16/05/2025
ڈاکٹر محمد صدیق صاحب میڈیکل سپرینٹنڈنٹ نے جب سے گورنمنٹ مینٹل اینڈ جنرل ہسپتال ڈاڈر مانسہرہ کی قیادت سنبھالی ہے، ایک خاموش انقلاب برپا ک دیا ہے۔ ایک ایسا ادارہ جو زبوں حالی کا شکار تھا، آج ان کی انتھک محنت، گہری دلچسپی اور فراست کی بدولت امید کی ایک کرن بن چکا ہے۔ انہوں نے ذاتی کاوشوں، عوامی عطیات اور مخیر حضرات کے تعاون سے اس ہسپتال کی کایا پلٹ دی ہے۔ خستہ حال عمارتوں کی مرمت سے لے کر نئی طبی سہولیات کی فراہمی تک، ہر قدم پر ان کی دور اندیشی اور خدمت کا جذبہ نمایاں ہے۔ ہسپتال کی سڑکوں کی تعمیر، وارڈز کی تزئین و آرائش، ذہنی مریضوں کے لیے خوراک کا انتظام، سولر سسٹم کی تنصیب، لیبر روم کا قیام، صاف پانی کی فراہمی، شجر کاری مہم اور مساجد کی تعمیر ان کی ہمہ جہت کوششوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
آج اس ہسپتال میں 100 ملین روپے کے ترقیاتی کاموں کا آغاز ایک نئے دور کی نشاندہی کرتا ہے۔ باؤنڈری وال، ایمرجنسی بلاک، 30 بستروں پر مشتمل مینٹل وارڈ اور ٹیوب ویل کی تنصیب سے نہ صرف ہسپتال کی بنیادی ڈھانچے کو مضبوطی ملی ہے بلکہ مریضوں کو بھی بہتر ماحول اور سہولیات میسر آئیں ہیں ۔ ڈاکٹر صدیق نے مختلف شعبوں کے ماہر ڈاکٹروں کی تعیناتی کو یقینی بنا کر اس ہسپتال کو ایک جامع طبی مرکز بنا دیا ہے، جہاں اب نیوروفزیشن سے لے کر کڈنی سپیشلسٹ ،امراض دل اور چلڈرن سپیشلسٹ تک تمام ضروری طبی ماہرین موجود ہیں۔ یہ ایک ایسا کارنامہ ہے جو اس سے پہلے کبھی انجام نہیں پایا تھا اور یہ سب کسی سیاسی رہنما کی حمایت کے بغیر صرف ڈاکٹر صدیق کی ذاتی محنت کا نتیجہ ہے۔
یہ افسوسناک امر ہے کہ جب ایک شخص اتنی لگن اور خلوص سے عوام کی خدمت کر رہا ہے، تو کچھ عناصر من گھڑت کہانیاں بنا کر سوشل میڈیا پر ان کے خلاف منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔ یہ نہ صرف ڈاکٹر صدیق کی کاوشوں کی توہین ہے بلکہ ان تمام لوگوں کی بھی حوصلہ شکنی ہے جو اس ہسپتال کو بہتر بنانے کے لیے اپنا حصہ ڈال رہے ہمیں ڈاکٹر صدیق صاحب کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے اور ان کی انتھک محنت کو سراہنا چاہیے۔
