District Officer GIS Lower Dir

Call Website Contact the organization

District Officer GIS Lower Dir A geographic information system (GIS) is a system designed to capture, store, manipulate, analyze, manage, and present spatial or geographic data.

GIS applications are tools that allow users to create interactive queries, analyze spatial information, edit

وزیر اعلٰی خیبرپختونخوا کا صوبے کی یکساں ترقی کا عزم، حکومت خیبرپختونخوا پائیدار ترقیاتی منصوبہ بندی کے تحت عوامی مفاد ع...
16/06/2026

وزیر اعلٰی خیبرپختونخوا کا صوبے کی یکساں ترقی کا عزم، حکومت خیبرپختونخوا پائیدار ترقیاتی منصوبہ بندی کے تحت عوامی مفاد عامہ کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنا رہی ہے۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جناب محمد سہیل خان آفریدی کی خصوصی ہدایت پر صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی کے اجلاس میں 26 ارب روپے سے زائد مالیت کے 8 منصوبوں کے اثرات مزید بہتر بنانے کی منظوری دی گئی۔

ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ منصوبہ بندی و ترقی خیبرپختونخوا اسلام زیب کی زیر صدارت اجلاس منگل کے روز منعقد ہوا۔ اجلاس میں فورم ممبران اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں انسداد دہشت گردی کے محکمے کی نقل و حرکت اسلحہ آلات اور جدید رسپانس نظام کو مضبوط بنانے کے منصوبے، خیبر پختونخوا کے انسداد دہشت گردی کے محکمے کا پشاور میں ریجنل آفس اور ضلعی سطح پر سیٹ اپ کے قیام کی منظوری دی گئی۔
ضم شدہ اضلاع کے موجودہ سرکاری کالجز میں ضرورت کی بنیاد پر اضافی تعلیمی انفراسٹرکچر اور مطلوبہ سہولیات کی فراہمی کا منصوبہ بھی صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی اجلاس میں منظور ہوا۔ منصوبے کی منظوری سے ضم اضلاع میں تعلیمی سہولیات کی بہتری میں مدد ملے گی۔
خیبر پختونخوا کے اضلاع میں مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن نظام کی توسیع پہلا مرحلہ اور پلئی کنڈل اور سنم ڈیمز کی تعمیر، ضلع کرک میں چشمہ آخورہ خیل ڈیم منصوبے کی تعمیر کی بھی منظوری دی گئی۔
خیبر پختونخوا سٹی امپروومنٹ پراجیکٹ فیز ٹو منصوبہ بھی اجلاس میں منظور کیا گیا۔

*خیبرپختونخوا میں سکول سے باہر بچوں کے داخلے کیلئے مربوط مہم شروع کرنے کا فیصلہ*حکومت خیبرپختونخوا نے صوبے بھر میں سکول ...
24/04/2026

*خیبرپختونخوا میں سکول سے باہر بچوں کے داخلے کیلئے مربوط مہم شروع کرنے کا فیصلہ*

حکومت خیبرپختونخوا نے صوبے بھر میں سکول سے باہر بچوں کی سکولوں تک رسائی یقینی بنانے کیلئے ایک جامع مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مہم کے تحت مختلف محکمے مل کر منصوبہ بندی، درست اعدادوشمار کے حصول اور مستحق خاندانوں کی معاونت کے ذریعے بچوں کو سکولوں میں داخل کرانے کیلئے اقدامات کریں گے۔

یہ منصوبہ صوبائی حکومت کے گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ایک اعلیٰ سطح اجلاس چیف سیکرٹری آفس میں منعقد ہوا جس کی مشترکہ صدارت صوبائی وزیر ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان اور چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ نے کی۔

اجلاس میں سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم، سیکرٹری سوشل ویلفیئر، محکمہ صحت اور بلدیات کے نمائندوں سمیت یونیسیف حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کو صوبہ بھر میں سروے کے مجوزہ نظام پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ اس سروے کے ذریعے ویلج کونسل کی سطح تک ایسے بچوں کا درست ڈیٹا اکٹھا کیا جائے گا جو سکول نہیں جا رہے۔ سروے میں پانچ سے سولہ سال تک کے سکول سے باہر بچوں کی نشاندہی کی جائے گی جبکہ پانچ سال تک کے بچوں کی آئندہ تعلیمی ضروریات کا بھی اندازہ لگایا جائے گا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ سکولوں میں زیرتعلیم بچوں کا ڈیٹا سرکاری، نجی، وفاقی تعلیمی اداروں، مدارس، نان فارمل ایجوکیشن سنٹرز اور خصوصی تعلیمی منصوبوں سے حاصل کیا جائے گا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ 2023 کی مردم شماری کے مطابق صوبے میں تقریباً 49 لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ تاہم حکومت کو امید ہے کہ گھر اور سکول سطح کے سروے سے زیادہ درست اور قابل عمل معلومات حاصل ہوں گی جس کی بنیاد پر ہر علاقے کی ضرورت کے مطابق منصوبہ بندی، بجٹ اور وسائل کی تقسیم بہتر بنائی جا سکے گی۔

