03/11/2022
تمہیں پتہ ہے میں ایک لکھاری ہوں جس نے اپنی تحاریر میں تمہیں مکمل عبارت کرنے کی ٹھان لی تھی. تخیل کے آخری خوشے پر جا کر تمہارے وجود کو تراشا ، بدن کو چاندی ، آنکھوں کو نیلم، لبوں کو گلاب اور رخسار کو نار کیا مگر افسوس کہ میرا ذوق، میرا یہ وصف اور ساری سعی رائیگاں رہی میں تمہاری سپردگی و عنایت کی اصل قیمت نہ چکا سکا. میں تمھیں روکنے ٹوکنے یا پھر ہر موڑ پر سمجھانے سے زیادہ ساتھ دینے پر ترجیح دیتا۔
مگر یہ دنیا میرے خوابوں کے لیے موزوں جگہ نہیں سو آج میں سفید عَلم بلند کر کے اپنی ہار کے ساتھ تمہیں اپنے قلم سے آزاد کرتا ہوں. لکھے گئے سب اورق جلا رہا ہوں۔۔۔۔۔۔میں دو سیاروں کے نہ ملنے کی کہانی مٹا رہا ہوں ننھے الو کا گلا گھونٹ کر ہزاروں سالہ پرانی کسی شکستہ صلیبی قبر میں دفنا رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔
لیکن تم جاؤ اور جو تصویر ادھوری رہ گئی اس کو مکمل کر دو۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپنی اس مکمل تصویر کو عشق و ضبط کی رعنائی سے عبارت کر دو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس تصویر کی تازگی کے لئے مایوسی کا رنگ نکال دو کیونکہ تم تو جانتے ہو تم مجھے اداس اچھے نہیں لگتے تو جاؤ زندگی کو سینے سے لگا لو اور جب جب تمھیں لگے تم تھک چکے ہو، یا تھکا دیے گئے یا گرنے لگے ہو تو میرا نام پکار لینا، میں ہوؤں یا نہ ہوؤں لیکن یہ نام تمھیں راحت دے گا
03/11/2022
کچھ رشتوں پر ہم بلا وجہ ناز کرنے لگتے ہیں جب کہ حقیقت میں وہ رشتہ کوئی رشتہ ہی نہیں ہوتا، بس صرف ایک خواب ہی ہوتا ہے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گیا...
03/11/2022
تو چلیں پھر آغاز کرتے ہیں ہم اپنے سفر کا۔
چلیں پھر ایک لمبی سیر کو چلتے ہیں۔
وہ سیر جہاں صرف ہم ہیں اور اللہ ہے
اور ہمارے بیچ کبھی نہ ختم ہونے والی گفتگو!
المتکبر کا لفظ ت-ک-ب-ر سے نکلا ہے۔
تکبر کسے ہوتا ہے؟
جس کے پاس کچھ خاص ہو
جس میں کچھ خاص ہو
جو سب سے الگ ہو،
جس جیسی کسی میں نہ صفات ہوں
جو ایک اشارہ کر دے
تو نہ نکل سکے مشرق سے سورج کی کوئی کرن،
اور نہ ہی مغرب میں کوئی غروبِ آفتاب ہو
جو فرما دے ہو جا
تو وہ بھی پل میں ہو جائے
جس کے لیئے نہ میسرنہ کافی اسباب ہوں
ہو سکتی ہے اُسکی عظمت کی مثال کوئی
جس کی ذات کی گہرائی ہر گمان سے پار ہو
وہ اپنے آپ میں ایک دُنیا ہے
پر وہ دُنیا جیسا نہیں ہے
ہم ڈھونڈتے ہیں اُس کو اِس جہاں میں
مگر وہ رہتا ہے وہاں
جس جہاں کا کسی کو کوئی پتا نہیں ہے
ہم سوچ کی قید میں ہے
وہ آزاد ہر انتہا سے ہے
ہمیں طلب ہے اُس کی
وہ رہا ساری ضروریات سے ہے
کبھی سوچا نہیں؟
کس سے ہے یہ زمیں؟
یہ آسماں کس سے ہے؟
کون ہے جو پھولوں میں بھرتا ہے رنگ؟
کون ہے جسکی ہر ادا زمانے سے جُدا ہے؟
کوئی تو حرف ہو جس میں وہ سما سکے؟
کوئی تو غزل ہواُس کی حمد سُنا سکے
لکھ رہے ہیں ہم اور لکھ کر مٹا رہے ہیں
حدِ گماں پہ پہنچ کر خود کو ہم یہ بتا رہے ہیں
نہیں ہے کوئی جوڑ اُسکا
نہیں ہے کوئی توڑ اُسکا
وہ ہے تب سے
کسی کا کوئی نشان نہ تھا، جب سے
کیا یہ شان کافی نہیں اُسکی؟
کہ نہیں درکار اُسے کوئی دُوجا
عجب راز ہے وہ
کہ سب کو یقین ہے اسکے ہونے پر
مگر کسی نے اُسے آج تک نہیں کھوجا
وہ رہتا ہے ہو کر پوشیدہ سب سے
حالانکہ رہتا ہے وہ رگِ جان میں کب سے
کیسے نہ ہو برتر پھر وہ سب سے؟
لفظ تکبر جچتا ہے صرف اُسی پہ
18/11/2021
تھوڑی سی طویل ضرور ہے لیکن میں شرطیہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ تحریر آپکے ذہنوں پر اثر ضرور چھوڑے گی۔ اور آپ کافی دیر تک اس کو بھلا نہیں پائینگے۔ میرے نزدیک اردو کی شاہکار تحریروں میں سے ایک ہے
ضرور پڑھیئے:
پاؤں سے کانٹا نکالتے ہوئے ننھے کریم کی چیخ نکل گئی۔ وہ ایڑی کو دونوں ہتھیلیوں سے دباتے ہوئے پکارا ’’ ہائے اماں !‘‘ وہ مبہوت و ساکن بیٹھ گیا اور سامنے ویران کھیتوں پر نگاہیں گاڑھ دیں، یوں معلوم ہوتا تھا جیسے وہ اپنی ماں کی آواز کا منتظر ہوتا ہے۔ " میرے انمول لال! میں آئی، میں ابھی کانٹا نکالے دیتی ہوں !"۔۔۔ اس کے سر پر ایک کّوا کائیں کائیں کرتا ہوا گزرا اور لڑکھڑاتا ہوا ایک جھاڑی میں جا گرا کریم بھول گیا کہ اس کے پاؤں میں کانٹا ہے۔ وہ لنگڑاتا ہو بھاگا اور کّوے کو پکڑ لیا ۔ وہ اپنے پروں کو پھڑپھڑانے لگا۔ اڑنے کی کوشش کی مگر اس کا داہنا بازو زخمی ہوچکا تھا ۔ کریم نے زمین سے مٹی اٹھا کر اس کے زخم پر چھڑکی، دو چار ٹھنڈی سانسیں دیں کّوے کو آرام پہنچا تو کھلی ہوئی چونچ بند کر لی اور آنکھوں میں وحشت کی بجائے اطمینان چھلکنے لگا ۔ کریم نے بہت سے پتے اکھٹے کر کے سب سے بڑے نیم کی سب سے اونچی چوٹی پر جمائے ۔ کّوے کو ایک دو بار تھپک کر وہاں بٹھا دیا اور گھر کو لوٹ آیا ۔ اس مصروفیت میں اس کے پاؤں کے درد میں نمایاں کمی آ گئی تھی۔
وہ ایک کسان کا اکلوتا بیٹا تھا۔ ایک سال ہوا اس کی ماں مر گئی۔ اس کے والد نے پچھلے دنوں ایک شادی کر لی تھی لیکن اب یہ نئی ماں اس سے عجیب طرح سے پیش آتی تھی۔
’’ وہ برتن اندر کیوں نہیں رکھا؟‘‘
’’ وہ پکار اٹھتا ۔‘‘ اندر ہی تو پڑا ہے۔‘‘
وہ اس کے جبڑوں میں گھونسا جماتے ہوئے کہتی۔ ’’ تو مجھے بتایا کیوں نہیں؟‘‘
وہ چیخ کر کہتا ۔’’ بتایا تو تھا میں نے!‘‘
