07/08/2025
Hussein Dental Clinic & Lab
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Hussein Dental Clinic & Lab, Mansehra.
07/08/2025
16/05/2025
پاکستان میں چائے کی کاشت، قومی دن، اور زرعی سیاحت کے فروغ کا سفر
پاکستان، جہاں پانی کے بعد سب سے زیادہ استعمال کیا جانے والا مشروب چائے ہے، دنیا کے سات بڑے چائے کے استعمال کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (FAO) کے مطابق، پاکستان میں ہر شہری سالانہ اوسطاً 1.02 کلوگرام چائے پتی استعمال کرتا ہے۔ یہ مقدار سالانہ تقریباً 250,755 ٹن یا 25 کروڑ کلوگرام تک پہنچتی ہے۔
اس بے پناہ مانگ کو پورا کرنے کے لیے پاکستان ہر سال تقریباً 600 ملین ڈالر کی چائے درآمد کرتا ہے، جو ملک کے قیمتی زرمبادلہ کے ذخائر پر ایک بڑا بوجھ ہے۔ عالمی منڈی میں چائے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے یہ درآمدی بل ہر سال بڑھتا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں غیر قانونی طور پر چائے کی آمد اور کیمیکل سے تیار کردہ مصنوعی چائے کے مسائل بھی درپیش ہیں۔
چائے کی درآمد کا متبادل
چائے کی درآمد پر انحصار ختم کرنے اور زرمبادلہ بچانے کے لیے دو اہم راستے ہیں:
1. چائے کا استعمال کم کرنا: مگر یہ شاید ممکن نہیں، کیونکہ چائے ہماری ثقافت اور روزمرہ کی زندگی کا لازمی حصہ بن چکی ہے۔
2. چائے کی مقامی پیداوار: پاکستان کی زرخیز زمین اور موزوں آب و ہوا کو استعمال میں لا کر اس اہم ضرورت میں خود کفالت حاصل کی جا سکتی ہے۔
پاکستان میں چائے کی کاشت کی ممکنہ صلاحیت
نیشنل ٹی اینڈ ہائی ویلیو کراپ ریسرچ انسٹیٹیوٹ، شنکیاری (مانسہرہ) کے سائنسدانوں نے تحقیق کے بعد بتایا ہے کہ پاکستان میں چائے کی کامیاب کاشت ممکن ہے۔ ادارے نے ملک میں 1,80,000 ایکڑ زمین کو چائے کی کاشت کے لیے موزوں قرار دیا ہے۔ یہ زمین مانسہرہ، بٹگرام، مالاکنڈ، سوات، دیر، کشمیر، اور مری کے علاقوں میں موجود ہے۔
چائے کے باغات اور زرعی سیاحت
پاکستان میں چائے کے پہلے گرین اور بلیک ٹی پراسیسنگ پلانٹ کے قیام اور تحقیق کے بعد چائے کے باغات کو زرعی سیاحت (Agri-Tourism) کے ذریعے فروغ دینے کا سفر شروع ہوا۔
ایگری ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن آف پاکستان اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، جو نہ صرف چائے کی کاشت کے فروغ بلکہ اس سے وابستہ سیاحتی امکانات کو بھی اجاگر کر رہا ہے۔
ابتدائی کوششیں اور قومی چائے فیسٹیول
2014 میں پاکستان کے خوبصورت چائے کے باغات کو دریافت کرنے کے بعد، پہلا قدم ان باغات کو دنیا کے سامنے لانے کا تھا۔ اسی مقصد کے تحت نیشنل ٹی گارڈن کا پہلا فیس بک پیج بنایا گیا۔ پھر 2017 میں پاکستان کی تاریخ کا پہلا قومی چائے کا میلہ منعقد کیا گیا۔
پہلا چائے فیسٹیول: 25 ستمبر 2017 کو
دوسرا چائے فیسٹیول: 15 دسمبر 2020
تیسرا چائے فیسٹیول: 26 جون 2022
