💢 *ہر ایک شخص کو چاہیئے کہ وہ لوگوں کو بیدار کرے . حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ آقا علیہ السلام نےفرمایا تم میں سے کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں ہے کہ جو آنکھوں سے دیکھے کہ معاشرے میں گناہ ہو رہے ہیں، ظلم اور نافرمانی ہو رہی ہے اور انکے پاس قدرت ہو کہ وہ اسے تبدیل کر سکیں ... اور اگر وہ اسے تبدیل نہیں کرتا اور تبدیلی کی کوشش کا حصہ نہیں بنتا، تو پھر مرنے سے پہلے اللہ آپکو عذاب کی لپیٹ میں دے دے گا.*
🎙️ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمدطاہرالقادری
🇭🇺 : Minhaj ul Quran International
Pakistan Awami Tehreek Distt. Mianwali
پاکستان عوامی تحریک ڈسٹرکٹ میانوالی آفیشل پیج
Official Page Pakistan Awami Tehreek Distt. Mianwali
Like and Follow
وہ وقت یاد کرو جب ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب نے کہا تھا کہ یہ نظام نمک کی کان کی طرح ہے اس میں پیدا دکھ دو تو وہ بھی نمک بن جائے گا یہ نظام اشرافیہ کے لیے بنا ہے قابل لوگوں کے لیے نہیں آپ نے دیکھ لیا ایسا ہی ہوا
وہ وقت یاد کرو جب ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا تھا جب خان صاحب کی حکومت تھی کہ یہی کرپٹ نظام کے رکھوالے چور لٹیرے پلٹ کے واپس براجمان ہو جائیں گے
موٹے قلم سے لکھ لو
ڈاکٹر طاہرالقادری کے وہ الفاظ یاد کرو جب کہا تھا
چوری میاں برادران کریں گی گے اور پیسے خان صاحب کی جیب سے نکلیں گے
قربان جاؤں ڈاکٹر صاحب
ڈاکٹر طاہرالقادری کے وہ الفاظ یاد کرو جب انہوں نے کفن کی بات کی تھی اور کہا کفن پہن لو اس سے پہلے کہ تمہیں یہ نظام کفن میں لپیٹ دے بہت بڑا اشارہ تھا اسوقت عوام کو مگر عوام نے مذاق اڑایا بہت لوگ کفن میں لپٹ چکے
16/05/2026
80 کی دہائی کے آخر میں واصف علی واصف حضور ڈاکٹر محمد طاہر القادری سے ملاقات کے لیے ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کے گھر تشریف لائے۔ یہ آپ دونوں عظیم شخصیات کی پہلی ملاقات تھی، مگر دلوں کی قربت ایسی تھی جیسے برسوں کا تعلق ہو۔ یہ نشست کافی دیر تک جاری رہی، محبت، ادب اور روحانیت سے بھرپور گفتگو ہوتی رہی۔
اسی دوران حضرت واصف علی واصف صاحب ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کو فرمانے لگے:
“آپ سے تو یہ میری پہلی ملاقات ہے، لیکن میرا آپ سے تعلق بہت پُرانا اور بہت گہرا ہے۔”
یہ سن کر حضور شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب نے محبت بھرے تعجب سے پوچھا:
“وہ کیسے؟”
حضرت واصف علی واصف صاحب نے انتہائی عقیدت و محبت کے انداز میں فرمایا:
“آپ سے میری محبت کی اصل وجہ آپ کے والدِ گرامی ڈاکٹر فرید الدین قادری رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔”
پھر آپ مزید فرمانے لگے کہ:
“جب میری سول سروس گورنمنٹ کی جاب تھی، اُس زمانے میں حضرت قبلہ فرید ملت ڈاکٹر فرید الدین قادری صاحب کا قیام جھنگ شہر میں ہوتا تھا۔ مجھے جب بھی موقع ملتا، میں اُن کی مجلس میں جا کر بیٹھتا، اُن سے استفادہ حاصل کرتا، اُن کے بیانات سنتا، اور میرے دل میں اُن کے لیے بے پناہ محبت تھی۔ آج اُسی محبت کے ناطے آپ سے ملنے آیا ہوں۔”
یہ کوئی عام ملاقات نہ تھی، بلکہ دو صاحبِ دل اور صاحبِ علم ہستیوں کی ایک ایسی روحانی بیٹھک تھی جس میں محبت، ادب، اخلاص اور نسبتوں کی خوشبو رچی بسی تھی۔ ایک طرف واصف علی واصف جیسے صاحبِ بصیرت مفکر تھے، اور دوسری طرف ڈاکٹر محمد طاہر القادری جیسی عظیم علمی و روحانی شخصیت۔ یہ ملاقات دراصل محبتِ اہلِ دل، ادبِ اکابر اور روحانی نسبتوں کا ایک حسین منظر
آرٹیکل 38 اور پاکستان عوامی تحریک
درس عرفان القرآن دلیلی والہ علامہ مہتاب اظہر راجپوت صاحب کا خطاب شروع
درس عرفان القرآن دلیلی والہ شروع نعت شریف
درس عرفان القرآن دلیلی والہ شروع خصوصی خطاب شاگرد رشید ڈاکٹر طاہرالقادری
علامہ مہتاب اظہر راجپوت
بمقام طارق ہاوس
Click here to claim your Sponsored Listing.