کریم نے کئی بار محسوس کیا کہ گھونسے کے زور سے اس کا دل رک گیا ہے لیکن وہ کمبخت اچانک پھر دھڑک اٹھتا اور وہ سہمی ہوئی نظروں سے ایک اور گھونسا سر پر منڈلاتے ہوئے دیکھتا ۔ اوّل اوّل تو اس نے سوتیلی ماں کے خلاف صدائے احتجاج بھی بلند کی۔’’ چھوڑ دے ۔ چھوڑ دے مجھے ۔ ورنہ میری امّی تیری بوٹیاں نوچ لے گی، چھوڑ دے مجھے ورنہ میرا ابّا تجھے مار ڈالے گا۔‘‘ لیکن ایک دن جب اس کی سوتیلی ماں نے یہ کہا کہ’’ تیری ماں کو تو قبر کے سانپ اور بچھو چمٹے پڑے ہوں گے، وہ تیرے باپ کا گھر تباہ کر کے اگلے جہاں میں آرام سے تھوڑا رہے گی!’’ تو ننھا کریم غصے سے بے بس ہو کر اس پر جھپٹا مگر دھکا کھا کر اوندھے منہ جا گرا ۔ دوڑا دوڑا باپ کے پاس گیا اور چیخنے لگا ’ ’ابّا، خالہ نے میرے دانت توڑ دیئے ۔ یہ دیکھو تو مسوڑھوں سے خون بہہ رہا ہے۔ یہ دیکھو نا میری کہنیاں چھل گئیں۔ وہ کہتی ہیں تیری ماں کو سانپ بچّھو کھا رہے ہیں۔ وہ جھوٹ بکتی ہے ابّا ۔ میری ماں ہر رات آ کر میرا ماتھا چوم ۔۔۔۔‘‘
تڑاخ کی آواز اور پھر کریم کا کان اس کے باپ کی انگلیوں میں تھا۔ کان کو اینٹھتے ہوئے بولا۔’’ خالہ کے خلاف بک رہا ہے ۔ اب تیری ماں کا راج نہیں رہا کہ گھر کا غلہ نکال کر دکانداروں کے آگے جا ڈالے اور گلچھڑے اڑائے، اب انسانوں کی طرح رہنا پڑے گا یہاں!‘‘
اس دن کے بعد اس نے باپ کے آگے کوئی شکایت نہ کی، نہ اپنی خالہ کے گھونسوں کا جواب کسی دھمکی سے دیا ۔ بس چپ چاپ گھونسے سہہ لیتا اور اپنی ٹوٹی پھوٹی کھاٹ پر بازو کا تکیہ بنا کر سو جاتا ۔ صبح گھونسے سہہ کر باہر جاتا۔ مویشی چرا کر لاتا اور گھونسے سہ کر سو جاتا۔
اس دن وہ ایک بیل کے پیچھے بھاگا تو اس کی ایڑی میں کوئی بہت لمبا کانٹا چبھ گیا۔ زخمی کّوے کو گھونسلے میں بیٹھا کر گھر آیا اور اپنی ٹوٹی پھوٹی کھاٹ پر لیٹ گیا جو صحن کے پرلے سرے پر بیلوں کے تھانوں کے پاس دن رات پڑی رہتی تھی۔ کھاٹ کیا تھی ایک جھولا تھا ۔ جس میں ننھا کریم گھٹنے سینے سے لگائے، بازو جسم سے چمٹائے پڑا رہتا تھا۔
اس کی خالہ چولہے کے سامنے بیٹھی تھی اور اس کا باپ پاس ہی ایک پلنگ پر لیٹا حُقّہ پی رہا تھا ۔ اس کی خالہ کہنے لگی ۔’’ ابھی تک کریم نہیں آیا جانے گاؤں میں کیا کرتا رہتا ہے۔ پرسوں کی بات ہے ہمسائی کے ہاں گیا اور کہنے لگا۔’’ مجھے میری نئی ماں مارتی ہے، روٹی نہیں دیتی ۔میں بھوکا ہوں ننگا ہوں۔‘‘ اب اس سے پوچھو میں نے اسے کب مارا ۔ میں نے اسے کب کھانا نہیں دیا ۔ کب کپڑے نہیں پہنائے۔ اس بچے کو سمجھاؤ، ورنہ یہ گھر گھر کھانے کو مانگتا پھرے گا، اور تم شریکوں کے سامنے سر نہ اٹھا سکو گے۔‘‘
اس تقریر کے دوران میں کریم نے ایک دو بار آواز دی ۔’’ میں آگیا ہوں ابّا ، میں آ گیا ہوں۔‘‘ لیکن نہ اس کے باپ نے کچھ سنا نہ اس کی خالہ نے۔ جب وہ سانس لینے کے لئے رکی تو کریم ان کے قریب آیا اور بولا ’’ میں تو کب کا بیٹھا ہوں خالہ ۔‘‘
اس کا باپ حُقّہ ایک طرف کر کے اس ک طرف بڑھا ۔’’ کیوں بے! تیری ماں کیا مری کہ تو ہر بندھن سے آزاد ہو گیا ۔ گھر گھر میرے گِلے ہو رہے ہیں ۔’’ ایک تھپڑ کریم کے منہ پر پڑا۔ اس کے جی میں آئی کہ باپ کے اس ظلم کے خلاف احتجاج کرے، مگر زبان بے حِس ہو کر رہ گئی ۔ وہ چپ چاپ اٹھا اور اپنی کھاٹ کا رُخ کیا ۔
’’ آج لنگڑا کیوں رہا ہے ۔‘‘ اس کے باپ نے پوچھا۔
’’ کانٹاچبھ گیا تھا جی ۔‘‘ کریم نے درد ناک لہجے میں جواب دیا۔ آخری الفاظ کہتے ہوئے اس کی آواز کانپ گئی۔
اس کا باپ گرجنے لگا ۔’’ کانٹا چبھ گیا امیر زادے کے ۔۔۔ آفت آ گئی، اور لنگڑا یوں رہا ہے، جیسے کسی نے پاؤں ہی اڑا دیا ہے۔ ادھر آ، سوئی لے کر دئیے کے پاس بیٹھ جا اور نکال اسے ۔‘‘
کریم اندر جا کر سوئی لے آیا ۔ دیئے کے پاس بیٹھ کر ایڑی اٹھائی اور سوئی سے کانٹے کے اِرد گرد کا گوشت کریدنے لگا۔
رہ رہ کر اِسے اپنی ماں یاد آ رہی تھی جو اِسے ہاتھوں پر اُٹھائے رکھتی تھی۔ جو اِس کے لئے قسم قسم کی چیزیں خرید لاتی تھی۔ کھانے کی چیزیں، پہننے کی چیزیں ۔ جس نے اپنی پڑوسن کو ایک دن کریم کے پاؤں سے کانٹا نکال رہی تھی کہا تھا۔’’ اری ذرا دھیرے دھیرے سوئی پھیر۔ بس یہ سمجھ تو میرے کلیجے پر سوئی پھیر رہی ہے!‘‘
کریم کو یہ بات یاد آئی تو اِس کی چیخ نکل گئی۔ اسکا باپ صحن کے پرلے سرے پر بیلوں کے آگے گ گھاس ڈال رہا تھا ۔ اس کی خالہ اٹھی اور اس کے پاس آ کر کہنے لگی۔ " کیوں بے لونڈے، رو کیوں رہا تھا ۔ سانپ نے ڈس لیا ہے کیا؟‘‘
اس نے حسرت بھری نگاہیں اٹھائیں اور خالہ کی گھورتی ہوئی آنکھوں میں گاڑ دیں ۔ اس کی خالہ نے اس کی گردن پر غصے سے اُلٹا ہاتھ مارا۔ کریم دیئے پر جا گرا ۔ دیا لڑھک کر اس کی گود میں آ رہا ۔ اس کے کپڑوں کو آگ لگ گئی۔ لہراتے ہوئے شعلوں سے چیخوں کا ایک طوفان بلند ہوا۔ ’’ ابّا، دوڑیو، میرے ابّا، میں جل مرا، ہو ابّا۔‘‘
اس کا باپ ہوا کی طرح اس کے پاس پہنچا۔ گھڑے پر گھڑا انڈیلنا شروع کر دیا۔ آگ بجھ گئی اور اب زمین پر کیچڑ میں لت پت بیہوش کریم آہستہ آہستہ سانس لے رہا تھا ۔ سارا محلہ اکٹھا ہو گیا ۔ لالٹین جلائی گئی۔ کریم کا داہنا بازو، داہنی ران اور داہنی پسلیاں بری طر ح جل چکی تھیں۔ کھال اڑ چکی تھی ۔ اور نیچے سفید چربی چمک رہی تھی ۔ اسے چارپائی پر لٹا دیا گیا۔ حکیم جی نے زخموں پر مکھن ملنے کو کہا اور اب لوگ چلے گئے!