محکمہ صحت اور بلدیات اس مہم میں اہم کردار ادا کریں گے اور اپنے مقامی نیٹ ورک کے ذریعے ڈیٹا اکٹھا کرنے میں معاونت فراہم کریں گے۔ حکام کے مطابق اس عمل سے سکول سے باہر بچوں کی ریئل ٹائم میپنگ اور مستقبل میں داخلوں کی منصوبہ بندی میں مدد ملے گی۔

اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ محکمہ سوشل ویلفیئر کو غریب اور مستحق خاندانوں کی معاونت کیلئے سماجی شراکت دار مقرر کیا گیا ہے تاکہ مالی مشکلات کے باعث تعلیم سے محروم بچوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔

محکمہ تعلیم کے حکام نے بتایا کہ موجودہ سرکاری تعلیمی نظام میں فوری طور پر مزید 25 فیصد بچوں کو داخل کرنے کی گنجائش موجود ہے۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ حکومت نے 100 روزہ منصوبہ بھی تیار کرلیا ہے جس کے تحت فوری طور پر تقریباً 60 فیصد سکول سے باہر بچوں کو داخل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ باقی 40 فیصد بچوں کے داخلے کیلئے مزید وسائل، سکولوں کی توسیع اور ترقیاتی منصوبہ بندی میں تبدیلی کی ضرورت ہوگی جس پر بھی کام کا آغاز ہوگا۔

چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ نے مجوزہ حکمت عملی کو سراہتے ہوئے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ باہمی رابطے کیلئے مفاہمتی یادداشتوں پر جلد دستخط کئے جائیں۔ انہوں نے 100 روزہ منصوبہ صوبائی کابینہ میں منظوری کیلئے پیش کرنے کی بھی ہدایت کی۔

صوبائی وزیر تعلیم ارشد ایوب خان نے کہا کہ نجی شعبے کا کردار اس مہم میں انتہائی اہم ہے اور حکومت ان کی بھرپور شمولیت کیلئے سازگار ماحول فراہم کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ صوبے کے ہر بچے کو سکول میں داخلہ اور بنیادی تعلیم کی تکمیل کا موقع فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے اور ہم اس کو سب سے اہم کام کے طور پر مکمل کریں گے۔

محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات خیبر پختونخوا میں صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی کے تیرہویں اور چودھویں اجلاس کا بالترتیب انعقادپ...
01/03/2026

محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات خیبر پختونخوا میں صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی کے تیرہویں اور چودھویں اجلاس کا بالترتیب انعقاد

پی ڈی ڈبلیو پی اجلاس میں 52 ارب سے زائد کے 32 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کی خصوصی ہدایات پر تعلیم کے شعبے میں اہم منصوبوں کی منظوری

خیبر پختونخوا میں معیاری تعلیم تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیے کئی اہم تعلیمی منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے۔

مانسہرہ شہر میں لڑکوں کے لیے ڈگری کالج کی منظوری : مانسہرہ شہر میں ایک ڈگری کالج قائم کیا جائے گا، جس سے علاقے میں اعلیٰ تعلیم تک رسائی بڑھے گی۔

یارہ خیل مرغز ضلع صوابی میں سرکاری پرائمری سکول (جی پی ایس) اور سرکاری گرلز پرائمری سکول (جی جی پی ایس): صوابی کے یارہ خیل مرغوز میں لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے پرائمری سکولز کی منظوری دی گئی ہے، جس کا مقصد بنیادی تعلیم کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا ہے۔

خیبر پختونخوا کے 6 ماڈل سکولوں کے قیام کی ریوائز سکیم کی منظوری

کرک، ہری پور، چارسدہ، ہنگو، بٹگرام، بنوں میں 6 ماڈل سکولوں کے قیام کی ریوائز سکیم کی منظوری دی گئی اور ہدایت کی گئی کہ اسے جلد سے جلد فعال بنایا جائے تاکہ طلبا کو اس کے اثرات جلد سے جلد حاصل ہوں۔

