Mardan Aseel & Desi

Mardan Aseel & Desi Speaking truth, raising awareness, and saying NO to social wrongs.

03/08/2026

Release Imran Khan

لکہ گل دہ دنیا باغ تہ ووم راغلے ماخندلی قدرے نہ وو خزان راغےابوسفیان اگرچہ پڑھائی میں زیادہ قابل نہ تھا، لیکن اپنی ماں ک...
01/08/2026

لکہ گل دہ دنیا باغ تہ ووم راغلے
ماخندلی قدرے نہ وو خزان راغے

ابوسفیان اگرچہ پڑھائی میں زیادہ قابل نہ تھا، لیکن اپنی ماں کی امیدوں کا محور اور مرکز تھا۔ وہ تینوں بھائیوں میں سب سے بڑا تھا اور والد کی طویل بیماری و معذوری کے باعث اپنے چھوٹے بھائیوں اور والدہ کا واحد سہارا تھا۔

والدہ کا یہ بڑا خواب تھا کہ وہ غربت اور مجبوریوں کے باوجود اپنے بچوں کو علاقے کے سب سے بہترین سکول میں تعلیم دلوائے ۔ وہ تنِ تنہا تمام تر معاشی مشکلات جھیل کر، بچوں کی سکول فیس اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات برداشت کر کے انہیں روزانہ "دی سمارٹ سکول" بھیجتی تھی ۔

آہستہ آہستہ جب ابوسفیان اس قابل ہوا کہ کچھ کام کر سکے، تو اس نے گاؤں کے ایک درزی سے کپڑے سینے کا ہنر سیکھنا شروع کر دیا۔ بہت کم عرصے میں کام سیکھ کر وہ اپنی والدہ کے ساتھ گھر کے اخراجات اٹھانے میں ہاتھ بٹانے لگا۔

ابھی دہم (دسویں) جماعت کے امتحانات سے فارغ ہی ہوا تھا کہ نہ جانے اس کے ذہن میں کیا خیال آیا... اسے لگا کہ اس معمولی کام سے گھر کی ضروریات پوری نہیں ہو سکتیں! زیادہ کمانے کی دھن میں وہ ایک خونخوار کوئلے کی کان میں جا پہنچا، جہاں وہ انتہائی افسوس ناک، الم ناک اور درد ناک حادثے کا شکار ہو کر ہم سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ گیا۔


وہ ماں... جو روزانہ سکول سے تھوڑی سی دیر ہونے پر بھی بار بار ابوسفیان کے بارے میں پوچھتی تھی، وہ ماں... جس کے خوابوں کی تعبیر ہی ابوسفیان تھا، آج اس کے دل پر کیا گزر رہی ہوگی؟

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ابوسفیان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اس کی والدہ اور تمام پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ آمین

منقول

01/08/2026
آخری وداع: ایک تاریخی منظرآج کا دن تاریخ کے صفحات میں ایک یادگار کے طور پر درج ہو گیا ہے۔ جیسا کہ بیان کیا گیا ہے، آیت ا...
05/07/2026

آخری وداع: ایک تاریخی منظر
آج کا دن تاریخ کے صفحات میں ایک یادگار کے طور پر درج ہو گیا ہے۔ جیسا کہ بیان کیا گیا ہے، آیت اللہ خامنہ ای کے آخری دیدار اور نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے موقع پر ایک ایسا منظر دیکھنے میں آیا جس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔
لاکھوں بلکہ کروڑوں افراد نے اس آخری وداع میں شرکت کر کے اپنی عقیدت کا اظہار کیا۔ یہ صرف ایک جنازہ نہیں، بلکہ ان کے چاہنے والوں کا ایک سمندر تھا جو ان کے آخری دیدار کے لیے امڈ آیا تھا۔ ان کے جسدِ خاکی کو، جیسا کہ اطلاع دی گئی ہے، سرد خانے میں محفوظ رکھا گیا ہے۔
آئیے ہم سب مل کر ان کے لیے دعا گو ہوں۔ آپ کے نزدیک اس
تاریخی اجتماع کی کیا اہمیت ہے؟ اپنی رائے کمنٹس میں :
#عقیدت

26/06/2026

پرائیویٹ بزنس سینٹرز سوری اسکولز

بچوں کو آرام چاہیے؟
"نہیں!"

اساتذہ کو آرام چاہیے؟
"نہیں!"