اب اس کے باپ کا دل پسیجا ۔ اسے اپنی بیوی کی مغموم روح سامنے منڈیر پر اپنا چہرہ ہتھیلیوں میں سنبھالے بیٹھی آنسو گراتی نظر آئی۔ اس کی نگاہیں اپنے جلے ہوئے بیہوش بچے پر گڑی ہوئی تھیں۔ پھر اس نے تاروں کی طرف اڑتے وقت ایک سمت اشارہ کیا۔ کریم کا باپ سب کچھ سمجھ گیا ۔ اسے وہ دن یاد آ گیا جب شہر کے باہر بوڑھے نیم کی ٹیڑھی شاخوں کے گھنے سائے میں ان دونوں نے اپنے والدین کی باہمی دشمنی سے بے پروا ہو کر ہمیشہ کے لئے ایک ہونے کا عہد کیا تھا! اس کے روئیں روئیں سے پسینہ پھوٹ نکلا ۔ اس کا سارا جسم سو گیا۔ وہ غیر ارادی طور پر اپنے بچے کی طرف بڑھا ۔ جس نے اب آنکھیں کھول دی تھیں اور جس کی سوتیلی ماں روٹی پر گھی ڈال کر کھا رہی تھی ۔ وہ کریم کے قریب گیا ۔ ماتھے پر ہاتھ پھیر کر پوچھا ۔ ’’ میرے کریم کہاں کہاں درّد ہے تمہارے ؟ تمہارے کہاں کہاں درد ہے ؟ بتاؤ نا، مجھے بتاؤ کہ وہاں میں اپنے کلیجے کا خون نچوڑ دوں ۔ تم مجھے گھور کیوں رہے ہو ، میرے بچے تم مجھے اس طرح نہ دیکھو ، میرے ننھے اس طرح تمہارے کمینے باپ کی روح میں نشتر گڑ جاتے ہیں ۔ کہاں کہاں درد ہے تمہارے ؟ بتاؤ نا ‘‘
’’ ایڑھی پر ابّا ۔ ‘‘ ایک نحیف آواز آئی ۔ ’’ وہاں کانٹا چبھ گیا تھا ۔
کریم کا باپ کلیجہ پکڑ کر رہ گیا ۔ ابھی تک کریم کو اپنے جلنے کی خبر نہیں تھی ۔ وہ بولے جا رہا تھا ۔ ’’ ابّا یہاں ایڑھی میں اتنا لمبا کانٹا چبھ گیا ، خالہ، ذرا سوئی دینا، میں کانٹا نکال لوں ۔ ‘‘
کریم کا باپ شدت درد سے بلبلا اٹھا، ’’ ہائے میرے بچے، میرے کریم، تم جل گئے ہو، تمہیں معلوم نہیں کیا ؟ اللہ تمہیں اچھا کر دے، بہت جلد اچھا کر دے ۔ میں اپنے کریم کے لئے اتنی چیزیں لاؤں گا کہ میرا کریم انہیں اٹھا تک نہ سکے گا ۔ ‘‘
کریم کو اب آہستہ آہستہ اپنے جلنے کا احساس ہو رہا تھا ۔ اس کا باپ اس کی رنگت کی تبدیلی دیکھ کر ہراساں ہو گیا ۔ ’’ اری لانا ذرا، کھانڈ لانا ۔ کریم کے منہ میں ڈالوں ۔ یہ تو پیلا پڑ رہا ہے ۔ ‘‘
وہ گھی میں لقمہ بھگو کر بولی ۔ ’’ اچھا ہو جائے گا۔ بچے جلتے ہی رہتے ہیں اکثر، تم پر تو جیسے قیامت ٹوٹ پڑی ہے ۔ اچھا ہو جائے گا کمبخت، تم کیوں اپنی جان ہلکان کرتے ہو ۔ ادھر کھانا کھا لو، پروٹھے ٹھنڈے ۔۔۔۔ ! ‘‘
کسان کے بھاری جوتے نے اِسے آگے بڑھنے کی مہلت نہ دی ۔ لقمہ اس کے منہ سے نکل کر فرش پر جا گرا ۔ اس کی کھوپڑی تڑا تڑ جوتے کھانے لگی ۔ اس نے سارا محلہ سر پر اٹھا لیا۔ لوگ جمع ہو گئے ۔ اسے خاموش کرایا۔ کسان کو ضبط کرنے کی تلقین کی اور چلے گئے ۔ کریم اب چارپائی پر بل کھا رہا تھا گوشت کے ننھے ننھے پرزے آپ سے آپ گر رہے تھے، ساری رات اس کا باپ اس کے سرہانے بیٹھا رہا ۔
صبح ہوئی تو کریم نے گھٹنے سے سر اٹھاتے ہوئے کہا ۔ ’’ ابّا تم مجھے اب ماروں گے تو نہیں ؟ ‘‘ کسان کی آنکھوں سے آنسوؤں کے چشمے پھوٹ بہے ۔ اس نے انتہائی ضبط سے کہا ۔ ’’ نہیں بیٹا ۔ ‘‘ کریم بولا ۔ ’’ تو ابّا ایک کام کرو۔ گاؤں کی پوربی چراگاہ کے اتری کونے پر نیم کے درختوں کا جھنڈ ہے نا ؟ سب سے بڑے نیم کی سب سے اونچی ٹہنی پر ایک کوّے کا گھونسلہ ہے ۔ اسے جا کر کچھ پانی اور دانے ڈال آؤ ۔ جاؤ گے ؟ ‘‘
’’ ابھی جاتا ہوں ۔ ‘‘ کریم کے باپ نے جواب دیا ۔ لیکن کریم کی ان بے سر و پا باتوں کو نیم بیہوشی پر محمول کرنے لگا ۔ کچھ دیر کے بعد کریم نے آنکھیں کھولتے ہوئے پھر کہا ۔ ’’ کیا نہیں جاؤ گے ابّا ؟ ‘‘
ابھی جاتا ہوں میرے بچے، کریم یہ کہہ کر اٹھا ۔ پانی کے لئے مٹی کا ایک چھوٹا سا پیالہ لیا ۔ دانے مٹھی میں ڈال کر گاؤں کی مشرقی چراگاہ کی طرف گیا ۔ بڑے نیم کی اونچی ٹہنی پر ایک کوّا گھونسلے سے پر نکالے کائیں کائیں کر رہا تھا ۔ وہ اوپر چڑھا کوّے کے پاس پانی رکھ دیا دانے بکھیر دئیے ۔ کوّے کو اٹھا کر دیکھا اس کا ایک بازو بری طرح زخمی تھا ۔ وہ یہ معمّہ نہ سمجھا اس کا دماغ گھو منے لگا ۔ واپس ہوتے وقت ایک شخص نے اسے پوچھا ۔ کہاں گئے تھے آپ ؟ اس نے جواب دیا ۔ ’’ رات کو ۔ رات کو ۔ رات کو جلا ۔ بس دئیے نے کپڑوں کو آگ لگا دی اور جسم کا دائیا ں حصہ گل گیا ۔ ! ’’ پوچھنے والا شخص متعجب اور شرمندہ ہو کر گلی میں مڑ گیا ۔
کریم کا باپ اپنے بیٹے کے پاس آیا ۔ جھک کر پو چھا ۔ ’’ جاگ رہے ہو بیٹا ؟ ‘‘
’’ جاگ رہا ہوں ابّا ، کوّے کا کیا حال ہے ؟ ‘‘
’’ اچھا تھا میرے بچے ۔ تمہیں سلام کہتا تھا ۔ ‘‘
کریم نے ہنسنے کی کوشش کی ۔ ’’ تو میں خود اسے سلام کا جواب دوں گا ابّا ۔ اب ذرا بیل کھول دو ، باہر جانے کا وقت ہو گیا ! ‘‘
کسان ضبط نہ کر سکا ، بے اختیار رونے لگا ۔ اپنی نئی بیاہی ہوئی بیوی کی طرف دیکھا جو ایک کونے میں بیٹھی اسے بے انتہا نفرت سے گھور رہی تھی ۔ اسے وہ دن یاد آ گئے ۔ جب بیلوں کے لئے ایک علیحدہ ملازم ہوتا تھا اور پھر جب کریم کی ماں چل بسی، تو ملازم کو نکال دیا گیا اور بیل کریم کے آگے لگا دیئے گئے، اسے اپنی ساری زندگی پر اندھیرا ہی اندھیرا چھایا ہوا دکھائی دینے لگا ۔ وہ دل ہی دل میں اپنے آپ کو ملامت کرنے لگا کہ وقتی مسّرتوں کے سیلاب میں اس کی اوّلیں محبت اور خاند خاندانی غیرت کا فولادی قلعہ جڑ سے اکھڑ کر بہہ گیا تھا !
