Ilm Sarai

Call Website Contact the organization

Ilm Sarai -Daily Islamic History

فتح بیت المقدس بیت المقدس (یروشلم) پہلی بار سیدنا عمر بن خطابؓ کے عہدِ خلافت میں 15ھ/636ء میں فتح ہوا۔ اسی دور سے ہی یور...
02/10/2026

فتح بیت المقدس

بیت المقدس (یروشلم) پہلی بار سیدنا عمر بن خطابؓ کے عہدِ خلافت میں 15ھ/636ء میں فتح ہوا۔ اسی دور سے ہی یورپ کے تمام عیسائی اس مقدس شہر کو واپس لینے کی تگ و دو میں تھے۔ 1095ء میں پہلی صلیبی جنگ کا آغاز ہوا اور 15 جولائی 1099ء کو صلیبی کمانڈر "بالدوین اوّل" نے شہر پر قبضہ کر کے مسلم شہریوں کو موت کے گھاٹ اتارا۔ 1044ء میں "دوسری صلیبی جنگ" شروع ہوئی لیکن مسلمان بیت المقدس تک نہ پہنچ سکے۔ 1186ء میں صلیبیوں نے پھر سے مسلمانوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا لیکن اس بار 4 جولائی 1187ء کو صلاح الدین ایوبی نے "ریمنڈ ثالث طرابلسی" کو "جنگِ حطین" میں شکست دی۔ اس جنگ میں کثیر صلیبی فوجی مارے گئے۔ اس کے بعد جو صلیبی فوجی بچ گئے انہوں نے یروشلم شہر کے اندر پناہ لے لی۔ ان پناہ گزین صلیبی فوجیوں کا سربراہ "بالین آیبالین" تھا۔ صلاح الدین نے یروشلم شہر کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے 20 ستمبر 1187ء کو شہر کا محاصرہ کر لیا۔ یروشلم شہر میں چونکہ صلیبی فوج بھی کم تھی اس لیے انہوں نے صلاح الدین سے معاہدہ کیا۔ یہ معاہدہ اس لیے کیا گیا تا کہ عیسائی عوام خیریت سے یروشلم شہر سے نکل سکے۔ بہرحال یہ محاصرہ 12 دن جاری رہا اور بالآخر 2 اکتوبر 1187ء کو یروشلم شہر کو مسلمانوں نے 92 سال بعد دوبارہ فتح کر لیا۔ ایوبی فوج نے شہر میں داخل ہو کر تمام عیسائی عوام کے لیے عام معافی کا اعلان کیا۔

.
..
...

11/09/2026
جنگ عین الجالوت (Battle of Ain Jalut)1227ء میں چنگیز خان کی وفات کے بعد اس کی اولاد نے چنگیزی فتوحات اور تباہ کاریوں کا ...
03/09/2026

جنگ عین الجالوت (Battle of Ain Jalut)

1227ء میں چنگیز خان کی وفات کے بعد اس کی اولاد نے چنگیزی فتوحات اور تباہ کاریوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ منگول افواج نے وسیع علاقوں کو روند کر مسلم دنیا کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ 1258ء میں ہلاکو خان کی فوج نے بغداد پر قبضہ کرکے عباسی خلافت کا خاتمہ کر دیا۔ اس کے بعد منگولوں نے شام کا رخ کیا اور حلب و دمشق سمیت کئی اہم علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ 1260ء میں منگول فوج فلسطین تک پہنچ گئی اور اس کے بعد مصر کی طرف پیش قدمی کا ارادہ کیا۔ اگر مصر بھی منگولوں کے قبضے میں آ جاتا تو عالمِ اسلام کے لیے ایک نہایت سنگین خطرہ پیدا ہو سکتا تھا۔ اس خطرے کو روکنے کے لیے مصر کے مملوک سلطان سیف الدین قطز نے ایک لشکر تیار کیا، جس کی قیادت عظیم سپہ سالار رکن الدین بیبرس کر رہے تھے۔ ہلاکو اپنی بعض مصروفیات کے باعث واپس تبریز چلا گیا اور اس نے منگول فوج کی کمان کتبغا کے سپرد کر دی۔ 25 رمضان 658ھ، بمطابق 3 ستمبر 1260ء، دونوں افواج فلسطین کے علاقے الخلیل میں عین جالوت کے میدان میں آمنے سامنے ہوئیں۔ گھمسان کی جنگ کے بعد مسلمانوں نے فیصلہ کن فتح حاصل کی اور کتبغا بھی مارا گیا۔ اس فتح نے منگولوں کی پیش قدمی روک دی اور مصر، شام اور شمالی افریقہ کو منگول خطرے سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔




آج پاکستان کے سب سے بڑے کوئز ماسٹر/کوئز شو میزبان "طارق عزیز مرحوم" کا یومِ وفات ہے۔17 جون 2020ء کو ان کی وفات کے موقع پ...
17/06/2026