ان منصوبوں سے ہزاروں طلباء مستفید ہونے کی امید ہے اور خیبر پختونخوا کے تعلیمی شعبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔

صوبائی دارالحکومت کی مصروف ترین پشاور رینگ روڈ پر انڈر پاس کی منظوری

دارالحکومت کی ترقی میں ایک اہم پیشرفت

رینگ روڈ انڈر پاس پروجیکٹ کی منظوری دی گئی ہے۔ اس منصوبے سے صوبائی دارالحکومت میں ٹرانسپورٹ کے نظام کو جدید بنانے کی امید ہے، جو سب سے مصروف راہداری پر بلا تعطل سفر کو یقینی بنائے گی اور سفر کے مسائل کو حل کرے گی۔

یہ صرف سفر کے دورانیے کو کم کرے گا بلکہ مسافروں کے لیے آسان اور محفوظ سفر کو بھی یقینی بنائے گا ۔

خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی خصوصی ہدایات کے تحت صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی کی چودھویں اجلاس میں روڈ سیکٹر کے 18 سکیموں کی منظوری دی گئی ہے جس کی کل لاگت 17 ارب روپے ہے جس میں 8 فیزیبلٹی اسٹڈیز شامل ہیں۔ یہ منصوبے صوبے بھر میں سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کو نمایاں طور پر تبدیل کریں گے دور دراز علاقوں تک رسائی بہتر ہوگی، سفر محفوظ اور اقتصادی خوشحالی آئے گی

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کے ہدایت پر لکی سے حکلا تک 26.6 کلومیٹر روڈ پراجیکٹ ایک اہم منصوبہ منظو

لکی سے حکلا تک 26.6 کلومیٹر لمبی لنک روڈ کا پروجیکٹ، جس کی لاگت 6163 ملین روپے ہے، صوبہ خیبر پختونخوا کے لئے ایک اہم انفراسٹرکچرل منصوبہ ہے۔ اس پروجیکٹ کے تحت لکی سے حکلا تک سڑک کی تعمیر سے علاقے میں سفر کے دورانیے میں کمی آئے گی اور لوگوں کو محفوظ سفر کی سہولت ملے گی۔

منصوبہ اقتصادی ترقی میں بھی معاون ثابت ہوگا کیونکہ یہ علاقے میں رسائی کو بہتر بنائے گا اور تجارت و صنعت کے مواقع کو بڑھائے گا۔ منصوبے کی تکمیل سے لوگوں کے لئے روزگار کے نئے مواقع ملے گے اور صوبے کی مجموعی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔

صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی کے اجلاس ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ منصوبہ بندی اور ترقیات خیبرپختونخوا جناب اسلام زیب کی زیر صدارت منعقد ہوئے

اجلاس میں پی ڈی ڈبلیو پی کے اراکین اور متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ فورم نے صوبے کی ترقی کے لیے لوکل گورنمنٹ، روڈز، ابتدائی و ثانوی اور اعلیٰ تعلیم سے متعلق 32 اہم منصوبوں کی منظوری دی۔

پی ڈی ڈبلیو پی اجلاس میں 140 ارب سے زائد کے 42 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی ک...
20/02/2026

پی ڈی ڈبلیو پی اجلاس میں 140 ارب سے زائد کے 42 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کی خصوصی ہدایات پر صحت کے شعبے میں 50 ارب سے زائد مختلف منصوبے منظور کرلئے۔ بنوں میڈیکل کالج میں طلباء و طالبات کے لئے دو ہاسٹل تعمیر کرنے کی منظوری دی ہے۔ خیبرپختونخوا کے شہریوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی کیلئے ضرورت کی بنیاد پر مختلف ہسپتالوں میں 19 ارب روپے کی لاگت سے کیتھ لیبز کی تعمیر کا منصوبہ منظور کرلیا۔
خیبرپختونخوا میں 7 ارب روپے کی لاگت سے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتالوں کی بہتری کا منصوبہ منظور کرلیا ہے۔
خیبرپختونخوا میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں کی کسی بھی وبائی امراض سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے کے لئے 8 ارب 75 کروڑ روپے کی لاگت سے منصوبہ منظور کرلیا گیا۔
ضم اضلاع میں سیکنڈری صحت کی سہولیات میں بہتری بشمول ایمرجنسی یونٹس کی بہتری کا منصوبہ منظور کرلیا گیا۔