وہ روزانہ صبح وشام کوّے کے لئے دانہ پانی لے جاتا اور پھر کریم کے پاس بیٹھا رہتا کوئی تیمار دار آتا اسے کہتا ۔ ’’ بلا ناغہ صبح حکیم جی آتے ہیں، دوا لگا جاتے ہیں ، لیکن کریم کی حالت گرتی جاتی ہے ۔ حکیم جی کہتے ہیں کہ روزانہ کوئی اس کے زخموں کو چھیڑ دیتا ہے ۔ ‘‘
تیماردار کہتا ۔’’ کروٹ بدلنے سے کچے زخم چھل جاتے ہوں گے ۔ ‘‘
مگر اس کی تسلی نہ ہوتی !
کریم کی حالت روز بر وز ابتر ہوتی گئی اور آخر ایک دن ایسا آیا کہ کریم صبح کو بیہوش ہوا تو دوپہر تک اس کی آنکھیں نہ کھلیں ۔ اس کا باپ دیوانوں کی طرح ایک جگہ سے دوسری جگہ بیٹھتا۔ بے مطلب بغیر کسی کام کے ۔ اس نے سر کو زانوؤں پر رکھا ۔ پیچھے دیوار سے سہارا لے کر بیٹھنا چاہا ۔ پاؤں پسار دیئے ۔گھٹنے سیکڑ لئے ، لیکن اس کے اندر کا غم اندوہ اور پشیمانیوں کا دوزخ دہک رہا تھا ۔ اسے ایک لمحہ بھی سکوں میسّر نہ آ سکا ، اور اس کی بیوی مکان کے ایک کونے میں بیٹھ کر انگریزی صابن سے ہاتھ منہ اور پاؤں دھوتی رہی ۔
دوپہر کو کریم نے آنکھیں کھولیں ۔ حکیم جی پاس بیٹھے تھے ۔ انہوں نے پکار کر کہا ۔ ’’ ملک جی بچہ ہوش میں آ گیا ۔ کریم کا باپ دوڑا آیا، کریم کی پیشانی کو اس نے اتنی محبت سے چوما کہ آس پاس کھڑی عورتوں کی آنکھوں میں آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی ۔ اس نے پوچھا ۔ ’’ کریم بیٹا، کیا حال ہے اب ؟ طبیعت کیسی ہے ۔ درد کہاں ہے ؟
جواب ملا ۔ ’’ ایڑی میں ابّا ، ایڑی میں درد ہے ۔ ایک لمبا سا کانٹا چبھ گیا وہاں ۔ ‘‘
آئینہ دیکھتی ہوئی سوتیلی ماں کانپ اٹھی ۔ کریم کا باپ بولا ۔ ’’ بیٹا کل تمہارا کوّا پر تول رہا تھا ، مجھے ڈر ہے وہ اُڑ نہ جائے ۔ ‘‘
کریم بولا ۔ ’’ تو ابّا ! آج آخری بار اسے دانے ضرور ڈال آؤ ۔ ‘‘
حکیم جی نے کہا ۔ ’’ اب بچے کی حالت اچھی ہے ۔ ‘‘ سب لوگ اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے ۔ کریم کے باپ نے اپنی بیوی کو کریم کی دیکھ بھال کی تاکید کی اور مٹھی میں دانے دبائے کوّے کے گھو نسلے کی طرف بھاگا ۔
وہ گلیوں میں بگولے کی طرح اڑا جا رہا تھا ۔ چرا گاہ میں اس کے پاؤں ہوا میں تھرکتے ہوئے معلوم ہوتے تھے ۔ سورج آسمان کے سینے میں دہک رہا تھا ۔ ڈھیروں پر بھیڑیں، بکریاں اور بیل گردنیں جھکائے چر رہے تھے ۔۔۔ ساری کائنات اونگھ رہی تھی!
کریم کا باپ تیزی سے بڑے نیم پر چڑھا ۔ گھونسلے کے پاس پہنچا ہی تھا کہ کّوا ’’ پُھر ررر ‘‘ کی آواز پیدا کرتا گھونسلے سے باہر نکلا اور چراگاہ پر اڑتا، کھیتوں پر سے تیرتا، ڈھیروں پر سے لپکتا ہوا لرزتے ہوئے افق میں غائب ہو گیا ۔
اس کے حواس معطل سے ہو گئے ۔ وہ ٹہنیوں سے لٹک کر نیچے آ رہا ۔ پوری قوت سے گھر کی طرف بھاگا اور دروازے میں داخل ہوتے ہوئے بولا۔’’ بیٹا کریم وہ کّوا تو اڑ گیا!‘‘
کریم کے لبوں پر ہنسی کھیل رہی تھی جیسے وہ اپنے باپ کے جنون کا مضحکہ اُڑا رہا ہے!