بس فیس وقت پر چاہیے۔

26/06/2026

اچھی تعلیم زیادہ گھنٹوں سے نہیں، بہتر سوچ اور مؤثر نظام سے آتی ہے۔

وقت بڑھانے سے پہلے معیار بڑھائیں۔

26/06/2026

پاکستان میں اچانک ہر دوسرا بندہ فٹبال کا ماہر بن گیا ہے۔
جو کل تک آف سائیڈ کا مطلب بھی نہیں جانتا تھا، آج وہ فارمیشن، ٹیکٹکس اور ورلڈ کپ کی پیش گوئیاں ایسے کر رہا ہے جیسے برسوں سے کوچ ہو۔

ایک مہینے کے لیےکرکٹ کے ماہرین چھٹی پر ⚽ فٹبال کے ماہرین ڈیوٹی پر

ہم ہر کھیل سے محبت کرتے ہیں، مگر ہر ٹرینڈ پر خود کو "ماہر" ثابت کرنا بھی ہماری قومی عادت بنتی جا رہی ہے۔

18/06/2026

ٹیچرز ٹپ
بچے ابتدائی کلاسوں میں انگریزی اور اردو عموماً ایک ساتھ لکھنا پڑھنا شروع کر دیتے ہیں۔ اردو جلدی سیکھ لیتے ہیں جبکہ انگریزی یونیورسٹی تک سیکھتے رہتے ہیں۔
لگتا ہے اردو سیکھنا آسان اور انگریزی سیکھنے میں مشکل ہے۔
حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ پیڈا گا لوجی اور نفسیات کے ماہرین اس پر بات متفق ہیں، کہ پرائی زبان سیکھنے کیلئے دوسری زبان اپنی ہونی چاہیئے۔
جب پرائمری لیول پر کسی پنجابی، پختون، بلوچ یا سندھی بچے کو اردو سکھائی جاتی ہے، تو اس کی دوسری زیر استعمال زبان اس کی اپنی مادری زبان ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے وہ چار پانچ سالوں میں، اردو لکھنے، پڑھنے اور کچھ حد تک، (سندھی، پختون اور بلوچ بچے) بولنے لگتے ہیں۔
انگریزی مشکل نہیں ہے، لیکن اس کو سکھانے کے دوران بچے کے ساتھ ظلم کیا جاتا ہے۔ اور وہ یہ کہ اسے انگریزی اپنی مادری زبان میں سکھانے کی بجائے ایک اور پرائی زبان اردو میں سکھائی جاتی ہے۔ دس از اے کروو، کو اس کی مادری زبان میں سکھانے کی بجائے، اسے سکھایا جاتا ہے، کہ یہ کوا ہے۔ یوں اس کی سیکھی ہوئی مادری زبان اور اس میں اس کی پیدا کردہ صلاحیت ضائع کردی جاتی ہے، اور وہ ایک اجنبی زبان دوسری اجنبی زبان میں سکھائے جانے کی بناء پر، وہ انگریزی زبان، اردو زبان جیسی نہیں سیکھ پاتا۔
اجنبی یعنی دوسری زبان سیکھنے کا عمل بس اتنا ہے کہ آپ نئی اصوات اور علامات ذہن میں پہلے سے موجود (مادری زبان) کی تصاویر، تصورات اور ذخیرہ الفاظ کے ساتھ کنکٹ کردے۔
انسانی دماغ میں بیک وقت تین زبانوں میں ترجمہ کرنے کی صلاحیت اتنی عام نہیں، جتنی دو زبانوں کے لیے موجود ہے۔ جس طرح کھانا کھانا اور باتیں کرنا بیک وقت مشکل ہو جاتا ہے، اور کھاتے ہوئے تاکید کی جاتی ہے، کہ کھاتے ہوئے بات نہیں کرتے۔ اسی طرح اجنبی زبان بولتے یا سنتے ہوئے، اس کی آگے دو زبانوں میں بیک وقت ترجمہ نہیں ہوسکتا۔
اجنبی زبان بولنے کیلئے ہوتی ہے، سوچنے اور ذہن میں ترجمہ کرنے کیلئے نہیں ہوتی۔
دوسری بات یہ ہے کہ ہمارے بچوں کو انگریزی مضمون کی شکل میں پڑھائی جاتی ہے، جبکہ وہ ایک زبان ہے۔
انگریزی کو اردو کی طرح آسان بنانے اور سیکھنے کیلئے ضروری ہے، کہ نان اردو سپیکرز بچوں کو انگریزی، اردو میں سکھانے کی بجائے، اپنی مادری زبانوں میں سکھائی جائے۔
#شازار جیلانی

Address

Mardan Cantonment
23200

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mardan Aseel & Desi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category