29/07/2026
قبائلی اضلاع پر ٹیکس نا منظور۔
قبائلی اضلاع میں ٹیکسز کے نفاذ کے خلاف بابِ خیبر پر احتجاج، ضلع خیبر بھر میں شٹرڈاؤن ہڑتال
جمرود: وفاقی حکومت کی جانب سے سابقہ فاٹا اور پاٹا میں ٹیکسز کے نفاذ کے خلاف ضلع خیبر بھر میں تاجروں نے مکمل شٹرڈاؤن ہڑتال کی۔ اس موقع پر بابِ خیبر سے جمرود پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالی گئی، جس میں تاجروں، سیاسی و سماجی رہنماؤں، برف فیکٹری مالکان اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
احتجاجی مظاہرے سے صدر انجمن تاجران کاشف اقبال آفریدی، ملک بسم اللہ خان، مفتی سعید خان، ملک صلاح الدین، ملک حضرت ولی، ملک خان محمد اور دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے وفاقی حکومت کی جانب سے قبائلی اضلاع میں ٹیکسز کے نفاذ کو مسترد کیا اور مطالبہ کیا کہ یہ فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے۔
مقررین کا کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع پر ٹیکسز کا نفاذ غیر آئینی اور عوام پر معاشی بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ انضمام کے وقت وفاقی حکومت نے قبائلی عوام سے سالانہ 100 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز سمیت متعدد وعدے کیے تھے، مگر آج تک ان پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع پہلے ہی بدامنی، دہشت گردی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات کا شکار ہیں، جبکہ عوام کے محدود روزگار کے ذرائع بھی ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ مقررین کے مطابق ضلع خیبر، خصوصاً لنڈی کوتل کے ہزاروں خاندانوں کا روزگار پاک افغان طورخم بارڈر سے وابستہ ہے، لیکن بارڈر کی طویل بندش نے انہیں شدید معاشی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔
مظاہرین نے کہا کہ دنیا بھر میں حکومتیں عوام کو ریلیف فراہم کرتی ہیں، مگر قبائلی عوام سے روزگار کے مواقع بھی چھینے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ احتجاجاً ضلع خیبر کے جمرود، لنڈی کوتل، باڑہ اور تیراہ سمیت تمام بڑے بازار مکمل طور پر بند رہے۔
مقررین نے خبردار کیا کہ اگر وفاقی حکومت نے ٹیکسز کے نفاذ کا فیصلہ واپس نہ لیا اور طورخم بارڈر کو عوام کے روزگار کے لیے مکمل طور پر بحال نہ کیا تو احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی، جس کی تمام تر ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد ہوگی۔