حکیم جی آئے۔ انہوں نے کریم کی نبضیں ٹٹول کر کہا۔’’ آج اس کے زخموں کو کسی نے بہت سختی سے چھیلا ہے، اسی لئے جانبر نہ ہو سکا۔ آپ کے گھر میں کون تھا ملک جی؟‘‘
نئی بیوی کے ہاتھ سے لقمہ گر کر پانی کے برتن میں جا گرا۔
کریم کا باپ کپڑے پھاڑتا ہوا باہر نکل گیا۔’’ لوگو !میرے میرے بچے کی ایڑی میں کانٹا چبھ گیا ہے، اسے نکالو۔ نیم کے درخت میں ایک کوّا رہتا تھا۔ وہ آج پربت سے پرے اڑ گیا ۔ اس کو پکڑ لاؤ۔ میری بیوی نے میرے بچے کے زخم چھیل دیئے ان پر پھاہا رکھو ۔۔۔۔ لوگو ۔۔۔ لوگو! تم میرا منہ کیا تک رہے ہو۔۔۔۔۔
07/11/2021
____ویٹر_کھانا_پیک_کر_دو________
ﮨﻢ ﺍﯾﮏ ﻣﮩﻨﮕﮯریسٹو ﺭﯾﻨﭧ ﺳﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎﮐﮭﺎ ﭼﮑﮯ ﺗﻮ ﮐﭽﮫ ﮐﮭﺎﻧﺎﻭﺍﻓﺮ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ، ﺍﺗﻨﺎ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﯾﺎ ﺩﻭ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯﻟﺌﮯﮐﺎﻓﯽ ﮨﻮ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯﺑﺮﺗﻦ ﺍﭨﮭﺎﺗﮯ ﻭﯾﭩﺮ
ﺳﮯﻭﺍﻓﺮ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﯽﻃﺮﻑ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯﮐﮩﺎ ''''’ﺍﺳﮯ ﭘﯿﮏ ﮐﺮﺩﻭ''''
ﻭﯾﭩﺮ ﻧﮯ ﻃﻨﺰﯾﮧﻧﮕﺎﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟﮐﮩﺎ’ﺍﺱ ﮐﻮ‘؟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯﭘُﺮﺍﻋﺘﻤﺎﺩ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ، ﺟﯽ ﺍﺱ ﮐﻮ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻧﮯﻣﯿﺮﯼ ﺍﺱﺣﺮﮐﺖ ﭘﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻃﺮﻑﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺗﻘﻮﯾﺖ
ﺩﮦ ﻓﻘﺮﮦ ﺩﮨﺮﺍﯾﺎ ﮐﮧ ﮐﻮﻥﭘﺮﻭﺍﮦ ﮐﺮﺗﺎ ہے ﺑﻞ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﻧﮯ کے ﺑﻌﺪ،،،،،،
ﻭﯾﭩﺮ ﻧﮯ ﭘﯿﮏ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﮈﺑﮧ ﻣﯿﺰ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥﺭﮐﮫ ﺩﯾﺎ، ﺳﺐ ﺍﯾﮏﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﮐﮧ ﺍﺳﮯﮐﻮﻥ ﺍﭨﮭﺎﺋﮯ ﮔﺎ؟؟؟؟؟
ﻣﯿﮟ ﻧﮯﮈﺑﮧ ﺍﭨﮭﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯﮐﮩﺎ’ﻣﯿﮟ ﮐﺲ ﻟﺌﮯ ﮨﻮﮞ‘۔ﻭﺍﭘﺴﯽ ﭘﺮ ایک ﭼﻮﮎ ﺳﮯﺫﺭﺍ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﯾﮏ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺩﺭﯼ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﻣﺎﻧﮓ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭﭘﺎﺱ ﮨﯽ ﺍﺱﮐﺎﭼﮭﻮﭨﺎ ﺳﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﮐﮭﯿﻞﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍُﺱ ﮐﮯﭘﺎﺱ ﮔﺎﮌﯼ ﺭﻭﮐﯽ
اﻭﺭ ﮈﯾﺶ ﺑﻮﺭﮈ ﭘﺮ ﭘﮍﺍﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﮈﺑﮧ ﺳﺎﺗﮫﺑﯿﭩﮭﯽ ﺍﻣﯽ ﮐﻮ ﺩﮮ ﮐﺮ،ﺷﯿﺸﮧ ﻧﯿﭽﮯ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯﮐﮩﺎ،،،،
ﯾﮧ ﺍﺳﮯ ﭘﮑﮍﺍ ﺩﯾﮟ!!!
ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯽ ﺍﻣﯽ ﻧﮯﮐﮭﺎﻧﺎ ﭘﮑﮍﺍﻧﮯ ﮐﮯﻟﺌﮯﺍﭘﻨﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﺎﻻ ﺗﻮﺍُﺱ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻧﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎﭘﮑﮍﻧﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﺍﻣﯽﮐﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﻧﻮﮞﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯﭘﮑﮍ ﮐﺮﺍﺱﭘﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺍٓﻧﮑﮭﯿﮟﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﭼﻮﻣﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯﮐﮩﺎ،،،،
ﺍﻟﻠﮧ ﺑﮭﻼ ﮐﺮﮮ!!!!
ﮐﺎﻓﯽ ﺩﯾﺮ ﮐﮯﺑﮭﻮﮐﮯ ﺗﮭﮯ، ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﮐﭽﮫ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﻟﮯﺍٓﺗﮯ ﻭﮦ ﺟﻠﺪﯼ ﺳﮯﭘﯿﮑﭧﮐﮭﻮﻝ ﮐﺮﺧﻮﺩ ﺑﮭﯽﮐﮭﺎﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﺍﻭﺭﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﮐﮭﻼﻧﮯ ﻟﮕﯽ،،،،
ﻣﯿﮟ ﻧﮯﻣﮍ ﮐﺮﺳﺐ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ(ﺍﺏﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﯼ ﺟﻮﻣﯿﺮﯼ ﺗﮭﯽ)ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ۔’ﮨﻢ ﻭﯾﭩﺮ ﮐﯽ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟﺍﻣﯿﺮ ﻧﻈﺮ ﺍٓﻧﮯ ﮐﯽﮐﻮﺷﺶ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﯽ ﺑﮍﯼﻧﯿﮑﯽ ﺳﮯ ﻣﺤﺮﻭﻡ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ،،،،
ﮨﻤﯿﮟ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﯾﺎﺩﺭﮐﮭﻨﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺍﻟﻠﮧﮐﻮ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﮮ ﮨﯿﮟ ﻭﯾﭩﺮﯾﺎﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺑﮯ ﺷﻤﺎﺭ ﻟﻮﮒ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻋﻤﻞ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺣﺼّﮧ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺭﺍﺋﮯ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﭘﻮﺭﮮ ﻋﻤﻞ ﺳﮯﻭﺍﻗﻒ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ﻭﮦ ﮨﻤﯿﮟﺍﺳﯽ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺳﺰﺍ ﯾﺎ ﺟﺰﺍ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ،،،،،،
اللہ ہم سب کو غریبوں کی مدد کرنے کی توفیق دے،،،آمین
02/11/2021
*گھاٹے کے سوداگر*
فیملی والے حضرات توجہ دیں۔
ہنری کا تعلق امریکہ کے شہر سیاٹل سے تھا وہ مائیکرو سافٹ میں ایگزیکٹو منیجر تھا۔اس نے 1980 ء میں جارج واشنگٹن یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹر کیا اور اس کے بعد مختلف کمپنیوں سے ہوتا ہوا مائیکرو سافٹ پہنچ گیا ٗ مائیکرو سافٹ اس کے کیرئیر میں ’’ہیلی پیڈ‘‘ ثابت ہوئی اور وہ دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کرتا گیا ٗوہ 1995ء میں کمپنی میں بھاری معاوضہ لینے والے لوگوں میں شمار ہوتا تھا اور اس کے بارے میں کہا جاتا تھا جب تک ہنری کسی سافٹ وئیر کو مسکرا کر نہ دیکھ لے مائیکرو سافٹ اس وقت تک اسے مارکیٹ نہیں کرتی ٗ ہنری نے کمپنی میں یہ پوزیشن بڑی محنت اور جدوجہد سے حاصل کی تھی