آج پاکستان کے سب سے بڑے کوئز ماسٹر/کوئز شو میزبان "طارق عزیز مرحوم" کا یومِ وفات ہے۔

17 جون 2020ء کو ان کی وفات کے موقع پر کہا گیا میرا ایک قطعہ ملاحظہ کیجیے

اردو زبان ہو گئی اک بار پھر یتیم
صدمہ یہ کم نہیں کوئی سمجھے تو میرے رب
اک ایک کر کے سارے بچھڑنے لگے بڑے
پہلے جناب یوسفی، طارق عزیز اب

ابوسفیان

16/06/2026
یومِ شہادتِ امیر المومنین عمر بن الخطاب جہانگیری بخاک ما سرشتندامامت در جبین ما نوشتند درون خویش بنگر آں جہاں راکہ تخمش...
12/06/2026

یومِ شہادتِ امیر المومنین عمر بن الخطاب

جہانگیری بخاک ما سرشتند
امامت در جبین ما نوشتند

درون خویش بنگر آں جہاں را
کہ تخمش در دل فاروق کشتند

مسلمان قوم کی فطرت میں بادشاہی اور انکی پیشانی میں امامت لکھ دی گئی ہے۔ اس کے ثبوت کے لیے اے مسلمان اپنے اندر اس جہان کو دیکھ جس کا بیج حضرت عمر فاروق ؓ کے دل میں بویا گیا۔ یعنی کہ جس طرح سیدنا عمر بن الخطابؓ نے روم و فارس کی فرسودہ و ظالم سلطنت کو نگوں کر کے ایک فلاحی و مثالی ریاست قائم کی، بالکل وہی صلاحیت اللّٰہ نے پوری امتِ مسلمہ میں رکھی ہے، بشرطیکہ امتِ مسلمہ اپنی خدادا صلاحیت پہچان لے۔

• حوالۂ قطعہ: ارمغانِ حجاز (حصہ فارسی) از اقبال

• یومِ شہادت کے لیے حوالہ دیکھیں:
الفارق از شبلی نعمانی، صفحہ-153، مطبوعہ- مکتبہ اسلامیہ، لاہور





مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ، فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ"حضرت سعد بن ابو وقاصؓ سے روایت ہے کہ ایک بار امعاویہؓ حج کے لیے تشریف لائے تو...
04/06/2026

مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ، فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ"

حضرت سعد بن ابو وقاصؓ سے روایت ہے کہ ایک بار امعاویہؓ حج کے لیے تشریف لائے تو سعدؓ ان کے پاس ( ملاقات کے لیے ) گئے ۔ دورانِ گفتگو سیدنا علیؓ کا ذکر چھڑا تو معاویہؓ نے ان کے متعلق کچھ سخت الفاظ کہے۔

سیدنا سعدؓ اس بات پر غصے میں آ گئے اور فرمانے لگے: آپ ایسے شخص کے بارے میں یہ بات کہہ رہے ہیں جس کے متعلق میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے:

"جس کا مولا میں ہوں ، علیؓ بھی اس کا مولا ہے۔"

اور میں نے آپ ﷺ سے سنا کہ آپ نے ( علیؓ سے ) فرمایا: 

"تیرا مجھ سے وہی تعلق ہے جو ہارون کا موسیٰ سے تھا ، البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔"

اور خیبر کے موقع پر میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا:

"آج میں پرچم اس شخص کو دوں گا جو اللّٰہ سے اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے، پھر وہ پرچم علیؓ کو ملا۔"

-•( بحوالہ۔ سنن ابنِ ماجہ، حدیث 121 )•-





سیّدنا الاِمَام عَلي (کرّم الله وجہہ) نے فرمایا :"اللہ میدان و کُہسار، خشکی و تری میں قاتلانِ عُثمان پر لعنت کرے (یعنی ع...
30/05/2026

سیّدنا الاِمَام عَلي (کرّم الله وجہہ) نے فرمایا :

"اللہ میدان و کُہسار، خشکی و تری میں قاتلانِ عُثمان پر لعنت کرے (یعنی عثمان رضي اللہ عنہ کے قاتلین رُوئے زمین پر جہاں کہیں بھی ہوں، اُن پر اللہ کی لعنت ہو۔)۔





قسطنطنیہ — یورپ اور ایشیا کے سنگم پر واقع وہ تاریخی شہر جسے یونانیوں نے “بازنطیم” کے نام سے آباد کیا، بعد ازاں رومی شہنش...
29/05/2026

قسطنطنیہ — یورپ اور ایشیا کے سنگم پر واقع وہ تاریخی شہر جسے یونانیوں نے “بازنطیم” کے نام سے آباد کیا، بعد ازاں رومی شہنشاہ قسطنطین اعظم نے اسے اپنا دارالحکومت بنایا اور یہ “قسطنطنیہ” کہلایا۔ اپنی جغرافیائی و عسکری اہمیت کے باعث اس شہر پر مختلف اقوام نے 36 حملے کیے، جبکہ مسلمانوں نے 11 بار اسے فتح کرنے کی کوشش کی۔

