02/10/2026
فتح بیت المقدس
بیت المقدس (یروشلم) پہلی بار سیدنا عمر بن خطابؓ کے عہدِ خلافت میں 15ھ/636ء میں فتح ہوا۔ اسی دور سے ہی یورپ کے تمام عیسائی اس مقدس شہر کو واپس لینے کی تگ و دو میں تھے۔ 1095ء میں پہلی صلیبی جنگ کا آغاز ہوا اور 15 جولائی 1099ء کو صلیبی کمانڈر "بالدوین اوّل" نے شہر پر قبضہ کر کے مسلم شہریوں کو موت کے گھاٹ اتارا۔ 1044ء میں "دوسری صلیبی جنگ" شروع ہوئی لیکن مسلمان بیت المقدس تک نہ پہنچ سکے۔ 1186ء میں صلیبیوں نے پھر سے مسلمانوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا لیکن اس بار 4 جولائی 1187ء کو صلاح الدین ایوبی نے "ریمنڈ ثالث طرابلسی" کو "جنگِ حطین" میں شکست دی۔ اس جنگ میں کثیر صلیبی فوجی مارے گئے۔ اس کے بعد جو صلیبی فوجی بچ گئے انہوں نے یروشلم شہر کے اندر پناہ لے لی۔ ان پناہ گزین صلیبی فوجیوں کا سربراہ "بالین آیبالین" تھا۔ صلاح الدین نے یروشلم شہر کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے 20 ستمبر 1187ء کو شہر کا محاصرہ کر لیا۔ یروشلم شہر میں چونکہ صلیبی فوج بھی کم تھی اس لیے انہوں نے صلاح الدین سے معاہدہ کیا۔ یہ معاہدہ اس لیے کیا گیا تا کہ عیسائی عوام خیریت سے یروشلم شہر سے نکل سکے۔ بہرحال یہ محاصرہ 12 دن جاری رہا اور بالآخر 2 اکتوبر 1187ء کو یروشلم شہر کو مسلمانوں نے 92 سال بعد دوبارہ فتح کر لیا۔ ایوبی فوج نے شہر میں داخل ہو کر تمام عیسائی عوام کے لیے عام معافی کا اعلان کیا۔
.
..
...