وہ دفتر میں روزانہ16 گھنٹے کام کرتا تھا ٗ وہ صبح 8 بجے دفتر آتا تھا اور رات بارہ بجے گھر جاتا تھا ٗہنری کا ایک ہی بیٹا تھا ٗ ہنری دفتری مصروفیات کے باعث اپنے بیٹے کو زیادہ وقت نہیں دے پاتا تھا ٗ وہ جب صبح اٹھتا تھا تو اس کا بیٹا سکول جا چکا ہوتا تھا اور وہ جب دفتر سے لوٹتا تھا تو بیٹا سو رہا ہوتا تھا ٗ چھٹی کے دن اس کا بیٹا کھیلنے کے لئے نکل جاتا تھا جبکہ ہنری سارا دن سوتا رہتا تھا۔ 1998ء میں سیاٹل کے ایک ٹیلی ویژن چینل نے ہنری کا انٹرویو نشر کیا ٗ اس انٹرویو میں ٹیلی ویژن کے میزبان نے اعلان کیا آج ’’ہمارے ساتھ سیاٹل میں سب سے زیادہ معاوضہ لینے والی شخصیت بیٹھی ہے‘‘ کیمرہ میزبان سے ہنری پر گیا اور ہنری نے فخر سے مسکرا کر دیکھا ٗ اس کے بعد انٹرویو شروع ہو گیا ٗ اس انٹرویو میں ہنری نے انکشاف کیا وہ مائیکرو سافٹ سے 500 ڈالر فی گھنٹہ لیتا ہے۔ یہ انٹرویو ہنری کا بیٹا اور بیوی بھی دیکھ رہی تھی ٗ انٹرویو ختم ہوا تو ہنری کا بیٹا اٹھا ٗ اس نے اپنا ’’منی باکس‘‘ کھولا ٗ اس میں سے تمام نوٹ اور سکے نکالے اور گننا شروع کر دئیے ٗ یہ ساڑھے چار سو ڈالر تھے ٗ ہنری کے بیٹے نے یہ رقم جیب میں ڈال لی‘ اس رات جب ہنری گھر واپس آیا تو اس کا بیٹا جاگ رہا تھا ٗ بیٹے نے آگے بڑھ کر باپ کا بیگ اٹھایا ٗ ہنری نے جھک کر بیٹے کو پیار کیا ٗبیٹے نے باپ کو صوفے پر بٹھایا اور بڑی عاجزی کے ساتھ عرض کیا ’’ڈیڈی کیا آپ مجھے پچاس ڈالر ادھار دے سکتے ہیں‘‘ باپ مسکرایا اور جیب سے پچاس ڈالر نکال کر بولا ’’کیوں نہیں ٗ میں اپنے بیٹے کو ساری دولت دے سکتا ہوں‘‘ بیٹے نے پچاس ڈالر کا نوٹ پکڑا ٗ جیب سے ریزگاری اور نوٹ نکالے ٗ پچاس کا نوٹ ان کے اوپر رکھا اور یہ ساری رقم باپ کے ہاتھ پر رکھ دی ٗ ہنری حیرت سے بیٹے کو دیکھنے لگا ٗ بیٹے نے باپ کی آنکھ میں آنکھ ڈالی اور مسکرا کر بولا ’’یہ پانچ سو ڈالر ہیں ٗ میں ان پانچ سو ڈالروں سے سیاٹل کے سب سے امیر ورکر سے ایک گھنٹہ خریدنا چاہتا ہوں‘‘ ہنری خاموشی سے بیٹے کی طرف دیکھتا رہا ٗ بیٹا بولا ’’میں اپنے باپ سے صرف ایک گھنٹہ چاہتا ہوں ٗ میں اسے جی بھر کر دیکھنا چاہتا ہوں ٗ میں اسے چھونا چاہتا ہوں ٗ میں اسے پیار کرنا چاہتا ہوں ٗ میں اس کی آواز سننا چاہتا ہوں ٗ میں اس کے ساتھ ہنسنا ٗ کھیلنا اوربولنا چاہتا ہوں ٗ
ڈیڈی کیا آپ مجھے ایک گھنٹے دے دیں گے ٗ میں آپ کو اس کا پورا معاوضہ دے رہا ہوں ‘‘ ہنری کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ٗ اس نے بیٹے کو گلے سے لگایا اور پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا۔ہنری نے 1999ء میں ’’فیملی لائف‘‘ کے نام سے ایک آرٹیکل لکھا ٗ مجھے یہ مضمون پڑھنے کا اتفاق ہوا ٗ اس مضمون میں اس نے انکشاف کیا دنیا میں سب سے قیمتی چیز خاندان ہوتا ہے ٗ دنیا میں سب سے بڑی خوشی اور سب سے بڑا اطمینان ہماری بیوی اور بچے ہوتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہم لوگ انہیں سب سے کم وقت دیتے ہیں ٗ ہنری کا کہنا تھا دنیا میں سب سے بڑی بے وفا چیز ہماری نوکری ٗہماراپیشہ اور ہمارا کاروبار ہوتا ہے ٗہم آج بیمار ہو جائیں ٗ آج ہمارا ایکسیڈنٹ ہو جائے توہمارا ادارہ شام سے پہلے ہماری کرسی کسی دوسرے کے حوالے کر دے گا ٗہم آج اپنی دکان بند کردیں ‘ہمارے گاہک کل کسی دوسرے سٹور سے خریداری کر لیں گے ٗ آج ہمارا انتقال ہو جائے تو کل ہمارا شعبہ ‘ہمارا پیشہ ہمیں فراموش کر دے گا لیکن بدقسمتی سے ہم لوگ دنیا کی سب سے بڑی بے وفا چیز کو زندگی کا سب سے قیمتی وقت دے دیتے ہیں ٗ ہم اپنی بہترین توانائیاں اس بے وفا دنیا میں صرف کر دیتے ہیں اور وہ لوگ جو ہمارے دکھ درد کے ساتھی ہیں جن سے ہماری ساری خوشیاں اور ہماری ساری مسرتیں وابستہ ہیں اور جو ہمارے ساتھ انتہائی وفادار ہوتے ہیں ہم انہیں فراموش کر دیتے ہیں ٗ ہم انہیں اپنی زندگی کا انتہائی کم وقت دیتے ہیں۔‘‘
‘میں نے سوچابدقسمتی سے ہم لوگ پہلی قسم کے لوگوں کو اپنی زندگی کا سب سے قیمتی حصہ دے دیتے ہیں ٗ ہم لوگ زندگی بھر دوسری قسم کے لوگوں کو فراموش کرکے پہلی قسم کے لوگوں کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں ٗ ہم بے وفا لوگوں سے وفاداری نبھاتے رہتے ہیں اور وفاداروں سے بے وفائی کرتے رہتے ہیں‘میں نے کسی جگہ امریکہ کے ایک ریٹائر سرکاری افسر کے بارے میں ایک واقعہ پڑھا تھا
اس افسر کو وائٹ ہاؤس سے فون آیا کہ فلاں دن صدر آپ سے ملنا چاہتے ہیں‘ اس افسر نے فوراً معذرت کر لی ٗ فون کرنے والے نے وجہ پوچھی تو اس نے جواب دیا ’’میں اس دن اپنی پوتی کے ساتھ چڑیا گھر جا رہا ہوں‘‘ یہ جواب سن کر فون کرنے والے نے ترش لہجے میں کہا ’’آپ چڑیا گھر کو صدر پر فوقیت دے رہے ہیں‘‘ریٹائر افسر نے نرمی سے جواب دیا ’’نہیں میں اپنی پوتی کی خوشی کو صدر پر فوقیت دے رہا ہوں‘‘ فون کرنے والے نے وضاحت چاہی تو ریٹائر افسر نے کہا ’’مجھے یقین ہے میں جوں ہی وہائٹ ہاؤس سے باہر نکلوں گا تو صدر میرا نام اور میری شکل تک بھول جائے گاجبکہ میری پوتی اس سیر کو پوری زندگی یاد رکھے گی‘ میں گھاٹے کا سودا کیوں کروں‘میں یہ وقت اس پوتی کو کیوں نہ دوں جو اس دن‘ اس وقت میری شکل اور میرے نام کو پوری زندگی یاد رکھے گی‘ جو مجھ سے محبت کرتی ہے‘ جو اس دن کیلئے گھڑیاں گن رہی ہے‘‘ میں نے جب یہ واقعہ پڑھا تو میں نے کرسی کے ساتھ ٹیک لگائی اور آنکھیں بند کرکے دیر تک سوچتا رہا ٗ ہم میں سے 99 فیصد لوگ زندگی بھر گھاٹے کا سودا کرتے ہیں ٗ ہم لوگ ہمیشہ ان لوگوں کو اپنی زندگی کے قیمتی ترین لمحات دے دیتے ہیں جن کی نظر میں ہماری کوئی اوقات ٗ ہماری کوئی اہمیت نہیں ہوتی‘ جن کیلئے ہم ہوں یا نہ ہوں کوئی فرق نہیں پڑتا ‘جو ہماری غیر موجودگی میں ہمارے جیسے کسی دوسرے شخص سے کام چلا لیتے ہیں‘ میں نے سوچا ہم اپنے سنگدل باس کو ہمیشہ اپنی اس بیوی پر فوقیت دیتے ہیں جو ہمارے لئے دروازہ کھولنے ٗہمیں گرم کھانا کھلانے کے لئے دو ٗ دو بجے تک جاگتی رہتی ہے ٗ ہم اپنے بے وفا پیشے کو اپنے ان بچوں پر فوقیت دیتے ہیں جو مہینہ مہینہ ہمارے لمس ٗ ہماری شفقت اور ہماری آواز کو ترستے ہیں ٗ جو ہمیں صرف البموں اور تصویروں میں دیکھتے ہیں ٗ جو ہمیں یاد کرتے کرتے بڑے ہوجاتے ہیں اور جو ہمارا انتظار کر تے کرتے جوان ہو جاتے ہیں لیکن انہیں ہمارا قرب نصیب نہیں ہوتا‘ ہم انہیں ان کا جائز وقت نہیں دیتے‘ میں نے سوچا‘ ہم سب گھاٹے کے سوداگر ہیں