چوتھا چائے فیسٹیول: 1 جون 2023
پانچواں چائے فیسٹیول: 27 مئی 2024
ہر سال ان میلوں کے ذریعے نہ صرف مقامی لوگوں کو چائے کی کاشت کی اہمیت سے آگاہ کیا گیا بلکہ سیاحت اور معیشت کے نئے مواقع بھی پیدا کیے گئے۔
چائے کا قومی دن
چائے کی کاشت کو فروغ دینے کے لیے 25 مئی کو پاکستان میں چائے کے قومی دن کے طور پر منانے کا اعلان کیا گیا۔ اس دن کو منانے کا مقصد ہے:
چائے کی کاشت میں خود کفالت حاصل کرنا۔
چائے کے باغات کو زرعی سیاحت کے مراکز میں تبدیل کرنا۔
مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار اور انٹرپرینیورشپ کے مواقع پیدا کرنا۔
ملک کے قیمتی زرمبادلہ کی بچت کرنا۔
زرعی سیاحت اور معاشی ترقی
ایگری ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کا ماننا ہے کہ چائے کے باغات نہ صرف زرعی ترقی کا ذریعہ بن سکتے ہیں بلکہ سیاحت کے فروغ سے معیشت میں انقلاب لایا جا سکتا ہے۔ ان باغات کے ذریعے مقامی آبادی کو روزگار کے مواقع، سیاحوں کو قدرتی مناظر کی سیر، اور پاکستانی چائے کو عالمی سطح پر متعارف کروانے کا موقع ملے گا۔
مستقبل کا عزم
اس سال چھٹا سالانہ قومی چائے فیسٹیول بروز سوموار 26 مئی 2025 کو ڈیپارٹمنٹ اف ٹورازم اینڈ ہاسپٹیلٹی ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ کے تعاون سے نیشنل ٹی گارڈن شنکیاری مانسہرہ میں منعقد ہو رہا ہے ۔
پروفیسر ڈاکٹر محمد عالم صاحب جن کا رابطہ نمبر
+92 301 8536700
اور سائبان پاکستان کے صاحبزادہ جواد الفاظی
جن کا رابطہ نمبر
+92 300 8112255
اور ڈائریکٹر این ٹی ایچ ار ائی ڈاکٹر ریاض عالم صاحب
جن کا رابطہ نمبر
+92 333 5957294
اس کے علاوہ ڈاکٹر نور الہی جان پرنسپل سائنٹفک آفیسر پروگرام لیڈر ٹی اینڈ پراسیسنگ نیشنل ٹی اینڈ ہائی ویلیو کراپ ریسرچ انسٹیٹیوٹ شنکیاری
0997531970
فوکل پرسن ہیں ۔
چھٹے سالانہ قومی ٹی گارڈن فیسٹیول میں سٹالز کی بکنگ جاری ہے اپ سٹالز بک کرنے کے لیے
+923156627199
پر رابطہ کر سکتے ہیں ۔
جہاں تمام اسٹیک ہولڈرز کی شرکت یقینی بنائی جائے گی۔
پاکستان میں چائے کی کاشت کو فروغ دینا ایک قومی جدوجہد ہے، جس میں ہر فرد کا کردار اہم ہے۔ باہمی تعاون اور اتحاد کے ساتھ ہم اس خواب کو حقیقت میں بدل سکتے ہیں۔
ڈسکور پاکستان ٹی وی چینل پر میرا پروگرام کسان کا پاکستان جو پاکستان میں چائے کی کاشت اور ٹی گارڈن ٹورازم پر ریکارڈ کیا گیا اسے بھی اپ دیکھیں ۔جس کا لنک ادھر دے رہا
25/03/2025
05/11/2024
Member PSD, PARC; Dr. Imtiaz Hussain and DG Planning Mr. Arshad Farooq visited NTHRI Shinkiari for TWG meeting on 31-10-2024. Director NTHRI briefed them about ongoing research and development activities on Tea and High value crops. Member PSD inspected field activities and reviewed the research plan of NTHRI, also issued guidelines for further improvement.
