tehsil Ghazni Khel LM posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share