30/10/2021
بلا کر اپنے حجرے میں
کہا اک پیر نے مجھ سے
کہو کس بات کا دکھ ہے
کلیجہ پھٹ پڑا میرا
کہا میرے سینے میں
بلائیں آن چمٹی ہیں
محبت بے بہا دے کر
ملا نہ کچھ مجهے اب تک
کہا اس پیر نے مجھ سے
میرا تعویز لے جاؤ
بہت گہرا اثر ہو گا
ہوئے نہ جو تیرے اب تک
تیری تسبیح کریں گے وہ
ذرا سی دیر سوچا پھر
جھکائے سر چلی آئی
محبت بھیک ہے کوئی
جو در در مانگنے جاؤں
جنہیں میری محبت بھی
میری اطراف نہ لائے
انہیں تعویز لائیں گے ؟؟
انہیں تعویز لائیں گے ؟؟
25/10/2021
جانتے ہو محبت کیا ہے؟
جب وہ تمہیں اپنی زندگی سے نکال دیں اور تم اپنے دل کو چیرتی ہوئی تکلیف کے باوجود لبیک کہوں! جب وہ تمہیں بنا تمہارے کسی قصور کے تمہیں اِگنور کرے اور تم اس پر صبر کرلوں لیکن تم سے اُن کے خلاف کچھ سُوچا نہ جائے، جب ان کے خلاف بولنا چاہوں تو تمہاری زبان، اور جب لکھنا چاہوں تو تمہارے ہاتھ بغاوت کر جائیں! جب کوئی اِن کے خلاف کچھ بول جائے تو تم اُن کی عزت اور حَرمت کی خاطر اس انسان سے لڑ جاؤں، میں نے یہ سب کِیا ہے،
تب جا کر مجھے دل کے کسی کونے میں اطمینان مَحسوس ہوا ہے اُس نے چھوڑ دیا تو کیا ہوا، مُحبت میں نے بھی کی تھی، مُحبت کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں۔ مُحبت قربانیاں مانگتی ہے، کبھی رُوح کی، کبھی جان کی اور کبھی خواہشات کی
06/10/2021
" وہ آخری میسج کُچھ بھی ہو سکتا ہے ایک دِل ، پُھول ، ایک عام سی بات ، شب بخیر ، بعد میں آتا ہوں ، ٹھیک ہے ، اِن میں سے کُچھ بھی ، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ؛ آخری میسج ہی نہ ہو!؟ کہ ؛ اُس دوران تو وقفہ آ گیا ہو ، خاموشی کا یا پھر خُفگی کا؟ نفرت کا؟ اور پھر ایسا ہو کہ ؛ موبائل سائیڈ پہ رکھوں اور سونے کے لِیے لیٹوں ، پھر جب صبح کوئی اُٹھانے آئے تو " اٹھو نماز پڑھ لو ، ابھی تک اٹھے کیوں نہیں!؟ ، اُٹھ بھی جاؤ اب! " مگر میرے نہ اُٹھنے پہ تشویش سی ہو ، دِل ایک دم بند سا ہوا ہو ، پھر سرہانے بیٹھ کر نبض ٹٹولی جائے کہ ؛ کہیں زندگی مِل جائے ، دِل کی دھڑکن سُننے کی ناکام کوششیں ہوں ، افراتفری ہو ، آوازیں ہوں ، کِسی کو بُلانے کی ، آ کر دیکھنے کی ، " ہی از نو مور " کی ہلکی سی آواز ، مگر پھر آہستہ آہستہ وہی آوازیں چیخوں میں بدل جائیں ، رونے کی آوازیں آنے لگیں ، آس پڑوس والے خبر لینے پُہنچ جائیں ، رشتہ داروں کو فون کھڑکائے جائیں ، پھر اعلان کروائے جائیں کہ ؛ فلاں ابن فلاں کی موت ہو گئی ، جنازہ اِتنے بجے ہوگا ، میت کے غُسل کے لِیے اودھم مچ جائے ، غُسال آئے ، غُسل دِیا جائے ، میت کی چارپائی کے ساتھ لگ کر خُوب رویا جائے ، اگلے پچھلے آنسو؟ " ارے یارر! چچچ ، کیا ہوا بیچارے کو!؟ بُہت اچھا تھا یاررر ، ابھی عمر ہی کیا تھی ، ابھی دُنیا بھی نہیں دیکھی اوف آنکھیں مُوند لیں ، ارے یارر ہر وقت ہنستا رہتا تھا یہ تو ، چچچ ، آہ افسوس! اور پھر کُچھ گھنٹوں بعد جِس پہ رویا جا رہا تھا ، اُسی کو ایک انجان جگہ لے جایا جائے گا ، ابا بھائی " وقت نکلا جا رہا ہے " کہیں گے ، چارپائی کوئی نہ چھوڑے گا ، کُچھ بےہوش ہوں گے ،
پھر ایک دن گزرا ، دو ، تین ، چار ، پانچ ، چھ ، سات ، آٹھ
رونا دھونا ، بےہوش ہونا ، رونا ، بہت رونا ، سِسکیاں ، کبھی آنسو کبھی چُپ چُپ ، پھر خاموشی ، اور پھر نارمل روٹین ، یہی ہوگا ، یہی ہوتا آیا ہے ، اور مزہ تب آنا ، جب سِتم گروں نے میسج کرنا ہے " بڑے دِن ہُوئے ، معذرت ہی نہیں کی تم نے!؟ نہ ہی یاد کِیا!؟ سوچا کہ ؛ آج ہم ہی بات کر لیتے ہیں ، ہم ہی سوری بول دیتے ہیں ، ہیلو؟ ، جواب تو دو یاررر!؟ دُوسری طرف نیند ، مستقل نیند ، کیڑے ، جِسم کا خاک ہونا ، گلنا ، سڑنا ، پھر ہڈیاں ، چُپ ، مُکمل چُپ ، نہ دُنیا کے بکھیرے ، نہ رونا ، نہ تکلیفیں ، نہ رنجشیں ، بس چُپ ، گہری چُپ! " ، " ہیلو انکل ، فلاں سے بات ہو سکتی!؟ " بےچینی سے پُوچھنا "بیٹا وہ ہم میں نہ رہا اب ، پھر یاد آنے پر رونا ، کیا کہا!؟ کیا کہا انکل !؟ " غلط سننے پہ دوبارہ پوچھنا ، " وہ تو کب کا مر چُکا ہے بیٹا " ڈیڈ ، ہینگ اپ ، ایسا محسوس ہوگا جیسے لمحے بھر کو دُنیا تھم سی گئی ہو ، تین یا چار مہینے بعد دوستوں کے تین یا چار میسجز "ہیلو؟ کدھر ہو؟ آجکل آن نہیں آتا؟؟ یارر بندہ بتا ہی دیتا ہے!؟ " پھر اُن کی طرف سے بھی چُپ ، اور قبرستان میں بھی چُپ ، قبر میں بھی چُپ ، دو پل کی زندگی ہے، شکوے شکایات کا وقت نہیں ، نہ نفرتیں پالنے کا ، جو معافی مانگے ، معاف کردو ، کیا پتا ہے کہ ؛ آج ، کل یا پھر پرسوں ، دس دِن بعد ، ایک مہینہ ، دو سال ، پانچ ، یا دس سال تک کون ہو!؟ کون نہ ہو!؟ کون طبعی موت مرتا ، بیماری سے ، ایکسیڈنٹ ، ڈپریشن ، خودکشی ، اچانک ، یا پھر کُچھ بھی!؟ وقت کم ہے، اور کام زیادہ ، نفرتوں کے لِیے پھر کِسی جہان میں مِلیں گے ، ابھی کے لِیے مُحبت رہنے دو ، خود بھی جِیو اور جینے دو! ۔ "
30/09/2021
یہ جو کہتے ہیں کہ والدین کی خُوشی کے لیے مُحبت چُھوڑ دینی چاہیے مُجھے پوچھنا تھا پہلے ان کی خُوشی یاد نہیں آتی پہلے خیال نہیں آتا یا والدین تربیت ہی ایسی کرتے ہیں اپنی اولاد کی جاؤ جاکر کسی کی زندگی سے کھیلوں مزے کرو جزبات کی دَھجیاں اُڑا دو تاکہ وہ دُوبارہ کسی پر یقین نہ کر سکے خُدا کے لیے اگر آپ کی تربیت میں فرق ہے تب بھی اللّٰه کے عذاب سے ڈرو بندہ بندے کی معافی ہے اگر کسی عورت سے کھیل رہے ہیں تو یاد رکھیں بہن بیٹی آپ کی بھی ہوگی اگر کسی مرد سے کھیل رہے ہیں تو یاد رکھیں باپ بیٹا یا بھائی آپ کا بھی ہوگا اتنا کہونگی کہ کسی کو تکلیف اتنی دو جتنی برداشت کر سکتے ہو ورنہ دنیا گول کیوں ہے اللّٰه تمہیں اچھے سے سَمجھا دے گا
دُنیا مَکافات عَمل ہے.....!!!