04/11/2024
Former Directors NTHRI Dr. Farrukh Siyar Hamid paid a visit to PARC-NTHRI on Saturday, 26th October 2024. They shared their experiences with Dr. Riaz Alam, Director NTHRI and scientists of the institute.
04/11/2024
Regional Director FSC&RD KP, Mr. Inayat Ullah along with his team visited PARC-NTHRI, Shinkiari in connection with verification of DUS examination of 04 Tea and 04 Kiwifruit candidate varieties. He appreciated research activities, being carried out at NTHRI and emphasized on fruit plant certification. Moreover, he suggested development of linkages with private fruit nurseries under the umbrella of FSC&RD.
28/05/2024
(پاکستان میں چائے کا قومی دن)
۔اقوام متحدہ کے ادارے برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) کے مطابق پاکستان کا شمار دنیا کے سات بڑے چائے کا استعمال کرنے والے ممالک میں ہوتا ہے ۔
اگر ہم فی کس استعمال کی بات کریں تو 1.02 کلو گرام چائے پتی ہم سالانہ ایوریج استعمال کرتے ہیں ۔ پاکستان میں چائے پتی کا سالانہ استعمال اس حساب سے 250755 ٹن یعنی تقریبا 25 کروڑ کلو گرام بنتا ہے ۔ ہمارے ایک دوست بتا رہے تھے کہ اس کے علاؤہ بھی کچھ غیر قانونی طور پر چائے پتی ملک میں آتی ہےاور پاکستان میں کیمیکل اور رنگ سے بھی مصنوعی چائے پتی تیار کر دی جاتی ہے ۔
ہم چائے کی پتی کی امپورٹ پر تقریباً 600 ملین ڈالر اپنا قیمتی زرمبادلہ خرچ کرتے ہیں آئے روز عالمی مارکیٹ میں چائے کی فی ٹن قیمت میں اضافے اور ڈالر کی اونچی اڑان کی وجہ سے ہر سال اس درامدی بل میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے ۔
اور اب ہم دنیا میں سب سے زیادہ چائے امپورٹ کرنے والے ممالک میں شامل ہو چکے ہیں ۔
چائے پتی پر اتنا بڑا زرمبادلہ کا استعمال بچانے کے لیے ہمارے پاس دو ہی راستے ہیں
پہلا نمبر جا تو ہم چائے کا استعمال ہی کم کر دیں جو کہ شائد اب ممکن ہوتا نظر نہیں آ رہا کیونکہ پاکستان میں پانی کے بعد دوسرا سب سے زیادہ استعمال کیا جانے والا مشروب چائے ہی ہے۔
دوسرا نمبر یا پھر ہم ایک زندہ قوم ہونے کا ثبوت دیں اور اپنے زرعی ملک کو چائے کی کاشت کے قابل بنا کر اس میں خود کفیل ہو جائیں ۔
اس سلسلے میں نیشنل ٹی اینڈ ہائی ویلیو کراپ ریسرچ انسٹیٹیوٹ شنکیاری مانسہرہ کے سائنسدانوں نے بہترین ریسرچ کے بعد پاکستان میں چائے کی کاشت کو کامیاب قرار دیتے ہوئے ایک لاکھ اسی ہزار ایکڑز زمین چائے کی کاشت کے لئے موزوں قرار دی ہے یہ زمین مانسہرہ ، بٹگرام، مالاکنڈ ، سوات ، دیر ، کشمیر اور مری کے علاقوں میں واقع ہے ۔ اسی ادارے میں پاکستان کا پہلا گرین اور بلیک ٹی کی پراسیسنگ کا کارخانہ بھی موجود ہے ۔
ایگری ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن آف پاکستان گزشتہ سات آٹھ سالوں سے پاکستان میں چائے کی ٹورازم کو پرموٹ کرنے پر کام کر رہی ہے ۔ اس سلسلے میں ہر سال ایک قومی ٹی گارڈن فیسٹیول کا انعقاد کیا جاتا ہے ۔