دیر اپر اور لوئر میں سیلاب سے حفاظت کے کاموں کی تعمیر کے لئے ایک ارب روپے کے منصوبے کی منظوری دی گئی۔ منصوبے کی تکمیل سے 583 ایکڑ زرعی زمین سیلاب سمیت 25 سول آبپاشی چینل اور دیگر انفراسٹرکچر سیلاب سے محفوظ رہے گی اور اس سے 113400 افراد مستفید ہوں گے۔
1 ارب روپے کی لاگت سے لکی مروت میں مروت کنال سسٹم فیز 1 کی منظوری دے دی گئی۔ مذکورہ کینال سسٹم سے بنوں اور لکی مروت کی زرعی اراضی کو فائدہ ہوگا۔کینال سسٹم سے 1 لاکھ 70 ہزار ایکڑ اراضی کو پانی دستیاب ہوگا اور ان علاقوں کی مقامی آبادی کی طرز معاش بہتر ہوگا۔

خیبرپختونخوا میں ڈویژنل سطح پر آٹزم سے متاثرہ خصوصی بچوں کیلئے سنٹر آف ایکسیلینس بنانے کی منظوری دے دی گئی۔
صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی کا بارہواں اجلاس ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ منصوبہ بندی اور ترقیات خیبرپختونخوا لیفٹیننٹ (ریٹائرڈ) اسلام زیب کی زیر صدارت منعقد ہوا

اجلاس میں پی ڈی ڈبلیو پی کے اراکین اور متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ فورم نے صوبے کی ترقی کے لیے ایم ایس ڈی، کھیل، لوکل گورنمنٹ، سوشل ویلفیئر، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور آبپاشی سے متعلق 42 اہم منصوبوں کی منظوری دی۔