30/09/2021
میری ایک عادت تھی کہ میں اس کی ہر تصویر اس کا ہر میسج ہر بات ہر چیز بہت سنبھال کر رکھا کرتی تھی... وہ اکثر کہا کرتا تھا کہ تم پاگل ہو…؟ کیا ملتا ہے یہ سب کر کے...؟ مجھے خود بھی پتہ نہیں ہوتا تھا
کیوں…؟ پر مجھے ایسا کرنا اچھا لگتا تھا ...
ایک دفعہ تو میرے موبائل میں سے میسیجز ڈیلیٹ کرنے پر ہماری باقاعدہ لڑائی بھی ہو گئی تھی ...
اور پھر جب علیحدہ ہونے کا وقت آیا تو اس کی ہر وہ چیز اس کے آگے رکھی اور کہا کہ اس دن کے لئیے میں یہ سب جوڑا کرتی تھی اور اس کے پاس جواب میں رونے کے علاوہ مجھے دینے کے لئیے کچھ بھی نہیں تھا...
اور یہ سچ ہے آج وہ نہیں ہے تو کیا ہوا
اس کی یادیں تو ہیں نا
اس کی چیزیں تو کوئی چھین نہیں سکتا نا
اور میرے لئیے اس سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں کہ میں اس کی یادوں کے درمیان آرام سے باقی کی زندگی گزار سکتی ہوں...
آج بھی گھر میں اور اس کی ڈھیروں تصویریں جن سے باتیں کرتے میری راتیں گزرتی ہیں...
اور جب رات ہوتی یے تو موبائل دیکھتی ہوں کہ اسکا میسج آیا ھو گا کہ عادت تھی اس کی ڈیوٹی سے آکے میسج کرنے کی اور جب کھانا کھانے لگتی ھوں تو آنکھیں رو دیتی ہے مجھے اسکی عادت ھو گئی تھی
کبھی کبھی دل نرم پڑتا ہے تو اس کے وہ میسجز نکال کر پڑھ لیتی ہوں کہ کہیں اس کے سامنے پھر سے ہاتھ پھیلا ہی نا دوں
آج بھی اس سے اتنا ہی پیار ہے، بے حد پیار ہے
آج بھی اسے تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی
آج بھی Facebook پر گھنٹوں اسکی پوسٹ دیکھتی رہتی ہوں
آج بھی لوگوں سے اس کا حال پوچھتی ہوں
آج بھی اسے دیکھنے کو ترستی ہوں
آج بھی ...
مگر نہیں کر سکتی تو بس اسے معاف کرنا میرے بس میں نہیں ہے
کیوں کہ اگر معاف کردیا نا تو ساری زندگی خود سے بھی نظریں ملا نہیں سکوں گی.. جانتے ہو ہر گناہ کی معافی ہے پر محبت میں شرک کی کوئی معافی نہیں ہے اور رہ گئی بات سزا کی تو وہ اسے ضرور ملے گی اس کا گناہ ہی اتنا بڑا ہے کہ اسے سزا ملنی ہی چاہیئے ... درد ناک اور کبھی نا ختم ہونے والی سزا ایسی سزا جو اسے اس کرب سے گزارے جس سے میں گزررہی ہوں ایسی سزا جو کبھی ختم نا ہو .
23/09/2021
#محبت
ایک وقت تھا جب وٹسایپ آن کرتا تو اسکا لاسٹ سِین سب سے پہلے دیکھا کرتا تھا ,
اُسے آن لائن دیکھ کے میسج کیا کرتا تھا , وہ شخص آف لائن ہوتا تو اُسکے آنلائن آنے کا ویٹ کرتا یا پھر کوئی غزل یا شعر سینڈ کر دیتا کہ جب وہ آنلائن آئے تو اسکو بھی میرا میسج دیکھنا اچھا لگے ,
اسکو بھی خوشی ہو کہ کوئی ہے جو میرا بھی انتظار کر رہا تھا
اسکو چھوٹی چھوٹی خوشیاں دینا اچھا لگتا تھا , گھنٹوں بیٹھ کے اسکو اپنے تصورات کا مرکز بنانا بہت اچھا لگتا تھا ,
پھر ..... آہستہ آہستہ وقت بدلتا گیا , بدلتا گیا اور وقت کے ساتھ وہ بھی بدل گیا ..............
اب وٹسایپ آن کرتا ہوں , اب بھی اسکا لاسٹ سِین دیکھتا ہوں , پر اب ایک جلن اور تڑپ محسوس ہوتی ہے کہ وہ شخص جس سے ایک عرصے تک رفاقت رہی وہ شخص جو بِنا گڈنائٹ کہے سوتا نہیں تھا .
اسکا اور میرا دیر رات میں آف لائن ہونا ایک ساتھ ہوتا تھا .... اب ...... وہ اکیلا جاگتا ہے یا ......
پھر اسکا لاسٹ سین دیکھنے کے بعد کچھ دیکھنے کو دل نہیں چاہتا نیٹ آف کرتا ہوں , کچھ دیر موبائل کو سائڑ پہ رکھ کر کہیں خیال میں کھو جاتا ہوں پھر ہوش آتا ہے تو پھر سوچتا ہوں دیکھوں .... دوبارہ دیکھوں کہ شاید وہ آنلائن آگیا ہو ... وٹسایپ آن کرتا ہوں لیکن اب بھی اسکا لیٹ نائٹ لاسٹ سین آرہا ہوتا ہے , اسی بےچینی اور تجسس میں کئی گھنٹے بیت جاتے ہیں , پھر .....
کئی گھنٹوں کے بعد دیکھتا ہوں وہ شخص آنلائن ہوتا ....
فوراً اسکو میسج ٹائپ کرتا ہوں ....
کیا کرتے رہے اتنی رات تک , کیوں جاگتے ہو, سوتے کیوں نہیں ....... ؟
بس ابھی انگلیاں بے تابی اور کپکپی کے عالم یہ سوال لکھ ہی رہی ہوتی ہیں کہ ایک دم سے ایک خیال آتا ہے .
کہ ....
کس کو لکھ رہے ہو ؟ کس گمان میں لکھ رہے ہو ؟ کس حیثیِت سے لکھ رہے ہو تمہارا کیا تعلق ہے اب اس سے ؟
یہ خود سے اُٹھنے والا سوال دل کو مار کے رکھ دیتا ہے ....... پھر جتنی سپیڈ سے ٹائپنگ کی ہوتی ہے اس سے دوگنی رفتار سے اپنے لکھے الفاظوں کو مٹا دیتا ہوں ... اور کچھ دیر حالتِ اضطراری میں اسکا مسلسل آن لائن رہنا دیکھتا ہوں , پھر تھک ہار کے نیٹ آف کردیتا ہوں ,
موبائل کو تکیہ کے نیچے رکھتا ہوں پھر سے خیالات کی دنیا میں چلا جاتا ہوں ....
کبھی مسکراتا ہوں اور کبھی بے اختیار بند آنکھوں سے پانی کے چند قطرے بہتے ہوئے ناک کی ہڈی کو عبور کرتے ہوئے تکیے کے دامن میں سما جاتے ہیں ....😢😢💔
یہ میری زندگی ہے سالی