پاکستان میں بہت تھوڑے لوگوں کے علم میں تھا کہ ہمارے ملک میں کوئی خوبصورت چائے کا گارڈن بھی موجود ہے ۔ ہمارے دوست چوہدری مسلم صاحب پاکستان فارسٹ انسٹیٹیوٹ پشاور سے ان کی وجہ سے پہلی بار 9 جنوری 2014 کو مجھے اس ادارے میں ایک ٹریننگ ورکشاپ میں ریسورس پرسن کے طور پر جانے کا موقع ملا ۔ میرے لیے حیران کن تھا کہ پاکستان میں چائے کا اتنا خوبصورت گارڈن بھی موجود ہے ۔ دوسری حیرانگی کہ اس خوبصورت چائے کے باغ کا کوئی سوشل میڈیا پیج یا سائیٹ موجود نہیں تھی ۔ اسی دن وہی بیٹھے ہوئے اس نیشنل ٹی گارڈن کا پہلا سوشل میڈیا فیس بک پیج بنایا گیا ۔ پھر جیسے جیسے مجھے وقت کے ساتھ ساتھ پاکستان میں چائے کی کاشت کے حوالے سے معلومات ملتی گئی تو پاکستان میں چائے کی کاشت کے فروغ کے لیے میرا ارادہ پختہ ہوا۔ اسی دوران انڈونیشیا میں چائے کے باغات کی ٹورزم دیکھنے کا موقع ملا تو سوچ کی ایک نئی راہیں کھلیں کہ ہم ان چائے کے باغات کو ٹورازم پوائنٹ کے طور پر استعمال کرتے ہوئے زرعی سیاحت میں انقلاب لا سکتے ہیں ۔
25 ستمبر 2017 کو پاکستان کی تاریخ کا پہلا چائے کا فیسٹیول ایگری ٹورازم نے ارینج کیا ۔
دوسرا چائے کا فیسٹیول 15 دسمبر 2020 کو اسی ٹی گارڈن میں ایگری ٹورازم اور ایس اے گروپ کے تعاون سے منعقد کیا گیا ۔
تیسرا چائے کا قومی میلہ 26 جون 2022 جو نیشنل ٹی اینڈ ہائی ویلیو کراپ ریسرچ انسٹیٹیوٹ شنکیاری مانسہرہ میں ایس اے گروپ کے تعاون سے منعقد ہوا ۔
اسی طرح چوتھا سالانہ قومی ٹی گارڈن فیسٹیول 2023 یکم جون 2023 کو ایس اے گروپ، سائبان، پی اے آر سی ، پمز ٹورازم، این ٹی ایچ آر ائی، اسلام آباد ٹی کمپنی، مقامی صحافی برادری، مانسہرہ پریس کلب کے تعاون سے منعقد ہوا جس کے مہمان خصوصی ڈاکٹر محمد علی چیئرمین پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل اسلام آباد سے تشریف لائے ۔
سال 2024 کو پانچواں سالانہ قومی ٹی گارڈن فیسٹیول سائبان ، ایس اے گروپ ، ایگری ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن اف پاکستان ، پمز ، نیشنل ٹی اینڈ ہائی ویلیو گراپ ریسرچ انسٹیٹیوٹ شنکیاری کے تعاون سے ڈیپارٹمنٹ اف ٹورازم اینڈ ہاسپٹیلیٹی ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ کے مین ہال میں بروز سوموار 27 مئی 2024 کو منعقد کیا گیا اور نیشنل ٹی گارڈن کا وزٹ کروایا گیا ۔
اب انشاللہ پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل اور ایگری ٹورازم نے پچیس مئی کو پاکستان میں چائے کا قومی دن ڈکلیئر کر دیا گیا ہے ۔
اگلے سال چھٹا سالانہ قومی چائے فیسٹیول 25 مئی 2025 کو انشاللہ ان تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ ملا کر منعقد کیا جائے گا ۔