655ء سے لے کر عثمانی دور تک کئی مسلم حکمرانوں نے اس عظیم شہر کا محاصرہ کیا، مگر بالآخر 29 مئی 1453ء کو سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ فتح کر کے ایک ہزار سالہ بازنطینی سلطنت کا خاتمہ کر دیا۔

سلطان نے باسفورس کے یورپی ساحلوں پر قسطنطنیہ سے پانچ میل پر ایک زبردست قلعہ "رومیلی حصار" تعمیر کیا، عظیم توپ خانہ تیار کروایا، اور تاریخ کا حیرت انگیز کارنامہ انجام دیتے ہوئے 80 جہاز خشکی پر چلا کر بندرگاہ میں اتار دیے۔ شدید جنگ کے بعد شہر فتح ہوا، قسطنطین یازدہم (Constantine XI) مارا گیا، اور پہلی بار آیا صوفیہ میں صدائے توحید بلند ہوئی۔

فتح کے بعد سلطان نے قتلِ عام رکوا کر عیسائی عوام کو امان دی اور قسطنطنیہ کو عثمانی دارالحکومت بنا دیا، جو بعد میں “استنبول” کہلایا۔





آج سلطنتِ عثمانیہ کے آخری حکمران سلطان وحید الدین محمد ششم کی 100ویں برسی ہے۔سلطنتِ عثمانیہ کے آخری فرمانروا سلطان محمد ...
16/05/2026

آج سلطنتِ عثمانیہ کے آخری حکمران سلطان وحید الدین محمد ششم کی 100ویں برسی ہے۔

سلطنتِ عثمانیہ کے آخری فرمانروا سلطان محمد ششم وحید الدین 14 جنوری 1861ء کو استنبول میں پیدا ہوئے۔ وہ سلطان عبدالمجید اول کے بیٹے تھے اور عثمانی خاندان کے اُن شہزادوں میں شمار ہوتے تھے جنہوں نے سلطنت کے زوال کا دور قریب سے دیکھا۔ 1918ء میں، پہلی جنگِ عظیم کے اختتام پر، اپنے بھائی سلطان محمد پنجم کے انتقال کے بعد تختِ عثمانی پر بیٹھے۔ اس وقت سلطنت شکست، معاشی بدحالی اور بیرونی دباؤ کا شکار تھی جبکہ اتحادی افواج استنبول پر قابض ہو چکی تھیں۔

سلطان محمد ششم نے سلطنت کو بچانے کے لیے سفارتی کوششیں کیں، مگر حالات ان کے اختیار سے باہر تھے۔ اگست 1920ء میں سلطان کے نمائندوں نے "معاہدہ سیورے" پر دستخط کئے اور اس کے نتیجے میں "ازمیر" اور "اناطولیا" عثمانی سلطنت سے نکل گئے۔ اس کے علاوہ "حجاز"  کو بھی آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنا پڑا۔

انہی کے دور میں مصطفیٰ کمال پاشا کی قیادت میں ترک علیحدگی پسند قومی تحریک ابھری، جس نے بعد ازاں جدید ترکی کی بنیاد رکھی۔ اگرچہ بعض حلقے سلطان کو کمزور حکمران قرار دیتے ہیں، لیکن ان کے حامیوں کے نزدیک وہ ایک مجبور سلطان تھے جو بکھرتی ہوئی سلطنت کو سنبھالنے کی کوشش کر رہے تھے۔

یکم نومبر 1922ء کو ترک قومی اسمبلی نے سلطنتِ عثمانیہ کے خاتمے کا اعلان کر دیا، اور یوں چھ صدیوں پر محیط عثمانی اقتدار اپنے انجام کو پہنچا۔ اس کے بعد مصطفیٰ کمال کی حکومت نے سلطان اور ان کے خاندان کو نا پسندیدہ شخصیات (Persona Non Grata) قرار دیتے ہوئے جلا وطن کر دیا۔ سلطان خاندان سمیت پہلے مالٹا اور پھر اٹلی منتقل ہو گئے۔ انہوں نے اپنی زندگی کے آخری ایام جلاوطنی، تنہائی اور مالی مشکلات میں گزارے۔

16 مئی 1926ء کو اٹلی کے شہر سان ریمو (Sanremo) میں ان کا انتقال ہوا, جبکہ ان کی تدفین دمشق میں واقع "سلطان سلیم اوّل" مسجد میں ہوئی۔  ان کی وفات صرف ایک فرد کا اختتام نہیں بلکہ ایک عظیم سلطنت کے آخری باب کی علامت تھی۔

تحریر و پیشکش:

ابو سفیان






Address

Imtiaz Town
Lalian

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ilm Sarai posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Ilm Sarai:

Shortcuts

Share