منظور شدہ منصوبوں میں ڈی آئی خان ضلع میں موجودہ سمپ ویلز، پمپ ہاؤس ڈسٹی-5(اے) کی بہتری اور ٹکر واہ اور کوٹ حفیظ ڈسٹیز کی بہتری، دیر اپر اور لوئر میں سیلاب سے بچاؤ حفاظتی کاموں کی تعمیر، گمبیلا لِفٹ کینال کی فزیبلٹی اسٹڈی اور ڈیٹیل ڈیزائن، مروت کینال سسٹم کی بحالی - فیز I، سابقہ فاٹا میں آبی گزرگاہوں کی بہتری و لائینگ کے لئے نیشنل پروگرام، تحصیل صوابی، ٹوپی اور لاہور میں سیلاب سے حفاظت کے کام، چینلز، نالوں، راستوں، پلوں ، کاز وے اور سولر ٹیوب ویلز کی تنصیب کی بہتری و تعمیر، ضم شدہ اضلاع میں چیک ڈیموں اور آبی ذخائر کی تعمیر اور ضم شدہ اضلاع میں باز علی سمال ڈیم ضلع کرم میں چھوٹے ڈیم کی تعمیر، خیبر پختونخوا میں نینگولئی سوات، پی کے-36 مانسہرہ، چپرہ ریحانہ ہری پور،نور دی ریحانہ ہری پور،کوٹکہ بیساخیل بنوں، امان گڑھ نوشہرہ، نملی میرا ایبٹ آباد، درویش آباد باکٹ ایبٹ آباد، میاں عیسیٰ و میرا اکوڑہ تحصیل جہانگیرا نوشہرہ، ازاخیل بالا نوشہرہ، شیئر احمد ولی گائی ڈومیل بنوں، میرا کچوری پشاور، دل بوری مانسہرہ، لودی خیل ہنگو، شانی دوبہ طورغر، کلاش طورغر، ایلم بونیر میں ضرورت کی بنیاد پر بی ایچ یوز کے قیام اور تعمیر کے لئے ان ہاؤس فزیبلٹی اسٹڈیز، بنوں میڈیکل کالج میں دو ہاسٹلوں کا قیام، ضرورت کی بنیاد پر صوبے کے مختلف ہسپتالوں میں کیتھ لیبز کا قیام، غیر تدریسی ڈی ایچ کیو کی ریومپنگ، ڈی ایچ کیو ہسپتالوں کی سٹرنتننگ، 12 ڈی ایچ کیو ہسپتالوں کو سٹرنتننگ، نئے ضم شدہ ضلعوں میں حادثات اور ایمرجنسی یونٹوں کی بہتری سمیت ثانوی صحت کی سہولیات کی بحالی، تحصیل ہری پور، شبقدر، چارسدہ اور بکہ خیل بنوں کی عمارات کی تعمیر، 5منتخب ضلعوں تحصیل جوڈیشل مراکز کی فزیبلٹی اسٹڈیز اور تعمیر، اینٹی نارکوٹکس کنٹرول یونٹ کے لئے اسکینرز سمیت آلات کی خریداری، خیبر پختونخوا رورل انویسٹمنٹ اینڈ انسٹیٹیوشنل سپورٹ پروجیکٹ کے تحت ضلع باجوڑ میں موجودہ پینے کے پانی کی فراہمی کے منصوبوں کی بحالی اور شمسی توانائی سے آراستہ کرنا، مہمند میں ضلعی کمپلیکس غلنئی، صافی کے علاقے میں تحصیل کمپلیکس اورکزئی کے علاقے کالے میں تحصیل کمپلیکس، کرم کے علاقے پاڑاچنار میں تحصیل کمپلیکس اپر کرم، کرم کے علاقے صده میں تحصیل کمپلیکس، کرم کے علاقے پاڑاچنار میں ضلعی کمپلیکس، میرعلی میں تحصیل کمپلیکس، اورکزئی کے علاقے غلجو میں تحصیل کمپلیکس، ڈی آئی خان، ایف آر، سب ڈویژن درا زندہ، تحصیل کمپلیکس رزمک،ضلع خیبر میں وائلڈ لائف کے تحفظ کے امکانات کی تلاش کے لئے فزیبلٹی سٹڈیز خیبر پختونخوا کے مرکزی اضلاع صوابی، مردان، چارسدہ، پشاور اور مانسہرہ میں پینے کے پانی کی فراہمی اور سینیٹیشن کے منصوبوں کی تعمیر، ایبٹ آباد کے مختلف یونین کونسل کہال، سینٹرل اربن، مالک پورہ، نوان شہرِ، شیخول بندی، کاکول، میرپور، بانڈا پیر خان اور کینٹ ایریا میں پانی کی فراہمی کے منصوبے، ایبٹ آباد کے علاقے لورا اور باکوت میں پانی کی فراہمی کا منصوبہ، ایبٹ آباد کے گلیات اور لورا علاقے میں پانی کی فراہمی اور سینیٹیشن کا منصوبہ، خیبر پختونخوا کے متعدد اضلاع چترال لوئر، چترال اپر، سوات، دیر اپر، دیر لوئر، ملاکنڈ، بونیر، شانگلہ، کوہستان اپر، کوہستان لوئر، بٹگرام، مانسہرہ، تورغار، ایبٹ آباد، کولائی پالاس اور ہری پور کوہاٹ، ہنگو، کرک، بنوں، لکی مروت، ٹانک اور ڈی آئی خان، صوابی، مردان، چارسدہ، پشاور اور نوشہرہ سمیت ضم شدہ اضلاع میں بیوٹیفکیشن اور اپلفٹنگ کے تحت انفراسٹرکسٹر کی بہتری، یادگاروں، اسٹریٹ لائٹس اور سبز جگہوں پر کام شامل ہیں، ضم شدہ اضلاع کے شہری علاقوں میں پانی کی فراہمی کے نظام کی بہتری، صوابی میں پبلک پارک کی تعمیر، باڑہ بازار خیبر میں میونسپل کمیٹی کا قیام اور خدمات کی فراہمی، پٹرولیم ٹیکنالوجی انسٹیٹیوٹ کا قیام، وزیر اعلیٰ کی اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کا آغاز اور فزیبلٹی سٹڈی، شیخ بدین نیشنل پارک کے انتظام کا نفاذ، خیبر پختونخوا میں اینٹوں کے بھٹوں میں زیگزیگ ٹیکنالوجی کا نفاذ، پشاور میں صنفی تشدد کے خلاف ہیلپ لائن سینٹر کا قیام، خیبر پختونخوا میں خصوصی بچوں کے لئے بہترین مراکز کا قیام اور خیبر پختونخوا سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کا کانسپٹ نوٹ شامل ہیں۔

Address

Office Of The Deputy Commissioner Lower Dir
Lower Dir

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when District Officer GIS Lower Dir posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to District Officer GIS Lower Dir:

Shortcuts

Share