پچیس مئی کا دن پاکستان میں چائے کا قومی دن منانے کا مقصد پاکستان ٹی بورڈ کا قیام عمل میں لا کر ملک میں چائے کی کاشت کو فروغ دے کر ہم نہ صرف اپنا قیمتی زرمبادلہ بچا سکتے ہیں بلکہ چائے کے باغات کی ٹورزم آئیڈیا سے اپنی یوتھ کو روزگار فراہم کر کے ترقی کی نئی راہیں کھول سکتے ہیں ۔ اس آئیڈیا فروغ دینے کے لیے ایگری ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن آف پاکستان ہر سال چائے کا قومی دن مناتے ہیں اور نیشنل ٹی گارڈن فیسٹیول کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔
پاکستان میں تقریباً ایک لاکھ اسی ہزار ایکڑز اس موزوں زمین پر چائے کی کاشت سے نہ صرف ہم آپنا قیمتی زرمبادلہ بچا سکتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ دنیا کی ابھرتی ہوئی انڈسٹری ایگری ٹورازم کے تحت چائے کے باغات کی سیاحت کو فروغ مل سکتا ہے اس سے ان علاقوں کے مقامی پڑھے لکھے نوجوانوں کے لیے چائے کے باغات کی ٹورزم میں بہترین انٹرپرینیورشپ کے آئیڈیا پر ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی ۔
اس سال "ڈسکور پاکستان" ٹی وی چینل کے پروگرام "کسان کا پاکستان" میں بھی چائے کی کاشت پر ایک تفصیلی ڈاکومنٹری بنائی گئی ہے جو بہت جلد ان ائیر ہو جائے گی۔
اس قومی جدوجہد میں ہم سب کا آپس میں کوارڈینیشن اور اتحاد سے ملکر کر چلنے سے ہی خاطر خواہ کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے ۔
طارق تنویر
سی ای او
ایگری ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن آف پاکستان
6th Annual National Tea Garden Festival 2025 to Celebrate National Tea Day 2025.
Pakistan National Tea Day is observed annually on May 25 every year by NTHRI and Agri Tourism development corporation of pakistan. It has been
celebrated in tea producing countries like India, Sri Lanka, Nepal, Vietnam, Indonesia, Bangladesh, Kenya, Malawi, Malaysia, Uganda, Tanzaniaand bin their own days but in Pakistan it's declared with match it's own weather.
agri tourism development corporation of pakistan and NTHRI celebrate this tea garden festival from last five years to celebrate National Tea Day Pakistan. every year Observed by tea producing countries.
Agri Tourism Development Corporation of Pakistan connecting people through Food, Farms & Education in Collaboration with PARC National Tea & Heigh value crops research institute Shankari Mansahra, SA Group , Saiban , PIMS Tourism and Department of Tourism and Hospitality Hazara University Manshera
going to organize one day
6th Annual National Tea Garden Festival 2025 and
"Tea In Tour 2025.
Venue :- PARC- National Tea & High value Crops Research Institute Shinkiari Mansehra .
And
Department of Tourism and Hospitality Hazara University Manshera
Date :- Sunday 25th May 2025
You'll learn all about how tea is made. We designed our tea production process and tea plants garden.
* Tea Plantation
* Tea making Machinery
* walk in Tea Garden.
* Food Stalls mansahra specility stalls.
