01/08/2026
لکہ گل دہ دنیا باغ تہ ووم راغلے
ماخندلی قدرے نہ وو خزان راغے
ابوسفیان اگرچہ پڑھائی میں زیادہ قابل نہ تھا، لیکن اپنی ماں کی امیدوں کا محور اور مرکز تھا۔ وہ تینوں بھائیوں میں سب سے بڑا تھا اور والد کی طویل بیماری و معذوری کے باعث اپنے چھوٹے بھائیوں اور والدہ کا واحد سہارا تھا۔
والدہ کا یہ بڑا خواب تھا کہ وہ غربت اور مجبوریوں کے باوجود اپنے بچوں کو علاقے کے سب سے بہترین سکول میں تعلیم دلوائے ۔ وہ تنِ تنہا تمام تر معاشی مشکلات جھیل کر، بچوں کی سکول فیس اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات برداشت کر کے انہیں روزانہ "دی سمارٹ سکول" بھیجتی تھی ۔
آہستہ آہستہ جب ابوسفیان اس قابل ہوا کہ کچھ کام کر سکے، تو اس نے گاؤں کے ایک درزی سے کپڑے سینے کا ہنر سیکھنا شروع کر دیا۔ بہت کم عرصے میں کام سیکھ کر وہ اپنی والدہ کے ساتھ گھر کے اخراجات اٹھانے میں ہاتھ بٹانے لگا۔
ابھی دہم (دسویں) جماعت کے امتحانات سے فارغ ہی ہوا تھا کہ نہ جانے اس کے ذہن میں کیا خیال آیا... اسے لگا کہ اس معمولی کام سے گھر کی ضروریات پوری نہیں ہو سکتیں! زیادہ کمانے کی دھن میں وہ ایک خونخوار کوئلے کی کان میں جا پہنچا، جہاں وہ انتہائی افسوس ناک، الم ناک اور درد ناک حادثے کا شکار ہو کر ہم سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ گیا۔
وہ ماں... جو روزانہ سکول سے تھوڑی سی دیر ہونے پر بھی بار بار ابوسفیان کے بارے میں پوچھتی تھی، وہ ماں... جس کے خوابوں کی تعبیر ہی ابوسفیان تھا، آج اس کے دل پر کیا گزر رہی ہوگی؟
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ابوسفیان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اس کی والدہ اور تمام پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ آمین
منقول