* Hand crafts items stall
* Tea Stalls
* Picking Tea Leafs experience
28/05/2024
مانسہرہ (ہینڈآؤٹ) چائے کے قومی دن کی مناسبت سے ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ کے شعبہ ٹورازم اینڈ ہاسپیٹلٹی نے حکومتی و نجی اداروں کے اشتراک سے 5ویں سالانہ Tea Garden Festival 2024
کا انعقاد کیا۔قومی ٹی گارڈن فیسٹیول کا مقصد چائے کے کاشتکاروں کی حوصلہ افزائی ،چائے سے وابستہ صنعت اور اسکی تجارتی اہمیت کے ساتھ ساتھ چائے کی ٹورازم سے عام لوگوں کو آگاہی فراہم کرنا تھا۔اس موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایگری ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن اف پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسرطارق تنویر نے کہا کہ چائے کی سیاحت سے پاکستان سالانہ اربوں روپے کما سکتا ہے اور اس شعبے میں ٹورازم سمیت چائے کی کاشت کے فروغ سے قومی سطح پر ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ چائے کی کاشت والے ممالک چائے کی برآمد کے ساتھ اس کو سیاحتی حوالوں سے فروغ دے کر معاشی خود کفالت حاصل کر چکے ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ کئی چھوٹے ممالک صرف اپنے مقامی فیسٹیول کو اجاگر کرکے دنیا کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں لہٰذا ہمیں چاہئے کہ پاکستانی کاشتکار کو چائے سمیت دیگر زرعی سرگرمیوں کی برانڈنگ میں بھرپور معاونت اور تکنیکی مدد فراہم کریںتاکہ Agri-Tourismکو ترقی دے کر ملک کو معاشی طور پر خوشحال کیا جا سکے۔ سی ای او طارق تنویر نے کہا کہ شنکیاری چائے کی کاشت ٹی گارڈن ٹورازم اور ایگری ٹورازم میں ملکی و بین الاقومی سطح پر Tourism Destinationبننے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے جس کے لئے ایگری ٹورازم ڈویلپمنٹ اور ہزارہ یونیورسٹی کے مابین تعاون کو بڑھایا جا رہا ہے ۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محسن نواز نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ ہزارہ یونیورسٹی اس علاقے میں سیاحت کی ترقی کے لئے مربوط کوششوں کے ذریعے آگے بڑھ رہی ہے اور اس حوالے سے یونیورسٹی کے اندر تمام تر سہولیات سے آراستہ جدید گیسٹ ہاؤس کی تعمیراور شعبہ سیاحت و مہمان نوازی کا حکومتی و نجی اداروں کے ساتھ تعاون کے تحت متعدد چھوٹے بڑے منصوبوں پر کام جاری ہے۔وائس چانسلر نے کہا کہ صرف چائے کی درآمد پر سالانہ اربوں روپے کا کثیرزرمبادلہ صرف ہو رہا ہے جس سے نجات کے لئے ضروری ہے کہ حکومت چائے کی مقامی پیداوار میں اضافے کیلئے کسانوں کی سرپرستی کرے تاکہ پاکستان صارف کے بجائے برآمد کنندگان کی فہرست میں شامل ہو سکے۔پروفیسر ڈاکٹر محسن نواز نے کہا کہ ہمیں اپنی صلاحیتوں کے بل پر آگے بڑھنا ہے تاکہ خودکفالت کی منزل حاصل کی جاسکے۔انہوں نے ٹی گارڈن فیسٹیول کے انعقاد پر شعبہ ٹورازم اینڈ ہاسپٹیلٹی کے ہیڈ ڈاکٹر محمد انس اور فیکلٹی ممبر محمد عالم کی کاششوں کو سراہا۔ٹی فیسٹیول میں نیشنل ٹی اینڈ ہائی ویلیو کراپ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ شنکیاری کے ڈائریکٹر ڈاکٹر بشارت حسین،سائبان ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے سی ای او صاحبزادہ جواد الفیضی اور ڈسٹرکٹ یوتھ آفیسرعالم زیب خان سمیت دیگر نجی کمپنیوں کے عہدیدران موجود تھے ۔فیسٹیول میں مختلف این جی اوز اور کمپنیوں نے چائے اورگھریلو دستکاری سمیت کھانے پینے کی مختلف اشیاء کے سٹالز بھی لگائے جس میں یونیورسٹی طلباء و طالبات سمیت ، پرائیویٹ سکولوں کے بچوںاور عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
پبلک ریلیشنز آفیسر
ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Contact the business
Telephone
Website
Address
Mansehra
22010
Opening Hours
| Monday | 09:00 - 17:00 |
| Tuesday | 09:00 - 17:00 |
| Wednesday | 09:00 - 17:00 |
| Thursday | 09:00 - 17:00 |
| Friday | 09:00 - 17:00 |
